کپل شرما سے اختلافات ختم، سنیل گروور کی شو میں واپسی

ممبئی(شوبز ڈیسک) معروف کامیڈین سنیل گروور اپنے ساتھی کپل شرما سے اختلافات ختم کرکے دوبارہ شو کا حصہ بن گئے۔گزشتہ دنوں کپل شرما کی جانب سے تضحیک کرنے پر سنیل گروور نے ان کے شو کو خیر باد کہہ دیا تھا جس پر شو کی شہرت کو شدید نقصان پہنچا تھا جب کہ شو میں نئے کامیڈین کی انٹری کی باوجود شو فلاپ ہو گیا تھا جس پر چینل کی انتظامیہ نے بھی پروگرام کو بچانے کے لیے کپل کو ایک ماہ کی مہلت دی تھی لیکن اب یہ معاملہ حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دی کپل شرما شو میں ڈاکٹر مشہور گلاٹی کا کردار کرنے والے کامیڈین سنیل گروور اور کپل شرما کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں جس کے بعد سنیل نے شو میں واپسی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سنیل گروور آج شوٹنگ میں حصہ لیں گے اور اس کے بعد بھی 8، 11 اور 12 اپریل کے شو کی شوٹنگ شیڈول میں ان کا نام ڈال دیا گیا ہے۔دوسری جانب سنیل گروور کے شو میں واپس لوٹنے کے فیصلے کی وجہ چینل کے ساتھ 23 اپریل تک کے معاہدے کو قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر کامیڈین کو بھاری ہرجانہ دینا ہوگا۔ سنیل گروور نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ میرے ارادہ عزت کے ساتھ لوگوں کوتفریح فراہم کرنا ہے اور میرے لیے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی وجہ صرف پیسہ نہیں ہوسکتی۔واضح رہے کہ کامیڈین کپل شرما اپنے ساتھی سنیل سے الجھنے کے بعد پروگرام کی اہم کاسٹ کی جانب سے علیحدگی اختیار کرنے پر سخت پشیمان تھے جس کا اظہار وہ اداکار منوج باجپائی کے سامنے رو کر کرچکے تھے۔

متحدہ پاکستان کی ایک اور پتنگ کٹ گئی, اہم شخصیت مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک سر زمین پارٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کی ایک اور وکٹ کاٹ دی اور پی ایس 119 سے رکن اسمبلی نے مصطفی کمال کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔کراچی میں پاک سر زمین کے رہنما مصطفی کمال کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ایس 119 سے منتخب ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی ارتضی خلیل فاروقی نے پی ایس پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ارتضی فاروقی کافی عرصے سے لندن میں مقیم تھے اور گزشتہ روز ہی وطن واپس آئے ہیں۔اس موقع پر مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ارتضی فاروقی کو پی ایس پی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمیں مانتے ہیں انہیں بھائی اور جو نہیں مانتے انہیں بڑا بھائی مانتے ہیں۔ ارتضی فاروقی نے سندھ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناکردہ گناہوں کی سزا کیوں کاٹوں، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارتضی فاروقی کا کہنا تھا کہ فاروق بھائی بہت ہو چکی، اب کراچی والوں کو ان کا حق دینا ہوگا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان کے کئی رہنما پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی ہم منصب سے ملاقات, اہم معاملات سامنے آگئے

فلوریڈا (آئی این پی) چینی صدر شی جن پنگ نے کہاہے کہ ٹرمپ کے ساتھ نئے نقطہ آغاز سے چین امریکہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تیار ہیں ، چین امریکہ کے ملکر کام کرنے کیلئے ہزاروں وجوہات ہیں لیکن توڑنے کی کوئی نہیں ،جبکہ امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ شی کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے جائیں گے،یقین کو ملکر اہم اقدامات کو فروغ دینا چاہیے ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مابین فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ پر ملاقا ت ہوئی جس میں چینی صدر نے کہا ٹرمپ کے ساتھ نئے نقطہ اغاز سے چین امریکہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تیار ہیں ، چین اور امریکہ کے ملکر کام کرنے کی تو ہزاروں وجوہات ہیں لیکن تعلقات ختم کرنے کی کوئی نہیں ۔ انہوںنے کہا چین امریکہ کو معمول پر لانے کے بعد دونوں کے 45سالہ دوطرفہ تعلقات اوتار چرھاو کا شکار رہے لیکن اس کے باوجود تاریخی ترقی کی اور دونوں عوام کو بہت فوائد حاصل ہوئے۔ ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے آنے والے 45برسوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کا اعادہ کیا۔ چینی صدر نے کہا دو طرفہ تعاون ہی چین امریکہ کا درست انتخاب ہے اور دونوں بہترین شراکت دار بن سکتے ہیں ۔ اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو دورہ چین کی دعوت دی اور کہا سفارتی ،سلامتی جامع معیشت ،قانون کے نفاز اور سائیبر سیکورٹی اور سماجی و ثقافتی روابط کے حوالے سے بات چیت کے نطام سے بھر پر استفادہ کیا جانا چاہیے ۔ چینی صدر نے کہا دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کو فروغ دیا جانا چاہیے ۔ بنادی تنصیابات کی تعمیر اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے انہوں نے کہا احساس معاملات سے نمٹتے ہوئے تنازعات پر قابو پایا جائے اور فریقین کو اہم عالمی و علاقائی امور کے حوالے سے روابط اور مشاورت کو مضبوط بنانا چاہیے اور اقوام متحدہ سمیت کثیر الطرفہ نظام کے تحت رابطوں کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ عالمی امن استحکام اور خوشحالی کا مشترکہ تحفظ کیا جاسکے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی اہم منصب کی دعوت قبول کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد چین کا دورہ کریں گے ۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کیے جائیں گے تاکہ امریکہ چین تعلقات کو مزیدوغ دیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا دنیا کے بڑے ممالک ہونے کی حیثیت سے امریکہ اور چین پر اہم زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس لیے فریقین کو ملکر اہم اقدامات کو فروغ دینا چاہیے۔

جے یو آئی کا یوم تاسیس, امام کعبہ کا ”پاکستان“ کی سلامتی بارے بڑا اعلان

نوشہرہ،پشاور(رپورٹنگ ٹےم) امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم نے کہا ہے کہ علماءکرام دین کی تعلیمات کے امین ہیں‘ تمام مسلمان فرد واحد ہیں‘ قرآنی تعلیم ہے خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقہ واریت میں نہ پڑو‘ اسلام امن و محبت کا دین ہے‘ خدا جس سے خیر کا کام لیتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے‘ جو دین میں فرقہ واریت پیدا کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘ جس میں تقویٰ زیادہ ہے خدا کاگھر اس کا مقام بلند ہے۔وہ نوشہرہ میں نماز جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ امام کعبہ نے کہا کہ قرآنی تعلیمات اور رسول اللہ کی اسوہ حسنہ میں ہی فلاح ہے۔ اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ اس امت کو خدا نے بہترین امت بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیم ہے خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقہ واریت میں نہ پڑو۔ خدا کے پاس اس کا مقام بلند ہے جس میں تقویٰ زیادہ ہو خدائی وحدانیت پر یقین ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔مسلمان فرد واحد ہیں فروعی اختلافات میں نہ پڑیں علماءکرام دین کے امین ہیں اتفاق و اتحاد کی دعوت عام کریں۔ امام کعبہ صالح بن ابراہیم نے کہا کہ اے خدا اسلام اور مسلمانوں کو عظمت عطا فرما۔ اے خدا ہمارے گناہ معاف کرکے عیوب پر پردہ فرما۔ اے خدا ہماری دعاﺅں کو قبول و منظور فرما۔ بعد ازاں امام کعبہ صالح بن ابراہیم نے نماز جمعہ بھی پڑھائی۔ سعودی وزیر مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ جو دشمن سامنےآئے گا سعودی اتحاد اس کا مقابلہ کرے گا۔ نوشہرہ میں جے یو آئی کے صد سالہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب بھائیوں کی طرح ہیں، پاکستانی قوم ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز اور اس کی ارض حرمین الشریفین سے محبت لازوال ہے، پاکستانی اور سعودی قوم اسلام اور حرمین کی حفاظت کرنے کے لیے ایک ہیں۔سعودی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ سعودی عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں، کسی مرحلے پر پاکستان کو تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ کوئی بھی قوم تشدد اوردہشت گردی برداشت نہیں کرسکتی، پاک سعودی اتحاد دشمنوں کے خاتمے، اسلام کی فتح اور فکراسلام ہے،جو دشمن سامنے آئے گا سعودی اتحاد اس کا مقابلہ کرے گا۔ بعد ازاں امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم نے نماز جمعہ کا خطبہ دیا ، جس میں انہوں نے فرمایا کہ اسلام امن و محبت کا دین ہے، قرانی تعلیمات اور رسول اللہ کی اسوہ حسنہ میں ہی فلاح ہے، قرانی تعلیم ہے اللہ کی رسی کومضبوطی سے پکڑواور تفرقے میں نہ پڑو،تمام مسلمان فرد واحد ہیں، اللہ تعالی ٰ نے مسلمانوں کو بہترین قوم بنایا، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ فروعی اختلافات میں نہ پڑیں۔ جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہاہے کہ دنیامیں دہشتگردی اورانتہاپسندی کے رجحانات میں اضافہ ہورہاہے،دنیا میں خاندانی نظام ،رشتوں اوراحترام کے اصول ٹوٹتے جارہے ہیں۔نوشہرہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ یوم تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ عالمی اجتماع میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانافضل الرحمان نے کہا کہ دنیا سے دہشتگردی اور بھوک و افلاس کا خاتمہ ضروری ہے عالمی سطح پر اقوام وممالک کے درمیان مسائل بڑھتے جارہے ہیں جس کا سبب الہامی احکامات سے دوری ہے۔انہوںنے کہاکہ غیرملکی ایجنڈے پرکام کرنے والی این جی اوزپرپابندی عائد کی جائے اورکرپشن کے خاتمہ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کو معاشی خوشحالی اور ترقی حاصل ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پڑوسی ممالک سے تعلقات مزید بہتربنائے جائیں اورمسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کیلئے جدوجہد کی جائے۔ پاکستان کی سلامتی اور استحکام سعودی عرب کو بہت عزیز ہے، کسی بھی مرحلہ پر پاکستان کو تنہاء چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ صالح بن عبد العزیز ال شیخ نے چیئرمین پاکستان علماءکونسل اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے ملاقات کے دوران کہی۔اس موقع پر امام حرم کعبہ الشیخ صالح بن محمد ال طالب بھی موجود تھے۔ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ صالح بن عبد العزیز ال شیخ نے کہا کہ پاکستانی قوم کی ارض حرمین الشریفین سے محبت لازوال ہے اور پاکستان علماءکونسل اور دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا ارض حرمین الشریفین کے حوالہ سے مو¿قف قابل تحسین اور قابل قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد اور عالم اسلام کے مسائل کے حل کیلئے کوشش کی ہے۔سعودی عرب کی قیادت بادشاہ کی بجائے خادم الحرمین الشریفین کہلانے پر فخر کرتی ہے۔پاکستان علماءکونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ انتہاءپسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے اور عالم اسلام کی وحدت اور اتحاد کیلئے سعودی قیادت کا کردار روز روشن کی طرح واضح ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات عقیدہ اور ایمان کی بنیاد پر ہیں ، کوئی بھی طاقت ان تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتی۔پاکستان علماء کونسل سعودی قیادت کے یمن ، شام ، فلسطین ، کشمیر کے مو¿قف کو عالم اسلام کے مو¿قف کی ترجمانی سمجھتی ہے اور عاصفتہ الحزم سمیت عالم اسلام کے مسائل پر سعودی عرب کی قیادت کے مو¿قف کی مکمل تائید و حمایت کرتی ہے۔اس موقع پر مولانا عبد الحمید وٹو ، مولانا ایوب صفدر ، مولانا عبد الحمید صابری ، مولانا طاہر عقیل اعوان بھی موجود تھے۔

ویسٹ انڈیز کا ون ڈے سیریز میں فاتحانہ آغاز, پاکستان کو پہلے میچ میں شکست

پروویڈینس(ویب ڈیسک) ویسٹ انڈیز نے تین ایک روزہ میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں مہمان پاکستان کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔گیانا نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں گرین شرٹس نے میزبان ٹیم کو جیت کے لئے 309 رنز کا ہدف دیا جسے جیسن محمد کی دھواں دھار بیٹنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں این لیوس اور چیڈوک والٹن میدان میں اترے لیکن 23 کے مجموعی اسکور پر والٹن 7 رنز بنا کر ا?و¿ٹ ہوگئے۔ جس کے بعد دوسری وکٹ پر لیوس اور پاویل نے 68 رنز کی شراکت قائم کی اور لیوس 47 رنز بنا کر محمد حفیظ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ پاویل 61، ہوپ 24، جوناتھن کارٹر 14، کپتان جیسن ہولڈر 11 رنز بنا کر آو¿ٹ ہوئے۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیسن محمد نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گراو¿نڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلے اور58 گیندوں پر 3 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 91 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور ہدف 49ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ پاکستان کی جانب سے محمد عامر اور شاداب خان نے 2، 2 جب کہ محمد حفیظ اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ میچ میں بہترین کارکردگی پیش کرنے پر جیسن محمد کو مین آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

وزیراعظم کیوں بننا چاہتاہوں؟, کپتان نے راز سے پردہ اُٹھا دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میر ی توجہ ان دنوں پانامہ کی پچ پر ہے،پانامہ کیس کافیصلہ پاکستان کی تاریخ بدل کر رکھ دے گا،امید ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ آئندہ ہفتے آجائے گا،فیصلہ اشرافیہ کے طرز حکومت کو بد ل کر رکھ دے گا،پانامہ کیس کا فیصلہ پارلیمنٹ لیکر گئے تو اپوزیشن نے کہا کہ تحقیقات ہونی چاہیے،22 سیاسی جماعتوں کا خیال تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں بزنس سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے صحافی کے سوال کہ کیا آپ کا اگلا ہدف وزیراعظم بننا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا نواز شریف تھانیدار بننے کیلئے الیکشن لڑے، میرے مخالفین کہتے ہیں کہ میں وزیراعظم بننا چاہتا ہوں اور دو وجوہات کی وجہ سے وزیراعظم بننا چاہتا ہوں۔اداروں کی مضبوطی اور انسانی ترقی چاہتا ہوں،ایسا وزیراعظم بننا چاہتا ہوں جو ادارے بنائے اور تمام وسائل تعلیم پر خرچ کرے۔80 ئ کی دہائی میں امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا بڑی غلطی تھی،پہلے ڈالرز کے لئے جہادی بنائے پھر ڈالرز کیلئے ہی جہادیوں کو مارا،پاکستان کسی عسکری اتحاد میں شامل ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ عمران خان نے کہا کہ سیاست میں لوگ صرف پیسہ بنانے آتے ہیں،اگر سیاست پیسے کیلئے کی جائے تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں،نظام ٹھیک کرنے کیلئے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوگا،پہلی دفعہ ایک طاقتور شخص منی لانڈرنگ اور کرپشن میں پکڑا گیا،پاکستان میں اب لوگ سیاست میں پیسا بناتے ہیں،اداروں کی تباہی کی وجہ سے پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے،60 کی دہائی میں پاکستان میں کرپشن نہیں ہوتی تھی،سیاست مں آنے کا مقصد نظام کو درست سمت میں لانا تھا ،برطانیہ میں ادارے کام کررہے ہیں،اگر برطانیہ میں ہوتا تو کبھی سیاست میں نہ آتا،جن معاشروں میں تبدیلی نہیں آتی وہ تباہ ہوجاتے ہیں،آپ کو اپنی بقائ کیلئے تبدیلی لانا ہوتی ہے،آج جن مسائل کا سامنا ہے وہ 80 ئ کی دہائی کے پیدا کردہ ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ آزاد میڈیا کی وجہ سے پاکستان میں مارشل لائ لگنا مشکل ہوگیا ہے،سنگاپور میں پاکستان سے زیادہ کرپشن تھی،ڈرون حملوں میں معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا۔عمران خان نے امریکی صدر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہ میں نہیں سمجھتا کہ ٹرمپ اتنے برے ہیں وہ میری سوچ سے زیادہ برے ہیں۔پاکستان کسی عسکری اتحاد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کرکٹ پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرے دور میں عبدالقادر بہترین سپن باو¿لر تھے،عبدالقادر کھیل رہے ہوتے تو شین وارن سے زیادہ وکٹیں لیتے۔انہوں نے کہا کہ مصباح الحق ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم میں خرابی کی وجہ سے دیر سے ٹیم میں آئے،آسٹریلیا میں 33 سال کی عمر میں کھلاڑی ریٹائر ہوجاتے ہیں، میرے بعد مصباح پہلاکپتان ہے جو باعزت ریٹائرمنٹ لے رہا ہے۔عمران خا ن کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کی کپتانی کسی بھی چیلنج سے کم نہیں، میں کبھی ٹیم کا کپتان نمین بننا چاہتا تھا،کرکٹ اس کے ہاتھ دی گئی جس کی قابلیت الیکشن فکس کرنا ہے،کرکٹ بورڈکو بھی ادارے کے طور پر ٹھیک کیا جاسکتا ہے،کرکٹ کی طرح سیاست کا بھی برا حال ہے،دو مرتبہ اس لئے استعفیٰ دیا کیونکہ مرضی کی ٹیم نہیں دی گئی،اب میں کرکٹ سے نہیں مختلف گیمز سے وابستہ ہوں،وزیراعظم کو چیئرمین پی سی بی منتخب کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے عارف علوی نے ایس ایچ او کی گردن پکڑ لی

کراچی (خصوصی رپورٹ)پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عارف علوی نے تلخی کلامی کے بعد ایس ایچ او درخشاں کی گردن پکڑ لی۔ نجی ٹی وی کے مطابق مظاہرین نے سی بی سی کے دفتر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران رکن قومی اسمبلی عارف علوی اور ایس ایچ او درخشاںکے درمیان تلخی کلامی ہوئی اور پی ٹی آئی رہنما نے ایس ایچ او کی گردن پکڑلی۔ عارف علوی نے ایس ایچ او درخشاں کو دھکے بھی دئیے جس کے بعد پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان نے معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کی۔ مظاہرین کے احتجاج پر ایڈیشنل سی ای او سی بی سی عارفین نے پی ٹی آئی کے رہنماں سے کامیاب مذاکرات کئے اور مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا گیا۔

پاکستان کی قربانیوں سے ”امریکہ“ سپر پاور بنا, اہم شخصیت کا دھماکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (اے این این) قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصرخان جنجوعہ نے کہاہے کہ دنیابھر میں پاکستان کے بارے میں غلط تاثر پایا جاتا ہے،اسے ایساخطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے جس کے ایٹمی اثاثے غیرمحفوظ ہیں،یہ بھی سمجھاجاتاہے کہ ہم افغانستان میں داخل اندازی اور طالبان کے حوالے سے ڈبل گیم کر رہے ہیں۔ امریکہ جسے اپنے سپر پاور ہونے کا غرور ہے اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سپر پاور صرف پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے بنا۔ چین اور روس سے اتحاد نے پاکستان کا مستقبل روشن کر دیا۔ افغانستان جان لے اس کی سلامتی پاکستان کے ساتھ جڑی ہے۔ جہاد کے نام پر کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتائج پوری دنیا نے دیکھے، ہم نے بلوچستان، خیبر پختونخوا ،فاٹا اور کراچی میں دہشت گردی پر قابو پالیا ، پاکستان مضبوط معاشی طاقت بننے جا رہا ہے، چین پاکستان اقصادی راہدری ہمیں ایشیا ہی نہیں دنیا بھرسے جوڑ دے گی ، بطور ریاست کسی کی طرفداری نہیں کرےں گے، راحیل شریف ایران کے بہت بڑے خیر خواہ ہیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اتحادی افواج کے کمانڈر کے طور پر ایران کے خلاف کچھ غلط کریں۔ جمعہ کو یہاں کاروباری کانفرنس سے خطاب اوربعد میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ناصرخان جنجوعہ نے کہاہے کہ دنیا کو یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے اور ہمیں مسلمان اور ایک خطرناک ملک سمجھا جاتا ہے حالانکہ پاکستان امریکا اور دنیا کے ساتھ نائن الیون کے ذمہ داروں کےخلاف لڑتا رہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کا ساتھ دے رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پاکستانی طالبان ہمارے کیخلاف کیوں لڑے رہے ہیں؟ طالبان مخالف کارروائیوں پر پاکستان کیخلاف جہادی فتوی دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چالیس سال سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، پاکستان کئی برس سے طالبان کی دہشت گردی کا شکار ہے۔ جہاد کے نام پر تحریک طالبان پاکستان کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا دنیا سمجھتی ہے کہ ہم افغانستان میں دخل اندازی کر رہے ہیں،طالبان کے حوالے سے ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے آج تک کسی کے ساتھ ڈبل گیم نہیں کھیلی بلکہ ہمیشہ امن اور سلامتی کی بات کی ہے۔ پاکستان درست اور لچک دکھانے والا ملک ہے ، القاعدہ اور داعش کو پاکستان نے نہیں بنایا دنیا کے امن کیلئے فرنٹ لائن کے طور پر کھڑے ہیں افغان طالبان کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکا تو انہوں نے پاکستانی طالبان بنادی، پاکستان نے طالبان کے خلاف کارروائیاں کی تو انہوں نے پاکستان سے جہاد کا فتوی دے دیا۔ انہو ں نے کہاکہ پاکستان میں شدت پسندی افغان جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی، افغانستان نے سرحد پر بائیومیٹرک سسٹم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد انتہائی پیچیدہ ہے۔ پاک افغان سرحد پر 300 سے زائد غیر قانونی راستے ہیں،کے پی کے میں 128 جبکہ بلوچستان میں 200 غیر قانونی راستے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان جان لے اس کی سلامتی پاکستان کی سلامتی سے جڑی ہے روس کے خلاف کھڑے نہ ہوتے تو کیا آج افغانستان ہوتا؟۔ امریکہ جسے اپنے سپر پاور ہونے کا غرور ہے اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سپر پاور صرف پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے بنا۔ انہو ں نے کہا کہ انہوں نے کہاکہ، آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتائج پوری دنیا نے دیکھے، ہم نے بلوچستان، خیبر پختونخوا ،فاٹا اور کراچی میں دہشت گردی پر قابو پالیا ہے۔ کراچی دنیا کے خطرناک شہروں کی فہرست میں چھٹے سے 40 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ چین اور روس سے اتحاد نے پاکستان کا مستقبل روشن کر دیا۔ پاکستان مضبوط معاشی طاقت بننے جا رہا ہے، اب پاکستان دنیا بھر کا تجارتی حب بننے جا رہا ہے، پاک چین اقصادی راہدری ہمیں ایشیا ہی نہیں دنیا بھرسے جوڑ دے گی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ سعودی عرب نے ہی فوجی اتحاد بنایا اور ارکان کا انتخاب کیا، ہمیں اس اتحاد کے رکن ہونے کا اس وقت معلوم ہوا جب سعودی عرب نے خود اس کا اعلان کیا،پاکستان بطور ریاست کسی کی طرفداری نہیں کرے گا، پاکستان کی سول و عسکری قیادت پہلے سعودی عرب پھر ایران گئی، راحیل شریف ایران کے بہت بڑے خیر خواہ ہیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ راحیل شریف اتحادی افواج کے کمانڈر کے طور پر ایران کے خلاف کچھ غلط کریں۔ دریں اثنا امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس کے وفد نے امریکی مشیر سلامتی امور سٹیفن ہیڈلی کی سربراہی میں قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی امور، نئی امریکی انتظامیہ کی افغان پالیسی اور افغانستان میں قیامِ امن پر خصوصی بات چیت کی گئی۔ ناصر جنجوعہ نے وفد کو حالیہ افغان صورتحال پر بریفنگ دی۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان سے افواج کے انخلا سے افغان ملٹری صلاحیت میں کمی ہوئی۔ افغانستان میں ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ اس سے قبل وفد نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی سے بھی ملاقاتیں کیں۔

مولانا فضل الرحمن نے امام کعبہ کو بلا کر رونق بڑھا لی, نامور تجزیہ کار ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علمائے ہند کی سو سالہ تقریبات میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ امام کعبہ کا تڑکا لگایا۔ خانہ کعبہ کے امام سے مسلمانوں کا عقیدہ دین سے محبت کا تقاضا ہے۔ امام کعبہ اگر لاہور بھی آئیں تو لوگوں کا جم غفیر اکٹھا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے ہند کے سکالرز کم سے کم گفتگو کریں گے کیونکہ انہوں نے جس دعوے کے تحت قائداعظم کے دو قومی نطریے کی مخالفت کی تھی، آج وہ غلط ثابت ہو چکا ہے۔ اگر اجتماع کامیاب رہا ہے تو فضل الرحمان کو مبارکباد دیتا ہوں، دین اسلام کے حوالے سے دہشتگردی کے خلاف فضا ہموار کرنا اچھی کاوش ہے۔ اگر سچائی کے ساتھ وہ دین اسلام کی حقیقی شکل کو اجاگر کریں تو قوم کے لئے بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی بہت عرصے سے 2 حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک گروپ (س) جبکہ دوسرا (ف) جمعیت علمائے اسلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ اکوڑا خٹک میں اپنے دوست اسد اللہ غالب سے ملنے گیا تو وہاں مولانا سمیع الحق کے کمرے میں تصاویر آویزاں تھیں جس میں ان کے اور ان کے بیٹوں کے ساتھ اسامہ بن لادن نظر آ رہے تھے، پھر ان کے ایک مدرسے میں گئے تو وہاں کچھ سابق نامور طلبہ کے ناموں کی لسٹوں کے بورڈ لگے ہوئے تھے، مولانا سمیع الحق نے ان میں سے کچھ ناموں کے بارے میں بتایا کہ یہ اسی مدرسے کے سابق طلبہ ہیں اور آج کل طالبان کے وزیر ہیں۔ جب طالبان سے مذاکرات شروع ہوئے تو انہوں نے بھی اپنا لیڈر مولانا سمیع الحق کو منتخب کیا تھا۔ اس لئے اب مولانا فضل الرحمن مولانا سمیع الحق کو ساتھ ملانے کا رِسک کبھی نہیں لیں گے، اسی وجہ سے وہ اجتماع میں بھی نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مدارس میں دیوبندی سکول آف تھاٹ کے زیادہ لوگ موجود ہیں لیکن پی این اے کی موومنٹ کے بعد اس سٹریٹ پاور کو موبلائز ہوتے نہیں دیکھا۔ فضل الرحمان کے لئے یہ یک سوالیہ نشان ہے کہ کیا وہ دینی مدارس کے لوگوں کو سڑک پر لا سکتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ دیو بند سے رشتوں کو تازہ کر کے ان کی قوت کو اپنا بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ محمد زبیر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے والد تاریخ کے عیاش جرنیلوں میں شامل تھے۔ 4,3 جرنیلوں کا ٹولہ یحییٰ خان کے ساتھ مشہور ہوتا تھا جو شام کو اکٹھے شراب پیتے تھے۔ ایک تصویر بہت مشہور ہے جس میں جنرل غلام عمر بیٹھے ہوئے ہیں اور سامنے نورجہاں نغمہ سرا ہیں۔ اب ان کے بیٹوں میں سے ایک تحریک انصاف میں ہے جبکہ دوسرا نون لیگ میں ہے۔ پاکستان کی سیاست میں یہ عام ہے۔ دونوں بھائیوں کے ہاتھوں میں دو مختلف متحرک سیاسی جماعتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شروع سے ہی امریکہ کے ساتھ سہولت کار اور غلامانہ کردار رہا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ یحییٰ خان جب صدر تھے تو تہران میں بین الاقوامی کانفرنس میں ان کا پتلون میں ہی پیشاب نکل گیا تھا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ جب امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان آئے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی اور ان کے چائنہ قیادت کے ساتھ خفیہ رابطوں کا اہتمام کیا جس پر وہ یہاں سے چین گئے اور پھر امریکہ و چین تعلقات کا آغاز ہوا تھا۔ البتہ اب ایک امریکی تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی مدد کرنے کا الزام غلط ہے۔ مکمل تحقیقات کیں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ تجزیہ کار نے کہا کہ شام ہو یا مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر اقوام متحدہ تو ایک طرف اسلامی کانفرنس کے ممالک نے بھی کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ دنیا بھر میں جتنا ظلم مسلمانوں پر ڈھایا جا رہا ہے، اس پر پوری انسانیت کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے۔ دکھ ہوتا ہے کہ پوری دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے والی ہیومن رائٹس کی بڑی بڑی ایسوسی ایشنز کو امت مسلمہ پر ہونے والی ظلم و زیادتی نظر نہیں ااتی۔ ایسا لگتا ہے کہ امت مسلمہ کے خون کو خون نہیں پانی سمجھا جاتا ہے۔ انہوہں نے کہا کہ چند روز قبل ٹرمپ نے کہا کہ بشارالاسد کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے تھے، اب شام میں کروز میزائلوں سے حملے کر رہے ہیں۔ شام کی عوام، خاص طور پر خواتین و بچوں کا کیا قصور ہے؟ چینل ۵ کے نمائندہ پشاور نعیم اختر نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی سو سالہ تقریبات کا اجتماع صرف امام کعبہ کی آمد کی وجہ سے کامیاب ہوا۔ انتظامیہ کا 20 لاکھ کا دعویٰ غلط 5 لاکھ کے قریب لوگ تھے۔ علمائے ہند کے 4 سکالرز تشریف لائے لیکن خطاب نہیں کیا۔ مہمانوں کے لئے کھانے و پینے کا بندوبست جماعت نے کیا جبکہ باقی لوگوں نے اپنا انتظام خود کیا۔ بہت سارے لوگ جگہ کی کمی کے باعث نماز جمعہ بھی ادا نہیں کر سکے۔ امام کعبہ خالد بن ابراہیم سمیت دیگر مقررین نے اسلام، امت مسلمہ، موجودہ حالات اور ”پاکستان کا دشمن سعودی عرب کا دشمن ہے“ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ اطلاعات ہیں کہ آج بھی تقاریر کا سلسلہ جاری رہے گا اور سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر اہم شخصیات بھی تشریف لائیں گی۔

ہم بوڑھے بھی پہاڑوں پر چڑھ جائینگے, سابق صدر کا حیران کُن اعلان

جعفر آباد (آئی ا ین پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مردم شماری میں اگر بلوچوں سے زیادتی کی گئی تو جوانوں کے ساتھ ساتھ ہم بوڑھے بھی پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے‘ سی پیک کے حوالے سے کچھ لوگوں کو مس انڈر اسٹینڈنگ تھی‘ بلوچستان کے لئے ترقی کے سنہرے مواقع ہیں‘ حکومت سمجھتی ہے سی پیک صرف ان کے روجیکٹس کیلئے ہے‘ ہم پہاڑوں پر چڑھ کر کسی اور کا نہیں صرف اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ سی پیک پر بلوچستان سمیت پورے پاکستان کا حق ہے‘ میری شناخت سندھ ہے مگر اصل میں بلوچ ہوں‘ گمراہ لوگ دیکھیں مسلمانوں کا بھارت میں کیا حال ہے‘ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر پھانسی دی جاتی ہے۔ وہ جعفر آباد میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بلوچستان سے اتنا ہی پیار ہے جتنا پاکستان سے ہے میری شناخت سندھ ضرور ہے لیکن اصل میں میں بلوچ ہوں۔ سی پیک سے متعلق کچھ لوگوں کو شکوک و شبہات ہیں۔ موجودہ حکومت نہیں سمجھتی کہ سی پیک سب کے لئے ہے آصف زرداری نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے سی پیک صرف ان کے پراجیکٹس کیلئے ہے۔ اگر بلوچستان سے مردم شماری میں زیادتی ہوئی تو ہم بوڑھے بھی جوانوں کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہاڑوں پر چڑھ کر کس کا نقصان کیا؟ بلوچ عوام گمراہ افراد کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ ہم نے مخالفین کو غدار کہنے کا موقع دیا گمراہ دوست کیوں غلط ہاتھوں میں استعمال ہو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ گمراہ لوگ دیکھیں مسلمانوں کا بھارت میں کیا حال ہے وہاں پر گائے ذبح کرنے پر پھانسی دے دی جاتی ہے یہاں پر ہمارے دوستوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہے بھارت میں مسلمانوں کا کیا حال ہے انٹرنیٹ پر دیکھ لیں۔ سابق صدر نے کہا کہ ملک میں ابھی تک پوری طرح جمہوریت نافذ نہیں ہوئی مارشل لاءکا مائنڈ سیٹ بدلنے میں بیس بیس سال لگ جاتے ہیں۔ دوست کہتے ہیں کہ تم وزیراعظم کیوں نہیں بنے بتاﺅ میں وزیراعظم بنتا تو پارلیمنٹ کو پاور کون دیتا اور پختونوں کو شناخت کون دیتا۔ میرا بھائی بھی صدر بنتا تو شائد وہ پارلیمنٹ کو پاور فل نہ کرتا جو میں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے پچھلے دور حکومت میں مجھے بلوچستان کے لئے کام کرنے کا موقع نہ ملا ہو اب اگر موقع ملا تو بلوچستان میں تمام کینال کو پکا کیا جائے گا۔ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے۔ بنیا ہمیں کہتا ہے کہ پانی بند کر دوں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں بلوچستان کیلئے وسط ایشیا سے پانی لا کے دکھاﺅں گا اور بنیے کو کہتا ہوں کہ تم ہمارا پانی بند نہیں کرسکتے ہم نے پانی کے دوسرے راستے ڈھونڈھ لئے ہیں۔ آصف زرداری نے بلوچ رہنماﺅں کو مشروط حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرا ساتھ دیں میں بلوچستان کی ترقی کے لئے کام کروں گا۔ بے شک آپ لوگ میری پارٹی میں نہ آئیں لیکن ہم مل کر حکومت بنا سکتے ہیں۔ بلوچستان میں ترقی کے بڑے مواقع ہیں۔ ہم نے لوگوں کو پیپلز پارٹی کی چھتری تلے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سونا چاندی اور گیس ہے اس کے علاوہ بھی ذخائر ہیں یہاں سے جو چیز ملی اس کا شیئر بلوچوںکو ملے گا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بلوچستان سونے، چاندی اور گیس سے مالا مال ہے اور اس کا مستقبل بہت روشن ہے،مجھے بلوچستان سے اتنا ہی پیار ہے جتنا پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے بلوچ بھائیوں کو گمراہ کر رہا ہے اور ہمارے کچھ دوستوں نے پہاڑوں پر چڑھ کر کسی اور کا نہیں اپنا ہی نقصان کیا کیونکہ اس لڑائی میں ہمارے اپنے مارے گئے اور قومیں تباہ ہوگئیں۔ ہمارے جو بلوچ بھائی بھارتی بہکاوے میں آ کر آزادی کی باتیں کر رہے ہیں۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ انٹرنیٹ پر جا کر بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھ لیں، وہاں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے اور کشمیر میں بھی بھارت نے ظلم کی انتہا کر رکھی ہے لہٰذا بلوچ عوام اپنے آپ کو غلط استعمال ہونے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے ہمارے کچھ دوستوں کو غلط فہمیاں ہیں لیکن پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے اور اس سے ہمارے بلوچ اور پختون بھائیوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا منصوبے سے پاکستان طاقتور ملک بنے گا۔ چین ہمارا دوست ہے، وہ ہمارا ساتھ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو بنیا ہمارا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن وہ پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پانی پر جنگیں ہو سکتی ہیں، کوئی ہمارا پانی بند نہیں کر سکتا، ہم نے پانی متبادل ذریعے سے لانے کے لئے پلان تیار کئے ہوئے ہیں ہم نے سینٹرل ایشیا سے پانی کے متبادل ذرائع ڈھونڈ لئے ہیں۔