Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • گوجرانوالہ:چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں مختلف پراجیکٹس کے افتتاح کے بعد شرکاء کا ساتھ گروپ فوٹو،انسپکشن جج جسٹس شہباز علی رضوی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ندیم طاہر ودیگر جج صاحبان بھی موجود ہیں
    • ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کیخلاف جعلی ایف آئی آر، شیم ٹرائل اورتماشا ہے، شیریں مزاری
    • امیر مقام کا پشاور میں نجی سکول کے جائے حادثے کا دورہ’ معاوضہ دوگنا کرنے اور سرکاری سکول تعمیر کرنیکا اعلان
    • آٹے کی سپلائی کا 50 فیصد سبسڈائزڈ آٹے پر مشتمل : ڈی جی فوڈ پنجاب
    • امریکی وزیر خارجہ کا لبنانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ ، علاقائی صورتحال پرغور
    • اقوام متحدہ کا غزہ میں امدادی کارکنوں کے تحفظ پر زور
    • کمسن بچیوں سے زیادتی، سابق برطانوی سیاستدان جیفری ڈونلڈسن کو 15 سال قید
    • چیف جسٹس ہائیکورٹ کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ گوجرانوالہ کا دورہ
    • آبنائے ہرمز میں کنٹینر بردار بحری جہاز ڈوب گیا’ ٹینکر اور دیگر اشیا ء سمندر میں تیرتی نظر آئیں:عرب ٹی وی
    • لاہور:ایک لڑکی سکوٹی پر بغیر ہیلمٹ کے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔
    • بزرگ دادا پر تشدد، پوتا ساتھی سمیت گرفتار
    • گلگت بلتستان، کشمیر میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی
    • گوادر فری زون میں صنعتی منصوبے معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
    • لاہور:صوبائی وزیر صنعت و تجارت چودھری شافع حسین کا پاکستان چائنہ بزنس فورم کے وفد کے ہمراہ گروپ فوٹو۔
    • انگلینڈ، مردوں میں خودکشی کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
    • راولپنڈی:موٹر سائیکل اور گاڑی میں خوفناک تصادم، 2افراد جاں بحق
    • لاہور:پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام تین روزہ کتاب میلے کے دوسرے روز طالبات کتب خریداری کر رہی ہیں۔
    • پاکستان معدنی شعبے کو ترقی دینے کے نئے مرحلے میں داخل اینسٹیٹیوت آف کاسٹک مینجمنٹ الاونٹس آف پاکستان
    • پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی تعاون سرمایہ کاری اور پارلیمانی روابط بڑھانے پر زور
    • پشاور دیر کالونی سانحہ، نجی تعلیمی اداروں کی انسپکشن اور جانچ پڑتال کا حکم
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کیا یہ 7پیشے ٹیکنالوجی کے لئے خطرہ بن جائیں گے؟

    By Daily Khabrainجنوری 15, 2019
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور(ویب ڈیسک)اگر آپ کا کام بیزار کن اور تکرار والا ہے تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔منی مینیجر جون پگلیانو کے مطابق: ‘ایسا کام جو معمول اور قابلِ پیش گوئی ہے، حساب کے الگورِتھم کی مدد سے پانچ سے دس سال میں ممکن ہو جائے گا۔’پگلیانو سلسلہ وار کتب ‘روبوٹس آر کمنگ: اے ہیومنز سروائیول گائیڈ ٹو پرافیٹنگ ان دی ایج آف آٹومیشن’ یعنی روبورٹس آرہے ہیں: آٹومیشن کے دور سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسانی بقا کی گائیڈ کے مصنف ہیں۔انھوں نے خطرات کا شکار جن پیشوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جنھیں اب تک محفوظ سمجھا جارہا تھا، کیونکہ ان کے لیے انتہائی قابل اور پیشہ ور ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے ٰجیسا کہ طب اور قانون۔’بی بی سی ہسپانوی نیوز سروس، بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے پگلیانو کا کہنا تھا ‘ڈاکٹر اور سائنس دان غائب نہیں ہو جائیں گے لیکن ان کی مزدوری کا میدان جزوی طور پر کم ہو جائے گا۔’پگلیانو کے مطابق یہ وہ سات شعبے ہیں جو ٹیکنالوجی سے متاثر ہوں گے اور کچھ جو بچ جائیں گے۔
    1. ڈاکٹر
    یہ دور کی کوڑی لگ سکتی ہے کیونکہ ڈاکٹروں کی ہمیشہ سے کمی رہی ہے اور ان کی بہت مانگ بھی رہی ہے جبکہ عمر دراز ہوتی ہوئی عالمی آبادی کے تناظر میں اس کی مانگ اور بھی زیادہ ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔لیکن پگلیانو کا کہنا ہے کہ طب کے بعض شعبے بیماری کی از خود تشخیص کے نتیجے میں خطرے سے دو چار ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ڈاکٹر اور تربیت یافتہ طبی معاون کی ایمرجنسی روم میں ضرورت رہے گی اس کے علاوہ سرجن جیسے ماہرین کی بھی مانگ رہے گی۔
    2. وکلائ
    پگلیانو کا خیال ہے کہ مستقبل میں دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ان جیسے دوسرے معمول کے کاموں کے لیے وکیلوں کی کم ہی ضرورت ہوگی۔ایسے قانونی کاموں کے لیے کمپیوٹر سافٹ ویئر کا استعمال ہوگا جس میں کم تجربے اور کم اختصاص اور مہارت کی ضرورت ہو۔
    3. ماہرِتعمیرات
    عام اور سادہ سی عمارت کے ڈیزائن سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیے جانے لگے ہیں۔پگلیانو کا خیال ہے کہ مستقبل میں صرف تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کے حامل ماہر فن تعمیرات ہی اس کاروبار میں بچ جائیں گے۔
    4. اکاﺅنٹنٹس یا محاسب
    پگلیانو بتاتے ہیں کہ ٹیکس کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے والے اکاو¿نٹنٹس ہی بچیں گے۔ان کے خیال میں چھوٹے موٹے ٹیکس کا کام کرنے والوں کی مانگ ختم ہو جائے گی۔
    5. جنگی جہاز کے پائلٹ
    غیر انسانی ہوائی گاڑیاں (یو اے وی) جنھیں عرف عام میں ڈرونز کے نام سے جانا جاتا ہے نے خطرناک صورت حال سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی پائلٹ کی جگہ لے لی ہے اور وہ ایسا کرتے رہیں گے کیونکہ مستقبل میں جنگ زیادہ سے زیادہ خود کار ڈھنگ سے لڑی جائے گی۔
    6. پولیس اور جاسوس
    معمول کی نگرانی کے کام کے لیے اور بغیر اختصاص والی جانچ کے کام کے لیے پہلے سے ہی پیچیدہ ٹیکنالوجی کے نظام کا استعمال ہونے لگا ہے۔پگلیانو کہتے ہیں کہ ہر چند کہ اس کام لیے ملازمتیں ختم نہیں ہو جائیں گی لیکن ان کی مانگ کم ضرور ہو جائے گی۔
    7. ریئل سٹیٹ ایجنٹ
    خردہ خرید و فروخت کے دوسرے شعبوں کی طرح زمین اور مکان کی خرید و فروخت پر بھی ویب سائٹس اثر انداز ہوئی ہیں اور ان کے خریدنے اور فروخت کرنے والوں میں رابطہ پید کرنے کی وجہ سے روایتی دلالوں کے منافع میں کمی آئی ہے۔ایسے میں کمپنیوں کے ثالثی کرنے والے مینیجر غائب ہو جائ?ں گے کیونکہ مجموعی طور پر ان کے کام پر ٹیکنالوجی اثر انداز ہونے لگی ہے۔
    ٹیکنالوجی کی وجہ سے کون سا پیشہ پیدا ہوگا؟
    پگلیانو کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے سبب جہاں کچھ پیشوں کی بنیاد ختم ہو جائے گی وہیں دوسری جانب مواقع پیدا ہوں گے۔وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کرنے والوں یا سافٹ ویئر اور کمپیوٹر کا الگورِتھم تیار کرنے والوں کا مستقبل روشن ہے اس کے ساتھ اس نظام کا تحفظ اور مرمت کرنے والے انجینیئروں کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔
    پگلیانو کا کہنا ہے کہ حقیقی زندگی سے جڑے روایتی کاموں کے کرنے والوں کی مانگ زیادہ ہوگی جن میں پلمبر، بجلی ٹھیک کرنے والے اور ہنرمند راج مستری یا معماروں کی مانگ بہت زیادہ رہے گی۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      "گلیکسی اَن پیکڈ ڈیوائسز لانچ سے پہلے لیک ہو گئیں۔”

      لاہور میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والا ڈرون سسٹم متعارف کروا دیا گیا۔

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.