چیف جسٹس نے کہا کہ ’رضا ربانی صاحب اگر یہ وجہ ہے اوپن بیلٹ سے انتخابات کی تو آپ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہیں۔ بد دیانت لوگوں کو منتخب نہیں ہونا چاہیے۔‘
رضا ربانی نے جواب دیا کہ ’کوئی بھی سیاسی جماعت شفافیت کے سوال پر اعتراض نہیں کر رہی۔ بنیادی سوال شفافیت کا نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت سینیٹ میں بدعنوان لوگوں کی نمائندگی کی حامی نہیں۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر جمعرات کے دن کیا ہوا وہاں تو مختلف مؤقف اختیار کیا گیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ ’میں سیاسی معاملے کی طرف آتا ہوں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں صدارتی ریفرنس کی سماعت میں فریق نہیں ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ ’میں یہاں تصحیح کرنا چاہتا ہوں۔ سندھ حکومت کے ذریعے پیپلز پارٹی یہاں فریق ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’نہ حکومت سیاسی جماعت کی طرف سے بات کر سکتی ہے نہ سیاسی جماعت حکومت کی طرف سے۔‘ رضا ربانی نے کہا کہ حکومت جماعت سے الگ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’یہ بڑی عجیب بات ہے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پیپلز پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ میں یہاں پی ٹی آئی کی طرف سے نہیں وفاق کی نمائندگی کر رہا ہوں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’اگر عدالت کی رائے نہ آئی تو سینٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہی ہوگا۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا عدلیہ پر حملہ کیا گیا ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ’میں آئین کے ڈھانچے کو سمجھنے کی کھوج میں ہوں۔ میں یہ تلاش کر ہا ہوں کہ آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اور وزراء سمیت دیگر انتخابات کا طریقہ کار خفیہ کیوں رکھا گیا ہے۔ ہم نے اپنے ملک میں اچھے سیاست دان بھی دیکھے ہیں۔ ہمیں سب سیاست دانوں کو ایک ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔