(قرضوں کی ادائیگی پر بڑھتے اخراجات کے باعث آئندہ برسوں میں خواتین کی 5 کروڑ 50 لاکھ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں اور ان کی فی کس آمدنی میں 17 فیصد کمی آنے کا خدشہ ہے۔
ادارے نے 85 ترقی پذیر ممالک سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی اپنی رپورٹ بعنوان ‘کون قیمت چکاتا ہے: صنفی عدم مساوات اور سرکاری قرضے’ میں بتایا ہے کہ ملازمتوں کے خاتمے، آمدنی میں کمی اور بلا معاوضہ نگہداشت کی ذمہ داریوں میں اضافے کا بوجھ خواتین پر غیر متناسب طور سے اثرانداز ہوتا ہے جبکہ مردوں کی آمدنی بڑی حد تک برقرار رہتی ہے۔
اس طرح صنفی بنیاد پر آمدنی کا فرق بھی مزید بڑھ جاتا ہے۔
‘یو این ڈی پی’ کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو نے کہا ہے کہ کسی ملک کے ذمے قرضہ محض حساب کتاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہوتا ہے۔
جب نگہداشت کی سہولیات میں کمی کی جاتی ہے تو اس کا بوجھ واپس خاندانوں پر آ جاتا ہے اور خواتین اس کا سب سے بھاری خمیازہ بھگتتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے لیے معاشی مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
زچگی کی اموات میں اضافے کا خدشہ
رپورٹ کے مطابق، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ دوران زچگی اموات کی شرح میں 32.5 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جو ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر مزید 67 اموات کے برابر ہے۔
اس کے ساتھ خواتین اور مرد دونوں کی متوقع عمر میں کمی واقع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ تمام اثرات مجموعی طور پر ترقی کے لیے ہونے والی پیش رفت کو زائل کر سکتے ہیں اور موجودہ عسکری تنازعات اور ان سے جڑے بحرانوں کی موجودگی میں یہ رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے۔
روزگار، انسانی ترقی اور صنفی مساوات
‘یو این ڈی پی’ میں صنفی مساوات کے شعبے کی عالمی ڈائریکٹر راکیل لاگوناس نے کہا ہے کہ پالیسی سازی میں صنفی اثرات کے جائزے کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
سماجی ڈھانچے اور نگہداشت کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری کو محفوظ رکھا جائے اور بجٹ سازی کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جن کے ذریعے یہ جانچا جا سکے کہ قرضوں کی ادائیگی مختلف طبقات کی معاشی حالت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قرضوں کی پائیداری سے متعلق حکمت عملی میں روزگار، انسانی ترقی اور صنفی مساوات کو ترجیح دیں اور ایسے کفایتی اقدامات سے گریز کریں جنہیں لاگو کرنے سے عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔





































