تازہ تر ین

کیا اسمبلی صرف لڑائی کے لیے ہے،کوئی قانون سازی کوئی تعمیر ی کام نہیں ہو سکتا ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے ہ اسمبلیوں میں تلخیاں معمول کی بات ہے اسے زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہئے۔ دنیا میں جہاں بھی پارلیمنٹس موجود ہیں یہی کچھ ہوتا ہے۔ عمر ایوب نے ٹین پرسنٹ کا لفظ استعمال کیا۔ حکومت کوشش کر رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس جواز یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے لوگ اتنے قرض چھوڑ گئے تھے مہنگے بجلی کے منصوبے چھوڑ گئے اور لمبے لمبے معاہدے کر کے کہ جس کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بھی کم نہیں ہو سکتیں۔ جس کی وجہ سے ہر چیز مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ عام طور پر حکومت کے بس میں نہیں ہوتا مہنگائی پر کنٹرول کرنا ایک باریک تکنیک ہے اور اتنی اس میں بار بار گفت و شنید کرنی پڑتی ہے کیونکہ دیکھنا پڑتا ہے کہ مہنگائی کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں کہاں درمیان میں بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو مہنگائی بڑھا سکتا ہے اگر وہ 10 روپے کی مہنگائی بڑھاتا ہے تو دراصل 5 بڑھتے ہیں وہ 5 روپے وہ اپنی طرف سے بڑھا دیتے ہیں۔ اسی طرح قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ جہاں گورننس اچھی نہ ہو تو وہاں اسی طرح ہوتا ہے۔ عمران خان صاحب کی سوچ یہ ہے کہ پنجاب کی زمام کار جس شخصیت کے ہاتھ ہے وہ بہت ایماندار اور محنتی ہیں ان کو پورا موقع ملنا چاہئے لہٰذا وہ یہ چاہتے ہیں پانچ سال ان کو ملنے چاہئیں۔ پنجاب جتنا بڑا صوبہ ہے اس کو کنٹرول کرنے کے لئے اتنا ہی بڑا سسٹم چاہئے ویسے بھی یہی وجہ ہے کہ پورا پاکستان ایک طرف اور اکیلا پنجاب دوسری طرف۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ پنجاب کے کم از کم دو حصے اول تو 3 ہونے چاہئیں تا کہ چھوٹے انتظامی یونٹ بنیں اور ان پر کام آسان ہو یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ بالآخر پنجاب کے حصے کرنا پڑیں گے۔ آج قومی اسمبلی میں جو صورت حال ہوئی اس حوالہ سے آپ سے سوال ہے کہ یہ کس قسم کی قومی اسمبلی ہے جس دن بھی اس کا اجلاس ہوتا ہے کوئی نہ کوئی لڑائی بڑھ جاتی ہے کنفرٹیشن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہم نے اب تک یہی سنا تھا، دیکھا تھا کہ بلاول بھٹو ایک نیٹ اینڈ کلین فریش نوجوان ہیں اور وہ حکومت میں نہیں رہے لہٰذا ان پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ پچھلے دنوں نیب نے مقدمات چھیڑے ہیں ان میں جو نئی چیزیں سامنے آئی ہیں ان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بلاول بھٹو کے خلاف بھی الزامات سامنے آ گئے ہیں تو اس پر آپ کیا کہتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ الزامات ہر دور میں لگتے رہے ہیں حکومت نیب کو استعمال کرتی ہے مگر یہ الزام ثابت کرنا پڑے گا۔ یہ بات کئی ہے کہ عدالت سے ثابت نہیں ہو سکی کہ نیب اور حکومت کا گٹھ جوڑ ہے۔ بالعموم ایک دوسرے میں آمنے سامنے کا مقابلہ ہو گا اور ایک دوسرے پر الزامات بھی لگیں۔ بے سروپا الزامات بھی لگتے ہیں ضروری نہیں کہ سب کے سب درستت ہوں۔ عدالتوں کا پروسیجر طویل ہوتا ہے اس لئے الزامات پر فیصلہ جلدی نہیں ہوتا، قانون سازی کی بجائے الزام تراشی بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی میں تعمیری کاموں کے لئے وقت ہی نہیں بچتا۔ حکومت چیزوں پر سبسڈی دے کر عوام کو سستی چیزیں فراہم کرنے کیلئے کوشش کر رہی ہے اور اپوزیشن اس کی مخالفت کر رہی ہے لہٰذا دونوں طرف سے دیکھنا پڑے گا کہ کون کتنی بات صحیح کہہ رہا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved