Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جنوبی کوریا کو 3-4 سے شکست دے کر ہاکی سیریز اپنے نام کر لی
    • ارطغرل کے معروف اداکار جلال آل نے پاکستان دوبارہ آنے کا اعلان کر دیا۔
    • بحیرۂ احمر سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار دو آئل ٹینکر بحفاظت واپس پہنچ گئے۔
    • طلاق کے بعد اپنی بیٹی کی پرورش کے لئے مجھے خود مختار بننا پڑا، تا کہ اپنے ماں باپ پر بوجھ نہ بنوں !۔۔ (شرمین علی)
    • عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کر دیا
    • جنوبی فلپائن کے ساحل کے قریب 6.3 شدت کا طاقتور زلزلہ
    • ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا
    • ‘لگان’ اور ‘گجنی’ کے اداکار پردیپ راوت 74 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
    • پی سی بی نے 2026-27 کے ڈومیسٹک سیزن سے واپڈا اور ساحر ایسوسی ایٹس کو خارج کر دیا
    • مکہ مکرمہ دنیا کے سب سے زیادہ وزٹ کیے جانے والے شہروں میں پانچویں، مدینہ منورہ ساتویں نمبر پر
    • بابر اعظم اس دہائی میں بین الاقوامی کرکٹ میں 1,000 چوکے لگانے والے پہلے بلے باز بن گئے
    • اسپائیڈر مین نو وے ہوم کی اداکارہ میری ایگڈا 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
    • یو ایف سی فائٹر ایلین ناسیمنٹو 34 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
    • پاکستان کا ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
    • پاکستان ویمنز ٹیم نے سری لنکا کا دورہ تیسرے ٹی20 میں فتح کے ساتھ اختتام کیا
    • لاہور میں حضرت داتا گنج بخشؒ کا تین روزہ سالانہ عرس مبارک شروع
    • ملتان میں صارفین کے مبینہ تشدد کے بعد سب وے پاکستان کا قانونی کارروائی کا اعلان
    • اسلام آباد میں 11.9 ارب روپے کی لاگت سے پہلے 35 ہزار نشستوں والے کرکٹ اسٹیڈیم کے منصوبے پر کام تیز
    • کربلا میں اربعین 2026 میں 2 کروڑ سے زائد زائرین کی شرکت
    • اسرائیل نے چار دن میں لبنانی فضائی حدود کی 125 بار خلاف ورزی کی، اقوام متحدہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    جنگلات کا رقبہ 18٪ کم، ماحول اور قومی سلامتی کو خطرہ

    By Khabrain Newsاگست 17, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    پشاور: ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں 18 فیصد کمی ماحول، معیشت اور قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ 

    تفصیلات کے مطابق ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پورا ملک ایک نہایت سنگین ماحولیاتی موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، چراگاہوں کی تباہی، جنگلات میں لگنے والی آگ اور ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات براہِ راست تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ کا باعث بن رہے ہیں۔

    1992 سے اب تک جنگلات کا رقبہ 18 فیصد کم ہو چکا ہے جبکہ چراگاہیں صرف 20 سے 30 فیصد تک اپنی ممکنہ بایو ماس پیدا کر رہی ہیںجس میں خیبرپختونخوا کا حصہ زیادہ ہے ۔ 1992، 2010 اور 2025 کے تباہ کن سیلاب ثابت کرتے ہیں کہ جنگلات اور چراگاہوں کی تباہی نے بالائی علاقوں کے واٹر شیڈز کو ’’سیلابی فیکٹریوں‘‘ میں بدل دیا ہے۔

    ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے جنگلات محض درخت نہیں بلکہ ماحول، معیشت اور قومی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن ہیں یہ بارش کے پانی کو جذب کر کے فلش فلڈز روکتے ہیں زیر زمین پانی ری چارج کرتے ہیں زرعی زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں اور معیشت کے لیے پانی اور مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں۔

    جنگلات آب و ہوا کا توازن قائم رکھتے ہیں درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور کاربن ذخیرہ کر کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرتے ہیں دیہی آبادی کے لیے چارہ ایندھن پھل دوائیں اور سیاحت کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کرتے ہیں، یہ ملک کو سیلاب لینڈ سلائیڈ اور قحط جیسے خطرات سے بھی بچاتے ہیں۔

    نتیجہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر بحالی اور مضبوط اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بڑے ماحولیاتی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ مؤثر پالیسی اور عملدرآمد ملک کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

    پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 1992 میں 3.78ملین ہیکٹر سے کم ہو کر2025 میں 3.09 ملین ہیکٹر ہو چکا ہے، یعنی جنگلات کے رقبہ میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سالانہ جنگلات کی کٹائی 1992 میں ریکارڈ تقریباً 40 ہزار ہیکٹر تھی لیکن حکومت کی مداخلت اورپابندیوں کے باعث کم ہوکر 2025 میں 11ہزار ہیکٹر سالانہ ہوگئی ہے لیکن صورت حال اب بھی تشویشناک ہے۔

    عالمی اداروں کے مطابق پاکستان میں سالانہ اب بھی 11ہزار ہیکٹر کی کٹائی جاری ہے۔ چراگاہوں کا رقبہ 60 سے کم ہو کر 58  فیصد ہوگیا ہے، چراگاہوں کی بایو ماس پیداوار: 100 ممکنہ پیداوار سے کم ہو کر 20فیصد رہ گئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق چترال میں 1992 سے 2009 کے درمیان 3700 ہیکٹر سے زائد جنگلات ختم ہو گئے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ 2030 تک مزید 23 فیصد کمی متوقع ہے۔

    ارندو گول میں لکڑی کی چوری کے دوران 16 لاکھ مکعب فٹ لکڑی غیر قانونی طور پر کاٹی گئی جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے۔

    کالام سوات میں 1980 اور 1990 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر لکڑی کاٹنے سے دریائے سوات کے کیچمنٹ ایریا کو شدید نقصان پہنچا، جس نے 1992 اور 2010 کے سیلابوں کو مزید تباہ کن بنا دیا۔

    جنگلات کی کٹائی اب بھی ڈھلوانوں کو کمزور اور اچانک آنے والے سیلاب کے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔ یہ تباہی صرف چند اضلاع تک محدود نہیں۔

    بونیر میں اگست 2025 کے کلاؤڈ برسٹ نے اچانک آنے والے سیلاب کو جنم دیا جس نے گھروں، کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔ جنگلات سے محروم پہاڑ بارش کے پانی کو روک نہ سکے۔

    بٹگرام میں نازک اراضی ڈھانچے اور جنگلات کی کٹائی نے لینڈ سلائیڈز کو جنم دیا جنہوں نے قراقرم ہائی وے بند کر دی اور شمالی پاکستان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    باجوڑ میں 2025 کے ایک مہلک کلاؤڈ برسٹ سیلاب نے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ سڑکیں اور پل بہا دیے۔

    مانسہرہ میں بار بار کلاؤڈ برسٹ سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈز آئے، جبکہ گلگت بلتستان میں جنگلات کا رقبہ 4 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے جس سے یہ خطہ جنگلاتی آگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کے لیے نہایت حساس ہو گیا ہے۔

    ڈاکٹر عادل ظریف، کنوینر، سرحد کنزرویشن نیٹ کا کہنا ہے کہ جنگلات بارش کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرتے ہیں اور ڈھلوانوں کو مستحکم بناتے ہیں۔ جب یہ ختم ہو جائیں تو ننگی پہاڑیاں جنگلوں سے ڈھکے علاقوں کے مقابلے میں 5 سے 8 ڈگری زیادہ گرم ہو جاتی ہیں، جس سے مون سون کی ہوائیں تیزی سے بلند ہو کر اچانک کلاؤڈ برسٹ پیدا کرتی ہیں بجائے اس کے کہ مسلسل بارش ہو، جڑوں کے بغیر مٹی کو سہارا نہیں ملتا اور لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے عام ہو جاتے ہیں جبکہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی تباہی براہِ راست انسانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں تقریباً ایک تہائی گھرانے مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں لیکن چراگاہوں کی پیداواریت بے جا چرائی اور بدانتظامی کے باعث صرف 20 سے 30 فیصد رہ گئی ہے، جو خاندان پہلے جنگلات سے چارہ اور ایندھن حاصل کرتے تھے وہ اب مزید غیر پائیدار طریقوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شجرکاری مہمات اس بحران کو حل نہیں کر سکتیں جب تک لکڑی کی مافیا کے خلاف سخت کارروائی اور ملوث اہلکاروں کا احتساب نہ کیا جائے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      بحیرۂ احمر سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار دو آئل ٹینکر بحفاظت واپس پہنچ گئے۔

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      لاہور میں حضرت داتا گنج بخشؒ کا تین روزہ سالانہ عرس مبارک شروع

      تازہ ترین

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.