لندن (ویب ڈیسک) ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویزمشرف کو ایم کیو ایم کی پالیسی سازی میں اعلیٰ سطح پر شامل کئے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، بی بی سی اردو پر بین ٹی وی کو ایک انٹرویو میں ان سے سوال کای گیا تھاکہ ان کے اتحاد کا سربراہ پرویز مشرف بنایا جاسکتا ہے، فاروق ستار نے کہا ہمارے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں، سابق صدر سے ایم کیو ایم کا دیرینہ تعلق رہا ہے ، انہوں نے ان کے ساتھ کام بھی کیا ہے، انہوں نے کہا میری پرویز مشرف سے آخری ملاقات ستمبر 2016ءمیں ہوئی تھی، اس ملاقات میں پرویز مشرف نے ان کے ایم کیو ایم لندن سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کو سراہا اور نئی پارٹی بنانے کا مشورہ دیا تھا، جسے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیاتھا، فاروق ستار نے نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم سے ٹوٹ کر ایک نئے دھڑے کے وجود میں آنے کے بعد کراچی شہر میں جو تشدد ہوا تھا اس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کوشش یہی ہے کہ سیاسی تشدد سے بچا جائے اور عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا پانچ نومبر کے جلسے نے ثابت کر دیا ہے کہ ایم کیو ایم بڑی جماعت ہے اور بڑا حصہ اس کا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کی طرف سے چند ماہ قبل کیے جانے والے ‘ملین مارچ’ کے بارے میں انھوں نے کہا سب نے دیکھ لیا کہ اس میں کتنے لوگ تھے۔ پانچ نومبر کو کیے گئے جلسے کی مخالفت ٹی وی چینلوں نے بھی جس طرح کوریج کی اس نے واضح کر دیا کہ لوگ کس کے ساتھ ہیں۔انھوں نے کہا دورس سیاسی بصیرت اور تدبر کا تقاضہ یہ تھا کہ مستقل قریب میں حاصل ہونے والے سیاسی فائدے اور نقصان سے بلند ہو کر فیصلہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا اگر کوئی چھوٹا فریق ہے تو اسے انگلی پکڑا کر چلانا ہے، اسے راستہ دینا ہے۔پاک سرزمین پارٹی کی سوچ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مہاجروں پر مظالم ختم ہو گئے اور مہاجروں کے نام پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ پنجابی، پختون اور سندھی برا مانتے ہیں، تو ایسا نہیں ہے۔ سندھی، پنجابی اور پختون بھی دیکھتے ہیں کہ ایک ہی منظم اور پڑھے لکھوں کی جماعت ہے اور کراچی کے مسائل کو یہ سمجھتے ہیں اور اس کا حل بھی ان ہی کہ پاس ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں انھوں نے کہا کہ دراصل ان قومی جماعتوں کو زیادہ حمایت لسانی بنیادوں پر ہی حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘میرے پی ایس پی کے بھائیوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پی ایس پی سے الائنس نہیں ہوتا تو سیٹ ایڈجسمنٹ تو ہو سکتی ہے ، وزیراعظم اور آرمی چیف کو خط میں کیا لکھا ، نہیں بتا سکتا ، اپنے گوشوارے پیشی کیلئے چیلنج ہے باقی سیاسی رہنما بھی اپنے گوشوارے بتائیں، کامران غوری پارٹی میں میرٹ پر ہیں، انہوں نے کہا کہ پوری رابطہ کمیٹی سے ناراض تھا اور کہہ دیا تھا کہ پریس کانفرنس کے قریب نہ آئیں ، سیاست چھوڑنے ک اٹل فیصلہ کرلیاتھا، کل میرے لئے دوسرا 22اگست تھا، کارکن اور پارٹی رہنما دباو¿ ڈالتے ہیں تو مہاجر صوبے کی بات کی جاتی ہے ، مائنس ایم کیو ایم کو قبول نہیں کر سکتے ، مجھ پر حالات کا جبر اور دباو¿ پچھلے ایک سال سے تھا، پی ایس پی کے ساتھ قطعاً طے نہیں ہوا تھا کہ ایم کیو ایم کو ختم کردینگے، مصطفی کمال نے اپنے بارے بات کی ، پی ایس پی سے مذاکرات میں سیاسی الائنس کا طے ہوا تھا، اس اتحاد بارے رابطہ کمیٹی نے اختلاف نہیں کیا اپنے تحفظات ضرور پیش کئے تھے کہ پارٹی کو نقصان نہ ہو، ہمارے دروازے اب بھی کھلے ہیں، پی ایس پی سے اگر الائنس نہیں ہوتا سیٹ ایڈجسمنٹ تو ہوسکتی ہے، ارباب اختیار اور پالیسی سازوں کو اب کچھ سوچنا چاہئے اور فیصلے کرنے چاہیں ، وزیر اعظم اور آرمی چیف کو پہلے بھی ایک خط لکھا تھا جس کا کبھی ذکر نہیں کیا، میں پارٹی سربراہ ہوں مجھ پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، مہاجروں کا مقدر بھرپور انداز میں پیش کیا ، مصطفی بھائی نے ایک موقع ضائع کردیا، فاروق ستار نے کہا کہ آج یادگار شہداءجارہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ ہمیں وہاں جانے دیا جائیگا، ہمارے بند دفاتر آج تک واپس نہیں مل سکے بیشمار کارکن لاپتہ ہیں، میں پارٹی سربراہ کے طور پر انکا ذمہ دار ہوں۔
پرویز مشرف کو ایم کیو ایم میں اعلیٰ سطح پر شامل کر سکتے ہیں، فاروق ستار

