Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر دہشت گرد حملہ، 3 اہلکار شہید
    • بھارت اسلام آباد میں SCO قومی رابطہ کاروں کے اجلاس میں شرکت کرے گا
    • نیپال میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ سے 70 افراد ہلاک، 11 لاپتا
    • اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلا دھار بارش، رین ایمرجنسی نافذ
    • سعودی وزیر خارجہ واشنگٹن پہنچ گئے امریکی ہم منصب سے اہم مذاکرات آج
    • M-1 موٹروے اور جی ٹی روڈ اسلام آباد پشاور ٹریفک کیلئے بحال
    • CDA کا اسلام آباد میں جدید اسپورٹس ایریناز قائم کرنیکا فیصلہ
    • جاز کا ڈیجٹ اور یونیساک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان
    • الامہ ہاسنگ سوسائٹی روات راولپنڈی کے مالکان سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے میں مصروف
    • الامہ جعلی ہاسنگ سوسائٹی نوسر باز مالکان کو جلد قانون کے شکنجے میں لائینگے، ترجمان راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا موقف
    • مشرق وسطیٰ جنگ کے تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: عمانی وزیر خارجہ
    • راولپنڈی سے اسلام آباد داخلی و خارجی راستوں پر قانونی شکنجہ مزید سخت
    • صدر مملکت آصف زرداری سے ملک ساحل سرمد خان کی ملاقات
    • پائیدار سیاحتی ترقی، بہتر بنیادی سہولیات مقامی برادریوں کی شمولیت کے لیے پرعزم ہیں: وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان
    • وزیراعظم کا وژن’ ورلڈ سکلز شنگھائی میں پاکستانی نوجوانوں کی شاندار کارکردگی
    • PTI اور حکام کے درمیان ملاقاتوں کے باوجودمارچ معاملے پر تعطل ختم نہ ہوسکا
    • بوچھال کلاں کا غائب ہونیوالا 15سالہ بچہ کاشان حیدر 23روز بعد بالآخر والدین کو مل گیا
    • انتظامیہ و بلدیہ افیسر کی عدم دلچسپی سے گوجر خان شہر مسائلستان کا گڑھ بن گیا
    • گوجر خان شہر میں مضر صحت دودھ کی فروخت، بیماریاں پھیلنے لگیں
    • راولپنڈی ،4 افراد گرفتار، چرس، شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    لو بیٹھ گئی صحیح سے ،عورت مارچ کا ایسا پو سٹر جو دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہو گیامگر کیسے ،بی بی سی کی تہلکہ خیز رپو رٹ

    By Daily Khabrainاپریل 9, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لندن (ویب ڈیسک)جب رومیسا لاکھانی اور راشِدہ شبیر حسین نے عورتوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ایک جلوس کے لیے پلے کارڈز بنائے تھے تو ا±ن کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ پورے ملک میں ہر ایک کا موضوعِ بحث بن جائیں گے۔عالمی یومِ خواتین سے ایک دن پہلے بائیس برس کی دو طالبات نے کراچی یونیورسٹی میں پوسٹرز بنانے کے ایک سیشن میں شرکت کی تھی۔ یہ کچھ اس طرح کا پوسٹر بنانا چاہتی تھیں جو سب کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ انھوں نے اس پر سوچ بچار شروع کردی۔ان کی ایک دوست وہاں ٹانگیں پھیلائے قریب ہی بیٹھی تھی۔ اس انداز کو دیکھ کر ان کے ذہن میں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس انداز پر پوسٹر بنائیں۔رومیسا کے مطابق عورتوں کے بیٹھنے کے انداز پر معاشرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی بات ہوتی رہتی ہے۔ ’ہمیں باوقار نظر آنا چاہیے، ہمیں اپنے جسم کے خد و خال بہت عیاں نہیں کرنے چاہیے۔ لیکن مرد اگر ٹانگیں کھول کر یا پھیلا کر بیٹھیں تو اِس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔‘رومیسا نے اپنے پوسٹر پر ایک ایسی عورت کی تصویر بنائی جو بے باک انداز میں عینک لگائے ارد گرد کے ماحول سے بے پرواہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھی ہے۔ا±س کی دوست راشِدہ نے انہیں اِس پوسٹر کے لیے ایک موزوں سا نعرہ بنا کر دیا۔ راشِدہ کی کوشش تھی کہ وہ اس بات کو پیش کرنے کی کوشش کریں کہ کس طرح معاشرہ ایک عورت سے توقع کرتا ہے کہ وہ ’کیسے بیٹھے، کیسے چلے، کیسے بات کرے۔‘راشدہ اور رومیسا دونوں ہی عورتوں کے حقوق کے بارے میں بہت جذباتی ہیں۔اس طرح انھوں نے ایک س±رخی سوچی ’لو بیٹھ گئی صحیح سے۔‘رومیسا اور راشِدہ کی پہلی ملاقات حبیب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ رومیسا کمیونیکیشن ڈیزائین جبکہ راشِدہ سوشل ڈیویلپمنٹ اینڈ پالیسی کی طالبہ ہیں۔راشِدہ کہتی ہیں ’ہم دونوں بہترین دوست ہیں۔ ہم اکٹھا ہنستے ہیں، ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی باتیں بتاتے ہیں۔‘وہ صنفی تفریق کے ذاتی تجربات کی وجہ سے جذباتی حد تک عورتوں کے حقوق کے بارے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔رومیسا کے لیے جلد شادی کے خاندانی دباو¿ سے نمٹنا روز کا معمول ہے۔ انھوں نے اب تک شادی نہیں کی ہے اور وہ اسے اپنی فتح سمجھتی ہیں۔راشِدہ کہتی ہیں کہ انھیں عموماً گلیوں میں سڑکوں پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ اس خیال سے پریشان ہوتی ہیں کہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جلد شادی کرکے ایک گھریلو خاتون بن جائیں۔اس لیے یہ دونوں طالبات پچھلے ماہ پاکستان کے شہروں میں ہونے والے کسی ایک عورت مارچ میں شرکت کی بہت خواہشمند تھیں۔‘یہ ایک بڑے ہی کمال کی بات تھی کہ اتنی ساری خواتین، عورتوں کے حقوق کے لیے نعرے لگا رہی ہوں گی۔‘رومیسا کا کہنا تھا ’یہ ایک قسم کی ہماری طاقت کا مظاہرہ تھا اور میرا خیال ہے کہ اس مارچ میں شامل ہر عورت اپنے آپ کو با اختیار محسوس کر رہی تھی۔‘عورتوں کے حقوق کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں میں یہ عورت مارچ خواتین کے حقوق کے لحاظ سے خاص حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی عورتیں بڑی تعداد میں ایسے جلوسوں میں شرکت کر چکی ہیں۔ان مظاہروں میں طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر شرکت کی جاتی ہے جس میں ہم جنس پرست مرد اور خواتین کہ علاوہ مخنث یا ایل جی بی ٹی کہلانے والی کمیونیٹی کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کو صنفی برابری کے معیار کے لحاظ سے دنیا کا بد ترین سطح یا 149ویں نمبر کا معاشرہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان سے بدتر معاشرہ صرف یمن کا تھا۔ پاکستان میں عورتوں کا گھریلو تشدد کا نشانہ بننا، ا±ن کی زبردستی شادی ہونا اورجنسی ہراسیمگی کا نشانہ بننا معمول کی بات ہے۔ یہاں عورتیں عزت کا نام پر قتل بھی کردی جاتی ہیں۔اس برس ہونے والے عورت مارچ کے جلوسوں میں بنائے گئے پلے کارڈز اور پوسٹرز جنسی موضوعات پر بھی تیار کیے گئے تھے اور اس قدامت پسند معاشرے میں انھوں نے ایک شدید ردِ عمل پیدا کیا۔اس مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان پوسٹروں کے خلاف رد عمل اس لیے تھا کیونکہ یہ مردوں کے اس تصور کو چیلینج کرتے ہیں کہ مرد عورتوں کے اپنے جسم اور رویے کا تعین کرنے کا مجاز ہیں۔ان جلسوں کی ایک منتظم م±نیزا کہتی ہیں کہ ’ہم عورتوں کے جسم کے صنفی رویے کے بارے میں مردوں کی طاقت کو چیلینج کر رہے ہیں۔ یہ ایک مذہبی اقدار کا معاشرہ ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ عورت اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے۔ ہم اسی خیال کو چیلینج کر رہے ہیں۔‘رومیسا کا کہنا ہے کہ ان جلوسوں میں ساڑھے سات ہزار خواتین کی شرکت کے مناظر نے قدامت پسندوں کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’اتنے شور کے ساتھ سڑکوں پر آکر ایسا کرنے نے کئی لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔ لوگ کہہ کرہے ہیں کہ یہ اسلام کے لیے خطرہ ہے، لیکن میرا ایسا خیال نہیں ہے۔ اسلام تو حقوقِ نسواں کا مذہب ہے۔‘اس جلوس کے بعد ابھی رومیسا گھر بھی نہیں پہنچیں تھیں کہ انھیں احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پوسٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔فیس بک پر ایک کمنٹ تھا ’میں اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا معاشرہ نہیں چاہتا ہوں۔‘ ایک اور کمنٹ تھا ’میں ایک عورت ہوں لیکن میں اس بات سے اچھا محسوس نہیں کرتی ہوں۔‘ جبکہ ایک اور کمنٹ میں کہا گیا تھا کہ ’یہ عورتوں کا دن تھا، نہ کہ کتیاو¿ں کا دن۔‘تاہم بہت سارے لوگوں نے پلےکارڈ کے پیغام کی حمایت بھی کی تھی۔ایک خاتون نے ٹویٹ کیا کہ ’میں واقعی اس بات کو سمجھ نہیں پائی ہوں کہ لوگ اس پوسٹر کے الفاظ سے اتنا خوفزدہ کیوں ہوگئے ہیں جبکہ اصل میں تو انھیں پاکستان میں عورتوں کی غلامانہ حیثیت پر کراہت محسوس کرنی چاہیے۔‘رومیسا کو ان لوگوں کی جانب سے بھی پیغامات ملے جنھیں وہ جانتی تھیں۔ ایک نے کہا ’ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ت±م نے کیا۔ ت±م تو ایک باحیا خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔‘عورت مارچ کو قدامت پسندوں اور حقوسِ نسواں کے حامیوں دونوں کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔رومیسا کے رشتہ داروں نے ان کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ انھیں ان جلسوں میں شرکت کرنے سے روکیں۔ اس دباو¿ کے باوجود رومیسا کے والدین نے اس قسم کے مظاہروں میں شرکت کے فیصلے پر ان کی حمایت برقرار رکھی۔اس مظاہرے میں ایک اور پلے کارڈ پر ایک یہ نعرہ بھی درج تھا ’میرا جسم میری مرضی‘۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق، اس نعرے کی وجہ سے کراچی کے ایک مذہبی رہنما نے اپنے خطبے میں ان عورتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ’میرا جسم میری مرضی۔۔۔۔۔ تمہارا جسم تمہاری مرضی۔۔۔ تو پھر تو مردوں کے جسم اور مردوں کی مرضی۔۔۔ وہ بھی جس پر چاہیں چڑھ سکتے ہیں۔‘ مولانا منظور احمد مینگل کی یہ تقریر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے۔ان مولانا پر تنقید کرنے والوں نے ان پر لوگوں کو ریپ پر اکسانے کا الزام لگایا ہے اور مارچ کی منتظم م±نیزہ نے کہا ہے کہ ’اس مارچ کے بعد سے ریپ اور قتل کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔‘م±نیزہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس مارچ کے منتظمین پر ریپ اور قتل جیسی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ میرے خیال میں مردوں میں یہی وہ عورتوں سے نفرت کے خیالات ہیں جن کو ہم نے چیلینج کیا ہے۔‘اس عورت مارچ نے پاکستان میں حقوقِ نسواں کی تحریک کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ حقوقِ نسواں کی حامی کئی خواتین نے بھی اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔رومیسا کے مطابق، ان خواتین کا کچھ ایسا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی اہم مسائل نہیں ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ عورت کس طرح بیٹھے۔ میری اپنی دوست جو اپنے آپ کو حقوقِ نسواں کی حامی کہتی ہے، ایسے پوسٹر کو غیر ضروری سمجھتی ہے۔‘کشور ناہید جیسی حقوقِ نسواں کی حامی سمجھتی ہیں کہ رومیسا اور راشِدہ کا پلے کارڈ معاشرتی اقدار اور روایات کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو یہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح کے پلے کارڈز سے وہ زیادہ حقوق حاصل کرلیں گی، وہ جہادیوں کی طرح گمراہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو قتل کر کے وہ جنت میں جائے گے۔لیکن انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے سعدیہ کھتری کے ایک آرٹیکل نے کشور ناہید پر حقوقِ نسواں کی تحریک کا ساتھ نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جن پوسٹروں کو ’بے ہودہ‘ کہا جا رہا ہے انھیں گلے لگانا چاہیے۔
    ا±ن کا کہنا ہے کہ ہمیں ان پوسٹرز کو اپنانا چاہیے اور ان کے اور بڑی سطح پر ’حقوقِ نسواں کی جدوجہد‘ کے درمیان تعلق دیکھنا چاہیے اور انھیں اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ایک لڑکی کا اپنی مرضی سے ٹانگیں کھول کر بیٹھنے کا حق دراصل معاشرے کی سرزنش یا ہراسیمگی کے خوف کے بغیر اس کا اپنے جسم پر اختیار حاصل کرنے کا حق ہے۔ یہ ا±س کا آزادی کے ساتھ گھومنے کا حق ہے، یہ مسئلہ ایسے ہے کہ جیسے جس لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ا±سی کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔ یہ پوسٹر ایسی سوچ کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔ لڑکی جیسے چاہے بیٹھے، ا±س پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.