سوات (خصوصی رپورٹ) ضلعی پولیس سربراہ سید اشفاق انور کی ہدایت پر ایس پی لوئر سوات خانخیل خان کی نگرانی میں ایس ایچ او بنڑ زاہد خان‘ ایس ایچ او مینگورہ اختر ایوب خان کی موجودگی میں خواجہ سراﺅں اور علاقہ مشران کے درمیان مذاکرات کامیاب۔ دیگر اضلاع سے آئے ہوئے خواجہ سراﺅں کو ضلع بدر کرنے کے احکامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ جرائم پیشہ افراد اور جرائم پیشہ خواجہ سراﺅں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خواجہ سراﺅں کی ویڈیو کے بعد علاقہ مشران اور خواجہ سراﺅں کے درمیان سوات پولیس کی موجودگی میں کامیاب مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں خواجہ سراﺅں کے مشران عرفان‘ الیاس اور ریشم نے مقامی مشران اور معززین کے ساتھ ہونے والے اقرارنامہ پر دستخط کئے جس میں مندرجہ ذیل شرائط شامل تھیں۔ سوات میں آباد دیگر اضلاع سے آئے ہوئے خواجہ سراﺅں کو ایک ہفتہ کے اندر اندر اپنے اپنے اضلاع کو واپس کردیا جائے گا۔ تمام خواجہ سراءدن یا رات کے وقت لیڈیز لباس میں نہیں پھریں گے۔ خواجہ سراﺅں کی رہائش گاہوں میں خواجہ سراﺅں کے علاوہ دیگر لوگ نہ آئیں گے اور نہ ہی رہائش اختیار کریں گے۔ رات 11بجے کے بعد خواجہ سراﺅں کی رہائش گاہوں کے دروازے بند ہوں گے۔ رات 11بجے کے بعد خواجہ سراﺅں کی رہائش گاہوں کے قریب موجود اجنبی شخص کو پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ جس پر دونوں فریقین متفق ہوئے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی وجہ سے کوئی قانون شکنی نہ ہو۔ سوات میں غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث غیرمقامی خواجہ سراﺅں کو ضلع بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ عمائدین علاقہ اور مقامی خواجہ سراﺅں نے پولیس کی موجودگی میں مذاکرات کئے جو کامیاب ہو گئے۔

