اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) جمعہ کو رینجرز نے ایک اہم کاروباری شخصیت اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کے مبینہ بزنس پارٹنر کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بظاہر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماﺅں اور دیگر کو یہ واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ کمان کی تبدیلی کی وجہ سے کرپشن سے جڑے جرائم کیخلاف کارروائی کی پالیسی میں بھی تبدیلی آئے گی، یا رینجرز کی زیر قیادت کراچی آپریشن پر کوئی سمجھوتا کیا جائے گا۔ تاہم، رینجرز کے سینئر ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ممکن ہے کہ صحافیوں کیلئے ان چھاپوں کو سیاسی تاثر شامل ہو لیکن رینجرز نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق چھاپہ مارا اور یہ اطلاع ملی تھی کہ ایک کاروباری شخصیت کے دفاتر میں اسلحہ کی بھاری مقدار موجود ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کی حیثیت سے رینجرز کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ چھاپوں کے دوران یا کوئی قانونی کارروائی کرتے وقت تعلقات، اثر رسوخ یا کسی کی دوستیوں پر غور کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران رینجرز نے کئی چھاپے مارے اور جمعہ کا چھاپہ دیگر سے مختلف نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو جس دفتر پر چھاپہ مارا گیا وہ سرکاری ادارہ تھا اور نہ ہی کسی سرکاری ملازم کا دفتر لہذا وفاقی یا صوبائی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن جمعہ کو ڈیڑھ سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی پہنچے۔ گزشتہ سال کے وسط میں انہیں اس وقت پاکستان چھوڑ کر جانا پڑا جب انہوں نے اپنے ایک خطاب میں اس وقت کے فوجی سربراہ پر تنقید کی تھی۔ نئے آرمی چیف اور نئے ڈی جی رینجرز کی جانب سے عہدہ سنبھالنے اور اچھی ساکھ کے حامل آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو بااثر شخص کی سفارش پر غیر رسمی طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد آصف زرداری نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ بااثر شخص کے اے ڈی خواجہ پر غصے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کلفٹن کراچی میں حال ہی میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر اسلحہ برآمد کیا گیا تھا۔ یہ فلیٹ اس با اثر شخصیت کے بیٹے کا تھا۔ ایف آئی آر تو درج کر لی گئی لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت کے دباﺅ کی وجہ سے ملزم کا نام شامل کیا گیا اور نہ ہی رپورٹ میں چھاپے کی جگہ کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اے ڈی خواجہ اور اس بااثر شخصیت کا آمنا سامنا اس وقت بھی ہوا جب اے ڈی خواجہ نے بدین پولیس کو گنے کے کاشتکاروں کو اپنی فصلیں ایک مخصوص شوگر مل کو بیچنے کیلئے دباﺅ ڈالنے سے روکا۔ کچھ دن قبل کی ہی بات ہے کہ با اثر شخصیت کی سفارش پر اے ڈی خواجہ کو غیر رسمی انداز سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دونوں اے ڈی خواجہ کو پسند کرتے تھے لیکن انور مجید ان دونوں شخصیات سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔ واضح رہے کہ وزیراعلی سندھ یہ کہہ چکے ہیں کہ اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر نہیں بھیجا گیا بلکہ انہوں نے خود چھٹی کی درخواست دی تھی۔
زرداری کی واپسی پر رینجرز کے چھاپے، اندرونی کہانی سامنے آگئی

