پنجاب کابینہ کا اجلاس …. شہباز شریف کاکسانوں بارے بڑا اعلان

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم کی خریداری پالیسی 2017-18 کی منظوری دی گئی-رواں برس 40لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف مقرر کیا گیاہے اور کاشتکارو ں سے گندم 1300روپے فی من خریدی جائے گی-ضرورت پڑنے پر گندم خریداری کے ہدف میں مزیداضافہ کیا جائے گا-کاشتکاروں کو باردانہ کی تقسیم 15اپریل سے شروع ہوگی- وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مقررہ ہدف سے زائد گندم کی خریداری کی صورت میں 15فیصد باردانہ مزید خریدنے کا بندوبست کیا جائے-انہوںنے کہا کہ باردانہ کی تقسیم انتہائی شفاف طریقے سے ہوگی اورگندم خریداری مراکز پر کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولتیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی -انہوںنے کہا کہ اللہ تعالی کے بے پایاں فضل وکرم او رکاشتکاروں کی محنت کے باعث گندم کی شاندار فصل ہوئی ہے -حکومتی اقدامات اور زرعی مداخل پر سبسڈیز کی فراہمی کے باعث گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہواہے-انہوںنے کہا کہ گندم خریداری مہم کے دوران کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور کسی کو کسانوں کا حق نہیں مارنے دوں گا -وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ باردانہ کی تقسیم کے عمل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرےعے شفاف بنایاجائے اور گندم خریداری مہم کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی کی جائے- انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف باردانہ کی تقسیم میں شفافیت بڑھے گی بلکہ کاشتکاروں کی شکایات کا بھی ازالہ ہوگا- وزیر اعلی نے کہا کہ جہاں کہیں مجھے کوئی شکایت ملی تو انتظامیہ اورمتعلقہ افسران کے خلاف ایکشن لوں گا-کسان میرے بھائی ہیں، ان کے مفادات کا تحفظ پہلے بھی کیا ،آئندہ بھی کروں گا- انہوں نے کہا کہ وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور سیکرٹریز گندم خریداری مہم کی نگرانی کریں گے اور میں خود بھی گندم خریداری مہم کا ذاتی طو رپر جائزہ لوںگا-وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ گندم خریداری مہم کے لئے 36اضلاع میں محنتی، ایماندار اورفرض شناس افسروں کو تعینات کیاجائے-وزیر اعلی نے کاشتکاروں کو سہولتیں دینے او رگندم کی شاندار فصل پر صوبائی وزیر زراعت، سیکرٹری زراعت او رمحکمہ کے افسروں اور عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گندم کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے جدید سائلوز بھی بننے چاہئیں تھے اور اس مقصدکے لئے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہیں- انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو محنت ، دیانتداری اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے خریداری مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے – انہوںنے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کا مفاد بے حد مقدم ہے اور وہ اپنی جتنی گندم فروخت کرنا چاہیں گے حکومت ان سے خریدے گی اور کسی کو بھی کسانوں کا استحصال نہیں کرنے دیا جائے گا- گنجائش نہ ہونے کا بہانہ بنا کر گندم کی خریداری کے عمل میں سستی یا کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی- وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے توانائی منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھکی میں 1200میگا واٹ کا گیس پاور کامنصوبہ رواں ماہ کے وسط میں 750میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع کردے گا -بھکی گیس پاور منصوبے کی دونو ں ٹربائنز کے کامیابی سے ٹرائل ٹیسٹ ہو رہے ہیں-وزیراعظم محمد نوازشریف اس کا افتتاح کریں گے اور یہ منصوبہ2سال سے بھی کم عرصے میں بجلی کی پیداوار دے گا-نومبر ، دسمبر میںاس منصوبے کی تیسری ٹربائن چلے گی اور 1200میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی جو وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں توانائی منصوبوں پر دن رات کام کرنے کا ثمر ہے اور یہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے – انہوںنے کہا کہ 1320میگا واٹ کا ساہیوال کول پاور پراجیکٹ رمضان المبارک سے قبل 660میگا واٹ بجلی فراہم کر ے گااوریہ منصوبہ رمضان المبارک کے دوران 660میگا واٹ مزید بجلی پیدا کرے گا-اس طرح موسم گرما میں ان دو منصوبوں سے 2000میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی اوراس اضافی بجلی سے عوام کو ریلیف ملے گا-ان منصوبوں کا کریڈ ٹ وزیراعظم محمد نوازشریف کے جرات مندانہ فیصلوں کو جاتا ہے – اگر وہ یہ فیصلے نہ کرتے تو شائد لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا خواب کبھی پورا نہ ہو تا- پنجاب کا بینہ نے کسانوںکے لئے اقدامات اٹھانے اور انہیں ریلیف دینے پر وزیراعلی شہبازشریف کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ شعبہ زراعت سے وابستہ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی فراہم کردہ سہولتوں سے چھوٹے کاشتکار کی حالت بہتر ہوئی ہے – شہباز شریف چھوٹے کاشتکاروں سے بے پناہ دلی لگا¶ رکھتے ہیں اوران کی کسان دوستی کے باعث فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا ہے – انہوںنے کہا کہ وزیر اعلی شہباز شریف نے کسانوں کو جتنا ریلیف دیا ہے، شائد انہوںنے کبھی اس کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا- انہوںنے کسانوں کو ان کی سوچ سے بڑھ کر ریلیف فراہم کیا ہے – کاشتکاروں کو فصلو ںمیں ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے بھی بے مثال اقدامات کئے گئے- اجلاس کے شرکاءنے گیس پاور منصوبوں کی تیزی سے تکمیل پر وزیراعلی شہبازشریف کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلی محمد شہباز شریف کی دور اندیشی اور جاندار فیصلوں کے باعث ملک سے لوڈشیڈنگ اور بجلی نہ ہونے کے باعث چھائے اندھیرے چھٹ جانے کا وقت آگیا ہے – پنجاب کابینہ نے چھوٹے کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے پیش نظر سٹاک میں موجود اضافی گندم کوبرآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے – وزیر اعلی نے اس مقصد کیلئے شفاف نظام کے تحت فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی – کابینہ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران ، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، شعبہ زراعت سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے رکن قومی اسمبلی سردار اویس لغاری نے ملاقات کی جس میں جنوبی پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی اور خوشحالی مجھے بے حد عزیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ رواں مالی برس بھی جنوبی پنجاب کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے اربوں روپے کے اضافی وسائل رکھے گئے ہیں اور جنوبی پنجاب میں میگا پراجیکٹس کی تکمیل سے عوام کو ثمرات مل رہے ہیں جبکہ اربوں روپے کے نئے منصوبوں پر بھی تیزرفتاری سے کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملتان میٹرو بس پراجیکٹ جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک شاندار تحفہ ہے اور میٹرو بسیں چلنے سے شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید اور تیز رفتار سفری سہولتیں میسر آئی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لاکھوں افراد روزانہ میٹرو بسوں پر سفر کرکے منزل مقصود پر پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان اور بہاولپور میں سیف سٹی پراجیکٹ بھی شروع کیا جا رہا ہے جبکہ جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں بھی کئی اہم منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے۔ انہو ںنے کہا کہ مفاد عامہ کے منصوبوں کی مخالفت کرنے والے بعض سیاسی عناصر عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی کی مخالفت کر رہے ہیں اور پاکستان کے باشعورعوام ترقی کے مخالف ایسے عناصر کو پہچان چکے ہےں اور یہ عناصرپہلے بھی ناکام و نامراد رہے اور آئندہ بھی ان کی منفی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کے پروگراموں پر پیشرفت کی میں ذاتی طور پر نگرانی کر رہا ہوں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام کو مزید خوشیاں دے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے وفاقی وزےر پٹرولےم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے اموراورتوانائی کے منصوبوں خصوصاً گےس سے لگنے والے بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب مےںگےس سے3600مےگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے 3 منصوبے تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں اور ان منصوبوں میں شفافیت کے اعلیٰ معیار کے تحت قوم کے 112 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔گزشتہ چاربرس کے دوران توانائی منصوبوں کیلئے بے پناہ محنت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کی ذمہ دار بعض سیاسی جماعتیں بجلی کے منصوبوں کی تیزرفتار تکمیل سے پریشان ہیں اور توانائی منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل عوام کی ترقی کے مخالفین پر بجلی بن کر گر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی بنیاد پر بجلی کے منصوبے27 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ 2017 کے آخر میں توانائی کے متعدد منصوبے مکمل ہو جائیں گے اور ان منصوبو ںکی تکمیل سے اندھیرے ختم ہوں گے۔ زراعت ، صنعت، لائیو سٹاک ، تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں کیلئے وافربجلی دستیاب ہو گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے سابق گورنر سندھ اور پاک بھارت جنگ 1965 کے ہیرو ائیرمارشل (ر) عظیم داﺅد پوتا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے عظیم داﺅد پوتا کی وطن کے دفاع کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ کے دوران جرا¿ت و بہادری کی تاریخ رقم کی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے وفاقی وزےر پٹرولےم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے اموراورتوانائی کے منصوبوں خصوصاً گےس سے لگنے والے بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب مےںگےس سے3600مےگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے 3 منصوبے تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں اور ان منصوبوں میں شفافیت کے اعلیٰ معیار کے تحت قوم کے 112 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔گزشتہ چاربرس کے دوران توانائی منصوبوں کیلئے بے پناہ محنت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کی ذمہ دار بعض سیاسی جماعتیں بجلی کے منصوبوں کی تیزرفتار تکمیل سے پریشان ہیں اور توانائی منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل عوام کی ترقی کے مخالفین پر بجلی بن کر گر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی بنیاد پر بجلی کے منصوبے27 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ 2017 کے آخر میں توانائی کے متعدد منصوبے مکمل ہو جائیں گے اور ان منصوبو ںکی تکمیل سے اندھیرے ختم ہوں گے۔ زراعت ، صنعت، لائیو سٹاک ، تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں کیلئے وافربجلی دستیاب ہو گی۔ قبل از یں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے رکن قومی اسمبلی سردار اویس لغاری نے ملاقات کی جس میں جنوبی پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی اور خوشحالی مجھے بے حد عزیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ رواں مالی برس بھی جنوبی پنجاب کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے اربوں روپے کے اضافی وسائل رکھے گئے ہیں اور جنوبی پنجاب میں میگا پراجیکٹس کی تکمیل سے عوام کو ثمرات مل رہے ہیں جبکہ اربوں روپے کے نئے منصوبوں پر بھی تیزرفتاری سے کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملتان میٹرو بس پراجیکٹ جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک شاندار تحفہ ہے اور میٹرو بسیں چلنے سے شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید اور تیز رفتار سفری سہولتیں میسر آئی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لاکھوں افراد روزانہ میٹرو بسوں پر سفر کرکے منزل مقصود پر پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان اور بہاولپور میں سیف سٹی پراجیکٹ بھی شروع کیا جا رہا ہے جبکہ جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں بھی کئی اہم منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے۔ انہو ںنے کہا کہ مفاد عامہ کے منصوبوں کی مخالفت کرنے والے بعض سیاسی عناصر عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی کی مخالفت کر رہے ہیں اور پاکستان کے باشعورعوام ترقی کے مخالف ایسے عناصر کو پہچان چکے ہےں اور یہ عناصرپہلے بھی ناکام و نامراد رہے اور آئندہ بھی ان کی منفی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کے پروگراموں پر پیشرفت کی میں ذاتی طور پر نگرانی کر رہا ہوں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام کو مزید خوشیاں دے گی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے سابق گورنر سندھ اور پاک بھارت جنگ 1965 کے ہیرو ائیرمارشل (ر) عظیم داﺅد پوتا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے عظیم داﺅد پوتا کی وطن کے دفاع کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ کے دوران جرا¿ت و بہادری کی تاریخ رقم کی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

وزیراعظم بارے زرداری کا اہم بیان

لاڑکانہ، گڑھی خدا بخش، نوڈیرو (بیورو رپورٹ، نمائندگان) شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 38 ویں برسی گڑھی خدا بخش بھٹو میں عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ اس موقع پر پاکستا ن پیپلز پارٹی کی جانب سے گڑھی خدا بخش بھٹو مزار کے احاطے میں جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس سے سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں نے خطا ب کیا۔ جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ادیبوں اور دانشورو ں نے مکالمے پڑھے ،جلسے میں پانچ بج کر بیس منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سندھ بھر سے پولیس کے 32 ایس ایس پیز،ایس ایس پی لاڑکانہ عمر طفیل کی سربراہی میں فرائض سر انجام دے رہے تھے جبکہ ساٹھ سے زائد ڈی ایس پیز اور سات ہزار پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے جن میں ٹریفک پولیس اہلکار، کمانڈوز اور لیڈیز پولیس بھی شامل ہیں۔ جلسہ گاہ کے خارجی و داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس نسب کیے گئے تھے۔ جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے تمام افراد کی جامع تلاشی لی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی 38 ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سندھ بھر سمیت دیگر صوبوں سے بھی قافلے لاڑکانہ پہنچے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے شہر بھر کے مختلف مقامات پر ۱ستقبالیہ کیمپ لگائے تھے جبکہ مزار کے احاطے میں میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا تھا ،شدید گرمی کے باعث پارٹی کارکنان مشکلات کا شکار رہے آزاد حلقوں کے مطابق جلسہ گاہ میں پندرہ سے بیس ہزار افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر کارکنوں نے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ عوام سے وعدہ ہے کہ آئندہ وفاق میں حکومت بناکردکھاﺅں گا۔ اس بار اپوزیشن میں رہ کر تھوڑے بندوں سے چیئرمین سینیٹ بنالیا تو اگلی بار وزیراعظم بھی بنا کر دکھا ﺅں گا، پاناما کیس کے فیصلے کا آنے کا انتظار کررہے ہیں،ہردورمیں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ، صرف 15 دن پنجاب میں بیٹھا تو کاغذی شیروں اور بلے والوں کا حال خراب ہو گیا۔ پنجاب کے ہر ضلع میں جاﺅں گا، دیکھنا سارے پیٹو بھاگیں گے،پیپلزپارٹی پر میلی نظر رکھنے والوں سے پہلے ڈرے نہ اب ڈریں گے۔ وہ منگل کو یہاںگڑھی خدا بخش بھٹو میں پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 38 ویں برسی کی تقریب کے موقع پر جلسے سے خطاب کررہے تھے ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید بھٹو نے پاکستان کو نیوکلیئر پروگرام دیا لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو نیوکلیئرطاقت نواز شریف نے بنایا، ذوالفقار بھٹو کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں ہیں جب کہ بی بی صاحبہ نے کبھی اپنی بات نہیں کی ہمیشہ پاکستان کے بارے میں سوچا۔ انہوں نے کہا کہ صرف 15 دن پنجاب میں بیٹھا تو کاغذی شیروں اور بلے والوں کا حال خراب ہوگیا، پنجاب کے ہر ضلع میں جاں گا، دیکھنا سارے پیٹو بھاگیں گے۔سابق صدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر میلی نظر رکھنے والوں سے پہلے ڈرے نہ اب ڈریں گے، ہم اس سال الیکشن کے لیے تیار ہیں اور ان کا مقابلہ کریں گے، عوام سے وعدہ ہے کہ اگلی حکومت ہم بنا کر دکھائیں گے۔ اس بار اپوزیشن میں رہ کر تھوڑے بندوں سے چیئرمین سینیٹ بنالیا تو اگلی بار وزیراعظم بھی بنا کر دکھا ﺅں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے کا آنے کا انتظار کر رہے ہیں، ہم نہیں سمجھتے پاکستان میں کبھی بھی انصاف ہوا ہے، ہمارے ساتھ ہر دور میں ظلم وزیادتی ہوتی رہی ہیں لیکن آج دیکھنا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ آج صرف بجلی دگنی مہنگی نہیں ہوئی بلکہ پانی کی بھی قلت ہوگئی ہے، عوام کے پاس بجلی اور پانی نہیں ہے اور یہ لوگ بہتر طرز حکمرانی کے دعوے کررہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام میاں صاحب کو نکال کر دم لیں گے ‘ سندھ کے عوام نوازشریف کو اچھی طرح جانتے ہیں ‘ آپ چھوٹے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں‘ ترقی کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے ‘ میاں صاحب آپ وفاق کو کمز ور کر نے کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں‘مجھے ملک کے نوجوانوں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا‘یہ حکمران عوام کے ووٹوں سے نہیں دھونس دھاندلی سے اقتدار میں آتے ہیں ‘ان کی کوئی معاشی اور خارجہ پالیسی نہیں ‘ان کو حکومت کرنی نہیںآتی یہ ملک کو تنہائی کی طرف لے کر جا رہے ہیں‘ یہ اپنی کرپشن کی کمائی بچانے کے چکر میں عوام کیلئے کچھ نہیں کرتے‘حکمرانوں کو قومی سلامتی کی نہیں پانامہ کیس کی فکر ہے‘عوام حکمرانوں سے خیر کی امید مت رکھے‘ حکمرانوں اشتہاروں کے علاوہ کہیں ترقی نظر نہیں آ رہی۔ اگر ملک میں ترقی ہو رہی ہے تو ملز اور کارخانے کیوں بند ہو رہے ہیں۔ غربت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ‘ مزدور کیوں بھوکے مر رہے ہیں اور عوام آپ سے کیوں نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ملک کو آگے لے جانے کیلئے نوجوانوں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا اور سیاست کو گالی اور گولی کے کلچر سے پاک کرنا ہو گا، خادم اعلیٰ بتائیں بابر بٹ کے خاندان کو کب انصاف ملے گا۔ وہ منگل کو پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 38 ویں برسی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج 4 اپریل کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے آج کے دن جمہوریت کے بانی کو پھانسی دیدی گئی۔ اج کے دن عوامی حاکمیت کا تصور دینے والے کو پھانسی دیدی گئی ۔ پاکستان کے مزدوروں اور طالب علموں کے رہنما کو پھانسی دیدی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج پوری قوم 38 سال گزرنے کے بعد بھی اشک بار ہے۔ ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ بھٹو کا عدالتی قتل کیوں کیا گیا۔بھٹو کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے عوام کو طاقت ور بنانے کی کوشش کی ‘ پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی دی ‘ ملک کو سامراج کی غلامی سے آزادی دی اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا۔ آج تک بھٹو اور اس کی آل کو انصاف نہ مل سکا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بھٹو خاندان کو قربانی دینا ورثہ میں ملا ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھٹو ایک نظرئیے اور جدوجہد کانام ہے۔ 40 سال قبل سامراج نے ایک سازش کی اور ہمارے اوپر ایک ظالم حکمران مسلط کیا گیا۔ جس نے ملک کو تاریکی کی طرف دھکیل دیا۔ اس نے ملک میں انتہاءپسندی اور دہشت گردی کا ایسا بیج بویا جس کو ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری جنگ سیاسی اور اقتدار کی نہیں بلکہ نظریہ کی جنگ ہے جو کل بھی جاری تھی اور آج بھی جاری ہے۔ یہ حکمران عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ دھونس دھاندلی سے اقتدار میں آتے ہیں ان کی کوئی معاشی اور خارجہ پالیسی نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ملک وہیں کھڑا ہے جہاں پہلے تھا۔ آج بھی ملٹری کورٹس بنائی گئیں کیونکہ حکمرانوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کیا۔ میرا پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ اب مانا گیا ہے۔ ان کو حکومت کرنی نہیںآتی یہ ملک کو تنہائی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ یہ اپنی کرپشن کی کمائی بچانے کے چکر میں عوام کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو قومی سلامتی کی نہیں بلکہ پانامہ کیس کی فکر ہے۔ عوام حکمرانوں سے خیر کی امید مت رکھے۔ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں بتائیں کہ یہ ترقی ہو رہی ہے اشتہاروں کے علاوہ کہیں ترقی نظر نہیں آ رہی ‘ اربوں روپے کے اشتہارات اڑ ا کو عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ میاں صاحب آپ اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر عوام کو نہیں۔ بیرونی قرضے بڑھ رہے ہیں اور آئی ایم ایف سے بھی نجات نہیں مل رہی۔ ملک میں بجلی ہے نہ پانی اگر ملک میں ترقی یہی ہے تو منافع بخش ادارے کیوں بیچے جا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر ملک میں ترقی ہو رہی ہے تو ملز اور کارخانے کیوں بند ہو رہے ہیں ‘ غربت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ‘ مزدور کیوں بھوکے مر رہے ہیں اور عوام آپ سے کیوں نجات حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام آپ کی دھونس ا ور دھاندلی سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پنجاب میں ہمارے کارکن بابر بٹ کو گھر میں گھس کر قتل کر دیا گیا۔ شہباز شریف بتائیں کہ اس کے خاندان کو کب انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے دنوں اپنے لشکر کے ساتھ میاں صاحب سندھ فتح کرنے آئے تھے مگر بتا دوں میاں صاحب سندھ کے لوگ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور جھوٹے وعدوں کی حقیقت بھی جانتے ہیں ۔ آپ نے ایک سال پہلے مٹھی میں تھر کیلئے 2 ارب روپے کا اعلان کیا تھا کیا ہوا اس اعلان کا۔ آپ صرف عوام سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں ۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میاں صاحب آپ وفاق کو کمز ور کر نے کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ صرف چند سیٹیں جیتنے کیلئے چھوٹے صوبوں کے جائز حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ چند مخصوص علاقوں کیلئے 37 ارب روپے کے گیس منصوبے منظور کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ 4 سال گزرنے کے بعد بھی عمر کوٹ جیسے تاریخی شہر کو گیس نہیں دی گئی اور دوسری طرف اپنے حواریوں میں گیس بانٹ رہے ہیں۔ لوگوں کو سیاسی رشوت دینا بند کر دو۔ ہم وفاق کو کمز ور نہیں ہونے دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئندہ سال الیکشن کا ہے اور ہم نے اس کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ہم ایک مکمل عوامی اور فلاحی منشور لائیں گے۔ یہ منشور ہر طبقے ‘ نوجوانوں اور خواتین کیلئے فلاحی منشور ہو گا۔ کسانوں کو بھی ان کی پوری اجرت ملے گی۔ ہم کسانوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نوجوان ہوں اور نوجوانوں کے مسائل اچھی طرح سمجھتا ہوں اس ملک کو آگے لے جانے کیلئے نوجوانوں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا اور سیاست کو گالی اور گولی کے کلچر سے پاک کرنا ہو گا۔

بھٹو کو ملک کا متفقہ آئین بنانے ایٹمی پروگرام پر کام شروع کرنے کا کریڈٹ جاتا ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”صیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قائداعظم کے بعد دوسرے بڑے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ قائداعظم کے بعد وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے عام آدمی کے اندر ہمت پیدا کی اور بہادری کے ساتھ جینا سکھایا۔ بھٹو نے 70ءکے انتخابات میں پنجاب سے زبردست کامیابی حاصل کی۔ ان کا نعرہ ”سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اسلام ہمارا دین اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“ تھا۔ جس پر عوام نے والہانہ انداز میں بھٹو کو ووٹ دیئے، باقی پارٹیو ںکی تقریباً چھٹی ہو گئی تھی۔ بدقسمتی یہ رہی کہ بھٹو نے مشرقی پاکستان اور مجیب الرحمان نے مغربی پاکستان میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا، نتیجے میں عملاً ملک 2 حصوں میں تقسیم ہو گیا اور رہی سہی کسر بھٹو کے اس نعرے نے پوری کر دی کہ ”جو کوئی شیخ مجیب الرحمان کے بلائے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جائے گا، ٹانگیں توڑ دیں گے“ اس پر مذاکرات ہوئے، پھر بھٹو نے اعلان کیا کہ مجیب الرحمان کے 6 نکات میں سے ساڑھے 5 نکات مان لئے ہیں جبکہ اس آدھے نکتے کا راز کبھی نہیں کھل سکا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو جیسا وزیرخارجہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزرا لیکن 65ءکی جنگ میں جب رشیا کی مداخلت سے تاشقند میں معاہدہ طے پایا۔ اس وقت بھٹو نے نعرہ لگایا تھا کہ تاشقند کے راز بتاﺅں گا لیکن انہوں نے نہیں بتائے۔ البتہ بھٹو کو ملک کے پہلے آئین، سینٹ و قومی اسمبلی کی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ ان کے دور میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو نوکریاں ملیں، پھر بعد میں کراچی میں ایم کیو ایم نے بھی بھٹو کا یہی نسخہ اپنایا اور سیاست کی بنیاد پر اپنے لوگوں کو نوازتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر بھٹو کے دور کو سیاسی آمریت کا دور سمجھتا ہوں۔ ان میں بہت ساری خوبیاں تھیں، انہوں نے اسلامی کانفرنس بنا کر شاہ فیصل شہید کے ساتھ مل کر اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا، زبردست وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایک بلاک بنایا، ایٹمی اثاثوں پر توجہ مرکوز کی جس کے بارے میں آج بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہیں کہ ”پاکستان کا ایٹمی پروگرام ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا“ لیکن ان ساری خوبیوں کے ساتھ ایک خاص تھی کہ پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر 70ءکے انتخابات میں ان کی پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگا، مفتی محمود کی قیادت میں 9 سیاسی جماعتوں نے بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلائی، جس پر مذاکرات ہوئے جو کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے لیکن اچانک ڈرامائی طور پر بھٹو بیرون ملک چلے گئے۔ جب وہ واپس آئے تو ضیاءالحق نے انہیں معزول کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا اور ان پر پرانے قتل کا مقدمہ شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو دور میں میرے 2 اخبار بند ہوئے، 14 دن شاہی قلعہ اور 7 ماہ جیل میں رہا لیکن ان ساری زیادتیوں کے باوجود اس وقت ایڈیٹر کی حیثیت سے ایک آڈیٹوریل لکھا تھا کہ ”بھٹو کو پھانسی، خدارا یہ غلطی نہ کریں۔“ سپریم کورٹ کے جج نسیم حسن شاہ نے بھی بعد میں کہا تھا کہ ”ان پر بہت دباﺅ تھا، اگر برداشت کر لیتے اور پھانسی کے حق میں فیصلہ نہ دیتے تو ایک شریف آدمی بچ جاتا۔“ تجزیہ کار نے کہا کہ سیاستدان کو جسمانی سزا دینے کے اثرات ملکی سیاست پر پڑتے ہیں، پھر وہی ہوا کہ بھٹو کی پھانسی سے لے کر آج تک سندھ و پنجاب کے درمیان مستقل نفرت پائی جاتی ہے کیونکہ اندرون سندھ کے عوام آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پھانسی کا حکم پنجاب کے ججوں و جرنیلوں نے دیا۔ سیاستدان کی سیاست کا خاتمہ کبھی بھی اسے جسمانی طور پر ختم کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ بھٹو نے بہادری کے ساتھ پھانسی کو گلے لگایا۔ اس وقت بھی بھٹو کو پیشکش کی گئی تھی کہ 6,5 سال کے لئے اگر سیاست چھوڑ دیں تو سعودی عرب آپ کو باہر لے جائے گا لیکن انہوں نے ان کی پیش کش ٹھکرا دی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے کسی وزیراعظم کو بچانے کی کوشش کی ہو۔ مجھے چودھری ظہورالٰہی جو اس وقت وفاقی وزیر تھے، انہوں نے مجید نظامی مرحوم کے دفتر میں مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے ضیاءالحق اور بھٹو کو منانے کے لئے ایک وفد بھیجا تھا لیکن ذوالفقار بھٹو نہیں مانے۔ بھٹو نے معراج محمد خان اور مصطفی کھر کو اپنا جانشین قرار دیا تھا لیکن جب انہوں نے بغاوت کی تو ان دونوں کے علاوہ بہت بڑے پیمانے پر بڑے برے طریقے سے لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو پڑھا لکھا نوجوان ہے اور اس میں اپنے نانا اور والدہ کے کچھ رنگ بھی ہیں، اس سے امیدیں وابستہ ہیں لیکن جب تک پارٹی میں زرداری کی مداخلت ختم نہیں ہو گی اس وقت تک بلاول کا کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا۔ زرداری دور کوئی بہت اچھا نہیں گزرا، ان کے دو وزرائے اعظم آج بھی کرپشن کے کیسز بھگت رہے ہیں۔ آصف زرداری بھی فوج کو آنکھیں دکھا کر باہر بھاگ گئے تھے، اب کچھ سننے میں آ رہا ہے کہ ان کی سٹیبلشمنٹ سے صلح ہو گئی ہے، پہلے وہ جو دھمکیاں وغیرہ دیتے تھے اب ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ زرداری نے 3 دفعہ نوازشریف کی حکومت کو گرتے گرتے بچایا۔ انتخابات قریب آنے کی وجہ سے اب ان کے لہجے میں تبدیلی آئی ہے۔ انتخابات جب بھی ہوں میرے نزدیک ملک کی جغرافیائی صورتحال میں ماضی جیسے نتائج ہی نظر آتے ہیں۔ پنجاب میں پی پی زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی، نون لیگ کو ہی برتری حاصل رہے گی۔ سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت ”سرزمین بے آئین“ ہے۔ 9 سالوں میں پی پی کراچی سے کچرا نہیں صاف کر سکی۔ کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ کچرا اٹھانے کے نام پر پیسہ کھا لیا جاتا ہے۔ چودھری نثار کا سیکرٹری کو ہٹانے کے سوال پر تجزیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا تقریباً ہر وزارت میں ہوتا ہے۔ جو تگڑا ہوتا ہے وہ اپنی بات منوا لیتا ہے۔ امریکہ میں الطاف خانانی کو منی لانڈرنگ کیس میں 68 ماہ قید کی سزا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا نظام بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نہیں۔ ملک میں عدل و انصاف کے نظام میں بہت سارے چور دروازے، نقائص موجود ہیں۔ ضیا شاہد نے ماضی میں خود کے جیل کاٹنے کا ایک واقعہ سنارے ہوئے کہا کہ اخبار نویس ہونے کی وجہ سے حقیقت لکھنے پر بہت بار جیل کاٹی لیکن ایک بار ان کی جیل میں سیٹھ عابد کے کچھ لوگ آ گئے، رات کو ہمیں ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا جبکہ سیٹھ عابد کے لوگ ایک شاندار کمرے میں رہتے تھے، جہاں کارپٹ، ٹی وی سمیت ہر سہولت موجود تھی۔

پاک بھارت کشیدگی …. ٹرمپ میدان میں آ گئے

نیویارک، اسلام آباد، نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلے نے کہاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کرے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلے نے کہاکہ یہ بالکل درست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے اور یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہم کس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ جب سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے امریکا کوئی کردار ادا کرسکتا ہے تو انہوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مذاکرات کا حصہ بننے کی کوشش کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں کچھ ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، ہم کشیدگی دیکھ رہے ہیں، جو کسی بھی وقت مزید بڑھ سکتی ہے، لہذا ہمیں اتنا فعال ہونا چاہیے کہ ہم بھی مذاکرات کا حصہ بن سکیں ۔ نکی ہیلے نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ آپ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ارکان کو دیکھیں گے لیکن یہ بھی حیران کن نہیں ہوگا اگر اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حصہ لیں ۔ واضح رہے کہ پاک-بھارت کشیدگی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے کسی رکن کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا خیرمقدم کریں گے۔ مشیر خارجہ نے اس حوالے سے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات اور اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ دنیا اپنے مسائل بیٹھ کر حل کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟ خطے میں استحکام، پاک بھارت تعلقات اور کشمیر سمیت بنیادی ایشوز سے وابستہ ہے۔بھارت نے پاکستان پر روایتی الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک سے دہشت گردی خطے اور دنیا میں امن کیلئے واحدبڑاخطرہ ہے ، امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان پر دباﺅ ڈالے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلے کے اس بیان پر کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کرے گی کے ردعمل میں جاری کیے گئے بیان میں کہاکہ بھارتی حکومت کے اس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں حل کیا جاسکتا ہے۔ بلا شبہ ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری اور ادارے پاکستان سے فروغ پانے والی دہشت گردی سے متعلق عالمی میکنزم وضع کرینگے کیونکہ پاکستان سے دہشت گردی نہ صرف خطے بلکہ دنیا کیلئے واحدبڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان پر دباﺅ ڈالے گا جو فعال انداز میں بھارت کے مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے مابین معاملات صرف اور صرف دوطرفہ بات چیت سے ہی طے کئے جائیں گے اور اس ضمن میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس سلسلہ میں ہندوستان دہشتگردی اور تشدد سے پاک ماحول چاہتا ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان کسی بھی تیسرے ملک کی مداخلت یا ثالثی قبول نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی کمیونٹی کو خطے کو درپیش سب سے بڑے معاملے پر پاکستان کو مجبور کرنا چاہیے اور وہ ہے دہشتگردی انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان گوپال بوگلے نے کہا کہ امریکہ کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔

خواب

ڈاکٹر نوشین عمران
اوسط عمر رکھنے والے افراد اپنی زندگی کے تقریباً چھ سال خواب دیکھتے ہیں جو روزانہ تقریباً دو گھنٹے بنتے ہیں۔ خواب کا دورانیہ پانچ سے بیس منٹ ہوتا ہے۔ نیند کے پانچ مراحل کے دوران خواب آخری مرحلے میں آتے ہیں جب انکھ کی پتلیاں حرکت کرتی ہیں۔ نبض بہتر ہوجاتی ہے اور بلڈ پریشر بھی قدرے بڑھ جاتا ہے۔ خواب دراصل دماغ کے اندر بننے والے سگنل ہیں جو نیند کے آخری مرحلے REM سلیپ کے دوران دماغ کے پچھلے اور نچلے حصے میں بنتے ہیں جو حرام مغز سے رابطے میں ہے۔ البتہ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ خواب دراصل دماغ کے اگلے حصے سے شروع ہونے والے تعلق ہیں جو پچھلے اور پھر نچلے حصے تک جاتے ہیں۔ جن افراد کے سر کے اگلے حصے میں کوئی چوٹ لگی ہو انہیں خواب نظر نہیں آتے۔ رفتہ رفتہ یہ نظریہ زور پکڑتا گیا کہ خواب دراصل دماغ میں موجود بے ترتیب معلومات کو تسلسل دینے اور بے کار پڑی معلومات کو ضائع کرنے کے لیے ہیں یہ بھی خیال ہے کہ خواب کے دوران دماغ میں پڑی ماضی کی معلومات اور تجربات کو تسلسل دے کر مستقبل کا کوئی سگنل یا کسی مسئلے کا حل بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے اکثر لوگ اگر جاگتے ہیں کسی گہری سوچ یا مشکل میں ہوں تو انہیں خواب میں کوئی راستہ ضرور نظر آجاتا ہے۔ خواب رنگین ہوتے ہیں۔ البتہ بہت کم خواب ایسے ہوتے ہیں جن میں رنگ نظر نہیں آتے سوائے سفید اور کالے رنگ کے۔ دبلے پتلے افراد کو خواب زیادہ جبکہ موٹے افراد کو خواب بہت کم یاد رہتے ہیں۔ نیند کے دوران کمرہ کا درجہ حرارت جتنا کم ہو خواب اتنے ہی خوفناک نظر آتے ہیں۔ تمام خواب یاد نہیں رہتے انہیں یاد رکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ رات اپنے تکیے کے پاس کوئی کاغذ پینسل رکھ کر سوئیں۔ صبح اٹھ کر کچھ کرنے سے پہلے جو بات بھی خواب سے متعلق یاد ہو اسے لکھ لیں۔ ایسا روزانہ کریں چند دنوں میں آپ نوٹ کریں گے کہ خواب کی کافی تفصیل یاد رہنے لگی ہے۔ حتیٰ کہ رنگ بھی یاد ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ایسا کرتے رہنے سے آپ اپنے دماغ میں موجود معلومات سے فائدہ اٹھانے اور رہنمائی لینے لگیں گے اور آپ کو کئی مسائل کا حل اور مستقبل کے لیے وارننگ ملنے لگے گی۔
٭٭٭

پاک بھارت مذاکرات ….اقوام متحدہ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

نیویارک(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفنی ڈیوجیرک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کاپرامن حل تلاش کریں۔اقوام متحدہ کی گروپ کنٹرول لائن پر پاکستانی حدود کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کافوجی مبصرگروپ کنٹرول لائن پر پاکستان کی حدود میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کررہاہے۔گزشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفنی ڈیوجیرک نے معمول کی بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے مسائل کا حل واحد راستہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی ادارہ آزادکشمیر کے علاقوں ڈومل، کوٹلی اور بھمبر میں خلاف ورزیوں کی تحقیقات کررہاہے۔ٹیفنی ڈیوجیرک نے پاکستان اور بھارت پرزوردیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کاپرامن حل تلاش کریں۔

نیب کی کامیاب کاروائی ….تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن بے نقاب

راولپنڈی (ویب ڈیسک)راولپنڈی نیب نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن کے اہم ملزم کو گرفتار کرلیانیب ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر اورنگزیب کی سربراہی میں نیب کو مطلوب ملزم شیر باز احمد کی گرفتاری کےلئے راولپنڈی میں کارروائی کی گئی اس دوران گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن کا اہم ملزم اور وفاقی سیکرٹری کا خاص کارندے ملزم شیر باز احمد کو گرفتار کیا گیا ۔نیب حکام نے گرفتاری کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم گلگت بلتستان کے تمام بڑے منصوبوں کی کرپشن میں ملوث رہا ہے اور یہ وفاقی سیکرٹری گلگت بلتستان کےلئے تعینات ہے تمام کرپشن اسی کے ذریعے ہوتی تھی۔ ملزم شیر باز احمد گلگت بلتستان نیب کو مطلوب تھا جس کی گرفتاری کے لئے متعدد چھاپے مارے جا چکے تھے ۔

پاکستان ریلوے کا بڑا معرکہ

اسلام آباد / بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کا معروف ریلویز گروپ فارچون 500 کمپنی نے بھی پاکستان ریلویز کی اپ گریڈیشن کے لئے بولی دی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کمپنی ایشیاءکی سب سے بڑی عالمی انجیئرنگ پروکیورنسٹ اور کنسٹرکشن کنٹریکٹر ہے اور یہ ان چار کمپنیوں میں شامل ہے جنہوں نے 8 ارب ڈالرز کے ایم ایل ون پروجیکٹ کے لئے بولی دی ہے پاکستان ان میں سے ایک کا انتخاب کرے گا تاکہ اس پروجیکٹ کو دو مراحل میں مکمل کیا جا سکے ۔ ان کے بیجنگ ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر ان کمپنیوں کے حکام نے جنوبی ایشیاءکے صحافیوں کے گروپ کو اپنے مستقبل کے منصوبوں بارے بریفنگ دی ہے جو ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ کے تحت مکمل کئے جائیں گے ان کمپنیوں نے چین میں مکمل شدہ پروجیکٹس کا دورہ بھی کرایا ان میں دنیا کے سب سے بڑے پل ، سرنگ ، سرکیں اور بلٹ ٹرین بھی شامل تھے ۔ سی سی سی سی انٹرنیشن کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی جنرل منیجر ژومینگ کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مناسب موقعوں کے متلاشی ہیں انہوں نے کہاکہ سی سی سی سی ان چار چینی کمپنیوں میں شمال ہے جو ایم ایل ون پروجیکٹ کے لئے مسابقت کر رہی ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری کمپنی پاکستان میں مناسب ریلویز انفراسٹرکچر کی تعمیر کی ا ہلیت رکھتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی پاکستان میں اب چیلنج نہیں ہے اور کمپنی کو گزشتہ دو سالوں کے کام کے دوران کوئی بڑا حادثہ درپیش نہیں آیا ۔ انہوں نے پاکستان میں بڑے سی پیک پروجیکٹس میں چینی باشندوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ دریں اثناءوفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ ایم ایل ون پروجیکٹ کے مالیاتی معاہدے پر دستخط اگلے ماہ ہوں گے ۔#/s#(جاوید)

بھارتی جاسوس گرفتار

دبئی(ویب ڈیسک) بھارتی خفیہ ایجنسیاں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں، دبئی اور ابو ظہبی سے متعدد بھارتی جاسوس گرفتار ہوئے جو اب قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹس پورے خطے میں جاسوسی کرتے پائے گئے ہیں۔ دبئی اور ابو ظہبی میں کئی بھارتی شہری جاسوسی کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں۔ منار عباس فوجی نقل و حرکت کی خبر بھارتی ایجنسی کو فراہم کرتا تھا جس کو 14دسمبر 2016ئ کو پورٹ زید ابو ظہبی سے گرفتار کیا گیا جس پر دبئی کی عدالت نے منار عباس کو 5 سال قید کی سزا سنائی۔ محمد ابراہیم دبئی پورٹ سے جاسوسی کے الزام میں 2015ئ میں گرفتار ہوا جس کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ حیدر آباد کا محمد عظمت اللہ ابو ظہبی کے پورٹ زید سے 14 جولائی 2016ئ کو گرفتار ہوا جسے خاندان سمیت بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار تناراسو اور ارمغان کا تعلق تامل ناڈو سے ہے جو ابوظہبی میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئے۔

وینا ملک کی شوبز میں دھماکہ دار انٹری

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی اداکارہ وینا ملک نے شوبز انڈسٹری میں واپسی کے اعلان کے بعد اپنے نئے گانے کا ٹیزر بھی جاری کر دیا ہے۔ یہ ٹیزر ایک ملی نغمے کا ہے جس کا ٹائٹل ”دشمن وطن“ ہے اور اس میں وینا ملک کو سفید کپڑوں میں ملبوس دیکھا جا سکتا ہے۔وینا ملک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پر نئی تصاویر جاری کرنے کے علاوہ ٹیزر بھی جاری کیا۔ انہوں نے اپنی تصاویر کے ساتھ پیغام جاری کیا کہ ”موسیقی مجھے صرف مضبوط بناتی ہے۔“ وینا ملک نے اپنا یوٹیوب چینل بھی لانچ کیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی واپسی کریں گی۔