اسلام آباد: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات میں اضافے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں اور درآمدی شعبے کے لیے متعدد اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں برآمدات کے فروغ کے لیے ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اس کے علاوہ برآمد کنندگان کو مزید ٹیکس ریلیف دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
بجٹ تجاویز میں درآمدی میک اپ مصنوعات پر ڈیوٹی 44 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے جبکہ بیوٹی پارلرز، ہیلتھ فٹنس سینٹرز اور کلینکس کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری پر بھی ٹیکس ریلیف متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سن بلاک، سن اسکرین، شیونگ کریم، آفٹر شیو، لوشن اور دیگر ذاتی استعمال کی متعدد درآمدی مصنوعات پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ان اشیا کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بچوں کے فارمولا دودھ، کیچ اپ، گھی، کوکنگ آئل اور چائے سمیت مختلف اشیائے خورونوش پر پرچون قیمت کی طباعت لازمی قرار دینے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہے تاکہ سیلز ٹیکس کی وصولی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمیٹ لیوی 2.5 روپے سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ سابق قبائلی یا ضم شدہ اضلاع کے لیے جاری بعض ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی آئندہ بجٹ میں شامل کی جا سکتی ہے۔
حتمی فیصلوں کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر کیا جائے گا۔
