لاہور (نادر چوہدری سے) لٹن روڈ پر سود کا کاروبار عروج پر، دقسطیں شارٹ ہونے پرکاندارکرائے کے غنڈوں کا سہارا لینے لگے ، رکشے ،موٹر سائیکلیں ،رجسٹریاں اور طلائی زیورات سمیت دیگر قیمتی اشیاءہڑپ کرنا معمول بن گیا، رکشوں کی ایک یا دو قسطوں کی عدم ادائیگی پر غنڈوں کی مدد سے رکشہ چھین لیا جاتا ہے ، مزید کچھ روز تک بقایا جات کلیئر نہ کرنے پر ایڈوانس کی رقم اور ادا شدہ قسطیں ہڑپ کی جانے لگیں، قانون نافذ کر نے والے ادارے خاموش تماشائی بن گئے ، اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹانے والے شہری خبریں سروے میں پھٹ پڑے ۔ تفصیلات کے مطابق شہریوں کی جانب سے موصول ہونےوالی متعدد شکایات پر "روز نامہ خبریں "کی جانب سے لٹن روڈ پر قائم قسطوں پر رکشے دینے والی دکانوں اور ان کے متاثرین کے حوالے سے ایک سروے کا انعقاد کیا گیاجس میں شہری "روز نامہ خبریں "ٹیم کے سامنے پھٹ پڑے ۔ شہری محمد ارشد کا کہنا تھا کہ اس نے رکشہ قسطوں پر لیا جس کا ایڈوانس 50ہزار روپے اور قسط 3ہزار روپے تھی جو کہ میں نے ادھر اُدھر سے پیسے اکھٹے کر کے رکشے کا ایڈوانس دیا اور بچوں کا رزق کمانا شروع کردیا لیکن ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں رکشے کی قسط نہیں دے سکا اور ایک روز جب میں سواری لیکر جارہا تھا تو قسطوں والے دکاندار کے غنڈے آئے اور سواریوں کو اتار کر مجھ سے رکشہ چھین کر لے گئے جس کی واپسی کیلئے میں متعلقہ دکاندار کے پاس گیا لیکن ا نھوں نے نہ مجھے رکشہ واپس کیا اور نہ ہی میرا ایڈوانس اور ادا شدہ قسطیں جس پر اب میں کسی کا رکشہ دیہاڑی پر چلا رہا ہوں ۔ رکشہ ڈرائیور زیشان عرف کالو کا کہنا تھا کہ اس نے بھی رکشہ قسطوں پر حاصل کیا لیکن اسکا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کا پتہ چلنے پر دکانداروں نے مجھے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ ہمارا رکشہ تو تباہ ہوگیا ہے اب جب تک اسکی پوری رقم تمہارے اہل خانہ ادا نہیں کرینگے تب تک تمہیں نہیں چھوڑیں گے جس پر میرے گھر والوں نے سود پر پیسے لیکر اس دکاندار کو دیے اور اب عرصہ دراز سے ہم سود کی قسطیں ادا کررہے ہیںلیکن سود کی اصل رقم وہیں کی وہیں ہے ۔ شہری واجد علی نے خبریں نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لٹن روڈ پر قسطوں پر اشیاءدینے والے متعدد دکاندار سود کا بھی کاروبار کرتے ہیں اور قسطوں کی آڑھ میں سود کی اصل رقم کے مطابق چیک لے کر رقم ادا کر دیتے ہیں جس پر کوئی بھی قسط شارٹ ہونے کی صورت میں بدمعاشوں کے ذریعے اٹھا کر لے جاتے ہیں اور اگر کوئی بیچ میں آئے تو متعلقہ تھانو ں میں تعلقات ہونے کی بنیاد پر ان پر مقدمات درج کروا دیتے ہیں ۔شہری جبار ، عاطف اور شہبازکا کہنا تھا کہ قسطوں کے کاروبار کی آڑ میں سود خوری کر نے والے ان سودخورںکی جانب سے قومی بنکوں کے شرح منافع سے کئی گناہ زیادہ منافع لیا جاتا ہے جوسود کے زمرے میں آتا ہے ۔
لٹن روڈ سودخوروں کا گڑھ، قسطیں وصول کرنے کیلئے مافیا نے غنڈے رکھ لیے

