چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام”ضیاءشاہد کے ساتھ”میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماءاور سینئر قانونی ماہر لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتوں پر دھاوا بولے جانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ہم نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی اور کرتے رہیں گے۔عدلیہ پر اسی طرح حملے ہوں گے تو قانون کی حکمرانی کی نفی ہوگی۔اسلام آباد ہائیکورٹ واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہئے،کیونکہ ایسے واقعات کے پیچھے ہوتا یہ ہے کہ کچھ لوگ بیچ میں تخریب کے لئے کالے کوٹ پہنا کر بھیج دیے جاتے ہیں،اسی طرح وکلاءبرادری کو بدنا م کیا جاتا ہے،بار کونسل کو تصدیق کے بعد تادیبی کار روائی کرنی چاہیے ،اس طرح کے کرداروں کو انجام تک پہنچنا چاہئے ،یہ ہمارے ضابطہ اخلاق اور قانون میں موجود ہے،وکلاءکی آڑ میں اگر کسی بیرونی عنصر نے کارروائی کی تو اس کے خلاف بھی کار روائی ہونی چاہئے،پی ڈی ایم کی تحریک کا مقصد یہ ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،ریاست آئین اور قانون کے دائرے میں چلنی چاہئے۔حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر بنا رکھا ہے،آئین میں بالکل واضح ہے کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے علاوہ تما م ووٹنگ خفیہ بیلٹ سے ہوں گے حکومت اگر سپریم کورٹ چلی ہی گئی تھی تو تھوڑا انتظار کر لیتی ،سپریم کورٹ آئین کو تبدیل نہیں کر سکتی ،حکومت آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے
عدالتوں پر دھاوے کا کوئی جواز نہیں پیش کیا جا سکت ،لطیف کھوسہ کی چینل ۵ کے پروگرام "ضیاءشاہد کے ساتھ” میں گفتگو”
