تازہ تر ین

حکومت مہنگائی کا کیا توڑ کرتی ہے،آج عوام کی نظریں وزیر اعظم کے اعلان پر ہیں ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ حکومت اور ق لیگ دونوں فریق افورڈ نہیں کر سکتے تھے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ تحریک انصاف کے لئے ضروری تھا کہ معاملات حل کریں اور جو بھی ان کے مطالبات ہیں تحفظات ہیں ان کو ور کریں۔ میں نے بار بار کہا تھا کہ یہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ حکومت کا فرص ہوتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف پہنچائے۔ اگر دونوں پارٹیوں نے مل کر عوام کے فائدہ کے لئے سوچا ہے۔ اگر عوام کو سہولتں پہنچانے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک اچھا قدم ہے۔ اب یہ معاملات ختم ہو گئے ہیں۔ نیب نے 13 فروری کو بلاول بھٹو زرداری کو طلب کر لیا ہے جعلی اکاﺅنٹس سے 1½ ارب کی منتقلی ہوئی۔ 2008ءسے 2019ءتک کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ بلاول بھٹو کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ نئے آدمی ہیں حکومت میں شامل بھی نہیں کہ ان کے خلاف ایسا کوئی الزام نہیں ہو گا لیکن بڑی حیرت کی بات ہے کہ حکومت سے سائڈ لائن ہوتے ہیں ان پر یہ الزام لگا ہے یہ تو بہت سیریس بات ہے۔ بلاول بھٹو کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ نیٹ اینڈ کلین آدمی ہیں ان کا چونکہ تعلق حکومتوں سے ہے ہی نہیں ہے اور رہا ہی نہیں اس لئے ان پر اس قسم کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ابھی یہ عدالتوں میں کیسز چلیں گے پھر اس کے بعث ثبوت لائے جائیں گے۔ جب یہ تک فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک تو نہیں رائے قائم کرنی چاہئے۔ اب تک جو سامنے آیا اس میں پیپلزپارٹی کا کلچر اتنا زیادہ لتھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پیپلزپارٹی پر ہر دور میں اتنے زیادہ الزامات لگے ہیں۔ ایک اخبار نے ایک چینل نے جب جہانگیر ترین پر الزامات لگائے کہ چینی اور آٹے کی مہنگائی میں ان کا ہاتھ ہے تو انہوں نے اس ادارے پر ارب ہرجانے کا دعویٰ کر دیا ہے ابھی تک وہ دعویٰ پینڈنگ ہے۔ جب تک کوئی چیز ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک کسی پر اس طرح سے الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ بنیادی طور پر سیاست تعمیر نو کی ضرورت ہے سیاست میں کرپشن اتنی زیادہ آ گئی ہے اب تو ہر پارٹی کی شخصیات پر الزامات کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ ایک سے ایک بڑا الزام لگتا رہتا ہے۔ ان سارے الزام کو کھنگالا جائے۔ جن پر الزامات پر ثبوت موجود ہیں۔ ان پر ان کو سزائیں دی جائیں۔ ایک ہمارے نظام انصااف میں تیزی آنی چاہئے اس لئے کہ یہاں برسوں تک مقدمات چلتے رہتے ہیں اور سالوں ان کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ بدقسمتی ہے کہ پاکستانی سیاست بلکہ انڈیا کی سیاست میں یہی کچھ ہے۔ مہنگائی کے توڑ کے حوالہ سے وزیراعظم اہم اعلان کرنے جا رہے ہیں وغیرہ اسد عمر کی طرف سے کہا گیا کہ وزیراعظم اس پر عملدرآمد بھی چاہتے ہیں۔ اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ بڑا مشکل ہے۔ دو ہفتے میں کوئی بڑا کام ہو گا البتہ یہ ضرور ہے کہ برسوں تک نہیں لڑنا چاہتے۔ عوام کا بڑا دباﺅ ہے اس کا کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ مہنگائی پر کنٹرول نہیں ہو رہا۔ 15 ارب کی سبسڈی دینا بڑا اچھا ہے اس سے کافی ریلیف ملے گا بنیادی طور پر جب چیزیں خاص حد سے بڑھ جاتی ہیں تو ان کو معمول پر لانے کا ایک میکنزم ہوتا ہے معلوم یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے کئی برسوں سے وہ میکنزم موجود نہیں ہے۔ اب عوام کی نظریں وزیراعظم کی طرف سے دیئے جانے والے ریلیف پیکیج پر ہی کہ حکومت مہنگائی کا کیا توڑ نکالے گی۔ دیکھنا یہ ہے وزیراعظم جو نظام لانے جا رہے ہیں کیا اس کے بعد مہنگائی دور ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر کنٹرول نہ ہوا یہ نظام بیکار ہو گا سنا ہے کہ کوئی راشنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ جو اب تک کی خبریں ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے بنیادی ضرورت کی اشیاءپر سبسڈی دی جائے۔ جو عام آدمی کی ضرورت ہیں۔ دیکھنا ہے حکومت اس میں کسی حد تک کامیاب رہتی ہے۔ حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر کا جو پرانا نظام ہے مجسٹریٹی کا جو پرانا نظام تھا اس میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے کیا وجہ ہے چیزیں مہنگی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ لگتا ہے کہ پرانی حکومتوں نے اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے گروپس کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہر قسم کے معاہدے کرتے رہے اور ایک مرتبہ جو ریٹ بن جاتا تھا پھر اس میں لانا ممکن نہیں رہتا جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ اس حکومت کو بہت سارے معاہدات جو ہیں ان کو ختم کرنا پڑے گا یا نظر ثانی کرنا ہو گی کیونکہ اس ریٹ پر جو بجلی بنے گی اور وہ اتنی ہی مہنگی پڑے گی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain