All posts by Daily Khabrain

مفتی عبدالقوی کی خاتون کے ساتھ ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہو گئی

لاہور (ویب ڈیسک) گذشتہ کچھ عرصے سے ٹک ٹاک نامی ایپ نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے،جس میں صارفین مخلتف گانوں پر ڈبنگ کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز بناتے ہیں۔ٹک ٹاک ایپ پر ہمیں چھوٹے بڑے ہر عمر کے افراد کی ویڈیوز نظر آتی ہیں۔تاہم اب ٹک ٹاک ایپ پر ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ویڈیو میں کوئی اور نہیں بلکہ اکثرخبروں کی زد میں رہنے والے مفتی عبدالقوی ہیں۔ویڈیو میں مفتی عبدالقوی کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود ہیں جنھیں ویڈیو میں مفتی عبدالقوی کے ساتھ ادائیں دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کہ مفتی عبدالقوی بھی ویڈیو میں بہت مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھی ویڈیو پر دلچسپ قسم کے تبصرے کیے ہیں۔کچھ صارفین نے تو مفتی عبدالقوی کی اس ویڈیو کو خوب انجوائے کیا تاہم کچھ صارفین نے مفتی عبدالقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عبدالقوی ٹی وی پر بیٹھ کر شرافت کے بھاشن دیتے رہتے ہیں اور مختلف خاتون اداکاروں کو پردہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں تاہم اب وہ خود ہی ایک خاتون کے ساتھ ویڈیو بنا رہے ہیں۔واضح رہے مفتی عبدالقوی مخلتف وجوہات کی بنا پر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔مفتی عبدالقوی کا نام اس وقت سب سے زیادہ خبروں میں آیا جب انہوں نے ماڈل قندیل بلوچ سے ملاقات کی تھی جس کے کچھ عرصہ بعد ماڈل قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ مفتی عبدالقوی کو ماڈل قندیل بلوچ کے کیس میں بھی نامزد کیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر: شوپیاں میں مزید 2 نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر(ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کی جانب سے مظلوم و بے گناہ کشمیریوں پر ظلم وستم اور اذیتوں کے پہاڑ توڑنے کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں بھارتی فوج نے تازہ پر تشدد کارروائی میں مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق قابض فوج نے آج صبح ضلع شوپیاں کے علاقے کا محاصرہ کیا اور فائرنگ کرکے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف اہل علاقہ سڑکوں پر نکلے تو ان پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے۔قابض فوج نے اب بھی علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ قابض انتظامیہ کی جانب سے ضلع شوپیاں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔

سابق ایس ایس پی راﺅ انوار نے 440 افراد کو ماورائے عدالت قتل کئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سیف الرحمان نے قومی اسمبلی میں سابق ایس ایس پی راﺅ انوار کے اثاثوں اور کارروائیوں کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کردیا۔سانحہ ساہیوال کے بعد ملک میں ایک بار پھر سابق ایس ایس پی راﺅ انوار کے نام کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے گزشتہ روز ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ راﺅ انوار سے سانحہ ساہیوال تک بطور حکومت ہمارا فرض ہے کہ جعلی مقابلوں کا خاتمہ کیا جائے۔ لیکن اب کراچی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نے بھی راﺅ انوار کے اثاثوں اور کارروائیوں سے متعلق کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔تحریک انصاف کے رکن سیف الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب میں کہا کہ کراچی میں سابق ایس ایس پی راﺅ انوار نے 440 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایوان کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو راﺅ انوار کے جرائم اور اثاثوں کی تحقیقات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ راﺅ انوار ایک سال میں 74 مرتبہ پاکستان سے بیرون ملک گیا اور واپس آیا۔کیا ایک ایس ایس پی اپنی تنخواہ سے اتنی بار ملک سے باہر آجا سکتا ہے؟ سیف الرحمان نے کہا کہ ’راﺅ انوار جیسے لوگ جب تک کسی کے بہادر بچے بنے رہیں گے، میرے بچوں اور نوجوانوں کا قاتل آپ کا ’بہادر بچہ ‘ بنا رہے گا اور آپ اس کو میڈلز اور توسیع دیتے رہیں گے اور اس کو ہتھکڑی نہیں لگائیں گے تو پھر محرومی پھیلے گی‘۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راﺅ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

سانحہ ساہیوال : سی ٹی ڈی افسران خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کے ذمہ دار قرار

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت ایوانِ وزیراعلیٰ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سینئر وزیر علیم خان، وزیر قانون راجہ بشارت، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس، متعلقہ ایجنسیز کے اعلیٰ افسران سمیت جے آئی ٹی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی جس پر غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت پنجاب کیلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اور حکومت اس کیس کو مثال بناکر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور جے آئی ٹی کے سربراہ نے اجلاس میں بریفنگ دی ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی کے افسران کو ٹھہرایا گیا ہے۔راجہ بشارت نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی آپریشن کو عہدے سے ہٹاکر حکومت کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو بھی عہدے سے ہٹاکر وفاق کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اجلاس میں اے آئی جی آپریشنز سمیت پانچ دیگر افسران کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ قتل میں ملوث 5 سی ٹی ڈی اہلکاروں کا چالان کرکے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔راجہ بشارت نے کہا کہ واقعے میں ایک اور شخص ذیشان ہلاک ہوا تھا جس کے حوالے سے معلومات اکھٹی کرنے کیلئے جی آئی ٹی سربراہ نے مزید وقت مانگا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل ہم نے کہا تھا ان کیمرہ بریفنگ دیں گے، کل میڈیا کیلئے ان کیمرہ بریفنگ کررہے ہیں۔قبل ازیں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بننے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن ان کی صوابدید ہوگی۔ساہیوال واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کردی۔جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران کو خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ مقتول خلیل اور اس کے خاندان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔