، لندن( نیوز ایجنسیاں) یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر
تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے پر حملہ کرکے انہیں یرغمال بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ ساحلی شہر موخا کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے جبکہ سعودیہ کے یمن میں جوابی فضائی حملے جاری ہیں ، ادھر برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے ایران کو پیغام پہنچایا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو لگام ڈالے۔ یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے پر حملہ کرکے انہیں یرغمال بنانے کا دعوی بھی کیا ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔ترجمان نے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ان حملوں کا مناسب جواب دیں گی۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔اس کے علاوہ یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیرا ئوکی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے تمام محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا جبکہ وزیر دفاع کو بھی محصور کردیا گیا ہے اور ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں تاہم واقعے کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔حوثی باغیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جہاں متعدد حوثی کمانڈر ہلاک ہوئے۔ ادھرسعودی شہری دفاع نے خمیس، مشیط کے علاقوں میں خطرے کا الرٹ جاری کر کے واپس لے لیا۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سعودی شہری دفاع نے 24 گھنٹوں میں چوتھی بار خطرے کا الرٹ جاری کیا۔سول ڈیفنس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں عوام کو ہدایت کی کہ علاقے میں جمع ہونے اور ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔واضح رہے کہ خمیس، مشیط اور ابہا سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے ہیں اور یمن کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ دریں اثنا قطر کے حکام نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔قطری وزارت خارجہ کے مطابق قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ کی سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں قطر کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی سلامتی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔دریں اثناء یمن میں حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا کا کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد انہیں اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب مزید پیش قدمی کا موقع مل گیا ہے۔برطانوی خبررساںادارے کے مطابق یمنی حکومت کے تین ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے موخا پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ شہر باب المندب کے قریب واقع ہے اور اس پر کنٹرول حوثیوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں اہم تزویراتی فائدہ دے سکتا ہے۔ دوسری جانب حوثی خبر رساں ایجنسی صبا نے دعوی کیا ہے کہ سعودی فورسز نے یمن کے صوبوں تعز، حدیدہ، الجوف اور مارب میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 40فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کے خلاف ان کی کارروائیوں کے بعد کیے گئے۔رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی تاریخی بندرگاہ موخا اور ذباب سمیت باب المندب سے متصل ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حوثیوں کے پاس یمن کے گنجان آباد شمالی علاقوں کا پہلے ہی بڑا حصہ ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو یمن کو افریقہ کے ساحلی ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے۔ خلیجی ممالک سے یورپ جانے والے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔اگر حوثی باب المندب کے راستے پر موثر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے ہی عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔تازہ پیش رفت سے یمن میں جاری لڑائی کے دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہونے اور بحیرہ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہوں پر کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ادھر برطانوی میڈیا کے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے ایران کو ایک انتباہی پیغام پہنچایا ہے کہ وہ اپنے یمنی حوثی اتحادیوں کو کنٹرول کرے۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے دفاعی معاہدے کی وجہ سے ایران کو دیا گیا پاکستان کا یہ انتباہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی فوجی کردار صرف سعودی حدود کے دفاع تک محدود رہے گا۔ذرائع کے مطابق ایران کو دیا گیا پیغام واضح ہے کہ یا تو وہ حوثیوں کو لگام دے یا ایک پراکسی تنازع کو وسیع تر علاقائی سکیورٹی بحران میں تبدیل کرنے کا خطرہ مول لے۔ رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر علاقائی سفارتکار نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو یہ پیغام پہنچایا ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے رکوانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔خبررساں ایجنسی نے کہا کہ ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ ریاض میں سعودی حکام نے سینیئر پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات کر کے اپنے ردعمل کو مربوط بنانے پر غور کیا ہے اور تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی فوجیں یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی قسم کا جوابی عمل سعودی حدود سے ہی دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ایک اور پاکستانی ذریعے نے کہا کہ جوابی حملوں میں شامل ہونے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور سعودی سرزمین کی حفاظت تک محدود ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن غیر ملکی سرزمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔
حوثی حملے
