اسلام آباد (وقائع نگار) راولپنڈی اسلام آباد کے کئی مدارس کے سربراہوں کا راولپنڈی کی ایک مسجد میں اجلاس ہوا جنھوں نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سےباقی صفحہ 4بقیہ نمبر3 14اگست کو یوم پاکستان نہ منانے عدلیہ اور فوج کے خلاف ہرزہ سرائی پر مستقبل میں ان سے لاتعلقی کے لئے ایک وسیع اجلاس بلا کر لائحہ عمل بنانے پر اتفاق کیا مدارس کے سربراہوں نے اجلاس کے دوران کہا کہ میں کے پی کے کی حکومت نے مدارس کو سب سے زیادہ رقوم فراہم کیں اور مدرسین کو باقاعدہ سرکاری طور پر تنخواہیں جاری کی گئیں۔اور مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے پر کام جاری ہے ۔جبکہ وہ بین الاقوامی دباﺅ کے آگے مدارس کی ہمیشہ حمایت کرتے رہے مگر مولانا فضل الرحمٰن اپنے ذاتی مقاصد کے لئے ایسا بیان دے کر تمام مدارس کو بھی مستقبل میں کسی بڑے سانحہ سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔14اگست یوم پاکستان نہ منانے کا اعلان تشویشناک ہے جس سے ترقی پسندوں اور سیکولر قوتوں کو مدارس اور علماءکے خلاف محاذ کھولنے کا موقع مل گیا ہے ان مدارس کے سربراہوں نے مستقبل کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن سے لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کرنے اور اخبارات میں اشتہارات جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔اس اجلاس میں تمام مدارس پر قومی پرچم لہرانے اور یوم پاکستان کو شایان شان طریقہ پر منانے کا عزم کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے سیاسی جماعتوں کے مظاہرے میں مولانا فضل الرحمٰن نے جس انداز میں تقریر کرتے ہوئے نہ صرف اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ 14اگست یوم آزادی نہ منانے کا بھی اعلان کیا۔اس تقریر کے بعد ایم ایم اے کی جماعتوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے جماعت اسلامی کے قائدین نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن سے وضاحت طلب کریں کیونکہ مولانا مودودی اور دیگر قائدین نے بڑی جدوجہد کے بعد پاکستان کے مخالف ہونے کا الزام ختم کیا تھا اور مولانا فضل الرحمٰن کی اس تقریر کے بعد اگر ہم ایم ایم اے کا حصہ رہتے ہیں تو ہمیں پنجاب اور سندھ میں شدید نقصان پہنچے گا اور نوجوان نسل بھی جماعت اسلامی سے منہ موڑ لے گی اگر مولانا فضل الرحمٰن کوئی مناسب جواب نہیں دیتے تو انھیں ایم ایم اے سے نکل جانا چاہئے جبکہ دوسری ایم ایم اے میں شامل دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کو اپنے لئے نقصان دہ قرار دیا جس کی بدولت ایم ایم اے کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا اور یہ اتحاد مستقبل میں کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
مدارس سربراہوں کی فضل الرحمن سے لاتعلقی ، یوم پاکستان منانے کا اعلان

