ایران نے متحدہ عرب امارات (UAE) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ «آپریشن ایپک فیوری» (Operation Epic Fury) میں اپنے کردار کے اعتراف میں ابوظہبی کو جدید امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی اثاثوں تک بہتر رسائی دینے کے امریکی فیصلے کے بعد احتساب کا سامنا کرے۔
امریکی محکمہ تجارت نے ایک پریس ریلیز میں متحدہ عرب امارات کی برآمدی حیثیت کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ اس ملک کو ایک بڑے امریکی دفاعی شراکت دار کے طور پر نامزد کرنا اور ایران کے خلاف مشن میں اس کی آپریشنل حمایت کو قرار دیا گیا۔
اس پالیسی تبدیلی کے تحت مختلف برآمدی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں، مخصوص فوجی اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز کی بغیر انفرادی لائسنس منتقلی کی سہولت دی گئی ہے، اور متحدہ عرب امارات کو جدید کمپیوٹنگ سسٹمز تک وسیع تر رسائی دی گئی ہے۔
اس کے ردعمل میں، ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریب آبادی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اعلان اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ متحدہ عرب امارات ایرانی مفادات کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

