وفاقی حکومت نے قانون سازوں کو مطلع کیا ہے کہ مین لائن-1 (ML-1) ریلوے منصوبہ اب چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا حصہ نہیں رہا اور اس کے لیے اب ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ حاصل کی جائے گی۔
یہ انکشاف اقتصادی امور کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں سیکرٹری اقتصادی امور حمیر کریم نے بتایا کہ 7.7 ارب ڈالر کی تخمینہ لاگت والا یہ منصوبہ، جو اصل میں CPEC فریم ورک کے تحت منصوبہ بند تھا، اب اس اقدام سے الگ کر دیا گیا ہے۔ حکومت اب ADB سمیت کثیر الجہتی قرض دہندگان سے فنڈنگ کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
ML-1 پاکستان کا سب سے بڑا ریلوے جدید کاری کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک کی مرکزی ریلوے لائن کو کراچی سے پشاور تک اپ گریڈ کرنا ہے۔ اس میں ٹریکس کی تبدیلی، سگنلنگ کے نظام کی جدید کاری، ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ اور مال برداری کی صلاحیت کو بہتر بنانا شامل ہے۔ یہ منصوبہ طویل عرصے سے CPEC کا اہم ترین ٹرانسپورٹ جزو سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم مالی معاونت اور لاگت کے مذاکرات کے باعث اسے بار بار تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

