پنجاب اسمبلی افسران کیخلاف پولیس ایکشن جاری، ڈائریکٹر سکیورٹی سمیت مزید گرفتار

پنجاب اسمبلی کے افسران کے خلاف پولیس کا ایکشن جاری ہے، پولیس نے اسمبلی کے ڈائریکٹر سیکورٹی میجر ریٹائرڈ فیصل سمیت مزید افسران کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان پنجاب اسمبلی کے مطابق اسمبلی افسران کے خلاف پولیس کا بلاجواز آپریشن جاری ہے، ان کی مسلسل گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ڈائریکٹر سکیورٹی اینڈ انٹیلی جنس میجر ریٹائرڈ فیصل حسین کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، میجر ریٹائرڈ فیصل ضمانت ہر ہیں، ضمانت کے باوجود پولیس نے انکو حراست میں لے لیا۔
پنجاب اسمبلی کے سیکورٹی اہلکار سہیل شہزاد، لیاقت علی ، محمد طبیب اور اسامہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی گرفتاری کے لئے پولیس کے چھاپے مسلسل جاری ہیں۔ سیکرٹری اسمبلی کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری لگا دی گئی ہے۔
ترجمان پنجاب اسمبلی کے مطابق گزشتہ روز بھی پنجاب اسمبلی کے ریسرچ افسر شہباز حسین اور دو سکیورٹی افسران کو حراست میں لیا گیا تھا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے پرسنل سٹاف افسر کو گرفتار کرنے کے لئے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر پنجاب اسمبلی سٹاف کی گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

فن لینڈ اور سویڈن کا روس کے انتباہ کے باوجود نیٹو اتحاد میں شمولیت کا اعلان

فن لینڈ اور سویڈن نے روس کے انتباہ کے باوجود نیٹو اتحاد میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق نیٹو وزرائے خارجہ نے بھی جلد فن لینڈ اور سویڈن کو فوجی اتحاد کا حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ نیٹو میں شامل ہونے کیلئے دونوں ممالک کی درخواستوں پر تمام رکن ممالک کی طرف سے توثیق کی جا رہی ہے۔
توثیق کا عمل مکمل ہونے میں ایک سال تک کا وقت لگ سکتا ہے، روس کے ساتھ ترکی کو بھی دونوں ممالک کی شمولیت پر اعتراض ہے۔

ملک میں توانائی کا بحران برقرار، شارٹ فال 4 ہزار 252 میگا واٹ ریکارڈ

ملک میں توانائی کا بحران برقرار ہے، بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار 252 میگاواٹ ریکارڈ کیا گیا ۔
پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 22 ہزار 248 میگاواٹ ہے جبکہ طلب 26 ہزار 500 میگاواٹ سے زائد ہے۔ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی موجودہ لہر میں شارٹ فال کے باعث ملک کے طول و عرض میں غیر اعلانیہ بجلی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔
اس وقت شہروں میں آٹھ اور دیہات میں دس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

وزیراعظم سے خالد مقبول صدیقی کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت

وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی جس کے دوران موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو اور تفصیلی مشاورت ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ مستقبل میں قومی مفاد کے فیصلوں میں اتحادیوں کا تعاون بہت اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے حکومتی اصلاحات کے نفاذ میں اتحادی جماعتوں کے تعاون کا خیر مقدم کیا۔
متحدہ رہنما نے فلاحی منصوبوں کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کراچی کی عوام کیلئے ترقیاتی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایات پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
دوسری جانب حکومت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم نےاتحادی جماعتوں کے قائدین کا مشاورتی اجلاس آج طلب کر رکھا ہے جس میں سیاسی، معاشی صورتحال اور انتخابی اصلاحات پر مشاورت ہو گی، حکومت کے مستقبل کے حوالے سے اہم بھی متوقع ہیں۔
اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر بھی مشاورت ہو گی۔ وزیر اعظم بعد ازاں کابینہ کو بھی معاملے پر اعتماد میں لیں گے۔

گندم کی خریداری کے ہدف میں ناکامی ، وزیراعظم شہبازشریف برہم

وزیر اعظم شہباز شریف نے صوبوں کی جانب سے گندم کی خریداری کے لیے دئیے گئے اہداف پورے نا کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درآمدی گندم کی شفاف تقسیم کے لیے فوری کمیٹی قائم کرنے کی فوری ہدایت کردی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے صوبوں کی جانب سے گندم کی خریداری کے لیے دئیے گئے اہداف پورے نا کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ صوبے یکم جون تک گندم خریداری کے اہداف پورے کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت گزشتہ کابینہ اجلاس میں ملک میں گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر اور صوبائی و قومی سطح پر کھپت کے حوالے سے غور کیا گیا تھا، اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 29 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا تھا۔

اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ رواں برس ملک میں گندم کی پیداوار دو کروڑ 26 لاکھ میٹرک ٹن مجموعی کھپت 3 کروڑ میٹرک ٹن ہوگی۔ ضرورت کے مقابلے میں گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے وفاقی کابینہ نے ملک میں 30 لاکھ گندم کی درآمد کی منظوری دی تھی۔

اب وزیر اعظم نے بیرون ملک سے منگوائی جانے والی گندم کی صوبوں میں شفاف تقسیم کے لیے فوری کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مشکل میں نہیں ڈالا جا سکتا، کسی قسم کی کمی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا،وفاقی حکومت ہر صورت کم قیمت پر آٹا فراہم کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس ملک میں دو کروڑ 28 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوئی تھی، اس کے باوجود 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی تھی۔

عمران خان کی گرفتاری کا سوچنے والا کمبوڈیا کا پاسپورٹ بنوا لے، فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کو گرفتار کرنے والا اپنا کمبوڈیا کا پاسپورٹ بنوا لے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ رانا ثنااللہ پاگل ہی ہو گا اگر عمران خان کو گرفتار کرے گا، جس نے بھی عمران خان کو گرفتار کیا اس کا پاکستان میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ عمران خان کو گرفتار کرنے والا اپنا پاسپورٹ کمبوڈیا کا بنوا لے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین کے منافی ہے، ایسا کرنا محض مردم شماری کے بعد ہی ممکن ہے۔ اگر نئی حلقہ بندیوں کو مانا جاتا ہے تو ایک سال تک ملک میں الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ الیکشن کمیشن کو ہر وقت انتخابات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہمیں 90 دن سے ایک بھی دن اوپر عبوری حکومت منظور نہیں، آج انتخابات کا اعلان کریں جس کے بعد پاکستان کے مسائل حل تلاش کریں گے۔

چینی قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام، خاتون خودکش بمبار گرفتار

تربت: سی ٹی ڈی اور وومن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سی پیک روٹ پر چینی قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی گئی خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق تربت سی ٹی ڈی اور وومن پولیس نے خفیہ اطلاع پر ہوشاب میں آپریشن کے دوران خودکش بمبار خاتون کو گرفتار کرلیا ہے جس کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور ڈیٹونیٹر برآمد ہوئے ہیں۔

سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ خاتون کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے مجید بریگیڈ سے ہے، دہشت گردوں کی جانب سے تیار خود کش بمبار خاتون سی پیک روٹ پر چینی قافلہ کو نشانہ بنانا جاہتی تھی اور گرفتار خاتون کا تعلق اسی گروپ سے ہے جس نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کیا تھا۔

ہوا میں موجود نمی سے چارج ہونے والی بیٹری تیار

آسٹریلوی ماہرین نے ازخود چارج ہونے والی ایسی بیٹری ٹیکنالوجی کا تصور پیش کیا ہے جو ہوا میں موجود آبی بخارات سے بجلی جمع کرتی رہتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ سورج سے آنے والی توانائی کی آدھی مقدار سمندر اور دریاؤں میں پانی بھاپ بنانے میں ہی صرف ہوجاتی ہے اور نمی کی صورت ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ آسٹریلوی کمپنی ’اسٹریٹجک ایلمنٹس‘ اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز نے ایک لچکدار ازخود چارج ہونے والی بیٹری تیار کی ہے جو کئی چھوٹے آلات کو بجلی کی مناسب مقدار فراہم کرسکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو ’توانائی کی روشنائی‘ یا انرجی انک کہا گیا ہے، جسے ماحول دوست اور محفوظ مٹیریئل سے بنایا گیا ہے۔ فی الحال اسے بدن پر پہنے جانے والے طبی آلات (ویئریبل) میں لگایا جاسکتا ہے جہاں جسمانی نمی سے بھی چارج جمع کیا جاسکتا ہے۔
بجلی بنانے والے تجرباتی سیل کے ایک جانب جب آبی بخارات یا نمی ہو تو H+ پروٹون خشک طرف منتقل ہوتے ہیں اور یوں چارج کی علیحدگی (سیپریشن) ہونے لگتی ہے۔
کاروباری راز کے تحت اس کی مزید تفصیل نہیں دی گئی ہے لیکن اتنا ضرور بتایا گیا ہے کہ اس میں گرافین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اسے گرافین آکسائیڈ پر مبنی موئسچر الیکٹرک جنریٹر ( ایم ای جی ایس) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق کی تفصیلات نینوانرجی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
نمی سے چارج ہونے والی اس بیٹری کو تجربہ گاہ میں آزمایا گیا ہے اور اس سے کیلکیولیٹر اور چھوٹے آلات چلائے گئے ہیں۔ تفصیلات کے تحت برقیروں (الیکٹروڈ) پر ایف ٹی او طرز کا شیشہ اور چاندی کا ملغوبہ فرافین آکسائیڈ سے بنی ایک باریک پرت پر لگایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پرت ہی سب سے سرگرم ہوتی ہے جسے فنکشنل لیئر کہا گیا ہے۔
آلے کے دونوں اطراف میں سے ایک پر نمی جمع ہوتی ہے تو دوسری خشک ہوتی ہے۔ فنکشنل لیئر جب تک خشک رہے وہاں کے پروٹون بھی غیرسرگرم رہتے ہیں۔ جیسے ہی دونوں طرف نمی کا توازن بدلتا ہے۔ اس سے آئیونائزیشن کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور فنکشل گروپ میں کاربوکسلِک ایسڈ COOH بنتا ہے اور مثبت چارج خارج ہوکر ہائیڈروجن آئن یا ہائیڈرونز بنتے ہیں۔
اب ہائیڈرون خشکی والے حصے تک جانے لگتے ہیں اور چارج کے بعد وولٹیج بننے لگتے ہیں۔ اس طرح نمی کی وجہ سے چارج جمع ہونے لگتا ہے۔

آئی ٹی مینیجر نے غصے میں ڈیٹا بیس اڑا دیا، سات برس قید کی سزا

چین کے ایک آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر نے طیش کے عالم میں اپنی کمپنی کا سارا ڈیٹا بیس ضائع کر دیا جس کے بعد انہیں سات برس کی سزا سنائی گئی ہے۔
چین کی مشہور ریئل اسٹیٹ کمپنی لیانجا کے سابقہ ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر، ہین بِنگ نے یہ کام جون 2018 میں کیا تھا۔ کمپنی کے دو ڈیٹابیس اور دو ایپلی کیشن سرورز کے وہ واحد نگراں تھے اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کیا۔
انہیں ادارے کی جانب سے نوکری سے ہٹایا گیا تھا اور اسی کے پاداش میں ہین نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
اس کام پر نہ صرف کمپنی کے تمام کام ٹھپ ہوگئے بلکہ ہزاروں ملازمین تنخواہوں سے بھی محروم ہوگئے تھے۔ بعد میں لگ بھگ 30 ہزار ڈالر خرچ کرکے کمپنی کا ڈیٹا بیس بحال کیا گیا۔ اس طرح 6 ارب ڈالر کمپنی کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
ڈیٹا بیس تباہ کرنے پر پانچ افراد پر الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد ہین بِنگ کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے تفتیش کے دوران اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے سے انکار کر دیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اگر وہ ڈیٹا کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں تو ان کے کچھ آثار لیپ ٹاپ میں مل سکتے ہیں۔
آخرکار تحقیق کاروں نے الٹا عمل شروع کیا اور ڈیٹا بیس تک آنے والی ہدایات کا سراغ لگایا تو کمپنی کی اندرونی آئی پی اور میک بک کے ایڈریس سامنے آئے۔ اس کے بعد وائی رابطے کے لاگ دیکھے گئے اور عین ڈیٹا بیس کی تباہی کی اوقات لیپ ٹاپ کی سرگرمی کی عین مطابقت میں سامنے آئے۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی گئی۔
معلوم ہوا کہ تحقیقی عملے نے “shred” اور “rm” کی کمانڈز تلاش کی جو بڑے ڈیٹا بیس کو تباہ کرنے کے لیے دی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد ہین بِنگ کو گرفتار کیا گیا اور اب انہیں سات برس کی سزا دی گئی ہے۔

یوکرین میں روسی فوج کے حملے میں فوجی اڈہ تباہ

روسی فوج نے پولینڈ کی سرحد کے نزدیک واقع یوکرین کے فوجی اڈے کو میزائل حملے کر کے تباہ کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے مغربی شہر لویو میں 4 میزائل داغے جس کے نتیجے میں عسکری سائٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یوکرین کی عسکری قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل بحیرہ اسود میں جہازوں سے داغے گئے تھے۔ ہماری بہادر افواج نے روسی فوج کی پیش قدمی کو روک دیا ہے۔
یوکرین کا شہر لویو اپنے محل وقوع کے باعث دیگر شہروں کی نسبت روسی حملے سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا لیکن اب روسی فوج نے اس شہر پر حملے کے لیے بحیرہ اسود کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہے۔
ادھر برطانوی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کرنے کے بعد ڈونباس پر مکمل قبضے کے لیے پیش قدمی کی ہے تاہم یہ کافی سست روی کا شکار ہے۔