تازہ تر ین

حکومت 2ماہ میں الیکشن کرائے ،پی ٹی آئی جیتی تو پھر سڑکوں پر ہو نگے،فضل الرحمن

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مانتے ہیں بند گلی میں آگئے، پیچھے نہیں ہٹیں گے، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب ہم بند گلی میں آگئے ہیں۔ مطالبات نہ مانے گئے تو ملک میں افراتفری ہوگی۔ ہم گولیاں کھائیں گے اور شہادتیں بھی دیں گے۔ ہم گھبرا رہے ہوتے تو اسلام آباد کا رخ نہ کرتے۔ ملک ان حالات کا متحمل نہیں تو ملک کو فارغ کریں۔ حکومتی بیانات کہ معاملات افہام و تفہیم سے طے ہوں گے ، صرف تسلیاں ہیں۔ حکومت 2 سے 3 ماہ میں فوری الیکشن کروائے۔ پی ٹی آئی دوبارہ الیکشن جیتی تو ہم پھر سڑکوں پر آئیں گے۔ ہمیں کسی قسم کا کمیشن یا کمیٹی قبول نہیں۔ ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے ، کمیٹی کمیٹی تو صرف ٹائم پاس ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ‘اب تک لوگوں کا جو جوش و خروش ہے وہ اپنی موجودگی سے یہ بتا رہے ہیں وہ یہاں تفریح کے لیے نہیں آئے، وہ ایک نظریے کے ساتھ آئے ہیں اور یہ ایک قوم کی آواز ہے لہذا اب یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے احتجاج کو نظر انداز کیا جائے اس لیے مارچ ختم کرنے کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے 26 جولائی 2018 سے کام شروع کردیا تھا، اب یہ صورتحال ہے کہ ملک میں ایسی بیداری آئی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں، اگر وہ ملک کے حالات میں بہتری لاتے تب لوگ ان کی حکومت کا شاید ساتھ دیتے لیکن ان کی حکومت میں ملک روز بہ روز تنزلی کی طرف جارہا ہے، ہم اس طرح کی جمہوریت چاہتے تھے؟ ہم نے قربانیاں اس جمہوریت کے لیے نہیں دی تھیں۔’ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن اپنی افادیت کھو چکا ہے اس لیے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، موجودہ قوانین کے تحت ہی دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وہ بھی قبول نہیں کریں گے جبکہ چاہتے ہیں کہ ان انتخابات کے لیے فوج کو بلکل نہیں بلایا جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ‘فوج کا ایک مقام اور عزت ہے اور گزشتہ حکومت کا انتخابات کے لیے فوج کو بلانے کا اقدام غلط تھا، فوج انتہائی اہم ادارہ ہے جسے متنازع نہیں بنانا چاہیے۔’انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے چاروں مطالبات تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ مطالبات ہیں، دوبارہ انتخابات کا مطالبہ انہیں ہر صورت ماننا پڑے گا۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن و اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے متعلق سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ‘اسد قیصر کی کوئی حیثیت نہیں، وہ بھی میری طرح فقیر آدمی ہیں، ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، کوئی آتا ہے تو انکار نہیں کرتے، حکومت کی طرف سے ٹائم پاس کیا جارہا ہے۔’مطالبات نہ مانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اس صورت میں ملک میں افراتفری ہوگی، نہ جانے کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا، ہم کسی پر حملہ نہیں کریں گے، ہم گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور یہاں سے لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے، ہم جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو لے کر گھروں سے نکلے ہیں جبکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہے کہ تو حکومت گھر جائے۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم ڈیڈ لائن کھینچ چکے ہیں، ہم اس ناروا، ناجائز اور نااہل حکومت کو قبول نہیں کرتے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہے، ہم تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں لیکن اس حکومت کو قبول نہیں کر سکتے۔’کرتارپور راہداری کے ذریعے بھارتی سکھ یاتریوں کو بغیر ویزے اور پاسپورٹ ملک میں آنے کی اجازت دینے سے متعلق مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ‘بھارت کے ساتھ ایک طرف ایل او سی پر تنا ہے دوسری طرف آپ کرتارپور آنے کے لیے بھارتی سکھوں کو بغیر پاسپورٹ یا ویزا آنے کی اجازت دی جارہی ہے، یہ ایک ملک کا دو سرحدوں پر ایک ہی ملک کے ساتھ تضاد ہے۔’


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved