وینکوور کے بی سی پلیس اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز اور متنازع میچ میں کینیڈا نے قطر کو 0-6 سے شکست دے کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم، یہ میچ صرف کینیڈا کی فتح نہیں بلکہ دو ریڈ کارڈز، ایک سنگین انجری اور میچ کے بعد ریفرینگ اور فیفا کے فیصلوں پر پیدا ہونے والے شدید تنازع کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔
🛑 میچ کی اہم تفصیلات اور تنازع کی وجہ
قطر کے خلاف دو ریڈ کارڈز: میچ کے دوران قطر کو دو بڑے جھٹکے لگے۔ پہلے ہاف کے 33ویں منٹ میں گول اسکور کرنے کا موقع روکنے پر قطر کے ہومام الامین کو ریڈ کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا۔
وی اے آر (VAR) کا متنازع فیصلہ: دوسرے ہاف میں قطر کے عاصم عمر مدیبو نے کینیڈا کے مڈفیلڈر اسماعیل کونے پر ایک سخت ٹیکل کیا۔ ریفری نے پہلے انہیں پیلا کارڈ (Yellow Card) دکھایا، لیکن بعد میں VAR (ویڈیو اسسٹنٹ ریفری) کی مداخلت پر اس فیصلے کو تبدیل کر کے عاصم مدیبو کو بھی ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا۔
9 کھلاڑیوں تک محدود ہونا: دو ریڈ کارڈز ملنے کی وجہ سے قطر کی ٹیم صرف 9 کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کینیڈا نے میچ پر مکمل گرفت حاصل کر لی۔
💥 قطر کا الزام اور کشیدگی
میچ ختم ہونے کے فوراً بعد میدان میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے درمیان سخت کشیدگی دیکھی گئی۔ قطری کیمپ اور سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے ریفرینگ کے معیار پر سخت غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قطر کا موقف ہے کہ ریفری اور فیفا (FIFA) نے یکطرفہ فیصلے کرتے ہوئے کینیڈا (جو کہ ایونٹ کا شریک میزبان ہے) کی حمایت کی ہے اور VAR کے فیصلوں میں جانبداری برتی گئی جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

