ملتان(سپےشل رپورٹر) نےب خےبر پختونخوا کی نشاندہی پر نےب اسلام آباد کے احکامات کی روشنی مےں نےب ملتان نے لےہ کی تحصےل چوبارہ کے موضع رکھ خےر ے والا اور دےگر مواضعات مےں شرےف خاندان کی 48ہزار کنال سے زائد زرعی اراضی ڈھونڈ نکالی ہے اور ڈپٹی کمشنر لےہ کے دفاتر سے بہت سا رےکارڈ حاصل کر لےا ہے جبکہ مزےد چھان بےن جاری ہے۔ بتاےا گےا ہے کہ اس مےں کےپٹن صفدر کی 40مربع اراضی بھی شامل ہے اور اس اراضی سے گزار کر لےہ تک 17ارب روپے کی لاگت سے موٹر وے کی تعمےر کےلئے سروے بھی کروا لےا گےا تھا ۔ اس منصوبے پر 2016ءمےں کام شروع ہونا تھا مگر پانامہ لےکس کی وجہ سے ےہ منصوبہ فائلوں مےں ہی دب کر رہ گےا۔ محکمہ انہار نے اس علاقے کےلئے علےحدہ سے نہر بھی بنوانی تھی جس کا سروے ہو چکا تھا مگر ےہ معاملہ بھی دھرے کا دھرا رہ گےا۔ بتاےا گےا ہے کہ تحصےل چوبارہ مےں مےاں شہباز شرےف کے صاحبزادہ حمزہ شہباز نے بھی مختلف ناموں سے اراضی خرےد رکھی ہے اور ےہاں گائے کے دودھ کا پاکستان کا سب سے بڑا ڈےری فارم بناےا جانا تھا جس مےں ڈنمارک اور آسٹرےلےا سے اعلیٰ نسل کے جانور اور ان کی دےکھ بھال کےلئے ماہرےن بھی لائے جانے تھے جبکہ جدےد آلات بھی نصب کےے جانے تھے جو کہ نہ ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق ےہ ساری اراضی پنجاب کی اراضی کو کمپےوٹر پر منتقل کرنے کے عمل کے دوران شرےف خاندان کے انتہائی قرےبی اراضی ماہرےن نے ڈھونڈ نکالی تھی اور اس کے مالکان ےا تو موجود نہ تھے ےا پھر رےکارڈ مےں ہےر پھےر تھا اور تےسری صورت مےں پرانے اور گم کلےم ےہاں ڈالے گئے۔ اس تمام جعلسازی کے سہولت کار شرےف خاندان کے انتہائی قرےبی بےورو کرےٹ عرفان الٰہی تھے جنہوں نے محکمہ مال کے چند با اعتماد رےٹائرڈ اہلکاروں اور افسران کو اس کام پر لگا رکھا تھا۔

