تازہ تر ین

آئی ایم ایف معاہدے میں بعض چیزیں کمزور طبقے کے فائدے میں ہیں، حفیظ شیخ

کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ جب یہ حکومت آئی تو ملک پر31 ہزار ارب روپے کا قرض تھا، زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بھی کم ہوچکے تھے، درآمدات اور برآمدات کا فرق 20 ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہوچکا تھا۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں حفیظ شیخ نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کم شرح سود پر چھ ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے، اس معاہدے میں تین چار چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے کمزور طبقے کے فائدے میں ہیں۔مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے گورنر ہاﺅس کراچی میں تاجروں کو آئی ایم ایف پروگرام کے بارے میں بریف کیا اور ان سے بجٹ تجاویز لیں۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب، مالیاتی پیکج پرمعاہدہ ہوگیا۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ مشکل ہے، کوشش ہوگی عوام کی بنیادی ضروریات متاثر نہ ہوں، آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ پر بات کی اور نہ یہ ا±ن کا حق ہے۔ معاہدے کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے دو سے تین ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے نہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر بات کی اور نہ ہی یہ انکا حق ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک کا دائرہ اختیار ہے۔ڈالر مہنگا ہو کر ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 146.52 روپے تک پہنچ گیاعبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ 300 یونٹس تک بجلی کھپت والے چھوٹے صارفین کیلیے 216 ارب روپے سبسڈی دیں گے تاکہ بجلی قیمت میں اضافے کا ان پر اثر نہ ہو۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ مشکل بجٹ میں غریبوں پر اثر کم کرنے اور ان کی بنیادی ضروریات متاثر نہ ہونے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں مختلف ریٹس پر کالادھن سفید کیا جاسکتا ہے اور سب سے کم ریٹس رئیل اسٹیٹ میں کالادھن سفید کرنے کیلئے


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved