کراچی( وحید جمال) ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی میں اتحاد کے بعد ایم کیو ایم میں واضح دھڑے بندی ہوگئی ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ یہ جماعت تین مختلف گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے، ایم کیو ایم میں اسی دھڑے بندی کے نتیجے میں ڈاکٹر فاروق ستار کو سیاست سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا، تاہم تھوڑی دیر بعد ہی انہوں نے یہ اعلان واپس لے لیا، سیاسی مبصرین کے مطابق فاروق ستار اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے بعض سینئر ارکان میں فاصلے بڑھ گئے ہیں جبکہ کچھ ارکان دوسری جماعتوں سے رابطے میں بھی ہیں، ان جماعتوں میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی شامل ہیں، ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار چند روز تک امریکہ جارہے ہیں، ان کا یہ دورہ اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ لندن میں بھی رہیں گے یا نہیں، بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کا سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ پھر فوری فیصلہ واپس یوٹرن دباﺅ کی وجہ ہے دوران گفتگو ڈاکٹر فاروق ستار مایوس اور دلبرداشتہ نظر آئے ان کے متعلق گذشتہ 24گھنٹوں میں بہت سی باتیں سامنے آئیں جن سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا ایم کیوایم پاکستان رابطہ کمیٹی کے سینئر رہنماﺅں کے درمیان فاصلے واضح طورپر عیاں تھے جس کی وجہ سے انہیں اپنی گرفت کمزور اور مینڈیٹ متاثر ہوتا نظر آرہا تھا رابطہ کمیٹی کے رد عمل کے بعد انہوں نے دستبرداری کا اعلان کرکے سیاسی چھکا مارا جس میںوہ کامیاب ہوگئے اسٹیبلشمنٹ حکومت اور سیاسی جماعتوں کو پیغام دیا کہ میری مرضی کی سیاست نہیں کرنے دیں گے مجھے جگہ نہیں ملے گی سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا اس میں فیصلوں کا دارو مدار حالات اور وقت کے مطابق کیاجاتا ہے ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوسر ے روز ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس بہادر آباد مرکز میں ہوا جس میں ڈاکٹر فاروق ستا رابطہ کمیٹی کے سینئر ارکان کی تمام ترکوششوں کے باوجود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ان کی غیر موجودگی میں رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے مجبورا اجلاس کی صدارت کی ذرائع کے مطابق اس صورتحال میں ایم کیوایم کے رہنما واضح طورپر مختلف گروپس میں تقسیم نظر آئے اس اجلاس کے بعد فاروق ستار نے ہنگامی طورپر اپنی آبائی رہائش گاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کردیا جو 60منٹ بعد فیصلہ واپس لے کر پرامیداور نئے عزم کے ساتھ سیاسی عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا 22اگست کو ایم کیوایم کے بانی کی متنازعہ تقریر کے بعد مہاجر قوم جس سیاسی بحران سے دوچار ہوئی اس کا اندازہ کراچی میںحالیہ مسائل سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے یہ حقیقت روز روش کی طرح عیاں ہے کہ ماضی میں ہر شکوہ اور عظیم مقام رکھنے والا شہر قائد اپنی حقیقی شناخت کی تلاش میں ہے پاکستان کے اس معاشی حب کی بد قسمتی رہی ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اس شہر سے اپنے مفادات تو حاصل کئے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے اس پر توجہ نہیں دی کراچی میں مہاجر ہی نہیں پاکستان کے ہر شہر سے آئے ہوئے ہر قومیت کے لاکھوں افرادرہائش پذیر ہیں جو حصول روزگار کیلئے کراچی میں مقیم ہیں اسی کی دہائی میں کراچی کا شمار دنیا کے ان شہروں میں ہوتا تھا جو معاشی اور سماجی اعتبار سے مشہور تھا وہ شہر جہاں قومی جماعتوں کا اچھا خاصا ووٹ ہوا کرتاتھا وہ ایک سیاسی جزیرہ بن کر رہ گیا گذشتہ تیس برسوں کے دوران کراچی میں نئی سرمایہ کاری نہیں ہوسکی سرکاری سطح پر کوئی قابل ذکر میگا پروجیکٹ دعوﺅں کے باوجود مکمل نہیں کیاجاسکا سابق روشنیوں کا شہر گندگی اور کچرے کا ڈیر بن چکا ہے شہر کے بیشتر علاقے صاف پانی سے محروم عوام گندا پانی پینے پر مجبور بلدیاتی سہولیات عنقا ہیں شہر کے بلدیاتی مسائل اتنے گھمبیر ہوگئے حالات سنبھالے نہیں سنبھل رہے ماضی میں پر تشدد سیاسی گینگ وار اوراختیارات کی جنگ نے بھی کراچی جیسے پر امن اور روشنیوں کے شہر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا کراچی شہر میں ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہی کراچی کے عوام نے سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹ کے ذرےعے اےوانوں مےں رسائی دلائی افسوس سے کہاجاسکتاہے کہ کسی بھی جماعت نے کراچی کے شہرےوں کے ساتھ انصاف نہےں کےا 18مارچ 1984 مےں قائم ہونےوالی اےم کےواےم جماعت سے کراچی کے عوام سے امیدےں وابستہ کےں اس سے بھی عوام کو سہولتوں کی بجائے بدترےن بنےادی مسائل کاسامناہے تازہ ترےن سےاسی صورتحال نے مزےد غےرےقےنی کی فضا پےدا کردی ہے کہےں سےاسی تناذعات ہےں کہےں اختےارات کا رونا تو کہےں کام نہ کرنے کی بات ان تمام صورتحال کی سزا کراچی کے عوام کو مسائل کی صورت مےں دی جارہی ہے۔
ایم کیو ایم میں دھڑے بندی، بعض سینئر ارکان کے دوسری جماعتوں سے رابطے، فاروق ستار دلبرداشتہ نظر آئے

