”اسلام کا پیغام انسانیت کا احترام “پوری دنیا میں پھیلانا ضروری ہے

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ خانہ کعبہ کی وجہ سے پاکستان کے عوام سعودی عرب کے ساتھ گہرے مذہبی اور روحانی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، اسلام کے محبت، امن ، برداشت اور انسانیت کے احترام کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے ، مذہبی سکالروں اور ر ہنماﺅں کو اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا اتفاق رائے سے سدباب کرنا چاہیے۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کو یہاں امام کعبہ شیخ صالح بن محمدبن طالب سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ وزیر اعظم نے اس موقع پ امام کعبہ کا پاکستان میں پرجوش خیرمقدم کیا اور کہا کہ خانہ کعبہ کی وجہ سے پاکستان کے عوام سعودی عرب کے ساتھ گہرے مذہبی اور روحانی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ گوکہ پاکستان اور سعودی عرب جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے سے دور واقع ہیں لیکندونوں ممالک کے اسلامیاورثقافتی اقدار کی وجہ سے ہمارے دل ملے ہوئے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے قریب اور مضبوط تعلقات کے حامل ہیںاور دونوں ممالک کے عوام میں ایک دوسرے کے لئے بڑا احترام ہے۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ اسلام کا پیغام محبت، امن ، برداشت ،صلہ رحمی اور انسانیت کا احترام ہے،اور یہ وقت کا تقاضا ہے کہ اس پیغام کو پوری دنیا تک پہنچایا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مذہبی سکالروں اور راہنماﺅں کو اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا اتفاق رائے سے سدباب کرنا چاہیے۔ امام کعبہ نے اس موقع پر پاکستان آمد پر بھرپور استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں سعودی عرب کے قائمقام سفیر حبیب اللہ البخاری ، وفاقی وزیرمذہبی امور سردارمحمد یوسف اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔

سیاسی وفاداریاں تبدیل ….نئی صف بندیاں

اسلام آباد(ملک منظور احمد)حکمران جماعت پاکستان مسلم لےگ ن سمےت اپوزےشن سے تعلق رکھنے والی تمام سےاسی جماعتوں نے غےر اعلانےہ انتخابی مہم کا آغاز کر دےاہے اور سےاسی جماعتوں نے نئی سےاسی صف بندےاں شروع کر دی ہےں پاکستان مسلم لےگ ن اور تحرےک انصاف نے صوبہ سندھ مےں پےپلز پارٹی کا ووٹ بےنک توڑنے کے لےے اےک موثر سےاسی مہم کا آغاز کر دےا ہے تحرےک انصاف کی قےادت نے عام انتخابات سے پہلے سےاسی جوڑتوڑ کرتے ہوئے مسلم لےگ ن اور پاکستان پےپلز پارٹی کے ناراض رہنماﺅں کو تحرےک انصاف مےں شامل کرنے کے لےے رابطے تےز کر دئےے ہےں تحرےک انصاف کے اےک مرکزی رہنما نے بتاےا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لےگ ن کے 30کے قرےب ارکان پارلےمنٹ ہمارے ساتھ رابطے مےں ہےں اور وہ عام انتخابات سے پہلے تحرےک انصاف مےں شمولےت اختےار کر لےنگے اسی طرح پےپلز پارٹی کے شرےک چےئرمےن آصف علی زرداری نے سرکردہ سےاست دانوں کو پےپلز پارٹی مےں شامل کرنے کے لےے پارٹی کے سرکردہ قائدےن کو ٹاسک دےدےا ہے آصف زرداری اےسے سےاسی قائدےن سے خود جلد رابطے کرےنگے تحرےک انصاف کے چےئرمےن عمران خان نے آئندہ انتخابات مےں اہل امےدواروں کو ٹکٹ دےنے کے لےے خود جانچ پڑتال کرنے کا فےصلہ کےا ہے تحرےک انصاف کے رہنماﺅں نے ےہ بھی دعوٰی کےا ہے کہ موجودہ مسلم لےگ ن کے بعض وزراءبھی سےاسی وفادارےاں تبدےل کرنے کے لےے ہم سے خفےہ رابطے کر رہے ہےں مسلم لےگ ن نے بھی اپنی حرےف سےاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر موثر انتخابی مہم چلانے کا فےصلہ کےا ہے اور اس کے لےے بےورو کرےسی مےں بھی بڑے پےمانے پر تبدےلےاں متوقع ہےں اپوزےشن کی سےاسی جماعتےں پانامہ کےس کا فےصلہ آنے کی منتظر ہےں اور اس کے بعد موجودہ حکومت کو مزےد ٹف ٹائم دےا جائے گا۔

بندوق بلوچ کا زیور مگر۔۔۔

سوئی(آن لائن)صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بندوق بلوچ کا زیور ہے مگر بے گناہوں کا خون بہانا ہماری روایات نہیں مودی اور اس کے حواریوں کی بلوچستان کو خون آلودہ کرنے کی سازشیں زندہ درگور کر دی گئی ہےں بگٹی اقوام نے غلامی کی زنجیریں توڑ کر ترقی، خوشحالی اور امن اپنا مقدر بنا لیا ہے جس سے اب کوئی بھی انہیں نہیں روک سکتا پاکستان زندہ باد تھا ہے اور رہے گا خاران میں بے گناہ مزدوروں کا قتل قابل مذمت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوئی میں جشن بہاراں کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے عوام ماضی میں عدم سہولیات کا شکار رہے یہاں کے عوام کو ان زنجیروں میں جھکڑے رکھا گیا جس کے تحت وہ ترقی، خوشحالی ، تعلیم اور دور جدید کی بنیادی سہولیات سے محروم رہے مگر آج یہاں کے عوام نے ان زنجیروں کو توڑکر انہیں پسماندہ رکھنے والے قوتوں کو یہ پیغام دیدیا ہے کہ وہ پرامن سوچ کے مالک ہے جو ملک کے دیگر حصوں کے عوام کی طرح ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں بگٹی اقوام اپنے وطن سے محبت کو اپنا نصب العین سمجھتے ہیں اور اس کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان میں امن کا جوسورج طلوع ہواہے اس میں ایف سی کے جوانوں اوربگٹی اقوام کا خون شامل ہے ہم اپنے ان شہدا کے قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں ہونے دینگے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں خاران میں بے گناہ مزدوروں کا قتل انتہائی قابل مذمت ہے ہم ان شہدا کی قربانیوں کا فراموش نہیں کر سکتے شہداءکے لواحقین کو یقین دلاتے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم انکے غم میں برابر کے شریک ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکر اس ملک کو ناقابل تسخیر بنا نے کے لئے جس جدوجہد کا آغاز کیا ہے جلد ہی وہ اپنی منزل مقصود کوپہنچے گی۔

میاں بیوی کی 70سالہ رفاقت کو موت بھی جدا نہ کر پائی

لندن(خصوصی رپورٹ)70 برس تک رشتہ ازدواج میں بندھے رہنے والے برطانوی میاں بیوی نے ایک ساتھ دم توڑ دیا اور ان کی موت کے وقت میں صرف 4 منٹ کا فرق تھا۔93 سالہ برطانوی شہری وِلف رسل ڈیمنشیا کا شکار تھے اور اپنے آخری دنوں میں بیوی کو پہچاننے سے بھی قاصر تھے جو ان کی بیگم کے لیے بہت تکلیف دہ امرتھا۔ وِلف رسل کی 91 سالہ بیوی ویرا بھی ایک قریبی اسپتال میں آخری سانسیں لے رہی تھیں اور اپنے شوہر کی انہیں نہ پہچاننے کی کیفیت سے پریشان تھیں۔ جیسے ہی وِلف رسل دنیا سے رخصت ہوئے ان کی بیگم کو یہ صدمہ برداشت نہ ہوا اور وہ ٹھیک چار منٹ بعد دنیا سے چل بسیں۔ میاں بیوی کی 70 سالہ رفاقت کو موت بھی جدا نہ کر پائی ۔

سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کا آسان طریقہ

لندن(خصوصی رپورٹ)سمندر کا نمکین پانی پینے کے قابل نہیں ہوتا لیکن سائنسدانوں نے ایک آسان اور سستا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے اس پانی کو بڑے پیمانے پر پینے کے قابل بنایا جا سکے گا۔برطانیہ میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے گریفین آکسائڈ کی ایک ایسی چھلنی تیار کی ہے جو سمندر کے کھارے پانی سے نمک کو علیحدہ کرکے اسے پینے لائق بنا دے گی۔یہ چھلنی سمندر کے پانی سے نمک جدا کرنے میں بہت موثر ہے۔ پانی سے نمک جدا کرنے کے موجودہ طریقوں کے مقابلے میں یہ نئی ٹیکنالوجی زیادہ آسان ہے۔دنیا بھر میں 66 کروڑ افراد صاف پانی سے محروم ہیں اور اس دریافت کے نتیجے میں کہا جا رہا ہے کہ ان افراد کو پینے کا میٹھا اور صاف پانی میسر آ سکے گا۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2025 تک دنیا کی 14 فیصد آبادی کو پانی کے بحران کا سامنا ہوگا۔

امریکی سکول ٹیچر کا بچوں کیلئے انوکھا اقدام

نیویارک(نیٹ نیوز)امریکی شہر نارتھ چارلسٹن کی ایک رحم دل استانی نے اپنے سکول کے بچوں کو خوشیاں دینے کیلئے انوکھا اقدام کرتے ہوئے انہیں سائیکلیں فراہم کردیں جس سے بچے پھولے نہیں سما رہے ۔نارتھ چارلسٹن میں واقع پیپرہِل ایلیمنٹری سکول میں پہلی جماعت کی ٹیچر کیٹی بلوم کوئسٹ نے بچوں کیلئے سائیکلیں خریدنے کا فیصلہ کیا جس کیلئے انہوں نے 80 ہزار ڈالر کی رقم انٹرنیٹ مہم کے ذریعے جمع کی اور 650 بچوں کو نئی چمچماتی سائیکلیں دیں۔ستمبر 2016 کو کیٹی نے ویب سائٹ گوفنڈمی پر اپنی مہم کا آغاز کیا اس حوالے سے خاتون ٹیچر کا کہنا ہے کہ یہ انکے خواب سے بھی ہزار گنا خوبصورت تعبیر تھی اور وہ بچوں سمیت انکے اہلخانہ کے ہونٹوں پر خوشیاں بکھیرنا چاہتی تھیں۔خاتون ٹیچر کی تشہیری مہم بہت مقبول ہوئی اور صرف 3 ماہ میں 80 ہزار ڈالر کی رقم جمع ہوگئی۔ تمام بچوں کو سائیکل کے رنگ والے لاک بھی دیئے گئے اور سر پر پہننے والے ہیلمٹ بھی اسی رنگ کے تھے ۔ماہرین کے نزدیک سائیکل چلانے سے بچوں میں ڈپریشن کم ہوتا ہے اور وہ بہتر انداز میں کام کرسکتے ہیں۔

فیس بک پر نازیبا تصاویر روکنے کا آسان طریقہ

سیلیکون ویلی (خصوصی رپورٹ)سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک انتقامی پورن کہلائے جانے والی پوسٹس کی اس کے پلیٹ فارم سے تشہیر کو روکنے کے لیے تازہ اقدام اٹھانے والا ہے۔فیس بک ایسی پوسٹس یا نازیبا تصاویر جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہو کہ وہ بنا اجازت کے اپ لوڈ کی گئی ہیں کو ری پوسٹ یا شیئر کرنے ناممکن بنا رہا ہے۔یہ اقدام فیس بک، میسنجر اور انسٹا گرام پر تو لیے جا رہے ہیں لیکن تاحال ان میں واٹس ایپ شامل نہیں ہے۔اس بارے میں پہلے سے مہم چلانے والوں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔برطانیہ کے ریوینج پورن ہیلپ لائن کی بانی لارا ہیگنز کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا قدم ہے۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کی تصاویر سوشل میڈیا پر گھریلوں مسائل کے وجہ سے پوسٹ کی جاتی ہیں تاکہ کسی کو ہدف بنایا جا سکے۔فیس بک انتقامی پورن سے متعلق تصاویر کو خود سے نہیں ہٹائے گا بلکہ اس کے لیے وہ صارفین پر انحصار کرے گا کہ صارفین اس کام کے لیے فیس بک کے رپورٹ ٹول کا استعمال کریں۔

حج پہ جانے والے افراد کیلئے اہم خبر….جلدی کریں کہیں دیر نہ ہو جائے

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سرکاری حج سکیم کیلئے درخواستوں کی وصولی 15 سے 18اپریل تک ہوگی جس کیلئے مختلف بنکوں کی شاخیں نامزد کی جائیں گی۔ کامیاب درخواست گزاروں کی قرعہ اندازی 28 اپریل کو متوقع ہے۔ سرکاری حج سکیم کا کوٹہ 60 فیصد اور پرائیویٹ سکیم کا کوٹہ 40 فیصد مختص کیا گیا ہے۔

سندھ میں خطرناک کھیل کھیلا جار رہا ہے, خورشید شاہ پھٹ پڑے

کھاریاں (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ 2014 میں وزیراعظم نوازشریف استعفیٰ دے رہے تھے لیکن پیپلزپارٹی نے انہیں روکا اور جمہوریت کو بچایا۔کھاریاں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف 2014 میں دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کرنے والے تھے اور وہ استعفیٰ دینے جارہے تھے لیکن پیپلزپارٹی نے انہیں دھرنے والوں سے بچایا اور میاں صاحب کو روک کر کہا کہ ایسا نہ کریں کیوں کہ یہ پارلیمنٹ کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے پیپلزپارٹی نے مشترکہ اجلاس میں جو مو¿قف اختیار کیا وہ صرف جمہوریت کو بچانے کے لیے تھا جب کہ یہ آصف علی زرداری ہی تھے جو خود نوازشریف کے پاس رائیونڈ گئے اور دنیا کو بتایا کہ وہ انہیں وزیراعظم مانتے ہیں لیکن میاں صاحب کی جمہوریت ہمیں سمجھ نہیں آتی۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ وفاق سندھ میں خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں لہٰذا وفاق صوبوں میں مداخلت بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ ہماری توقعات پر پورا نہیں اترے اس لیے انہیں واپس بھیج رہے ہیں، اگر ہم متبادل آئی جی کے لیے نام بھیجتے ہیں تو وفاق کی جانب سے اس میں رکاوٹ پیدا کرنا خطرناک ہے، اس کے خلاف ہم ایوان کے اندر بھی اور باہر بھی لڑائی کریں گے۔ گورنر سندھ کے کراچی آپریشن سے متعلق بیان پر رد عمل دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ راحیل شریف عظیم سپہ سالار تھا اور سندھ میں جو امن آیا ہے وہ فوج اور صوبائی حکومت کی وجہ سے آیا اس میں نواز شریف کہیں نظرنہیں آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو مسائل سے صرف آصف زرداری ہی باہر نکال سکتے ہیں۔

سیاسی جماعتیں اپنے مالی وسائل کا انتظام کس طرح کر تی ہیں

کراچی(خصوصی رپورٹ) شفافیت جمہوریت کی روح ہے جسے حسن حکمرانی کا ممکنہ بہتر ین نظام سمجھا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں میں مالی نظم و ضبط اور جمہوریت کے بغیر ہم نظام سے ثمرات سمیٹ نہیں پائیں گے، اگر سیاسی جماعتیں جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر نہیں چلیں گی تو یہ نظام نہیں بلکہ اداروں کی خرابی ہوگی۔ سیاسی جماعتیں خود کو کس طرح چلا پاتی ہیں ؟ الیکشن کمیشن ملک میں آزادانہ منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار ہوتا ہے ، اسے بااختیار بنانا سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے ۔ الیکشن کمیشن خود مختار ترین ادارہ ہے اور اس کے ارکان میں مفادات کا تصادم نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کی دیگر ذمہ داریوں میں یہ دیکھنا بھی شامل ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مالی امور کس طرح جلاتی اور اندرون جماعت انتخابات کراتی ہیں یا نہیں۔ اس وقت ایسے معاملات پر نظر رکھنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے جب تک کہ پارٹی رکن اس کی شکایت نہ کرے۔ تحریک انصاف کے اکبر احمد کی جانب سے پارٹی کی پبلک فنڈنگ کو چیلنج کیا جانا ایک منفرد کیس ہے ۔ جس میں انہیں اپنی پارٹی رکنیت سے محروم ہونا پڑا تھا حالانکہ تحریک انصاف کو ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے الزام کو جھوٹا ثابت کرنا چاہئے تھا۔ یہ انصاف کا تقاضا بھی ہے جس سے پارٹی کے اندر اور باہر ایک اچھا پیغام جاتا ، بلکہ تحریک انصاف نے کیس کی سماعت کیلئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو ہی چیلنج کر دیا ۔ الیکشن کمیشن کا یہ ضرور دائرہ اختیار بنتا ہے ۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کو عطیات اور خصوصا دوران انتخابات اخراجات کی جانچ پڑتال میں ناکام رہا۔ 2013 کے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور امیدوار خصوصی اکاﺅنٹس کے ذریعہ اشتہارات کی مد میں ادائیگیوں کی تفصیلات دیں گے ۔ گزشتہ انتخابات میں اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن مشکل ہی سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار نے اخراجات کا حساب دیا، نہ ہی الیکشن نے انہیں نوٹس جاری کئے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ میں نے چار بڑی سیاسی جماعتوں سے ان کے مالی امور کے بارے میں استفسار کے حوالے سے رابطہ کیا۔ سوالات ان کے فنڈز اکٹھا کرنے، عطیات اور اندرونی و بیرونی آڈٹ سے متعلق تھے۔ ان میں مسلم لیگ ( ن)، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی شامل ہیں، جن رہنماﺅں سے بات کی گئی ان میں خواجہ سعد رفیق، فرحت اللہ بابر، ڈاکٹر عارف علوی، فیصل سبزواری، جے یو آئی کے قاری شیر افضل اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن شامل تھے۔ جماعت اسلامی کا طریقہ کار انتہائی منظم ہے ، چونکہ رکنیت کیلئے اس کے قواعد و ضوابط نہایت سخت ہیں، اسی لئے اس کا سائز محدود ہے ۔ جماعت اسلامی کے ارکان کی تعداد 31 ہزار ہے ، جو اپنی آمدنی سے حسب استطاعت جماعت کو عطیات دیتے ہیں۔ اسے بیرون ممالک اپنے ارکان اور ہمدر دوں کی جانب سے بھی عطیات ملتے ہیں، جماعت اسلامی ہی اپنے امیدواروں کے انتخابی اخراجات پورے کرتی ہے ، شاید ہی کسی اور جماعت میں ایسا ہوتا ہو۔ حافظ نعیم کے مطابق جماعت اسلامی ایک منظم نظام کے تحت کام کرتی ہے ، لیکن وہ انتخابی سیاست میں کیوں ناکام ہے ، دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرح اس کی اپنی وجوہ ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے کام ہو رہا ہے ، تاہم یہ بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح آڈٹ رپورٹس اپنے ارکان کو دینے سے گریز کرتی ہے ، جو ارکان عطیات دیتے ہیں ، رپورٹ مانگنا ان کا حق ہے۔ تحریک انصاف نے اب تک بیرون ممالک سے سب سے زیادہ عطیات حاصل کئے ہیں۔شاید اسی وجہ سے پارٹی کے ایک رکن نے 2012 میں پارٹی انتخابات کے دوران یہ معاملہ اٹھایا تھا، پارٹی انتخابات میں دھاندلی کے سنگین الزامات کے بعد اس کے الیکشن کمشنرز جسٹس ( ر) وجیہ الدین احمد اور تسنیم نورانی بد دل ہو کر پارٹی چھوڑ گئے۔ عارف علوی نے کہا کہ ایس ایم ایس سروس کے ذریعہ 2012 میں پارٹی رکنیت 35 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ پارٹی میں رکنیت کیلئے کوئی فیس نہیں ہے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مالی امور میں مسائل کا سامنا ہے لیکن پارٹی میں بہترین احتسابی نظام ہونے کا دعوی بھی کیا، خود کو مسلم لیگ ( ن) کا متبادل ثابت کرنے کے بعد 2011 میں تحریک انصاف کی فنڈنگ میں اضافہ ہوا۔ تحریک انصاف نے چند اچھی مثالیں قائم کیں، لیکن پارٹی انتخابات اور مالی امور کا انتظام بھی عام انتخابات میں شرکت کی طرح اہم ہے ۔ مسلم لیگ ( ن) میں بھی مالیاتی نظم کا ڈھیلا ڈھالا نظام ہے ۔ ارکان پارلیمنٹ اور وزرا اپنے طور پر کسی بالائی نگرانی کے بغیر ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام کرتے اور انتخابات کے وقت یہی لوگ پھر عطیات بھی جمع کرتے ہیں، خواجہ سعد رفیق کو اعتراف ہے کہ اس عمل کو زیادہ شفاف ہونا چاہئے۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں حقیقی جمہوریت لاسکی ہیں اور نہ مالی انتظام کو بہتر بنا سکی ہیں۔ پیپلز پارٹی رواں سال نومبر میں 50 برس کی ہو جائے گی لیکن گزشتہ 30 سے 35برسوں میں پارٹی نے بڑی حد تک اپنا نظام کھو دیا ہے ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق پارٹی کیلئے عطیات کا بڑا حصہ عام انتخابات کے وقت وصول ہوتا ہے ، جب امیدوار ٹکٹوں کیلئے ناقابل واپسی 25 ہزار سے 30 ہزارروہپے تک ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سنٹرل کمیٹی کے ارکان کیلئے بھی ایک لاکھ روپے تک فیس ہے ۔ جماعت اسلامی کے بعد ایم کیو ایم کا بھی اپنا منظم طریقہ کار ہے۔ فیصل سبزواری کے مطابق منتخب ارکان اپنی فیس کا 20 فیصد اور دیگر ارکان اپنی آمدنی کا ماہانہ دو فیصد پارٹی کو دیتے ہیں۔ رکنیت کی فیس 20 روپے ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سمیت مذکورہ کوئی بھی جماعت اپنی اندرونی اور بیرونی آڈٹ رپورٹس عام نہیں کرتیں اور پارٹیوں کی مرکزی کمیٹیوں تک ہی محدود رہتی ہیں۔ جیسا کہ اب ہم آ ئندہ عام انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی جزو یا ت یعنی شفافیت اور اندرون جماعت انتخابی عمل کو تقویت دیں ، الیکشن کمیشن کو واچ ڈاگ کا اختیار ہونا چاہئے۔ فی الحال تو ہم حقیقی جمہوریت سے پرے ہی ہیں۔