پاکستان میں 2238 افراد کرونا سے متاثر، اموات 31 تک پہنچ گئیں 85 صحت یاب

اسلام آباد /کراچی /لاہور /پشاور /کوئٹہ /گلگت /مظفر آباد (نمائندگان خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا اور ملک میں مزید نئے کیسز سامنے آنے سے تعداد 2 ہزار 112 تک جا پہنچی ،اب تک اس عالمی وبا سے 28 افراد انتقال کرچکے ہیں۔وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کراچی میں مزید 33 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 709 ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں اس وقت 307 کورونا متاثرین زیر علاج ہیں، حیدر آباد میں متاثر ہونے والوں کی تعداد 128 ہے جبکہ جیکب آباد اور دادو سے ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔انہوں نے بتایاکہ سکھر قرنطینہ میں 265 افراد کا ٹیسٹ مثبت ہے ، لاڑکانہ قرنطینہ میں رکھے گئے 7 کیسز میں کورونا ٹیسٹ مثبت رہا۔بعد ازاں انہوں نے کراچی میں کورونا وائرس سے ایک اور ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ 59 سالہ شخص کو 19 مارچ کو سعودی عرب سے واپسی پر ہسپتال داخل کرایا گیا تھا جہاں ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ مریض کو سانس کی بیماری تھی اور وہ پہلے دن سے وینٹی لیٹر پر تھے۔سندھ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے،ادھر پنجاب میں مزید 40 کیسز سامنے آنے سے صوبے میں متاثرین کی تعداد 748 تک پہنچ گئی۔ترجمان محکمہ صحت قیصر آصف نے ان نئے کیسز کی تصدیق کی اور بتایا کہ ڈی جی خان سے 207 زائرین، ملتان سے 91 زائرین، رائے ونڈ قرنطینہ میں 41 اور فیصل آباد قرنطینہ میں 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں 159، گجرات 86، راولپنڈی میں 46، جہلم میں 28 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ باقی کیسز صوبے کے دیگر علاقوں میں سامنے آئے۔بعد ازاں ترجمان نے 8 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 748 ہوگئی ہے۔دوسری جانب یکم اپریل کو ہی راولپنڈی میں کورونا وائرس سے ایک اور شخص انتقال کرگیا۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی انوارالحق نے مذکورہ موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ 85 سال شخص 21 مارچ کو برطانیہ سے واپس آیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مریض کا انتقال گزشتہ رات کو ہوا تاہم ان کے نتائج بدھ کوآئے جو مثبت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتقال کرجانے والے شخص کا تعلق گجر خان سے تھا اور ان کی تدفین وہیں کی جائے گی۔بدھ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تاہم حکومتی سطح پر اعداد و شمار بتانے کے لیے قائم کی گئی ویب سائٹ پر اسلام آباد میں کیسز کی تعداد کو کم کردیا گیااس سے قبل گزشتہ روز تک سرکاری ویب سائٹ پر اسلام آباد میں 58 افراد متاثر تھے تاہم اب ان کیسز کو 54 کردیا گیا۔علاوہ ازیں گلگت بلتستان کے کیسز میں ویب سائٹ کے مطابق اضافہ دیکھا گیا اور یہ تعداد 148 سے بڑھ کر 184 تک جا پہنچی۔ان دونوں علاقوں کے اعداد و شمار کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 ہزار 71 ہوگئی ہے، جس میں پنجاب سے سب سے زیادہ 740، سندھ سے 676، خیبرپختونخوا سے 253، بلوچستان سے 158، گلگت بلتستان سے 184، اسلام آباد سے 54 اور آزاد کشمیر سے 6 کیسز شامل ہیں۔اموات کی مجموعی تعداد میں بھی پنجاب سب سے آگے ہیں اور راولپنڈی کی ہلاکت کو ملا کر یہاں اب تک 10افراد انتقال کرچکے ہیں، جس کے بعد سندھ میں 9، خیبرپختونخوا میں 6، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان میں ایک فرد اس وائرس کے باعث وفات پاگیا۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک 82 مریض صحتیاب بھی ہوچکے ہیں، جس میں ایک بڑی تعداد سندھ سے ہے۔میو ہسپتال انتظامیہ نے کروناوائرس کے مریضوں کی تفصیلات جا ری کردیں ۔ ہسپتال میں کروناوائرس کے تصدیق شدہ مزید 10 مریض داخل ہیں ۔81 تصدیق شدہ مریض زیر علاج ہیں۔9 تصدیق شدہ مریضوں کو پی کے ایل آئی اور سی ایم ایچ نیشنل ہسپتال ریفر کیا گیا ہے۔ میو ہسپتال سے 7 تصدیق شدہ مریضوں کق حالت بہتر ہونے پر ڈسچارج کر دیا گیا ہے ۔میو ہسپتال میں 3 کنفرم مریض ہلاک ہو چکے ہیں ۔ کروناوائرس کے 15 مشتبہ مریض بھی آئسولیشین وارڈ میں زیر علاج ہیں۔اب تک مجموعی 192 کیس میو ہسپتال لائے گئے۔7 7مریضوں کی رپوٹس منفی آنے پر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔96مریض تاحال میو ہسپتال کے آئسولیشین وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ نارتھ میڈیکل وارڈ میں 77، او وی ایچ وارڈ 19 زیر علاج ہیں ۔گزشتہ چند گھنٹوں میں شہر کے مزید 8افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔شہر میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 167 ہو گئی۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 748 کنفرم مریض ہیں۔ راولپنڈی میں 83 سالہ کرم داد جان کورونا وائرس سے جاں بحق ہو گیا۔کرم داد برطانیہ سے آیا تھا، بے نظیر بھٹو ہسپتال میں داخل تھا۔ کورونا وائرس سے 10 اموات، 5 مریض صحت یاب ہو چکے۔ ڈی جی خان سے207 زائرین، ملتان 91 زائرین، رائے ونڈ کورنٹین 41 اور فیصل آباد کورنٹین میں 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق۔ لاہور میں 167، قصور 1، ننکانہ صاحب 13، راولپنڈی 46، جہلم 28، اٹک میں ایک مریض ہے۔گوجرانوالہ میں 12، گجرات 86، منڈی بہاوالدین 4، حافظ آباد 5 اور ناروال میں 2 مریض ہیں۔ سرگودھا 7، میانوالی 3، خوشاب 1، ملتان 2، وہاڑی 2، فیصل آباد 9، رحیم یار خان میں 3 مریض ہیں۔ بہاولنگر 3، بہاولپور 1، لودھراں 2، لیہ میں ایک، ڈی جی خان میں 5 مریض ہیں۔ پنجاب میں گزشتہ روزتک 16061 مشتبہ افراد کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ٹیسٹ این آئی ایچ اسلام آباد، پی آر ایل پنجاب، شوکت خانم، نشتر ہسپتال ملتان اور چغتائی لیب میں کیے جا رہے ہیں۔سکھرکےقرنطینہ سینٹر میں کرونا کے 101 مریض صحتیاب ہوگئے ، تمام افراد کا دوبارہ ٹیسٹ منفی آیا تو ان کو گھروں کو روانہ کردیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کروناوائرس تیزی سےپھیلنے لگا تاہم سکھر کے قرنطینہ سینٹر میں کرونا کے151 مریضوں میں سے 101 صحتیاب ہوگئے ہیں۔ڈویژنل کمشنر شفیق مہیسر کے مطابق ہیلتھ پروٹوکول کے مطابق ان افراد کا ایک بار پھر ٹیسٹ لیا جائے گا، دوبارہ ٹیسٹ منفی آیا تو مریضوں کو گھروں کو روانہ کردیا جائے گا۔شفیق مہیسرنے بتایاکہ چودہ مارچ کو تفتان بارڈر سے تین سو دوافراد کو قرنطینہ سینٹر منتقل کیا گیاتھا، ان میں سے 151 کے مثبت اور 151 کے منفی آئے۔

فوج سرحدوں کی خفاطت کیساتھ کرونا کے مقابلے کیلئے قوم کیساتھ کھڑی ہے آرمی چیف

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ قوم کی اجتماعی کوششوں سے تمام مسائل کو خطرہ بننے سے پہلے حل کر لیں گے اور معاشرے کے کسی بھی طبقے کو وبا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے خصوصی اجلاس میں شرکت کی جس میں کورونا وائرس وبا کی روک تھام میں فوج کی جانب سے وفاقی و صوبائی انتظامیہ کو فراہم کی جانے والی معاونت اور اہل کاروں کی تعیناتی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔اس موقعے پر آرمی چیف نے کہا کہ فوجی دستے شہریوں کو وبا سے بچانے کے ساتھ ساتھ مشکلات کے شکار عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔ قومی اجتماعی کوششوں سے تمام مسائل کو خطرہ بننے سے پہلے حل کر لیں گے۔ پاک فوج عوام کی مدد اور سہولت کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ہمیں متحدہ ہوکر حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ موجودہ صورت حال دشوار ضرور ہے تاہم ہم بحیثیت قوم ماضی میں بھی مشکل حالات کا سامنا کرچکے ہیں۔ اس چیلنج کی نوعیت ماضی کے مقابلے میں مختلف ہے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کے مقابلے کے لیے قوم کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔

قومی رابطہ کیمٹی کا اجلاس لاک ڈاون 14 اپر یل تک جاری رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کیلئے صوبوں کی جانب سے نافذ کیے گئے لاک ڈاو¿ن کی مدت میں مزید 2 ہفتوں کا اضافہ کااعلان کر دیا ہے جس کے بعد 14 اپریل تک لاک ڈاو¿ن جاری رہے گا جبکہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ 14اپریل سے پہلے قومی رابطہ کمیٹی کی دوبارہ میٹنگ ہوگی جس میں فیصلہ کریں گے کہ بندشیں کم کی جائیں یا بڑھائی جائیں ،اس دوران وہ سروسز اور صنعتیں جو بنیادی ضرورت کی چیزیں بناتی ہے، بدستور کھلی رہیں گی،کھانے پینے کی اشیائ، ادویات کی صنعتوں کو مکمل طورپر کھلا رکھنا بہت ضروری ہے ، گ±ڈز ٹرانسپورٹ پر کوئی بندش نہیں ہوگی، اگر بندشیں نہ لگاتے تو کورونا کےسز کئی گنا زیادہ ہوتے ،تمام فریقین این سی سی کے فیصلے پرعمل درآمد یقینی بنائیں گے،4 اپریل کو بیرون ملک سے ایک پرواز اسلام آباد آئےگی جس کے تمام مسافروں کو ائیرپورٹ پر قرنطینہ میں رکھ کر ٹیسٹ کیاجائےگا، منفی آنے پر ہی انہیں جانے دیاجائے گا۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاو¿ن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں نے مشاورت سے فیصلہ کیاکہ بندشوں کو 2 ہفتوں کے لیے پورے ملک میں جاری رکھا جائے گا اور مشترکہ طورپر فیصلہ ہوا کہ یکم سے 14 اپریل تک موجودہ صورتحال جاری رہے گی۔اسد عمر نے کہا کہ 14اپریل سے پہلے قومی رابطہ کمیٹی کی دوبارہ میٹنگ ہوگی جس میں فیصلہ کریں گے کہ بندشیں کم کی جائیں یا بڑھائی جائیں تاہم اس دوران وہ سروسز اور صنعتیں جو بنیادی ضرورت کی چیزیں بناتی ہے، بدستور کھلی رہیں گی۔انہوںنے کہاکہ کھانے پینے کی اشیائ، ادویات کی صنعتوں کو مکمل طورپر کھلا رکھنا بہت ضروری ہے جبکہ گ±ڈز ٹرانسپورٹ پر کوئی بندش نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب تمام فریقین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ این سی سی کے فیصلے پرعمل درآمد یقینی بنائیں گے تاہم 4 اپریل کو بیرون ملک سے ایک پرواز اسلام آباد آئے گی جس کے تمام مسافروں کو ائیرپورٹ پر قرنطینہ میں رکھ کر ٹیسٹ کیاجائے گا اور منفی آنے پر ہی انہیں جانے دیاجائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ ماضی میں بیرون ملک سے آنے والوں کی وجہ سے کورونا پھیلا ہے، بیرون ملک سے اسلام آباد آنے والی پرواز کے مسافروں کو شہر کے دیگرعلاقوں میں بھجوانے کا انتظام کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ اندرون ملک پروازوں پر بندش جاری رہے گی، جتنا ہم تجزیے، ڈیٹا پر فیصلے کریں گے، اتنے ہم بہتر فیصلے کرسکیں گے، جو بندشیں کی گئیں اس سے کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے، اگر بندشیں نہ لگاتے تو کورونا کےسز کئی گنا زیادہ ہوتے لہٰذا مزید بندشوں کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ کہ شکایات آئی ہیں کہ کچھ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے دفاتر بائیو میٹرک مشین سے حاضری لگارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بندشوں پر مزید عمل کریں تو صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈویژن ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ تین سے 11 اپریل تک پی آئی اے کے ذریعے 17 پروازیں اڑیں گی جن کے ذریعے 2 ہزار کے قریب مسافروں کو پاکستان لایاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، کینیڈا، ترکی، باکو اور کوالالمپور کی خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔اسد عمر نے بتایاکہ ماضی میں بیرون ملک سے آنےوالوں کی وجہ سے کورونا پھیلا ہے، بیرون ملک سے اسلام آباد آنے والی پرواز کے مسافروں کو شہر کے دیگر علاقوں میں بھجوانے کا انتظام کیا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ کراچی میں بھی کچھ وقت بعد پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایاکہ پاکستان میں مشتبہ کیسزکی تعداد 17331 ہے،پچھلے چوبیس گھنٹے میں زیادہ اضافہ ہوا، 8 ہزار 893 لوگ قرنطینہ میں ہیں جن میں سے پانچ ہزار 190 کے نتائج فائنل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 19 فیصد کے ٹیسٹ مثبت آئے،82 لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہوئے،مختلف ہسپتالوں میں 974 مریض داخل ہیں جن میں سے دس وینٹی لیٹر پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ (آج) جمعرات کو صحت کے حوالے سے ضروری اعلانات کریں گے۔

25ہزار تک مریض سنبھال سکتے ہیں 25 ہزارسے زائد کرونا مر یض سبنھالنا مشکل عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے قوم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کورونا وائرس کے سدباب کیلئے قائم کیے گئے فنڈ کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہوگا، حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی، ہمارے پاس ایمان کی بہت بڑی قوت ہے،پوری قوم سے مل کر کورونا کو شکست دیں گے،معاشی مشکلات کے باوجود ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج 8 ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے،راشن تقسیم کے معاملے پر سیاسی مداخلت نہیں ہوگی،ٹائیگر فورس سے کام غیر سیاسی لیا جائے گا،کورونا ٹائیگر فورس یونین کونسل میں مستحقین کا پتا لگائے گی، کورونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے،ڈیم فنڈز کے پیسے سابق چیف جسٹس نے اکٹھے کیے، کوئی استعمال نہیں کر سکتا،ڈیم فنڈز کے پیسے محفوظ ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سب نے مل کر کورونا کا مقابلہ کرنا ہے، حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی، پوری قوم سے مل کر کورونا کو شکست دیں گے۔ ہمارے پاس ایمان کی بہت بڑی قوت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج 8 ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ راشن تقسیم کے معاملے پر سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔ ٹائیگر فورس سے کام غیر سیاسی لیا جائے گا۔ کورونا ٹائیگر فورس یونین کونسل میں مستحقین کا پتا لگائے گی۔انہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ کورونا وائرس کے سدباب کیلئے قائم کیے گئے فنڈ کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ڈیٹا بنا رہے ہیں، غلط استعمال نہیں ہوگا، میں اسے خود مانیٹر کر رہا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ فنڈ اکٹھا کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ شوکت خانم کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا فنڈ اکٹھا کرنے والا ہوں۔ایک سوال کا جاواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کورونا کب تک چلے گا، دیکھنا ہے کہ اس وبا کیخلاف جنگ کتنا عرصہ جاری رہتی ہے۔انہوںنے کہاکہ کورونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ زلزلہ اور سیلاب کے دوران پاکستانیوں نے دل کھول کر مدد کی، اب کورونا کی صورتحال کے پیش نظر ہم نے لوگوں کو گھروں میں رکھنا ہے تو کھانا بھی دینا ہوگا۔وزیراعظم نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک کروڑ 20 لاکھ خاندان رجسٹرڈ ہیں۔ ہم احساس پروگرام کے ڈیٹا کے ذریعے لوگوں کو کیش ٹرانسفر کریں گے،امریکا اور یورپ کے تمام مزدور رجسٹرڈ ہیں لیکن پاکستان میں 80 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں، ہم نے اپنے مزدور طبقے کے پاس پہنچنا ہے۔ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیم فنڈز کے پیسے سابق چیف جسٹس نے اکٹھے کیے، کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ ڈیم فنڈز کے پیسے محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے 25 ہزار تک مریض سنبھال سکتے ہیں اگر مریضوں کی تعداد 25 ہزار سے بڑھ گئی تو سنبھالنا مشکل ہو گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے بڑھنا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کتنی تیزی سے بڑھے گا، ماضی میں ہیلتھ سیکٹر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی،وزرا دفاتر کے علاوہ اپنے حلقوں میں ریلیف آپریشن کی نگرانی کریںاورمخیر حضرات کے ساتھ مل کر غریبوں کی مدد کا نظام تشکیل دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزراولپنڈی میں کنٹونمنٹ جنرل اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر عمران خان نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا اور سہولتوں کا جائزہ لیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین میں کورونا وائرس پھیلا تو اندازہ تھا کہ پاکستان بھی آئے گا، 15 جنوری سے کورونا وائرس کے خلاف تیاری کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے بڑھنا ہے، کس تیزی سے بڑھنا ہے یہ نہیں پتہ تاہم ساری جگہوں سے ڈیٹا آرہا ہے اور ایک ہفتے بعد اس کا بھی اندازہ ہوجائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں، پوری قوم ہیلتھ ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان میں تمام میڈیکل سامان چین سے آرہا ہے جب کہ امریکا نے بھی ہیلتھ ورکرز کے لیے ویزے کھول دیئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہیلتھ سیکٹر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی، سرکاری اسپتالوں کی صورتحال 70 کی دہائی تک بہتر تھی جب کہ تعلیم کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر اللہ کا کوئی خاص کرم ہے کہ یہاں کورونا اتنی تیزی سے نہیں پھیلا جتنا مغربی ممالک میں پھیلا ہے۔کرونا وائرس کی صورتحال پر وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کہا وزرا دفاتر کے علاوہ اپنے حلقوں میں ریلیف آپریشن کی نگرانی کریں۔وزرا مخیر حضرات کے ساتھ مل کر غریبوں کی مدد کا نظام تشکیل دیں، وزرا اور ارکان اسمبلی غریب طبقہ تک راشن کی رسائی ممکن بنائیں۔قبل ازیں وزیراعظم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا پرائم منسٹر کورونا ریلیف فنڈ بنایا جا چکا ہے، یہ فنڈ ہمیں اس وبا سے نمٹنے میں مدد دے گا، میں چاہتا ہوں ہر کوئی اس فنڈ میں عطیہ کرے، فنڈ لاک ڈاو¿ن سے متاثر نچلے طبقے کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوگا۔وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کو خصوصی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلیف آپریشن کی اچھی طرح سے نگرانی کی جائے، مدارس میں یتیم بچوں اور علما کا خصوصی خیال رکھا جائے۔تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کے بعد پیدا شدہ صورت حال میں وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں، انھوں نے وزرا ءسے کہا کہ وہ دفاتر کے علاوہ حلقوں میں بھی ریلیف آپریشن کی نگرانی کریں، اور اپنے علاقوں میں کرونا سے متعلق اقدامات پر نظر رکھیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وزرا مخیر حضرات کے ساتھ مل کر غریبوں کی مدد کا نظام تشکیل دیں، علاقوں میں غریب طبقے تک راشن کی رسائی ممکن بنائیں، ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیتے رہیں۔انھوں نے مدارس میں مقیم یتیم بچوں اور علما کا بھی خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی مخیر لوگوں کے ساتھ رابطہ کریں اور غریب طبقے اور ضرورت مندوں کی مدد یقینی بنائیں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اندازہ یہ ہے کہ اگلے ایک ماہ تک پاکستان میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 20 سے 25 ہزار تک ہو سکتی ہے، اس لئے ہم مریضوں کی اتنی تعداد کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی تیاریاں کر چکے ہیں، تاہم
اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو پھر پاکستان میں 25 اپریل تک کرونا وائرس کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے، اور اگر ایسا ہوا تو پھر اس وقت ہمارے پاس اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کو طبی امداد دینے کیلئے سہولیات ناکافی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وباءابھی مزید بڑھنی ہے، کتنی بڑھے گی ایک ہفتے میں پتہ چل جائے گا۔

وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو فون کرکے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر بات چیت کی ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو ٹیلیفونک کیا اور کوروناوائرس کے پھیلاو کوروکنے اورعالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز سمیت ترقی پذیر ممالک کی معاشی معاونت کو بھی زیر غور لایا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود نے کورونا وبا کے باعث سعودی شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے اقدامات کی تعریف کی۔شاہ محمود نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دی ہے، کیونکہ پاکستان جیسے کم وسائل کے حامل ترقی پذیرممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پی سی بی کو عمر اکمل کا جواب موصول،غلطی تسلیم کرنے پرکم سزا ہوگی

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کو عمر اکمل کی جانب سے نوٹس آف چارج کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ٹیسٹ بیٹسمین کو اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل2.4.4 کی 2 مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 17 مارچ کو چارج کیا گیا تھا، پی سی بی عمر اکمل کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مزید کوئی لائحہ عمل اختیار کرے گا، اس وقت تک اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بکیز کی جانب سے رابطے کی اطلاع نہ کرنے کے الزام ثابت ہونے پر عمر اکمل کو 6 ماہ سے تاحیات پابندی کا سامنا ہے، قانون کے مطابق غلطی کو تسلیم کرنے پر انھیں کم سزا مل سکتی ہے۔

ڈرامہ سیریل”مہرپوش“ پرسوں نشر کیا جائے گا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اداکارہ عائزہ خان اور دانش تیمور کا ڈرامہ سیریل”مہرپوش“ پرسوں (جمعہ کو) نشر کیا جائے گا۔عائزہ خان اور دانش تیمور شادی کے بعد پہلی بار ایک ساتھ چھوٹی سکرین پر دکھائی دیں گے، ڈرامے میں عائزہ خان(مہر) جبکہ دانش تیمور(شاہ جہان) کا کردار ادا کریں گے، ڈرامے کا کافی سارے ٹیزرز جاری کیے جا چکے ہیں جنہیں شائقین کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا ہے۔ڈرامے کے ہدایت کار مظہرمعین ہیں۔

سجاد علی نے گانا”کوئی تو بات ہو ایسی“ گاتے ہوئے کی ویڈیو جاری کر دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) گلوکار سجاد علی نے گانا”کوئی تو بات ہو ایسی“ گاتے ہوئے کی وڈیو شیئر کر دی۔سجاد علی نے ٹویٹر پر گانا”کوئی تو بات ہو ایسی“ گاتے ہوئے بنائی گئی وڈیو شیئر کر دی جسے شائقین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔ سجاد علی نے حال ہی میں ان لائن کنسرٹ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا،جس سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

یقین دلاتا ہوں کرونا فنڈز کا درست استعمال ہوگا، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے قوم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کورونا وائرس کے سدباب کیلئے قائم کیے گئے فنڈ کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہوگا۔ نجی ٹیلی وڑن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سب نے مل کر کورونا کا مقابلہ کرنا ہے۔ حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی، پوری قوم سے مل کر کورونا کو شکست دیں گے۔ ہمارے پاس ایمان کی بہت بڑی قوت ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کے باوجود ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج 8 ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے۔ راشن تقسیم کے معاملے پر سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔ ٹائیگر فورس سے کام غیر سیاسی لیا جائے گا۔ کورونا ٹائیگر فورس یونین کونسل میں مستحقین کا پتا لگائے گی۔ انہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ کورونا وائرس کے سدباب کیلئے قائم کیے گئے فنڈ کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہوگا۔ ڈیٹا بنا رہے ہیں، غلط استعمال نہیں ہوگا، میں اسے خود مانیٹر کر رہا ہوں۔ فنڈ اکٹھا کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہوں۔ شوکت خانم کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا فنڈ اکٹھا کرنے والا ہوں۔ ایک سوال کا جاواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کورونا کب تک چلے گا، دیکھنا ہے کہ اس وبا کیخلاف جنگ کتنا عرصہ جاری رہتی ہے۔ کورونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزلہ اور سیلاب کے دوران پاکستانیوں نے دل کھول کر مدد کی۔ اب کورونا کی صورتحال کے پیش نظر ہم نے لوگوں کو گھروں میں رکھنا ہے تو کھانا بھی دینا ہوگا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک کروڑ 20 لاکھ خاندان رجسٹرڈ ہیں۔ ہم احساس پروگرام کے ڈیٹا کے ذریعے لوگوں کو کیش ٹرانسفر کریں گے۔ امریکا اور یورپ کے تمام مزدور رجسٹرڈ ہیں لیکن پاکستان میں 80 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں، ہم نے اپنے مزدور طبقے کے پاس پہنچنا ہے۔ ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیم فنڈز کے پیسے سابق چیف جسٹس نے اکٹھے کیے، کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ ڈیم فنڈز کے پیسے محفوظ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ” آپ سرکاری ملازم ہیں اس لیے احساس کفالت پروگرام کے اہل نہیں ہیں“ یہ جواب احساس کفالت پروگرام کی میسجنگ سروس کی جانب سے وزیراعظم کو جوابی میسج میں بھیجا گیا جب وزیراعظم نے اپنا شناختی کارڈ نمبر سروس کے نمبر پر بھیجا۔ تفصیلات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کی اہلیت جانچنے کیلئے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر بھیجا تو انہیں جوابی میسج آیا کہ آپ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے اس کے اہل نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ایس ایم ایس سروس کا بدھ کو باضابطہ اجراءکر دیا۔ ایس ایم ایس سروس سے نادار افراد کی شناخت میں مدد ملے گی، 8171 پر ایس ایم ایس بھیجنے سے نقد رقم کے حصول کی فراہمی سے متعلق جواب موصول ہو جائے گا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیراعظم کو ایس ایم ایس سروس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ احساس ایس ایم ایس مہم کے ذریعے شہریوں کو آگاہ کیا جائے گا ، وزیراعظم نے جب اپنا شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس سروس کے نمبر 8171 پر بھیجا تو یہ پیغام آیا کہ آپ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے احساس ایمرجنسی پروگرام کے لئے اہل نہیں ہیں۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ایس ایم ایس سروس نادار افراد کی شناخت کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔ احساس بھرپور رابطہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کو آگاہ کیا جائے گا کہ 8171 پر ایس ایم ایس بھیج کر اپنی اہلیت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے۔ ایس ایم ایس بھیجنے پر انہیں ایک جوابی ایس ایم ایس موصول ہو گا کہ وہ کس طرح رقم حاصل کر سکتے ہیں، اگر ان کی ڈیٹا بیس میں نشاندہی نہیں ہو گی تو انہیں متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔