لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمہ کا دعویٰ ٹھس ، 2 سے 14 گھنٹے بجلی غائب

اسلام آباد (آن لائن ) پاور ڈویڑن نے ملک سے لوڈشیڈنگ مکمل ختم کرنے کے سابقہ حکومت کے دعوے کو غلط قرار دےتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے لوڈشیڈنگ مکمل ختم کرنے کے دعوے درست نہیں، ڈسکوز کے 39 فیصد فیڈرز پر2 سے 14 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، سندھ، کے پی اور بلوچستان میں سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور حکومت میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا تھا کہ نیشنل گرڈ میں 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل کرلی گئی ہے اور ملک میں لوڈشیڈنگ مکمل ختم ہوگئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور ڈویژن نے سابقہ حکومت کے دعوے کو غلط قرار دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور ڈویڑن حکام نے بجلی کی پیداوار اور لوڈشیڈنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک سے لوڈشیڈنگ مکمل ختم کرنے کے دعوے درست نہیں، ڈسکوز کے 39 فیصد فیڈرز پر2 سے 14 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، سندھ، کے پی اور بلوچستان میں سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ لیگی حکومت نے دسمبر 2017 میں 61 فیصد فیڈرز کو لوڈشیڈنگ فری کرنےکااعلان کیا، کئی زیرو فیڈرز پر بھی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے عیدالاضحٰی پر لوڈشیڈنگ کا بھی نوٹس لے لیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران استفسار کیا کہ چھٹیوں کے باوجود لوڈشیڈنگ کرکے عوام کوتکلیف کیوں دی گئی۔وزیراعظم نے وزارت پاورڈویڑن سے لوڈشیڈنگ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے جب کہ بجلی،گیس اور تیل کی وزارتوں سےآئندہ ہفتے بریفنگ طلب کرلی گئی ہے۔

 

”پولیس والے کان کھول کر سن لیں “ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا دھماکہ خیز اعلان

لاہور (ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہاہے کہ پولیس کو اب عوام کا خادم بننا ہو گا ، پولیس کے رویے میں تبدیلی ہر قیمت پر لائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ڈی جی خان عمائدین کے وفد نے ملاقات کی جس میں انہوں نے عثمان بزدار کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہناتھا کہ تبدیلی لوگوں کے بہترمستقبل کیلئے آئی ہے، حقیقی تبدیلی کیلئے شب وروزمحنت کرناہوگی، جنوبی پنجاب کے عوام کوان کے حقوق ملیں گے، جرائم کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، پولیس کواب عوام کاخادم بنناہوگا،پولیس کے رویے میں تبدیلی ہرقیمت پرلائیں گے۔

اڈیالہ جیل جا کر نواز شریف سے معافی مانگیں : پرویز رشید ، مطالبہ غیر سنجیدہ : اعتزاز احسن

راولپنڈی اسلام آباد(صباح نیوز،ایجنسیاں)مسلم لیگ(ن) کے رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ نوازشریف ،مریم نواز، قمر اسلام راجہ اور حنیف عباسی کو آزادی سے محروم رکھنا نا انصافی ہے۔اڈیالہ جیل پہنچنے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے تمام کارکن اپنے ساتھیوں کی آزادی کی کوشش کر رہے ہیں۔چوہدری نثار کی جانب سے نواز شریف سے ملاقات کی کوشش پر سابق وزیر اعظم کے انکار سے متعلق سوال پر انکا کہنا تھا کہ نوازشریف سے ملاقات کی کوشش کے بارے میں چوہدری نثار خود ہی بتا سکتے ہیں۔سابق وفاقی وزیراطلاعات کاکہناتھا کہ عام انتخابات کے انتخابی نتائج میں عوام نے چوہدری نثار کو رد کردیا ہے ۔صدر کے انتخاب سے متعلق پرویز رشید نے کہا کہ ن لیگ نے صداراتی امیدوار کا تاحال فیصلہ نہیں کیاہے جبکہ اتحادی جماعتوں سے صدر کے نام پر مشاورت جاری ہے،اگر حزب اختلاف صدراتی انتخاب کے لیے ایک نام پر رضامند ہوجائے تو اچھا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور صدارتی انتخاب کے امیدوار اعتزاز احسن سے متعلق سوال پر ن لیگی رہنما نے کہا کہ اعتزازاحسن اڈیالہ جیل میں آکر نوازشریف سے اپنے الفاظ کی معافی مانگیں تو انکے نام پر غور کریں گے۔صدارتی امیدوار اعتزاز احسن نے کہا کہ (ن) لیگ فیصلہ کرے حکومتی امیداوار کو فتح دلانی ہے یا نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید کی جانب سے نواز شریف سے معافی مانگنے کا مطالبہ غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو دیکھنا ہے کہ اسکا مفاد کس میں ہے۔ حکومتی صدارتی امیدوار جیتے یا اپوزیشن کا۔

 

امریکی سفیر کی عمران خان اور جنرل باجوہ سے الوداعی ملاقاتیں، اہم گفتگو

اسلام آباد( ویب ڈیسک )امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الوداعی ملاقاتیں کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ آرمی چیف نے امریکی سفیر کی پاکستان میں خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف نے پاک امریکہ تعلقات میں امریکی سفیر کی خدمات کوتسلیم کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سفیر نے بھی علاقائی امن واستحکام میں پاک فوج کی خدمات پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں امریکی سفیر نے شاہ محمود قریشی سے بھی علیحدہ ملاقات کی۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی اسلام آباد آمد کا منتظر ہوں، امریکی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں دیانت اور خلوص پر منبی ہوں گی۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے امریکی سفیر کی پاکستان میں خدمات پر ا±ن کا شکریہ ادا کیا جب کہ امریکی سفیر نے وزیر خارجہ شاہ محمود کا بھی شکریہ ادا کیا۔امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اصلاحاتی ایجنڈے میں امریکہ میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے، وزیراعظم پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو مثبت لیا جا رہا ہے۔

”پلیزتعاون کریں “ سپیکر اسدقیصر کی ن اور پی پی رہنماﺅں سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رہنماو¿ں سے ملاقات کی اور ایوان زیریں کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلانے کے لیے ان سے تعاون کی درخواست کردی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پہلے مسلم لیگ (ن) کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات کی اور بعد ازاں پی پی پی سے تعلق رکھنے والے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے بھی تبادلہ خیال کیا۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سےہونے والی ملاقات میں اسد قیصر سے کہا کہ ایوان کے سربراہ کی حیثیت سے آپ حکومت اور اپوزیشن میں پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اپوزیشن کے بغیر پارلیمنٹ کی کوئی اہمیت نہیں اور اسپیکر کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن سے خصوصی تعلقات استوار رکھے ، اس کے علاوہ دونوں رہنماو¿ں نے ایوان میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سابق اسپیکر اسمبلی فہمیدہ مرزا ، سید فخر امام اور کابینہ اراکین سے بھی ملاقات کی جن میں وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر فروغ نسیم پارلیمانی امور پر وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان شامل ہیں۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی سیکٹیریٹ اور محکمہ پارلیمانی امور کے کئی اعلیٰ افسران سے بھی ایوانِ زیریں کو موثر انداز میں چلانے کے طریقہ کار پر گفتگو کی۔اس ضمن میں دونوں سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے اسد قیصر کو تجویز دی کہ انہیں اپوزیشن کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت فراہم کرنا چاہیے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے اسمبلی میں کہا کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں کے رہنماو¿ں کے ساتھ ساتھ قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کریں گے اور تمام جماعتوں کی تجاویز کے ساتھ ہی ایوان چلائیں گے۔خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو عہدہ سنبھالتے ہی ایوان میں مسلم لیگ(ن) کے اراکین کی جانب سے 25 جولائی کو ہونےو الے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر سخت احتجاج کے باعث ایوان کو قاعدے کے مطابق چلانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کم و بیش یہی صورتحال انہیں 17 گست کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بطور وزیراعظم منتخب ہونے کے موقع پر بھی درپیش رہی۔جس پر اسمبلی میں ہونے والے شور شرابے کے باعث انہیں نومنتخب وزیراعظم کی تقریر سے قبل ایوان کی کارروائی کو 30 منٹ تک موقوف کرنا پڑا تھا۔خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے اسد قیصر سیاست میں آنے سے قبل شعبہ تعلیم سے وبستہ تھے، جس کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد میں جب عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو انہوں نے اس میں شمولیت اختیار کرلی اور سال 2008 میں پارٹی کے صوبائی صدر مقرر ہوئے۔2013 کے عام انتخابات کے بعد جب پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اکثریت حاصل کی تو اسد قیصر کو صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا اور وہ 5 سال تک اس عہدے پر تعینات رہے۔

کسی ٹھیکیدار کو بھاگنے نہیں دینگے : سپریم کورٹ

لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اورنج ٹرین لائن مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ انہیں ٹائم فریم چاہیے کب تک لاہور کو اس مشکل سے آزاد کرائیں گے، اب کسی ٹھیکیدار کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا۔جمعہ کوسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے میگا پراجیکٹس کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے افسوس کا اظہار کیا کہ لاہور کے شہریوں نے بہت زیادہ مشکلات اٹھا لی ہیں لیکن ابھی یہ منصوبہ مکمل کیوں نہیں ہوا۔ حبیب کنسٹرنشن کے نمائندے نے بتایا کہ منصوبے کا 90فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی کام چینی کمپنی کو کرنا ہے جس میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔حبیب کنسٹرنشن کے نمائندے نے بتایا کہ آخری دو چیک بانس ہوگئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ ریاست کے چیک کیسے باﺅنس ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری فنانس سے چیک باﺅنس ہونے کے معاملے پر طلب کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے واضح کیا کہ انہیں ٹائم فریم چاہیے کہ کب تک لاہور کو اس مشکل سے آزاد کرائیں گے۔ حکومت کے نمائندوں سے بات کریں اور سب کو صاف بتا دیں کہ کچھ بھی ہو جائے یہ پراجیکٹ مکمل ہوگا۔ منصوبے کی تکمیل کے لئے ضمانت لی جائے گی اور اب کسی ٹھیکیدار کو بھاگنے نہیں دیا جائےگا۔

 

ٹیسٹ رینکنگ،کوہلی پھرنمبرون پوزیشن پرقابض

دبئی (اے پی پی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کی طرف سے جاری کردہ ٹیسٹ پلیئرز کی نئی رینکنگ کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے ایک مربتہ پھر پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ ٹیسٹ رینکنگ کے ابتدائی 10 بلے بازوں بازوں میں پاکستان کا کوئی کھلاڑی شامل نہیں جب کہ بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے آسٹریلیا کے سٹیون سمتھ سے پہلی پوزیشن چھین لی۔ ویرات کوہلی نے انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں 97 اور 103 رنز کی شاندار بیٹنگ کی بدولت 937 ریٹنگ پوائنٹس کےساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں بھی ویرات کوہلی نے 200 رنز بنا کر پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن لارڈز ٹیسٹ میں 23 اور 17 رنز بنانے کے بعد وہ دوبارہ دوسری پوزیشن پر آگئے۔کھلاڑیوں کی نئی فہرست میں نیوزی لینڈ کے کین ولیمسن تیسرے، آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر چوتھے اور انگلینڈ کے جوئے روٹ پانچویں نمبر پر ہیں جب کہ فہرست میں پاکستان کے اظہر علی 15ویں نمبر پر ہیں۔

پاکستان ،ویسٹ انڈیز کے درمیان کرکٹ سیریز کے معاملات طے

لاہور(سی پی پی)پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کے معاملات طے پا گئے جس کے مطابق دو ٹیموں کے درمیان سیریز 2021 میں ہوگی۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا ایک ٹی ٹوئنٹی اور 3 ٹیسٹ میچز جولائی 2021 میں ویسٹ انڈیز میں ہوں گے جب کہ دو ٹی ٹوئنٹی میچز امریکا میں کھیلے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 ٹی ٹوئنٹی میچز امریکا میں کھیلے جائیں گے جس کے لیے قومی ٹیم امریکی شہر فلوریڈا جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ویسٹ انڈیز 2021 میں ہی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلنے متحدہ عرب امارات آئے گی۔واضح رہے کہ گرین شرٹس ستمبرمیں ایشیاکپ کھیلنے یواے ای جائے گی۔میگا ایونٹ 15سے28ستمبرتک کھیلا جائیگا جس میں 6ٹیمیں ایکشن میں نظرآئیں گی۔پاکستانی ٹیم 16 ستمبر کو کوالیفائر ٹیم کے خلاف میچ سے مہم کا آغاز کرے گی، گرین شرٹس کو 19 ستمبر کو روایتی حریف بھارت کا چیلنج درپیش ہو گا۔ایشیا کپ کے بعدگرین شرٹس اکتوبر میں یواے ای میں آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریزکی میزبانی کریگا۔

دفتری اوقات9سے5تک ، وزیراعظم ، وزراءکے صوابدیدی فنڈ ختم ،ماس ٹرانسپورٹ کے آڈٹ کافیصلہ

لاہور (ویب ڈیسک )پاکستان کی وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صدر مملکت، وزیر اعظم اور اراکین قومی اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کو پریس کانفرنس میں کابینہ میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
انھوں نے صوابدیدی فنڈز کے بارے میں کہا سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 21 ارب روپے، صدر مملکت نے آٹھ سے نو کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈز استعمال کیے جبکہ 30 ارب روپے اراکین قومی اسمبلی نے استعمال کیے۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں یہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ سرکاری جہاز استعمال نہیں کریں گے اور کمرشل فلائٹ سے ہی سفر کریں۔’وزیر اعظم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ دوروں میں اپنا خصوصی جہاز استعمال نہیں کریں گے۔ وہ غیر ملکی دوروں کے لیے فرسٹ کلاس میں نہیں بلکہ کلب کلاس میں سفر کیا کریں گے۔‘وفاقی کابینہ میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔’ملتان، اسلام آباد، لاہور اور اورنج لائن ٹرین منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو ایف آئی اے سے اس کی تحقیقات بھی کرائی جائیں گی۔’وفاقی کابینہ نے ہفتہ وار دو چھٹیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم دفاتر کے اوقات کار تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

پاک امریکہ تنازع شدت اختیار کر گیا

اسلام آباد(اے این این ) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان کو عید کے دوسرے دن فون کر کے مبارکباد پیش کی اور نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک بات چیت کے دوران وزیراعظم کی کامیابی کے لیے نیک تمنا و¿ں کا اظہار کیا۔مائیک پومپیو نے دو طرفہ تعمیری تعلقات کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا جب کہ بات چیت کے دوران انہوں نے تمام دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے پاکستان کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار پر بھی بات کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیک پومپیو دورہ بھارت سے قبل 5 ستمبر کو پاکستان آئیں گے جہاں وہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے تاہم سرکاری طور پر اب تک اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔تاہم وزیراعظم عمران خان کو امریکی وزیر خارجہ کی ٹیلی فون کال کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے ۔ٹیلی فونک گفتگو کے بعد گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس کے دوران انہوں نے پاکستان میں سرگرم تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔امریکا کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن عمل کو بڑھاوا دینے میں پاکستان کا اہم کردارہے۔تاہم پاکستان نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق جاری کردہ امریکی بیان کو حقائق کے منافی قرار دےکر مسترد کردیا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان پاکستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، لہذا اسے درست کیا جانا چاہیے۔اس حوالے سے میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ امریکا مائیک پومپیو اور وزیراعظم عمران خان کی بات چیت سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان کو جمعرات کو ٹیلفون کیا تھا، جس کے دوران تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی اہمیت پر بات کی گئی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔۔ پاکستان امریکہ کا اہم شراکت دار ہے۔ ہم نئی سویلین حکومت کے ساتھ اچھے اور تعمیری تعلقات تشکیل دینا چاہتے ہیں۔جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا فون کال کے دوران پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گردوں کے بارے میں بات ہوئی تھی تو ترجمان نے مزید وضاحت سے گریز کرتے ہوئے دہرایا: ‘ہم اپنے بیان پر قائم ہیں۔اسلام آباد(آئی این پی) وزیر خا رجہ شا ہ محمود قر یشی نے بھی وزیر اعظم عمران خان اور امر یکی سیکر ٹری خا رجہ ما ئیک پو میپیو کے ما بین ہو نے والی ٹیلی فو نک گفتگو با رے امر یکی اسٹیٹ ڈیپا رٹمنٹ کا مﺅ قف مسترد کر تے ہو ئے کہا ہے کہ پاکستان کے امریکا سے آج کل ویسے تعلقات نہیں، جیسے پہلے تھے، امریکی حکام کو پاکستان کے تقاضے سمجھانے ہوں گے،پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امن و امان کا قیام ہماری ترجیحات میں شامل ہے، پاک بھارت تعلقات کی کیفیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ،بھارت سے تعلقات میں تالی ایک ہاتھ سے تالی نہیں بج سکتی،سارک سے ہم وہ فائدے نہیں اٹھا سکے جو ہمیں اٹھانا چاہیے تھے،پاکستان کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، پاکستان کی عالمی سطح پر موثر طور پر ترجمانی کی جائے گی اور اپنا موقف یکسوئی کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔وقت بدل گیا ہے ،آج پاکستان مغرب کا محبوب ملک نہیں رہا ،ہماری ضرورت امن و استحکام ہے معاشی ترقی ہمیں درکار ہے،چین اور پاکستان کی دوستی مثالی ہے اور رہے گی،چین کے وزیرخارجہ 8اور 9 ستمبرکو پاکستان کا دورہ کررہے ہیں جب وہ آئیں گے تو معاملات میں مزید وسعت اور گہرائی پر بات کریں گے۔ جمعہ کو وزیر خا رجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وزارت خارجہ تشریف لائے ، انہیں آنے والے دنوں کے چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ دی ، میں سات سال کے وقفے کے بعد وزارت خارجہ میں آیا ہوں ، اب دنیا بدل چکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلقات بھی تبدیل ہوئے ہیں ، پاکستان دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جن کی تفصیلات دینے کا ابھی وقت نہیں ، دنیا بدل گئی ہے اور پاکستان اب مغرب کا محبوب نہیں ہے ، عمران خان کو تمام چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ دی ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک مو¿ثر پاکستان کی ترجمانی کی جائے گی ، ٹھوس انداز میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا جائے گا ، پاکستان کے تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں ، نئے حالات میں مذاکرات کا راستہ ایک بڑی اہمیت حاصل کر چکا ہے ، ہم مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ یک زباں ہو کر پاکستان کا مو¿قف دنیا کے سامنے جائے ، ہماری ضرورت امن ہے ، معاشی ترقی ہمیں درکار ہے اور امن واستحکام ہماری ضرورت ہے ، سیاسی ومعاشی حالات تبدیل ہورہے ہیں ، دنیا جو کہ یونی پولر تھی وہ آج بھی ملٹی پولر ہوتی جا رہی ہے ، یونی پولر دنیا کے تقاضے اپنے ہیں، ملٹی پولر دنیا کی ضروریات اپنی ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، رائزنگ اسلامو فوبیا نئی صورتحال ہے جس سے ہم دوچار ہیں ، دوسری جنگ عظیم کے وجود میں آنےو الا لبرل ازم اسٹریس میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، پاک بھارت مذاکرات میں تعطل تھا اور رہے لیکن دیکھنا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے ، 26مئی کے خطاب میں عمران خان نے بہت واضح بتایا تھا کہ ایک قدم بڑھو گے ہم دو قدم بڑھائیں گے ، بھارتی وزیر خارجہ نے مبارکباد پیش کی ، ان کا شکر گزار ہوں ، تالی ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی لیکن پاکستان کا رویہ مثبت ہے ، پاکستان کا رویہ نہ تو معذرت خواہانہ ہے اور نہ ہوگا ، افغانستان میں امن ہمارے امن اور استحکام کےلئے ضروری ہے ، افغان صدر اشرف غنی نے ایک مثبت سا آغاز اور اشارہ دیا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کس طرح مددگار ہوسکتا ہے ، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے واہیں ، ایران ہمارا پڑوسی ہے اور ہم امن سرحد کے خواہشمند ہیں ، ایرانی ہم منصب کا پیغام آیا ہے انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ 30,31اگست کے درمیان پاکستان آنا چاہتے ہیں ، ہم ایران کے وزیر خارجہ کو خوش آمدید کہیں گے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سی پیک ایک اہم پیش رفت ہے جس پر ہم نے گفتگو کی ہے کہ سی پیک کیسے مستفید ہوسکتا ہے ، سی پیک چین اور پاکستان سمیت خطے کے مفاد میں ہے ، چین اور پاکستان کی دوستی مثالی ہے اور رہے گی ، خوشی ہو رہی ہے کہ چینی وزیر خارجہ 8,9ستمبر کو پاکستان آرہے ہیں ، چینی وزیر خارجہ سے ملنے کا اشتیاق ہے ، تعلقات کو مزید وسعت دیں گے ، سارک ایک اہم فورم ہے ، خطے کےلئے بھی اہمیت رکھتا ہے ، بدقستمی سے سارک سے وہ فائدہ نہین اٹھا سکتے جو اٹھانا چاہیے تھا ، ہماری خواہش ہے کہ سارک کو فعال کیا جائے ، امریکہ سے پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کی اہمیت سے کوئی ناواقف نہیں ہے ، امریکہ سے ہمارے تعلقات آج کل ویسے نہیں جیسے پہلے تھے ، تعلقات کو واپس سطح پر لانے کےلئے افغانستان اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت کےلئے افغانستان کی ضروریات اور اہمیت کو ہمیں سمجھنا ہوگا ۔انہوں نے کہا امریکی حکام کو پاکستان کے تقاضے سمجھانے ہوں گے ، 5ستمبر کو سیکرٹری پومپیو کی اسلام آباد آمد متوقع ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم سے پومپیو کی ملاقات اہمیت اختیار کر سکتی ہے ، ہم ان کے منتظر ہیں ، باقی جب وہ تشریف لائین گے تو مزید ان سے بات ہوگی ، یورپی یونین کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، وہاں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ، بدقستی سے ہماری درآمدات ہی محدود ہوگئی جن کی وجہ سے ہم اس سے مستفید نہیں ہوسکے جس طرح ہونا چاہیے تھا ، ہمیں جو مواقع ملے تھے ہم ان کو اس طرح سے استعمال میں نہ لاسکے جس طرح ہمیں کرنا چاہیے تھا،افریقہ کو ہم وہ توجہ نہیں دے سکے جو دینی چاہیے تھی اور آج وہاں بہترین مواقع ہیں ، اگر ہم نے اپنی برآمدات کو بڑھانا ہے تو وہاں بے پناہ مارکیٹ ہے ، ہمیں افریقہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہم نے ماضی میں نہیں دی ۔ اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے دفتر خارجہ حکام کو گائڈلائینز دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہیے لیکن پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا کیونکہ خارجہ پالیسی میں پاکستان کا مفاد مقدم ہے اور پاکستان امریکہ ،بھارت اور افغانستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ برابری کے تعلقات چاہتا ہے۔جمعہ کے روز وزیر اعظم عمران خان نے دفتر خارجہ کا پہلا دورہ کیا جہا ں پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکر ٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے انکا استقبال کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت دفتر خارجہ میں ایک گھنٹے سے زائد تہمینہ جنجوعہ نے ان کو خارجہ پالیسی پر بریفنگ دی ۔ امریکہ ، بھارت ، افغانستان ، چین ، روس ، ترکی اور ایران سمیت مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیاء ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات حوالے سے آگاہ کیا لیکن بریفنگ میں بھارت ، افغانستان اور امریکہ کے تعلقات زیادہ فوکس حامل رہے ۔ تہمینہ جنجوعہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی کشمیر پر رپورٹ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے ۔بھارت مسلسل مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کرتے ہوئے بھاگ رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم آشکار ہونے سے بھارت ڈرتا ہے ۔ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود کلبھوشن کیس میں بھارت نے کسی بھی رابطے کا جواب نہیں دیا ۔ سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ افغانستان سے بہتر تعلقات خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں لیکن افغان قیادت کے پاکستان مخالف بیان پر بھی برداشت کی پالیسی اپنائی جاتی ہے، دونوں ملکوں میں بارڈر مینجمنٹ ناگزیر ہے ،انہوں نے کہاکہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار ہیں اور اعتماد کا فقدان ختم کی کوشش بارآور ثابت نہیں ہو سکی لیکن 5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کا امکان ہے ۔تہمینہ جنجوعہ نے مزید بتایا کہ پانچ سال تک ہمارا کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں تھا جس کی وجہ سے ہم پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے بہترین انداز میں پیش نہیں کر سکے ۔ عمران خان کو عالمی اور علاقائی صورت حال سمیت دیگر تنازعات پر بھی آگاہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی دفتر خارجہ حکام کو خارجہ پالیسی پر گائیڈ لائن دیتے ہوئے خارجہ پالیسی فعال بنانے کی ہدیات کی ہے اور کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے پاکستان بھارت کے ساتھ دیرینہ مسا ئل کا حل چاہتا ہے تاکہ خطے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جا سکے ۔ پاکستان کی بھی ملک کے ساتھ خواہ مخوا کا الجھاﺅ نہیں چاہتا لیکن سب سے پہلے خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئے لیکن پاکستان کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کا ہونا بھی ناگزیر ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی فورم پر پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے اور اس حوالے سے عمران خان نے سفارتخانوں کو بھی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے کیونکہ پاکستان کا موقف بہترین انداز میں اجاگر کرنے کے لئے سفارت خانوں کا کردار زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا تاکہ بیرون ملک پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کیا جا سکے ۔