کراچی، فیصل آباد، حیدرآباد (نمائندگان خبریں) اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ پانامہ کیس کے فیصلے کا پوری قوم کو شدت سے انتظار ہے ن لیگ نے ملک کو ”مقروضستان“ بنا دیا ہے پیپلزپارٹی عوام کے بنیادی حقوق کےلئے ضیائی باقیات سے لڑتی رہی ہے ۔ خلق خدا بے لگام مہنگائی‘ بے روزگاری اور بجلی لوڈ شیڈنگ سے بیدار ہو چکے ہیں عام آدمی کی قوت خرید تو کب کی جواب دے چکی ہے؟ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ن لیگی گڈ گورننس کاپول کھل کر دکھا دیاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلزپارٹی فیصل آباد ڈویژن کے صدر سید حسن مرتضی‘ سٹی جنرل سیکرٹری چوہدری انتظار عدیل تاج‘ ڈویثرنل سیکرٹری اطلات محمد طاہر شیخ کے ہمراہ فیصل آباد ویگر رہنماﺅں سے ملاقات کے دوران باہمی گفتگو کرتے ہوئے کیا، سید خورشید شاہ نے کہا کہ عام لوگوں کی سکڑتی زندگی آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے صحت وتعلیم کے بعد دووقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے جبکہ جاتی امراءکے درباری اور بے لگام وزراءنواز شہباز حکومتی قصیدہ خوانی کرتے تھکتے ہی نہیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑونے پیپلز پارٹی ٹنڈو الہ یار ضلع کونسل کے رکن غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کی گمشدگی کا الزام وفاقی حکومت پر عائد کرتے ہوئے انہیں چوبیس گھنٹوں کے اندر مقدمہ ہونے کی صورت میں عدالت میں پیش کرنے اور سندھ کے ساتھ زیادتیاں بندنہ ہونے کی صورت میں سندھ بھر میں احتجاج کر کے دھرنے دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پی پی پی میڈیا سیل بلاول ہاﺅس کراچی میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی، سینیٹر سعید غنی اور راشد حسین ربانی موجود تھے۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کا گناہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے قریب ہےں اورماضی سے لے کر آج تک آصف علی زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور مختلف طریقوں سے پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نشانہ آصف علی زرداری ہےں تو ہم بلاول بھٹو سے لے کر ہم سب آصف علی زرداری کے ساتھی ہےں تو پھر پوری پیپلز پارٹی کو گرفتار کیا جائے۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ اگر حکومت لوگوں کا اغوا کرواتی رہے گی تو حکومت اور ڈاکوﺅں میں کیا فرق رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جھگڑا یہی ہے کہ عوام طاقتوررہے یا اسٹیبشمنٹ؟ مگر پیپلز پارٹی عوام کا ساتھ دیتی رہے گی۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے چوہدری نثار کی دم پر پاﺅں رکھاہے تو ایسی انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہے اور یہ کارروائیاں کر کے وفاقی حکومت عام انتخابات سے قبل ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کو کس ادارے نے اٹھایا ہے اگر انہیں رینجرز یا نیب نے اٹھایا ہے تو بھی بتایا جائے یا اگر ان پر کوئی مقدمات ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ہے کہ اگر کسی ادارے کی جانب سے کسی شخص کو بھی اٹھایا جائے گا تو 24گھنٹوں میں اس شخص کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہوگا اور انہیںوکیل کرنے کا بھی موقع دیا جائے گا۔ اس لئے قانون پر عملدر آمد کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف آمر جنرل ضیا الحق کا جانشین تھا اور آج بھی وہی روش رکھے ہوئے ہےں اور یہ سب وزیراعظم نواز شریف کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اداروں کی انتقامی کارروائیاں بڑھتی جارہی ہے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت سندھ سے لوگوں کے اغوا کا سلسلہ بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے یہاں تو ملک کے خلاف لندن میں بیٹھ کر باتیں کرنے والے کو ریلیف اور عوام کی بات کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہےں۔نثار کھوڑو نے کہا کہ مصطفی کمال اس وقت کیوں نہیں بولے جب بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئے ان کے صرف الطاف حسین سے علیحدگی کے بیان سے کیا ہم مان لینگے کہ وہ واقعی ان سے علیحدہ ہےں کہ نہیں۔ نثار احمد کھوڑوں نے کہا کہ سندھ میں 20بیس گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور سندھ کے دیہی علاقوں کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی جبکہ 70 فیصد گیس سندھ پیدا کرتا ہے اور ہم مزید سندھ کی عوام کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کریں گے۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ چوہدری نثار نے جو دھمکیاں دینی شروع کی تھیں اس کے اثرات اب نظرآنا شروع ہوگئے ہیں، پہلے کراچی میں ایک سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور اب وہی طریقہ پیپلزپارٹی کے لیے استعمال کیا جا رہا رہے لیکن پی پی میں کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوگی جب کہ وزیراعظم اپنے وزرا کو تعصب کی فضا قائم کرنے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادارن ملک کے لیے جان نہیں دے سکتے تو خدارا ملک کی جان چھوڑ دیں، ہماری طرز سیاست پاناما نہیں، اللہ نے پاناما کی صورت میں شریف براداران کے منہ پر طمانچہ مارا ہے جب کہ پی پی کے دور میں آنے والا این آر او غلط ضرور تھا لیکن کسی سے چھپ کر نہیں کیا، اسی این آر او کی بدولت نواز شریف واپس آئے اور ملک میں سیاست چلی، اصل مجرم وہ ہیں جورات کی تاریکی میں این آر او کرکے فرار ہوئے تھے جب کہ اے ڈی خواجہ اچھے افسر ہیں لیکن اگر ان کی حکومت سے نہیں بن رہی تو اسے رہنے کا حق نہیں۔

















