حج سیزن میں اربوں کمانے کا منصوبہ, عوام پریشان

لاہور (خصوصی رپورٹ) حج پالیسی میں تبدیلی کے بعد من پسند پرائیویٹ حج ٹوور آپریٹرز کو وزارت مذہبی اُمور کی جانب سے نوازنے کا انکشاف ہوا ہے اور نئی انرولمنٹ میں مزید 2200 کے قریب پرائیویٹ حج ٹوور آپریٹرز کو نمبرنگ الاٹ کردی گئی جبکہ موجودہ 748 رجسٹرڈ کوٹہ ہولڈر ہیں۔ حج و عمرہ کوٹہ میں پرائیویٹ ٹوور آپریٹرز کے کوٹہ میں کمی ہونے کے باوجود میرٹ کے برعکس کمپنیوں کو نمبرنگ الاٹ کردی گئی ہے جبکہ 86 کمپنیاں رجسٹریشن اور نمبرنگ الاٹ ہونے کے لیے 2006ءسے ویٹنگ لسٹ میں شامل ہیں۔ اس کے برعکس سال 2012ءمیں جن افراد نے درخواستیں جمع کرائیں، انہیں نمبرنگ الاٹ کردی گئی اور 19 مزید پرائیویٹ حج و عمرہ ٹوور آپریٹرز کو کوٹہ لسٹ میں شامل کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی اُمور کی جانب سے حج پالیسی میں کوٹہ سسٹم کے تحت حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد اب 60 فیصد سرکاری اور 40 فیصد پرائیویٹ حج ٹوور آپریٹرز کے ذریعے حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری طور پر تاحال صرف 748 کمپنیاں مستند شدہ ہیں جو 40 فیصد کوٹہ کی مد میں سال 2017ءمیں حاجیوں کی درخواستیں وصول کرسکتی ہیں جبکہ حکومت نے 2200 کے قریب نئے پرائیویٹ ٹوور آپریٹرز کو ڈبل فیس لے کر نمبرنگ الاٹ کردی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزارت مذہبی اُمور کی طرف س حج پالیسی میں تبدیلی اور من پسند افراد کو کوٹہ لسٹ میں شامل کرنے کے بعد گزشتہ ماہ 27 مارچ تک دو گنا فیس 10000 کے ساتھ درخواستیں وصول کی گئیں اور 2200 کے قریب کمپنیاں جن کو نمبرنگ الاٹ کی گئی ہے سے بھی درخواستیں وصول کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرکاری سطح پر کوٹہ سسٹم میں تبدیلی کے بعد نئی انرولمنٹ والی کمپنیوں نے سپریم کورٹ میں پالیسی کے خلاف درخواست دائر کردی ہے جس میں مو¿قف اختیار کیا ہے کہ وزارت مذہبی اُمور کی جانب سے پرائیویٹ حج و عمرہ ٹوور آپریٹرز کو 40 فیصد کوٹہ کے بجائے 50 فیصد کیا جائے اور کوٹہ سسٹم میں من پسند پرائیویٹ حج ٹوور آپریٹرز کو نوازنے کے بجائے انرولمنٹ ک جانے والی 2948 کمپنیوں کو بھی کوٹہ کے مطابق حصہ دیا جائے۔ اس حوالے سے وزارت مذہبی اُمور حکام نے بتایا کہ سال 2006ءمیں ویٹنگ لسٹ میں شامل کمپنیوں کی سال 2012ءمیں ہی درخواستیں منسوخ کردی گئی تھیں اور انہیں دوبارہ درخواستیں جمع کرانے کی ہدایات کی گئی تھیں۔
حج ٹوور آپریٹرز

اقوام متحدہ کا ”ملالہ یوسف زئی “کیلئے بڑا اعلان

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)ملالہ یوسف زئی کو اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی پیامبر بنایا جارہا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو اقوام متحدہ کی مسینجر آف پیس بنایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ کل نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارز کے ٹرسٹی شپ کونسل چیمبر میں تقریب منعقد کی جائے گی جس میں 19 سالہ ملالہ یوسف زئی کو ان کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور وہ اپنے فرائض میں شامل دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ میں مدد کریں گی۔ سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے منصب پر ایک کم عمر لڑکی ملالہ یوسف زئی کے انتخاب کی یہ ہے کہ ملالہ سنگیں خطرات کے باوجود خواتین، لڑکیوں اور پاکستان سمیت دنیا کے تمام انسانوں کے حقوق کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم رہیں۔ لڑکیوں کو علم کی روشنی سے روشناس کرانے کے لئے ان کی ہمت نے دنیا بھر کے لوگوں میں تحریک پھونکی ۔ اور اب وہ اقوام متحدہ کی سب سے کم عمر امن کی پیغامبر بن کر عدل وانصاف پر مبنی اور پر امن دنیا بنانے میں مزید کردار ادا کریں گی۔ واضح رہے کہ 1997 میں پاکستان کے خوبصورت شہر سوات میں پیدا ہونے والی ملالہ یوسف زئی امن کی پیغامبر کا عہدہ سنبھالنے والی اب تک کی کم عمرترین فرد بن جائیں گی اور اس سے قبل 10 دسمبر 2014 کو ملالہ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر افراد کی فہرست میں اول درجے پرفائز ہوئی تھیں۔

طالبات سے زیادتی, ویڈیوز بنا کربلیک میل کرنیوالا گروہ گرفتار

گجرات (مانیٹرنگ ڈیسک) درجنوں طالبات کی ویڈیوز‘ تصاویر بنا کر زیادتی کرکے بلیک میل کرنیوالے سگے بھائیوں پر مشتمل گروہ گرفتار۔ ملزمان طالبات سے تصایور ویڈیو کے بدلے لاکھوں روپے طلب بھی کرتے رہے۔ ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے پر ایک خاندان ہجرت کرگیا دوسری طالبہ کی زہر کھاکر خودکشی کی کوشش۔ پولیس نے چھاپہ مار کر طالبات کی 117 ویڈیوز 700 سے زائد تصاویر ‘ کمپیوٹر‘ کیمرہ قبضہ میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ نواحی گاﺅں کنجاہ میں طالبات کو بلیک میل کرکے ان سے زیادتی کرنے اور ویڈیوز بنانے والا گروہ اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک کمسن طالبہ (ر) کی ویڈیو کے معاملے کا باپ کو علم ہوا تو نہم کلاس کی طالبہ (ر۔ط) نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کرلی جو زندگی موت کی جنگ لڑتے ہوئے ہسپتال پہنچ گئی۔ پولیس نے متاثرہ بچی کے چچا افضال کی رپورٹ پر سہیل طارق وغیرہ 5 افراد کیخلاف 18 موشن پکچر ایکٹ سمیت سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے سپر سٹور کی بالائی منزل پر قائم کمرہ سے کمپیوٹر‘ سی سی ٹی وی کیمرہ برآمد کرکے اس میں 117 ویڈیو کلپ اور 700 سے زائد تصاویر قبضہ میں لے لیں گروہ میں سہیل طارق کے دوبھائی نعمان طارق‘ سمیر طارق اور والد عبدالطارق سمیت ایک دوست بھی شامل ہے جو گاﺅں میں سپر سٹور پر ایزی لوڈ کروانے کے لئے آنیوالی طالبات کی سی سی ٹی وی کیمرہ سے فلم تصاویر بنا لیتا اور پھر انہیں ایڈٹ کرکے قابل اعتراض بنا کر طالبات کو دکھا کر بلیک میل کرکے ان کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرتے یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری تھا جس کی وجہ سے کئی خاندانوں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے جبکہ مسماة ع سمیت بعض خاندان گاﺅں سے ہجرت کرچکے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور ملزمان کیخلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

پاک فوج کا ریٹائرڈ کرنل” نیپال“ میں لاپتہ, دیکھئے اہم خبر

لاہور (،مانیٹرنگ ڈیسک نیوز ایجنسیاں)پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب زبیر بھارتی سرحد کے قریب نیپال کے علاقے لمبینی میں لاپتہ ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل حبیب زبیر کی گمشدگی رپورٹ درج کر ا دی گئی ہے ،ابتدائی تفتیش کے مطابق حبیب زبیر کو نوکری کا جھانسہ دے کر نیپال بلا یا گیا۔ تفصیل کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل حبیب زبیر نوکری کی تلاش میں تھے اور اسی سلسلے میں انہوں نے چند ماہ قبل لنکڈن اور اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر سی وی اپ لوڈ کیا۔کچھ عرصے بعد حبیب زبیر کو بھارتی ہوسٹ ویب سائٹ کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور نوکری کی پیشکش کی گئی۔حبیب زبیر اور کمپنی کے درمیان ایم میلز اور ٹیلی فون کالز کا بھی تبادلہ ہوا۔اس حبیب زبیر کو برطانیہ سے مسٹر تھامسن نامی شخص کی کال بھی آئی۔ان رابطوں میں حبیب زبیر کو8ہزار 500ڈالر کی تنخواہ اور زونل ڈائریکٹر کے عہدے کی پیشکش کی گئی۔کمپنی نے حبیب زبیر کو بزنس کلاس ٹکٹ بھیجا اور عمان بلوایا ،عمان میں جاوید انصاری نامی شخص نے انہیں نیپال پہنچنے کا کہا اور وہاں پہنچ رابطہ کرنے کے لیے ایک نمبر بھی دیا۔لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ حبیب زبیر 6اپریل کو نیپال پہنچے جہاں انہیں بھارتی سرحد سے صرف 5کلو میٹر دور علاقے لمبینی میں لے جا یا گیا۔ان کے غائب ہونے کے بعد سے بھارت سے ہوسٹ ہونے والی ویب سائٹ بھی مکمل طور پر بند ہو گئی جبکہ برطانیہ سے مسٹر تھامسن کے نام سے آنے والی کال کا نمبر بھی جعلی نکلا۔اس کے بعد سے حبیب زبیر کا اپنی فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ)محمد حبیب ظاہر کے نیپال میں لاپتہ ہو نے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کرنل حبیب 6 اپریل سے نیپال کے ضلع روپان دیہی میں واقع بدھ مت کے پیروکاروں کے مقدس ترین مقام لمبینی سے لاپتہ ہیں۔ نفیس زکریا کا مزید کہنا تھا کہ وزارت خارجہ نے کرنل حبیب کی گمشدگی کا معاملہ نیپالی حکومت کے ساتھ اٹھا یا ہے اور اس سلسلے میں نیپال میں پاکستانی سفارتخانہ نیپالی حکومت سے رابطے میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزارت خارجہ لاپتہ ہونے والے کرنل حبیب کے اہل خانہ سے بھی رابطے میں ہے اور حبیب ظاہر کی گمشدگی کی اطلاع ان کے اہل خانہ نے ہی دی تھی۔

فضائی تحفظ کا معاہدہ منسوخ اب حملہ ہوا تو امریکہ کو منہ توڑ جواب دینگے روس نے خبردار کردیا

نیویارک(آئی این پی )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس نے امریکہ کو شام پر دوبارہ میزائل حملہ کرنے کی صورت میں سخت نتائج کی تنبیہ کی ہے جبکہ ریڈ کراس نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق روس کے نائب سفیر ولادمیر سفکرونوف کا کہنا تھا کہ آپ کو سخت نتائج کے لیے تیار رہنا ہوگا اور اس کی تمام ذمہ داری ان لوگوں کے کندھوں پر ہوں گی جنھوں نے یہ حملے کیے۔ اس سوال کے جواب میں کہ وہ سخت نتائج کیا ہوں گے، ولادمیر سفکرونوف نے کہا کہ لیبیا کو دیکھیں، عراق کو دیکھیں۔واضح رہے کہ امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائلوں سے جمعہ کی صبح ٹاماہاک کروز میزائل سے حملے کیے جبکہ روس نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیر روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شیرت فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا۔ ترجمان اگور کوناشینکوو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ‘شام کے انتہائی حساس مقامات اور اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامت لیے جائینگے تاکہ ان کی قابلیت اور صلاحیت میں بہتری آسکے۔ادھر انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔عالمی ریڈ کراس کی ترجمان نے کہا ایک ملک کی طرف سے بغیر دوسرے ملک کی رضا مندی کے فوجی کارروائی انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ یعنی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔معلومات کے مطابق امریکہ نے شامی فوجی تنصیب پر حملہ کیا اور یہ بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔ امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائلوں سے حملے کیے جبکہ روس نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیر روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔مقامی حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجی اڈہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ شامی فوج کے مطابق امریکی حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس سکیورٹی فورس کو نشانہ بنایا ہے جس کو شامی صدر بشار الاسد خود کمانڈ کرتے ہیں۔ان حملوں کے بعد بشار الاسد کے حامی روس نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے ان حملوں کو ‘ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت’ قرار دیا ہے۔روس کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔ کسی بھی ماہر کے لیے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن نے حملوں کا فیصلہ ادلیب کے حملے سے پہلے کیا تھا اور ادلیب کا واقعہ بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب روسی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ روس امریکہ کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔یاد رہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کیا گیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کی فضائیہ شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنائیں۔روس کی وزارت دفاع کے ترجمان اگور کونشینکوف نے کہا ہے کہ شام میں روس کی فوجی اڈے محفوظ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ایس 400، ایس 300 میزائل سسٹم اور پینٹسر ایس ون انٹی کرافٹ سسٹم کے شام میں روسی اڈوں کے فضائی دفاع کرتے ہوئے ان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی اس شامی فضائی بیس پر حملے کا حکم دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے حملے کیے تھے۔دریں اثناءامریکا کی جانب سے شامی ایئربیس پر حملے کے بعد ماسکو اور واشنگٹن آمنے سامنے آگئے جب کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے دھمکی دی ہے کہ اگر اب شام پر حملہ ہوا تو امریکا کو پہلے روس کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے شام پر حملے کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے جنگی بحری بیڑا شام کی حفاظت کے لئے بحیرہ اسود روانہ کردیا، روس کا جنگی بحرہ بیڑا کروز میزائل اور سیلف ڈیفنس سسٹم سے لیس ہے جس کی قیادت ایڈمرل گرگرووچ کر رہے ہیں۔روسی جنگی بیڑا مشرقی بحیرہ روم کے پانی میں تعینات ہوگا جہاں پہلے سے امریکا کے دو بحیری بیڑے یو ایس ایس روز اور یو ایس ایس پورٹر موجود ہیں جن سے شام پر حملہ کیا گیا۔ روسی صدر ولا میر پیوٹن نے امریکا کو دھمکی دی کہ اگر شام پر اب حملہ کیا گیا تو اسے پہلے روس کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس کے نائب سفیر ولادمیر سفکرونوف نے امریکا کو شام پر دوبارہ میزائل حملہ کرنے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکی دی اور کہا کہ شام میں دوبارہ غلطی کی صورت میں بعد کی صورتحال کے ذمہ دار وہ ہوں گے جنہوں نے شام پر حملے کئے۔واضح رہے کہ امریکا نے شام کے شہر حمص میں شعیرات ایئربیس پر 60 ٹاما ہاک کروز میزائل داغے جس میں شامی فضائیہ کے 6 اہلکارہلاک جب کہ 6 طیارے بھی تباہ ہوئے۔علاوہ ازیں روس نے شام پر امریکی حملے کے بعد امریکا سے فضائی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد امریکا سے تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ادھرپنٹاگون نے فوجی رابطے اور ہاٹ لائن برقرار رکھنے پر اصرارکیا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے روس اور امریکا سے کہا ہے کہ وہ شام کے معاملے پر تحمل سے کام لیں۔دوسری جانب شام پر امریکی حملے کے خلاف نیویارک اور شکاگو میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا اور ٹرمپ مخالف نعرے لگائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو شامی شہریوں پر بمباری کا حق نہیں اور بمباری سے انسانیت کی کوئی خدمت نہیں ہوتی،امریکا نے شام میں اسد رجیم پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کر دےا ۔ مجوزہ پابندےاں انتہائی موثر اور کسی کو بھی شامی حکومت کے ساتھ تجارتی روابط اور لین دین سے روک دیں گی۔ غےر ملکی مےڈےا کے مطابق فلوریڈا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت شام میں نہتے شہریوں کے خلاف مہلک کیمیائی گیس کے استعمال کے جواب میں اسد رجیم کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی ایک نئی فہرست تیار کررہی ہے جو انتہائی موثر ہوں گی اور کسی بھی شخص اسد رجیم کے ساتھ تجارتی روابط اور لین دین سے روک دیں گی ۔ واضح رہے رہے کہ امریکی حکومت نے شام میں صدر بشار الاسد پر نئی اقتصادی پابندیاں ایک ایسے وقت میں عاید کرنے کی تیاری شروع کی ہے جب گذشتہ روز امریکی فوج نے شام میں ایک سرکاری فوجی اڈے پر 59 کروز میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں فوجی اڈے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

مودی نے” حسینہ واجد“ کیلئے خزانے کا منہ کھول دیا, 22بڑے معاہدے

نئی دہلی(آئی این پی‘این این آئی) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا نام لیے بغیر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب امن چاہتے ہیں لیکن ایک قوم دہشتگردی پھیلانا چاہتی ہے ،دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دورہ بھارت کے موقع پر بھارتی وزیراعظم کے ساتھ سول نیوکلیئر انرجی سمیت 22 معاہدوں پر دستخط کردیے جبکہ نریندر مودی نے بنگلہ دیش کیلئے آسان شرائط پر 4.5 ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کئی برسوں سے جاری دریائے تیستا کے پانی کے تنازع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا البتہ بھارتی وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ اس مسئلے کا بھی جلد حل نکال لیا جائے گا۔ہفتہ کو بھارتی میڈیا کے مطابق 1971کی جنگ میں بنگلہ دیش کے مارے جانے والے افراد کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پروزیراعظم نریند رمودی نے بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر کہاکہ ایک ملک دہشتگردی پھیلا اور اسکی حوصلہ افزائی کررہا ہے ۔جنوبی ایشیا میں ایک ہی نظریہ ہے جو دہشتگردی کو پھیلاتا اور اسکی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ایسانظریہ جس کی ترجیح انسانیت نہیں بلکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی ہے ۔ مودی نے کہاکہ بھارت نے ہمیشہ چاہا ہے کہ اسکے پڑوسی خود کے ساتھ ترقی کریں لیکن خطے میں بعض عناصر ترقی کی بجائے تبائی کو فروغ دے رہے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نے کہاکہ ہم دیگر ممالک کو بھارت کے ساتھ ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔اکیلے بھارت کی ترقی نامکمل ہے اور ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم خطے میں تنہا آگے بڑھ کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن ،خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں ” سب کا ساتھ سب کا ویکاس“ صرف بھارت کیلئے محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے پڑوسیوں کی ترقی کیلئے بھی ہے ۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دورہ بھارت کے موقع پر ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ سول نیوکلیئر انرجی سمیت 22 معاہدوں پر دستخط کردیے۔شیخ حسینہ واجد ان دونوں 4 روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں۔حسینہ واجد کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے لیے آسان شرائط پر 4.5 ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کئی برسوں سے جاری دریائے تیستا کے پانی کے تنازع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا البتہ بھارتی وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ اس مسئلے کا بھی جلد حل نکال لیا جائے گا۔حسینہ واجد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ بنگلہ دیش اور اس کے عوام کی خوشحالی کے لیے ساتھ کھڑا ہوا ہے، ہم دیرینہ اور قابل بھروسہ اتحادی ہیں۔مودی نے کہا کہ اس موقع پر میں بنگلہ دیش کے ترجیحی پروجیکٹ کی جلد تکمیل کے لیے 4.5 ارب ڈالر کے نئے قرضے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہا ہوں جس کے بعد گزشتہ 6 برسوں میں بنگلہ دیش کے لیے ہماری معاونت 8 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گی۔اس موقع پر بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پر عزم ہیں اور ہمارے دوستانہ و تعاون پر مبنی تعلقات سے پورا جنوبی ایشیا مستفید ہوگا۔علاوہ ازیں نریندر مودی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم شیخ حسینہ واجد کے دہشت گردی سے نمٹنے کے عزم سے متاثر ہیں اور ان کی زیرو ٹالیرنس پالیسی ہمیں بہت متاثر کرتی ہے۔نریندر مودی نے بنگلہ دیش کیلئے دفاعی آلات کی خریداری کیلئے 50کروڑ ڈالر کا بھی اعلان کیا۔ بھارت اوربنگلہ دیش کے درمیان تقریباً50 سال کے بعد مسافر ٹرین سروس کا دوبارہ آغاز ہو گیا ۔بھارت کے شہر کولکتہ سے بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کے درمیان چلنے والی فرینڈشپ ایکسپریس ٹرین کی آزمائشی سروس کا افتتاح بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دورہ بھارت کے دوران دہلی میں کیا ۔خیال رہے کہ بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ اور کولکتہ کے درمیان پہلی فرینڈشپ ایکسپریس کا آغاز 2008 میں کیا گیا تھا تاہم 1947 میں تقسیم میں ہونے والے بنگال کے اس خطے میں بہتر ریل رابطے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔بی بی سی کے مطابق ٹرین سروس کے علاوہ نئی بس سروس بھی متعارف کروائی جا رہی ہیں۔بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ گزشتہ جمعہ کو چار روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچی تھیں۔خیال رہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شیخ حسینہ کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

پانامہ کیس کا فیصلہ, ترجمان پاک فوج کا اہم بیان آگیا

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پانامہ کیس پر پاک فوج بھی ہر پاکستانی کی طرح میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلے کی منتظر ہے تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پانامہ کیس پر پوچھے گئے سوال کا جواب نامکمل اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

آصف زرداری کے تیسرے قریبی ساتھی بھی لاپتہ….

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی غلام قادر مری لاپتہ ہو گئے ہیں جبکہ ان کی گاڑی جامشورو کے قریب سے ملی ہے تاہم ان کا تاحال کوئی علم نہیں ہو سکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک ہی ہفتے میں آصف علی زرداری کے تین قریبی ساتھی نواب لغاری، اشفاق لغاری اور غلام قادر مری لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سندھ حکومت کے سابق مشیر اور سابق صدر کے قریبی ساتھی نواب لغاری اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے جن کے بعد اومنی گروپ کے کنسلٹنٹ اشفاق لغاری بھی کراچی سے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق اسی ہفتے میں ان کے تیسرے قریبی دوست غلام قادر مری بھی لاپتہ ہو گئے ہیں تاہم ان کی گاڑی جامشورو کے قریب سے مل گئی ہے۔ پراسرار گمشدگیوں نے سندھ کے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور بالخصوص پیپلز پارٹی کے کئی رہنماحیران و پریشان ہیں۔

اسلام مخالف پراپیگنڈہ, علماء متفقہ جواب دیں

اسلام آباد (آن لائن، آئی این پی)صدر مملکت اور وزیراعظم سے امام کعبہ شیخ صالح محمد بن طالب نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جن میں دہشت گردی و انتہا پسندی کیخلاف جوابی بیانیہ ،عالم اسلام کے اتحاد اور اسلام کیخلاف منفی پروپیگنڈہ زائل کرنے پر زور دیا گیا ،ملاقاتوں کے موقع پر امام کعبہ نے عالم اسلام کی ترقی اور استحکام کے لیے دعا بھی کرائی۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین سے امام کعبہ شیخ صالح محمد بن طالب نے ملاقات کی ،ملاقات میں وفاقی وزیر مذہبی امور، سینیٹر طلحہ محمود، رکن قومی اسمبلی حافظ عبدالکریم اور دیگر اعلی حکام بھی موجودتھے۔اس موقع پر صدر ممنون حسین نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف جوابی بیانیے کے لیے عالم اسلام کے دانش ور مل کر کام کریں، موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالم اسلام مل کر کام کرے۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ دینی مدارس کے طریقہ تعلیم میں دور جدید کے مطابق تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی جارحیت پاکستان کے خلاف جارحیت تصور ہوگی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امام کعبہ نے کہا کہ دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف ہورہی ہے لیکن اس کا الزام بھی انھیں ہی دیا جاتا ہے ،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، عالم اسلام رہنمائی کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کی طرف دیکھتا ہے۔بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف سے امام کعبہ نے ملاقات کی ،وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب سے مذہبی اور روحانی طور پر منسلک ہیں اور دو نوں ممالک جغرافیائی طور پر دور لیکن ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی اسلامی اور ثقافتی اقدام مشترک ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں اور دونوں ملک کے عوام ایک دوسرے کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اسلام امن ، محبت ، تحمل ، درگزر اور احترام انسانیت کا درس دیتا ہے ، ہمیں اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیلانا ہو گا ۔انہوں نے کہاکہ مذہبی رہنما اور دانش اسلام کیخلاف منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے میں کردار ادا کریں۔ امام کعبہ شیخ صالح محمد بن طالب نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے نوجوان نسل کو اپنے مقاصد کے لیے آلہ کار بنا رکھا ہے ، ہمیں اعتدال پسندی کی ترغیب دینا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو وزیر مذہبی امور سردار یوسف سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کی انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نوجوان نسل کو خصوصی طور پر اعتدال کی ترغیب دینا ہوگی، دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے لیے محبت و اخوت کا پرچار کرنا ہوگا مگر اعتدال پسندی کا قطعی مطلب نہیں کہ اسلام کے احکامات کو چھوڑ دیا جائے، اس موقعے پر سرداد یوسف کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین شریفین کی خدمات کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، پاکستان میں تمام مسالک پر مبنی علما مشائخ کونسل بنائی گئی ہے جو مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔

پانامہ کیس کے فیصلے پر اپیل نہیں الیکشن کی تیاری کرینگے, کپتان کا دبنگ اعلان

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) والے اندھیرے میں جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے ،میں تو دن کے اجالے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اعلانیہ ملا ہوں ،جنرل راحیل سے متعلق گورنر سندھ کا بیان شرمناک ہے ،پانامہ کیس کے فیصلے پر اپیل نہیں کریں گے ،اسلامی اتحادی افواج کے سربراہ بن کر جنرل راحیل سعودیہ اور ایران کو قریب لائیں گے ۔وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف رات کے اندھیرے میں جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے میں تو دن کے اجالے میں اعلانیہ ملا ہوں ،آرمی چیف سے صوبائی مسائل پر بات چیت ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ محمد زبیر کو زبیر کو گورنر سندھ کے عہدے پر ہوتے ہوئے یہ زیب نہیں دیتا ،جنرل راحیل سے متعلق ان کا بیان شرمناک ہے ،جنرل راحیل اسلامی فوجی اتحاد میں شامل ہوکر سعودیہ اور ایران کو قریب لائیں گے ،پانامہ کیس کے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے پر اپیل نہیں کریں گے بلکہ آئندہ الیکشن میں بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے۔