اسلام آباد(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب کی وزرات اعلیٰ نوجوان کو سونپنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوجوان کلین ہوگا اور اس پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہوگا،پنجاب میں جوان اور تجربہ کار کابینہ کی ٹیم لے کر آرہا ہوں،مشکل الیکشن لڑنے پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، کیوں کہ سب کو پتا تھا کہ اصل پانی پت کی جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی، نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہی ہوگا، پنجاب کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں،پنجاب پولیس میں کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے اور پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے۔وہ بدھ کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں پنجاب بھر سے نومنتخب اراکین پنجاب اسمبلی سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار شریک ہوئے۔ اجلاس میں تحریک انصاف کی مرحوم رہنما سلونی بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کی تقرری اور کابینہ امور پر مشاورت ہوئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی شرکا کو پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا۔بعد ازاں نومنتخب اراکین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مشکل الیکشن لڑنے پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، کیوں کہ سب کو پتا تھا کہ اصل پانی پت کی جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی۔ میرے لیے سب سے بڑا عذاب ٹکٹ دینا تھا، ہم نے ٹکٹ دینے کے عمل کو مزید بہتر کرنا ہے ، جہاں ہماری کمزوری ہے اس حلقے میں ابھی سے کام شروع کرنا ہے۔ جب کہ تمام سروے کہہ رہے تھے خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف جیت جائے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے، انصاف میرٹ پر کرنا ہے، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور قوم کا پیسا بچانا ہے تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے جب کہ ہم نے پارٹی کو ایک ادارہ بنانا ہے، سب سے زیادہ ذمے داری پنجاب والوں پر ہے، جہاں ہماری کمزوری ہے اس حلقے میں ابھی سے کام شروع کرنا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلی کے لیے ایک نیا نوجوان لارہا ہوں، یہ نوجوان کلین ہوگا، اس پرکسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں، آپ سب اس نوجوان کو سپورٹ کریں ،میں جوان اور تجربہ کار کابینہ کی ٹیم لے کر آرہا ہوں۔جب کہ نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہی ہوگا، پنجاب کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے جب کہ پنجاب پولیس میں کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے اور پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے اور کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے، پنجاب کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں، میں فیصلے میرٹ پراور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا جب کہ ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے، ذاتی سیاست میں عوام کا نام لےکراقتدارمیں آکراپنی ذات کا سوچتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کہ دو قسم کی سیاست ہے، ایک وہ ذاتی سیاست جس میں پیسہ بنانے آتے ہیں اور ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے کیوں کہ ذاتی سیاست میں عوام کا نام لےکر اقتدار میں آکراپنی ذات کا سوچتے ہیں، دوسری سیاست وہ ہے جو پیغمبروں نے کی ہے اور پیغمبر انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں جب کہ میں لوگوں سے وعدہ کرکے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ انصاف میرٹ پر کرنا ہے، میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور قوم کا پیسہ بچانا ہے تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے۔تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے لوگوں نے بڑی تبدیلی کرکے دکھائی ہے، پنجاب میں الیکشن میں تین بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلہ تھا، پنجاب کی عوام نے پی پی پی کو اور ان کے منشور کو مسترد کردیا، پنجاب میں پی پی پی کو صرف 6سیٹیں نصیب ہوئیں، (ن) لیگ سے ہمارا کانٹے دار مقابلہ ہوا ہے، پنجاب میںتحریک انصاف کا ووٹ بنک سب سے زیادہ ہے، تحریک انصاف مرکز میں سب سے بڑی جماعت ہے، پنجاب میں بھی آزاد ارکان کے ملاپ سے تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بنی ہے، کچھ ہمارے ممبران نہیں آسکے، تحریک انصاف آج واضع اکثریت میں پنجاب میں آگئی ہے اور وہ آسانی سے حکومت بنا سکے گی، 2018کے الیکشن میں عوام نے نئے تقاضوں کا مطالبہ کیا ہے، پیغام میں عوام نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں گڈ گورنس چاہیے، ووٹر نے واضع کردیا کہ انہیں روایتی سیاست نہیں چاہیے، تحریک انصاف آنے والے دنوں میں اچھے اقدام کرے گی، گزشتہ حکومت ہمارے لیے ایک تاریخی قرضہ چھوڑ کر گئی ہے، جب سے تحریک انصاف کی جیت ہوئی ہے روپیہ کی قدر میں بہتری آئی ہے، ہم نے 100دنوں کا پروگرام سامنے رکھا ہے اور اس پرکام کریں گے، اپنے پانچ سالہ دور میں اس پر کام کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں حکومت نہیں جہاد کرنا ہے، آج نئے پاکستان کیلئے یہی جذبہ درکار ہے ، عمران خان نے تاکید کی ہے کہ جس کو وہ منتخب کریں گے پارٹی کو اس کا ساتھ دینا ہے، لیڈر گروپ بنا کر لیڈر نہیں بنتا۔ شا ہ محمود قریشی کامزید کہنا تھا کہ واضح اکثریت کے لئے پنجاب میں 149ووٹ درکار ہیں،بہت سے ارکان آج کے اجلاس میں نہیں آسکے،تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا پہلا اجلاس تھااور164کے قریب اراکین اجلاس میں موجود تھے ،امید ہے اراکین کی تعداد180سے 186تک جاسکتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے امریکی قائم مقام سفیر جون ہورو نے بنی گالہ میں ملاقات کی۔ اور انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی، ملاقات کے دوران اسد عمر، نعیم الحق، شہزاد سیم اور فواد چوہدری بھی موجود تھے۔ اس موقع پر امریکی سفیر نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی دور حکومت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری آئے اس پر عمران کان نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات کو مزید بہتر بنائیں گے، امریکا سمیت تمام ممالک کیساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ واضع رہے اس سے قبل عمران خان سے سعودی عرب، ایران، جاپان، چین اور برطانیہ کے سفیر بھی ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے، انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں ممالک کی وزارت خارجہ دورے کو حتمی شکل دے گی۔ حسن روحانی نے تحریک انصاف کے چیئرمین خان کو ٹیلیفون کیا جس میں پاک ایران تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسائے ہی نہیں، مذہبی اور ثقافتی بندھن سے جڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کے خواہاں ہیں۔ایرانی صدر نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو ایران کے دورے کی دعوت بھی دی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے ایرانی صدر کی دورے کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں ممالک کی وزارت خارجہ دورے کو حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران سے خصوصی تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید تحریک کا بھی خواہشمند ہے۔

