انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے زیرِ اہتمام انگلینڈ میں شیڈول آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 12 جون سے ہونے جا رہا ہے۔ ایونٹ کے باقاعدہ آغاز سے قبل لندن میں تمام ٹیموں کے کپتانوں کے لیے روایتی مہم اور فوٹو شوٹ پر مبنی تقریب "کیپٹنز کارنیول” (Captains’ Carnival) منعقد کی گئی۔
اس تقریب کے دوران روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی خواتین ٹیموں کی کپتانوں کے درمیان مصافحہ نہ ہونے کی خبریں اور بحث سوشل میڈیا پر کافی گرم ہے۔
واقعے کا پس منظر اور تنازع کی وجہ
کھیلوں کے حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا خواتین ورلڈ کپ کے اس کارنیول میں پاک-بھارت کپتانوں نے ہاتھ ملایا یا نہیں۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ رواں سال فروری (2026) میں کھیلے گئے مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران پیش آنے والا واقعہ ہے۔
-
مردوں کے ورلڈ کپ کا واقعہ: فروری 2026 میں کولمبو (سری لنکا) میں کھیلے گئے مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹاس کے وقت بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا تھا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی اور سفارتی تناؤ کا نتیجہ تھا، جس کی ہدایات بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) اور اعلیٰ حکام کی طرف سے دی گئی تھیں۔
-
خواتین کے ایونٹ پر اثرات: کرکٹ شائقین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ مردوں کی ٹیم کی جانب سے قائم کردہ اس تلخ روایت کا اثر اب خواتین کے ورلڈ کپ پر بھی دکھائی دے رہا ہے، جہاں لندن میں ہونے والے کیپٹنز کارنیول کے دوران بھارتی ٹیم کی کپتان (ہرمن پریت کور) اور پاکستانی کپتان کے درمیان روایتی کھیل کی روح اور مصافحے (Handshake) کو نظر انداز کیا گیا، جس پر پاکستانی میڈیا اور شائقین کی جانب سے سخت مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ویمنز ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹاکرا
سفارتی اور گراؤنڈ سے باہر کی ان کشیدگیوں کے باوجود دونوں ٹیمیں ایونٹ میں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہوں گی۔
-
میچ کی تاریخ: پاکستان اور بھارت کی خواتین ٹیموں کے درمیان ہائی وولٹیج میچ 14 جون 2026 کو کھیلا جائے گا۔
-
مقام: یہ میچ انگلینڈ کے تاریخی گراؤنڈ ایجبسٹن (Edgbaston) میں شیڈول ہے۔
عالمی کرکٹ مبصرین کا ماننا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے تاکہ کھیل کی اصل روح برقرار رہے، تاہم پاک-بھارت کرکٹ اب مکمل طور پر دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کے زیرِ اثر آ چکی ہے۔
