عمران خان کون ؟, میں نہیں جانتا, کسی سنجیدہ شخص کی بات کریں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے عمران خان کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا اور صحافی کے سوال پر حیران کن جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کون ہے؟میں نہیں جانتا اور کسی سنجیدہ شخص کی بات کریں۔ تفصیلات کے مطابق سپیکر ایاز صادق نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آرمی چیف کو ملنے گئے جو کہ اچھی بات ہے اور آرمی چیف سے کوئی بھی مل سکتا ہے۔ انہوں نے پانامہ کیس کے فیصلے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور عدالتی فیصلے کو مانیں گے۔ ہمیں عدلیہ اور اس کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے،اپیل کا اختیار سب کے پاس ہے ہمیں وہ حق اختیار کرنا چاہیے۔ سردار ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ برطانوی وفد پاکستان آیا ہے اور اس وفد نے مسئلہ کشمیر برطانیہ میں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے مفید ہے،سپیشل صنعتی زونز میں انڈسٹری لگانیوالوں کو مراعات دیں گے،اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آرہی ہے،اس سے پہلے چین کی سرمایہ کاری پہلے کیوں نہیں آئی۔

مارشل لاو¿ں نے تباہی مچاہی, مگر سیاستدانوں نے کیا کِیا؟, وزیراعلیٰ کا اہم بیان

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ70سال مےں اشرافےہ نے ملک کے ساتھ جوگھناو¿نا کھےل کھےلا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان مےںلگنے والے تےن مارشل لاز نے ملک کی تباہی کی جبکہ سےاستدانوں سے بھی بڑی غلطےاںہوئےں۔کرپشن ،نااہلی اورغےر پےشہ ورانہ رویوں کے باعث ملک کو بے پناہ نقصان ہوا۔اب ماضی کی غلطےوں اورکوتاہےوں پررونے دھونے کا کوئی فائدہ نہےں بلکہ ان سے سبق سےکھ کر آگے بڑھنا ہے اوردکھی قوم کے زخموں پر مزےد نمک پاشی کی بجائے مرہم رکھنا ہے اور اس مقصد کےلئے محنت، امانت اوردےانت جےسے سنہری اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ ان اصولوں کو اختےار کےے بغےر پاکستان آگے نہےں بڑھ سکتا۔ ترقی کے لحاظ ہم سے پےچھے رہ جانےوالے ملک آج آگے نکل چکے ہےں جو ہمارے لئے لمحہ فکرےہ ہے۔ پاکستانی قوم بڑی باصلاحےت، جفاکش اور محنتی ہے ۔ےہاں قابل سےاسی اذہان اورہر شعبے کے ماہرےن موجود ہےں۔ آئےں ملکرماضی کی غلطےوں کا تجزےہ کرکے ان غلطےوں سے سبق حاصل کرےںاورپاکستان کو بےن الاقوامی برادری مےں باوقار مقام دلانے اور اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کےلئے ملکرآگے بڑھےں۔ وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے ان خےالات کا اظہار آج مقامی ہوٹل مےں ”پنجاب اکنامک فورم 2017ئ“ کے افتتاحی سےشن سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔ سابق گورنر سٹےٹ بےنک ڈاکٹر عشرت حسےن اورماہرےن اقتصادیات نے بھی فورم سے خطاب کےا۔ وزےراعلیٰ نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مےں شاندار اکنامک فورم کے انعقاد پر صوبائی وزےر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات، حکومت پنجاب اور منتظمےن کودل کی اتھاہ گہرائےوں سے مبارکباد دےتا ہوں۔ اکنامک فورم کے انعقاد سے اےک اےسا پلےٹ فارم مہےا ہوا ہے جہاں معاشی ترقی کو درپےش چےلنجز اور رکاوٹوں کے بارے مےں کھل کر بات چےت کا موقع ملے گا اور معاشی ترقی کے حوالے سے آگے بڑھنے کےلئے سود مند تجاوےزاور آراءسامنے آئےں گی۔ معاشی پالےسےوں کی تشکےل اور اداروں مےں اصلاحات کے حوالے سے مفےدخیالات، تجاویز اور سفارشات مرتب ہوں گی۔ ماہر ےن معاشےات کے تجربات اورسفارشات کی روشنی مےں معاشی ترقی کے حوالے سے اقدامات کےے جائےں گے۔ انہوںنے کہا کہ ےہ ہم سب کے لئے لمحہ فکرےہ ہے کہ 1979ءمےں پاکستان کی فی کس آمدنی چےن سے زےادہ تھی اورمعاشی لحاظ سے پاکستان چےن سے آگے تھا۔ آج ہمارا دوست ملک چےن دنےا کی بڑی معاشی قوت بن چکا ہے ،اسی طرح بنگلہ دےش جسے بوجھ سمجھ کرسرسے اتاراگےا تھا،وہ بھی ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ گزشتہ 70برس مےں اس ملک و قوم کےساتھ جو کچھ ہوا ہے تاہم اس سے ماےوس ہونے کی ضرورت نہےںقوم بہت باصلاحےت ہے۔ ماضی کے سےاسی، جغرافےائی اور فوجی ادوار کے ہچکولوں اور دھچکوں کے باوجود پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ موذی بےماری کی وجوہات کا جائزہ لےا جائے اور دےکھا جائے کہ اس کےلئے اےنٹی با ئیوٹک کی ضرورت ہے ےا پھر سرجری کی۔ ہمےں اس ضمن مےں سوچ سمجھ کر پےش رفت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزےراعظم نوازشرےف کی قےادت مےں توانائی بحران کے خاتمے کےلئے جو مخلصانہ کاوشےں کی جارہی ہےں وہ سب کے سامنے ہےں۔ وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت اپنے وسائل سے گےس کی بنےاد پر 3600 مےگاواٹ کے منصوبے لگارہی ہے اوران منصوبوں مےں غرےب قوم کے 112ارب روپے بچائے گئے ہےں۔ ہمارے ٹےنڈرنگ کے شفاف عمل کے باعث نےپرا بھی گےس کی بنےاد پر لگنے والے منصوبوں کا ٹےرف ساڑھے دس سےنٹ فی ےونٹ سے کم کر کے ساڑھے چھ سےنٹ لانے پر مجبور ہوا ہے اور اس کا فائدہ ملک کی صنعت، زراعت، تجارت اورصارفےن کو ہوگا۔ دوسری مثال اورنج لائن مےٹروٹرےن کے منصوبے کی ہے جس مےں غرےب قوم کے 80ارب روپے بچائے گئے ہےں۔ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کے معاہدے مےں قانون کے مطابق منصوبے کی بڈنگ کا عمل نہےں ہوتا۔ ملک کی 70سالہ تارےخ مےں پہلی بار اورنج لائن جی ٹو جی منصوبے مےں ٹےنڈرنگ کی گئی۔کم بولی دےنے والی چےنی کمپنی سے بات چےت کے ذرےعے اس منصوبے مےں مزےد 80ارب روپے کی کمی کی گئی۔ پےپرا رولز کے مطابق کم بولی دےنے والی کمپنی کو ٹھےکہ دےا جاتا ہے لےکن پنجاب حکومت نے صوبے کے کی خاطر اس منصوبے مےں چےنی کمپنی سے بات چےت کر کے لاگت مےںمزےد کمی کرائی۔ منصوبے کی بڈنگ 2.12 ارب ڈالر سے کم کر کے 1.46ارب ڈالر تک لائے۔ اےک طرف تو قومی وسائل بچانے کی ےہ شاندار مثالےں ہےں لےکن دوسری جانب صاف پانی پروگرام مےں80ارب روپے کو کرپشن کی نذر ہونے سے بچاےاگےا اور آخری وقت میں علم ہونے پر یہ کرپشن روکی گئی۔ اس پروگرام کا تخمینہ جات کی لاگت کو جان بوجھ کر بڑھایا گیا۔ اس پاکستان میں ایک طرف وہ سمندر بہتا ہے جہاں صاف پانی چلتاہے اور دوسری طرف وہ سمندر ہے جہاں گندا پانی بہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے عوام کو پےنے کے صاف پانی کی فراہمی بڑا چےلنج ہے اور عوام کو بےمارےوں سے محفوظ بنانے کےلئے پےنے کے صاف پانی کی فراہمی ےقےنی بنانا ضروری ہے اوراس منصوبے مےں غرےب قوم کے خون پسےنے کی کمائی لٹنے کے عمل کو روکا گےا۔ٹےنڈرنگ کے عمل مےں کنٹری رسک فیکٹر کی شرح 9فےصد رکھی گئی حالانکہ ےہ سارا پےسہ پنجاب حکومت کا تھا اس مےں کنٹری رسک فیکٹرکی مد مےں پےسے رکھنے کا سوال ہی پےدا نہےں ہوتا۔ اگر اس کا ٹھےکہ اسی طرح دے دےا جاتا تو غرےب قوم کے 80سے 90ارب روپے کرپشن کی نذر ہوجاتے ۔نےلم جہلم پاور پراجےکٹ 80ملےن ڈالر سے پانچ ارب ڈالرتک پہنچ چکا ہے لےکن ابھی بھی نامکمل ہے ۔اسی طرح نندی پور پاور پراجےکٹ 30ارب سے 54ارب ڈالر مےں لگا۔ان خرابےوں کے ذمہ دار مہران کی وادےوں مےں بسنے والے ہاری نہےںاورنہ ہی پنجاب ، سندھ اور خےبر پختونخوا مےں رہنے والے غرےب عوام ہےں ۔ایک طرف آج کا شفاف پاکستان ہے او ردوسری طرف ماضی کا کرپٹ پاکستان۔قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ملک کی اشرافےہ ہے ۔ قومی وسائل کی بے دردی سے لوٹ مار اورکرپشن کے باعث ملک کی بنےادےں کھوکھلی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ 2007ءمےں جب الےکشن قرےب تھا تو سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے ڈکٹےٹر مشرف نے دےا مےر بھاشا ڈےم کا سنگ بنےاد رکھ کر قوم کو دھوکہ دےا اس منصوبے سے چار ہزار مےگاواٹ بجلی حاصل ہونا ہے لےکن ڈکٹےٹر نے منصوبے کی اہمےت کو نظر انداز کرتے ہوئے منصوبے کےلئے زمےن حاصل کےے بغےر اس کا سنگ بنےاد رکھ کر قوم کےساتھ فراڈ کےا ۔وزےراعظم نوازشرےف کی حکومت نے اب اس منصوبے کےلئے 66ارب روپے ادا کر کے زمےن خرےدی ہے ۔اسی طرح دورآمرےت مےںچنےوٹ کے خام لوہے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھےکہ اےک اےسی جعلی کمپنی کوبغےر ٹےنڈرنگ کے دےا گےا جو اس کا کوئی تجربہ نہےں رکھتی تھی۔زمےن مےں پوشےدہ اربوں کھربوں روپے کے خزانے ڈکٹےٹر نے اپنے چےلوں کودےنے کی کوشش کی اورمشرف کے اس وقت کے پنجاب میں چیلوں نے اس منصوبے کو جعلی کمپنی کے سپرد کیااور جب ہماری حکومت آئی تو ہم اسے عدالت مےں لے گئے اورہم نے تےن سال کی جدوجہد کے بعد عدالتی جنگ جےتی اورہائےکورٹ نے اپنے فےصلے مےں ذمہ داروں کو نےب کے حوالے کرنے کا لکھا۔ہم نے اب چنےوٹ کے ذخائر کا سو فےصد تخمےنہ لگالےا ہے اوراگر ہم اس خام لوہے کو استعمال کےے بغےر برآمد ہی کرتے رہےں تو سالانہ اربوں روپے کماسکتے ہےں۔انہوںنے کہا کہ بلوچستان مےں رےکوڈک کے ذخائر موجود ہےں لےکن بدقسمتی ہے کہ اس مےں سے اےک دھےلے کا بھی فائدہ بلوچستان ےا پاکستان کے عوام کو نہےں پہنچا ہے بلکہ خدشہ ہے کہ کہےں پاکستان کو اس منصوبے کے حوالے سے اےک ارب روپے کا تاوان نہ ادا کرنا پڑجائے۔انہوںنے کہا کہ بلوچستان مےں درےافت ہونےوالے خزانے کو ملک کی تعمےرو ترقی اور خوشحالی کےلئے استعمال مےں لاےا جانا تھا لےکن بدقسمتی سے ےہ منصوبہ بھی کرپشن ،نااہلی اورغفلت کی نذر ہوا ۔انہوںنے کہا کہ کسی بھی منصوبے کو کامےابی سے آگے بڑھانے کےلئے مناسب ہےومن رےسورس ضروری ہوتا ہے ۔اس کے بغےرمنصوبہ صحےح طورپر آگے نہےں بڑھ سکتا۔انہوںنے کہا کہ آج کا اکنامک فورم انتہائی اہمےت کا حامل ہے ،اس پلےٹ فارم سے ملک کو معاشی طورپر مضبوط بنانے ،پاکستان کو اپنے پاو¿ںپر کھڑا کرنے ،کشکول گدائی توڑنے اور عوام کی خوشحالی و ترقی کےلئے ٹھوس تجاوےز اورسفارشات سامنے آئےںگی جس کی روشنی مےں معےشت کی بہتری کےلئے اقدامات اٹھائے جائےں گے۔سابق گورنرسٹےٹ بےنک اورمعروف ماہراقتصادےات ڈاکٹر عشرت حسےن نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مےں وزےراعلیٰ شہبازشرےف کی ولولہ انگےز قےادت سے بہت متاثر ہوںاوران کی معاشی پالےسےاں اوراصلاحات کا پروگرام قابل ستائش ہے ۔انہوںنے کہا کہ شہبازشرےف جےسے رہنماءملک کو مل جائےں تو ہمارے مسائل حل ہوسکتے ہےں ۔انہوںنے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اوراکنامک گورتھ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مضبوط سےاسی و معاشی ادارے ترقی کے عمل کو تےزکرسکتے ہےں ۔صوبائی وزےرمنصوبہ بند ی و ترقےات ملک ندےم کامران نے خطبہ استقبالےہ پےش کرتے ہوئے پنجاب اکنامک فورم کو صوبے کے سماجی و اقتصادی ترقی کے حوالے سے سنگ مےل قرار دےا۔چےئرمےن منصوبہ بندی و ترقےات جہانزےب خان نے پنجاب اکنامک فورم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ماہر معےشت پروفےسر ڈاکٹر سہےل جہانگےر نے معےشت کو درپےش مسائل چےلنجز اور معاشی ترقی کی رفتار کے حوالے سے گفتگو کی۔صوبائی وزراء،اراکےن قومی وصوبائی اسمبلی،رےسرچرز، صنعتکاروں، تاجروں اورمعےشت کے طلباءو طالبات نے فوم مےں بڑی تعداد مےں شرکت کی۔ وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف سے یہاں برطانیہ کی پارلیمنٹ کے 7رکنی وفد نے برطانوی پارلیمنٹرین رحمان چشتی کی قیادت میںملاقات کی،جس میں باہمی دلچسپی کے امور،پاک برطانیہ تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔ برطانوی پارلیمنٹرین رحمان چشتی نے اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ برطانیہ پاکستان میںجمہوریت کی حمایت کرتاہے او رکرتا رہے گا۔ وزیراعلی محمد شہبازشریف نے حقیقی معنوں میں عملی کام کر کے دکھایا ہے۔ شہبازشریف نے کئی شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور انہوں نے ایک لیڈر کا کردار صحیح معنوں میں نبھایا ہے۔حکومت کے اچھے اقدامات کے باعث پاکستان میں صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ تعلیم ،صحت اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے لئے مزید اقدامات کرنے ہیں۔پاکستان اور برطانیہ کے پارلیمنٹرین کے وفود کے زیادہ تبادلو ں سے تعلقات کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کو سراہتے ہیں۔وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے برطانوی پارلیمنٹ کے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیںاور دنوں ملک ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اہم شراکت دار ہیں۔تعلیم ، صحت اور سکل ڈویلپمنٹ کے شعبے میں برطانیہ کے بین ا لاقوامی ترقی کے ادارے کا تعاون لائق تحسین ہے اور برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے ڈیفڈ کے تعاون سے تعلیم،صحت اور سکل ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں کامیابی سے پروگرام چل رہے ہیں۔ صوبائی وزراءرانا ثناءاللہ، رانا مشہود احمد، ملک ندیم کامران، شیخ علاﺅالدین، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، مشیر ڈاکٹر عمر سیف، رکن قومی اسمبلی پرویز ملک، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سابق گورنر سٹےٹ بےنک اور معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عشرت حسےن نے پنجاب اکنامک فورم2017ءکی افتتاحی تقریب کے دوران اپنے کلےدی خطاب میںوزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی لیڈر شپ کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مےں وزےراعلیٰ شہبازشرےف کی ولولہ انگےز قےادت سے بہت متاثر ہوں۔ ڈاکٹر عشرت حسےن نے وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شرےف کی معاشی پالےسےوں اوراصلاحات کی تعرےف کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشرےف جیسے رہنماءملک کو مل جائےں تو ہمارے مسائل حل ہوسکتے ہےں، صوبے کی معیشت میں جامع اصلاحات کے حوالے سے شہباز شریف نے دن رات کام کیا ہے اور وزےراعلیٰ شہباز شرےف نے شاندار اقدامات کر کے معےشت کو مضبوط بنانے مےں نماےاں کردارادا کےا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل میں بیرون ملک تھا تو مجھے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا فون آیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے آپکی کتاب پڑھی ہے جس میں آپ نے معیشت کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بہت شاندار انداز میں اپنے خیالات درج کیے ہیںاور میں چاہتا ہوں کہ آپکے ساتھ مل کر ان پر عملدرآمد کیا جائے اور جب میں پاکستان واپس آیا تو میری وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات ہوئی اور مجھے انتہائی خوشی ہوئی کہ وہ سچے دل کےساتھ معیشت کو مضبوط بنانے کےلئے کام کر رہے ہیں اور انتہائی مصروف ہونے کے باوجود انہوں نے نہ صرف میری کتاب پڑھی بلکہ میرے ساتھ ملاقات کی اور مستقبل کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ شہباز شریف ایک ایسے لیڈر ہےں جو کہ حقیقی معنوں میں معاشی اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے عوام کےلئے کچھ کر گزرتے ہیں۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے وےسٹ انڈےز کےخلاف ٹی 20سےرےز جےتنے پر پاکستان کی کرکٹ ٹےم کو مبارکباد دی ہے۔ وزےراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑےوں نے ٹی 20کے عالمی چےمپئن کو انکے ہوم گراو¿نڈ مےں شکست دےکر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کےا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخری ٹی 20 میچ میں پاکستانی ٹےم نے ہر شعبے مےں وےسٹ انڈےز کو آو¿ٹ کلاس کےا ہے، بلاشبہ قومی کرکٹ ٹےم کے کھلاڑےوں کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہاکہ امےد ہے کہ دےگر مےچوں مےں بھی پاکستانی ٹےم اسی محنت اور جذبے سے کھےل کرفتح حاصل کرے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں لودھراں ، خانیوال دو رویہ سڑک اور جی ٹی روڈ ایکسپریس وے شاہدرہ تا کالا شاہ کاکوکے منصوبوں کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لودھراں سے خانیوال تک دو رویہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے شاندار تحفہ ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے اس بڑے منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت نیازی چوک خانیوال پرانٹرچینج جبکہ میتلا چوک پرفلائی اوور بنے گا اور اس منصوبے پر کام اعلی معیار کا ہو گا ، یہ منصوبہ بھی شفافیت اور تیز رفتاری سے تکمیل کا شاہکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید انفراسٹرکچر معاشی سرگرمیوں اور کاروباری مواقع بڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں سڑکوں، فلائی اوورز ، انڈرپاسزاور پلوں کا جال بچھا دیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، رفتار اور معیار پنجاب حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔ لودھراں، خانیوال دو رویہ سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن ہو گی۔ وزیر اعلی نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے مقامی انتظامیہ پوری سپورٹ فراہم کرے اور زمین کے حصول یا دیگر امور میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ راوی پل سے کالا شاہ کاکو تک6 کلو میٹر ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے بنایا جائے گا۔ ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے پر میٹروبس بھی چلے گی۔ میٹرو بس کے 5سٹیشن بنائے جائیں گے۔ ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے بننے سے ٹریفک کے بہا¶ میں بہتری آئے گی اور علاقے کے عوام کو ٹریفک جام کے مسائل سے نجات ملے گی۔انہوں نے کہا کہ شاہدرہ چوک میں انٹر چینج بنے گا، یہاں انڈرپاسز بھی بنائے جائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ دیگر منصوبوں کی طرح ان منصوبوں کو بھی دیدہ زیب بنانے کے لئے ہارٹیکلچر کا بہترین پلان بنایا جائے اوردریائے راوی پر بنائے گئے نئے پل کی توسیع کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اس منصوبے کو اسی سال مکمل کرنے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے دونوں منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزراءرانا تنویر حسین ، شاہد خاقان عباسی، صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ کمشنر ملتان، لودھراں، خانیوال اور وہاڑی کے ڈپٹی کمشنرز ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

آرمی چیف کی اہم امور پربرطانوی عسکری قیادت اور امریکی جنرل سے ملاقاتیں

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ کے دورے کے دوران سیاسی وعسکری حکام سے ملاقاتیں کیں اس موقع پرانہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لئے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ سی پیک کو معاشی یا اقتصادی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کیلئے دونوں ممالک کا کردار انتہائی اہم ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دورہ برطانیہ کے دوران اہم ملاقاتیں کیں۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا برطانوی وزارت دفاع کا دورہ کیا ۔ برطانوی سی جی ایس جنرل نک کارٹر نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو گارڈ آف آرنر بھی پیش کیا گیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانوی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سرنک کارٹر، برطانوی ایئر چیف مارشل سر اسٹورڈ پیچ اور افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون پرحکومت برطانیہ کاشکریہ ادا کیا جب کہ برطانوی حکام کو افغان بارڈر مینجمنٹ کے لئے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہاکہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے۔ سی پیک کو معاشی یا اقتصادی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں امن مشترکہ مفاد ہے، پاک افغان سرحد پر سیکورٹی کیلئے دونوں ممالک کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ ملکر امن کیلئے کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو سرحد پر سیکورٹی کے مسئلے پر زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ آرمی چیف نے ملاقاتوں میں پاک افغان سرحد پر سیکورٹی انتظامات کی بہتری کیلئے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

بھٹو کی برسی….تیاریاں مکمل….جلسہ گاہ کو پرچموں سے سجادیاگیا

لاڑکانہ(بیورورپورٹ) سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 38 برسی آج چار اپریل کو انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے جس کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ شہدا کے مزار اور جلسہ گاہ کو بئنرز اور پارٹی پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں کارکنان کے بیٹھنے کے لئے 42 کیمپس لگاکر کالین بچھائے گئے ہیں۔ مزار کے چار مرکزی گیٹس پر واک تھرو گیٹس بھی لگائے گئے ہیں۔ کمشنر لاڑکانہ عباس بلوچ کے مطابق برسی پر پہلے سے بہتر انتظامات کئے گئے ہیں۔ برسی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کرتے ہوئے 6800 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ جلسہ گاہ میں مختلف محکموں کے جانب سے استقبالیہ اور میڈیکل کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی ضلع لاڑکانہ کے صدر عبدالفتاح بھٹو کے مطابق برسی پر پارٹی کے ایک ہزار رضاکار بھی سیکیورٹی کے انتظامات سنبھالینگے۔ دوسری جانب برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنما بھی نوڈیرو پہنچ چکے ہیں۔سابق صدرآصف علی زرداری نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کی مفاہمت کوکمزورسمجھنے والوں کوانتخابات میں پتہ چل جائے گا،بھٹوازم کوختم کرنے کی سوچ رکھنے والے خودریزہ ریزہ ہوجائیںگے ،شہیدذوالفقارعلی بھٹوکی برسی سے قبل پارٹی کااجلاس آصف علی زدراری کی زیرصدارت ہوا،اجلاس میں عام انتخابات میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کافیصلہ کیاہے ،آصف زرداری نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی مفاہمت کوکمزوری سمجھنے والوں کوانتخابات میں پتہ لگ جائے گا۔انہوںنے کہاکہ بھٹوازم ایک سوچ کانام ہے ،بھٹوازم کوختم کرنے کاسوچنے والے خودریزہ ریزہ ہوجائیں گے لیکن اس سوچ کوختم نہیں کرسکتے ،مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کوایٹمی طاقت بھٹونے بنایا،بھٹوکوشہیدکرنےو الوں نے جمہوریت کے خلاف سازش کی ،ہم نے بھٹوکے مشن کوبرقراررکھااورجمہوریت کومضبوط کیا،جمہوریت کی مضبوطی کے لئے جانیں قربان کیں۔انہوںنے کہاکہ بے نظیربھٹونے کہاتھاکہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے پہلے براہِ راست منتخب وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 38 ویں یومِ شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ شہید بھٹو کا وژن تھا کہ انھوں نے پاکستانی عوام کو سیاسی طاقت کا منبع بنایا لیکن جو بات سوہانِ روح بن گئی ہے کہ وہ یہ ہے کہ سیاسی طاقت عوام کے ہاتھوں سے نکل کر غیر منتخب عناصر کومنتقل ہو رہی ہے۔ عظیم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس منتقلی کو روکا جائے اور اسے منتخب نمائندوں کو واپس کروایا جائے۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ خود کو طاقت کا سر چشمہ عوام ہے کے نظریہ کے لئے وقف کر دیں اور طاقت ووٹ کی پرچی سے آنی چاہئے نہ کہ گولی سے۔ شہید بھٹو وہ غیر معمولی لیڈر تھے کہ جن سے ملنے والا معمولی شخص بھی غیر معمولی بن گیا۔ انھوں نے عوام کو جگایا، انھیں امید دلائی اور اپنے پیروکاروں کےلئے مستقبل کے لئے راستے کو روشن کر دیا۔ بھٹو شہید مینارہءروشنی، امیدکی کرن اور متاثر کرنے والی شخصیت تھے اور وہ ملک کی تاریخ میں ہمیشہ قد آور شخصیت رہیں گے۔ متفقہ آئین دے کے انھوں نے ملک کواندرونی خطرات سے تحفظ دیا۔ افواجِ پاکستان کو مظبوط کر کے انھوں نے ملک کو بیرونی خطرات سے تحفظ دیا۔ تاریخ کے صفحات میں وہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔ آج کے روز ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندوں کی سازشیں متحد ہو کر ناکام بنائیں گے جو ہماری ریاست کے سیاسی ڈھانچے کو تباہ کرنا کرنا چاہتے ہیں۔ آج ہم یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ جمہوریت کے لئے خود کو وقف کریں گے اور ان سب لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنھوں نے جمہوریت کے لئے جلا وطنی اختیار کی، تشدد جھیلا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پےپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ شہید بھٹو کے مشن کے سامنے حائل کی گئی تمام رکاوٹیں و مشکلات عوام کی مدد سے دور کی جائینگی،شہید بھٹو کا قتل و محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہمیں اپنے مشن سے ہٹا نہ سکیں، تو انتقامی کارروایاں، بھیانک الزامات و سازشیں کیسے روک سکتی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو برسی پر اپنے پیغام مےں انہوںنے کہاکہ ایک جمہوری، مساوات پرمبنی، ترقی پسند، پرامن اور مثالی مسلم مملکت، جہاں شہریوں کو برابری کے بنیاد پر حقوق حاصل ہوں، بھٹو کا فلسفہ تھاآج بھی اسی فلسفہ کی آمریتی، سیاسی شارک مچھلیوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کی جانب سے انتقامی کارروایوں اور صریحا پروپیگنڈہ کی صورت میں سخت مزاحمت کی جاتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ شہید بھٹو کے مشن و نظریہ کی طاقت کا نتیجہ ہے کہ ان کو 38 سال قبل عدالتی قتل کرنے کے باوجود ان کے پیروکاروں میں جرئت و جذبہ آج بھی غیرمتنرلزل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پاکستانی عوام اور دنیا انتظار میں ہے کہ شہید بھٹو کے عدالتی قتل پر نظرثانی کے متعلق صدارتی ریفرنس کی شنوائی کب شروع ہوگی۔ بھٹو ازم پارٹی قیادت و کارکنان کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ بھٹو ازم کیخلاف آمریتوں کے بنائے ہوئے بیانیئے ایک دن دم توڑ دینگے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی کا شرمناک کردار متحدہ ارب امارات میں ”را“ کے جاسوسوں کوسزا

دبئی (نیٹ نیوز) متحدہ عرب امارات میں را کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے گلف نیوز اور بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری منار عباس کو 14 دسمبر2016ءکو سزا سنائی گئی سپریم کورٹ آف یو اے ای نے جاسوسی کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنائی تھی اسے فوجی تنصیبات اور جہازوں بارے حساس معلومات ابوظہبی میں بھارتی سفارتخانے میں را کے ایجنٹوں کو فراہم کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کا ایک شہری محمد ابراہیم جو منیٰ، شیخ زائد گہرے پانی کی بندرگاہ میں موجود بحری جہازوں کے بارے میں اہم معلومات منتقل کرنے میں ملوث پایا گیا تھا اُسے اکتوبر 2015ءمیں گرفتار کیا گیا جبکہ 14 دسمبر 2015ءکو یو اے ای کی ایک عدالت نے اُسے 10 سال سزا سنائی تھی۔ ابراہیم ”را“ کے ایجنٹوں اجا کمار اور رُدناتھ جوہا کو اہم معلومات دیتا تھا۔ جبکہ بھارتی شہر حیدرآباد کے محمد عظمت اللہ خان جو پورٹ زائد ابوظہبی میں ملازم تھا، کو بھی جاسوسی کے الزام میں 14 جولائی 2014ءکو پکڑا گیا وہ فوجی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے میں ”را“ کے حکام کو حساس معلومات پہنچاتا تھا۔ وہ دو ہفتے سے زائد پولس تحویل میں رہا۔ بعد ازاں اُسے خاندان کے ساتھ بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

عوام کیلئے بڑی خوشخبری, خواجہ آصف نے لوڈشیڈنگ بارے بڑا اعلان

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں ¾ رواں ماہ اپریل کے اختتام پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ختم ہو جائیگا ¾دس سے بارہ گھنٹے وہاں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جہاں ریکوری نہیں ہورہی ¾آئندہ چند ماہ میں پن بجلی کی پیداوار میں 1500 میگاواٹ اضافہ ہوگا ¾مئی میں ملک میں ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی ¾31 مارچ تک گردشی قرضے 385 ارب روپے تھے، جن کی ادائیگی کا خصوصی آڈٹ ہوچکا ہے ¾ اب ان قرضوں کی ادائیگی کا باب بند ہوگیا ہے۔ پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہاکہ مختلف شہروں میں گزشتہ سال اپریل کے مقابلے میں رواں برس درجہ حرارت زیادہ ہے۔لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ دس بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ وہاں کی جارہی ہے جہاں سے 90 فیصد ریکوری نہیں ہورہی۔ انہوںنے کہا کہ رواں سال اپریل میں بجلی کی پیداوار 12 ہزار 550 میگاواٹ ہے اور 2016 سے اب تک بجلی کی پیداوار میں ایک ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے، پن بجلی کی پیداوار 2 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے جبکہ آئندہ چند ماہ میں پن بجلی کی پیداوار میں 1500 میگاواٹ اضافہ ہوگا۔بجلی کی پیداوار کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آزاد توانائی پروڈیوسرز (آئی پی پیز) پیر کو12 بجے تک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہی تھیں جبکہ ہماری اپنی کمپنیاں 2836 میگاواٹ ریکارڈ بجلی پیدا کررہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت بجلی کی طلب 17 ہزار 140 میگاواٹ ہے اور اپریل کے اختتام سے پہلے لوڈشیڈنگ کو شہری علاقوں میں 3 اور دیہی علاقوں میں 4 گھنٹے پر لے آئیں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق مئی میں ملک میں ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی۔گردشی قرضوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ 31 مارچ تک گردشی قرضے 385 ارب روپے تھے، جن کی ادائیگی کا خصوصی آڈٹ ہوچکا ہے اور اب ان قرضوں کی ادائیگی کا باب بند ہوگیا ہے۔گرمی کی حالیہ لہر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہاکہ گذشتہ ماہ مارچ کے آخری دنوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچ گیا، پشاور کے درجہ حرارت میں 10، اسلام آباد میں 8 اور ملتان کے درجہ حرارت میں 5 ڈگری کا اضافہ ہوا، جس کے باعث پن بجلی کی پیداوار ایک ہزار میگاواٹ کم ہوگئی۔انہوںنے کہاکہ ملک بھر میں بجلی کی چوری میں کمی اور ریکوری میں بہتری آئی ہے۔نیلم جہلم منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ رواں برس نومبر تک یہ غلط فہمی دور ہوجائےگی کہ یہ منصوبہ ناکام تھا اور اگلے سال کے اوائل میں اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہوجائےگا جبکہ 2018 کے بارشوں کے موسم میں یہ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہوگا۔وزیر پانی وبجلی نے کہاکہ معمول کی مرمت کے لئے ہمارے 1200 میگاواٹ کے پلانٹس بھی بند ہیں جن کی مرمت کا کام جاری ہے اور یہ پلانٹس ایک ماہ بعد فعال ہو جائیں گے جس کے بعد 1200 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آ جائے گی انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد عوام کو سستی بجلی فراہم کرنا ہے جس کے لئے پانی، ہوا، گیس اور کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے اور اس سے سستی بجلی کی پیداوار یقینی بنائی جا سکے گی۔ حکومت عوام کو سستی اور وافر بجلی فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، توقع ہے کہ 2018ءکے آغاز پر اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں بجلی چوری کی شکایات ہیں۔ جن علاقوں میں بجلی کی چوری کی شکایات زیادہ ہیں، وہاں لوڈ شیڈنگ کا تناسب بھی ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔

”20افراد کا قاتل دھڑلے سے کہہ رہا ہے سب کو زندہ کردوں گا کیا یہ خدائی کا دعویٰ نہیں“ نامور تجزیہ کا رضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سرگودھا میں پیش آنے والا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے، زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین کوئی قانونی کارروائی کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ ہم لاکھ کہتے رہیں کہ خواندگی بڑھ رہی ہے لیکن یہ آنے والادن بتاتا ہے کہ جہالت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تعلیم نے بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑا، عام طبقات کی بات چھوڑیں ہمارے تو اعلیٰ تعلیم یافتہ حکمران بھی پیر صاحبان کے پاس جا کر چھڑیاں کھانا باعث سعادت اور اقتدار کی طوالت کا باعث سمجھتے ہیں۔ کراچی میں متعدد افراد کو ٹرنکوں میں بند کر کے لہروں کے سپرد کر دیا گیا کہ کربلا شریف جا پہنچیں گے اور وہ سارے مارے گئے۔ اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں تاہم آج تک ان کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا نہیں سنا۔ سانحہ سرگودھا کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کا سابق افسر اب بھی دھڑلے سے کہہ رہا ہے کہ 20 افراد کے مارنے پر کوئی شرمندگی نہیں یہ سب زندہ ہو جائیں گے۔ ایک دعویٰ تو نبوت کا ہوتا ہے لیکن یہ دعویٰ تو خدائی کا ہے۔ کوئی کپڑے اتار کر ننگا پھرنا شروع کر دے تو اسے ملنگ سمجھا جاتا ہے اب کوئی بتائے کہ کپڑے اتارنے کا بزرگی سے کیا تعلق ہے۔۰ عام افراد کی ضعیف الاعتقادی تو ایک طرف ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازم بھی ان لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری کی منطق کہ مزار محکمہ اوقاف کے تحت نہیں ہے پر ان سے اتنا ہی عرض کر سکتا ہوں کہ کیا اوقاف کے تحت آنے والے مزارات کے بارے میں خصوصی رپورٹ بنوا کر بھجوا دوں۔ مزار کے اوقاف میں رجسٹرڈ نہ ہونے کی دلیل صرف کج بحثی ہے، اس طرح کی تاویلات دینے کی بجائے مسائل کی جڑ تک پہنچنا چاہئے، اس مسئلہ پر کام کرنا چاہئے کہ کوئی مدعی بننے کو کیوں تیار نہیں ہے۔ ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کر دیا، قانون دانوں سے پوچھا جائے کہ اس کی سزا کیا ہے۔ بہتر معاشرے کی تشکیل کیلئے اہم فیصلے کرنا ہوں گے، ہمارا قانون ان معاملات بہت نرم ہے جس کے باعث ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک بڑے لیڈر تھے ان کے کیس میں جسٹس نسیم حسن شاہ کی وجہ سے انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جبکہ یہی ٹھگنے قد کے جسٹس اس کے بعد بھی برسوں زندہ رہے اور وہ خود کہتے تھے کہ مجھ پر ضیاءالحق کا بہت دباﺅ تھا اس لئے بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا۔ پورے ملک نے یہ بات سنی، یہ جسٹس برسوں زندہ رہے اور مختلف تقریبات میں آتے جاتے تھے لیکن کبھی کسی نے ان کا گریبان پکڑ کر نہ پوچھا کہ تمہاری بزدلی کی وجہ سے ایک بڑا لیڈر مارا گیا۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق کمزور ہو گیا ہے اور اس کے پاس وہ قوت نہیں رہی جو ایک ملک کو متحد رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ اسی باعث ہر تیسرے دن ایک مقدمہ ہوتا ہے اور عدالتوں میں کیس چلے جاتے ہیں، صوبوں کو اختیارات دینے کا جو مخالف نہیں تاہم وفاق کے پاس بھی حکومت چلانے کے لئے اختیارات ہونا چاہئیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ حریت رہنما یاسین ملک نے نریندر مودی کو موثر جواب دیا تاریخ کا رخ وہی رہنما موڑتے ہیں جو حکمرانوں سے خلعت لے کر نہیں ناچتے بلکہ آزادی کے لئے جنگ کرتے ہیں۔ لندن سے معروف تجزیہ کار شمع جونیجو نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے ڈی خواجہ کے معاملہ پر سندھ حکومت نے اپنے لئے جتنی شرمندگی پیدا کرنی تھی کر لی ہے۔ سندھ حکومت ایک ولن کے طور پر سامنے آئی ہے اس نے پولیس کو تباہ کر دیا ہے، خود انارکی پیدا کر رہی ہے، سول وار کی کیفیت بنا دی ہے، اداروں کی کوئی حیثیت نہیں رہی، اے ڈی خواجہ کی بحالی کے بعد وزیراعلیٰ کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ لوگ ان کی حرکتوں کے باعث ان سے کتنی نفرت کرنے لگے ہیں۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ آصف زرداری نے سندھ کارڈ استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ ”آپ نے ہمیں اسی طرح باہر رکھا اور سیاسی معاملات میں محرومیوں کو بڑھایا تو پاکستان نہ کھپے کا نعرہ بھی لگا سکتے ہیں۔ یہ انتہائی خوفناک بات ہے اس کی تصدیق کے لئے آصف زرداری سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ اسٹیبلشمنٹ پریشان ہے کہ ابھی تک الطاف حسین سے نمٹ نہیں پا رہے، متحدہ لندن کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے۔ یہ نعاملہ سامنے آ گیا۔ تجزیہ کار نے کہا کہ آصف زرداری نے یہ نعرہ لگایا تو بری طرح پٹ جائے گا کیونکہ ایک عام سندھی خوب سمجھتا ہے کہ اس کی بقا کدھر ہے۔

الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو ”بلا“ کا انتخابی نشان دینے سے انکار اب کونسا انتخابی نشان ہوگا۔۔۔؟کپتان کا بڑا اعلان

اسلام آباد (صباح نیوز‘مانیٹر نگ ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تین ضمنی انتخابات کے لئے بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے سے انکار کر دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے لئے انٹرا پارٹی الیکشن کروانا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی نے 23 مارچ تک انٹرا پارٹی انتخابات کروانا تھے۔ تاہم پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے کے باعث پی ٹی آئی پی پی 23 چکوال، پی ایس 81 سانگھڑ اور پی کے 82 کوہستان میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ اب پی ٹی آئی امیدوار بلے کے نشان پر انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور پی ٹی آئی کو آزاد حیثیت میں اپنے امیدوار کھڑے کرنا ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی فنڈنگ اور عمران خان پر توہین عدالت کے کیس میں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کردیا۔پیر کوپی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ اور عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی ۔چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ ہم نے آپ کو تحریری جواب دائر کرنے کا حکم دیا تھا ،جس پر انور منصور نے کہا کہ پہلے طے کیا جائے کہ یہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار بھی ہے کہ نہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے دائرہ اختیار چیلنج کرنے پرعمران خان کے وکیل سے کہا کہ اگر سماعت کا اختیار نہیں تو پھر کیا ہمیں گالیاں نکالی جاتی رہیں گی۔ پاکستان تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ اور عمران خان پرتوہین عدالت کے کیس میں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کردیا۔الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو چکوال میں جلسہ کرنے پر نوٹس جاری کردیا، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو چکوال میں جلسہ کرنے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ پارٹی نشان الاٹ نہ کرنے کے معاملے پر تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس ضمن میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پارٹی نشان کی بحالی کیلئے قانونی ماہرین کو پٹیشن تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا اختیار سماعت چیلنج کر دیا ہے۔ اس موقع پر کپتان کے وکیل اور چیف الیکشن کمشنر میں نرم گرم جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت ہے نہ ہی وہ براہ راست کسی سیاسی جماعت کیخلاف شکایات وصول کر سکتا ہے۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے ریمارکس دیے کہ دائرہ سماعت نہیں ہے تو کیا پھر گالیاں سنتے رہیں۔ اختیارات ہی نہیں ہیں تو پھر انتخابات کیسے کرا سکتے ہیں؟ درخواست گزار کے وکیل نے فریق مخالف کے دلائل رد کر دیے۔ کیس کی سماعت کے دوران سردار رضا خان نے پی ٹی آئی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس سب اختیارات ہیں، صرف آپ سے سوال پوچھنے کا اختیار نہیں ہے۔ ہم کوئی ایکشن لینے کا سوچتے بھی ہیں تو آپ اسے چیلنج کر دیتے ہیں۔

پسینہ زیادہ آتا ہے

ڈاکٹر نوشین عمران
گرمی میں پسینہ آنا جلد کا ایک قدرتی عمل ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت نارمل رہتا ہے۔ گرمی کے باؑعث جب جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو اعصابی نظام ردعمل کے طور پر جلد کو پسینہ زیادہ بنانے اور خارج کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے جسم کا درجہ حرارت کنٹرول رہتا ہے۔ بعض افراد کو عام درجہ حرارت پر بھی پسینہ زیادہ آتا ہے۔ اکثر اس کی وجہ کوئی بیماری نہیں ہوتی بلکہ ان میں پیدائشی قدرتی طورپر پسینہ بنانے والے غدود زیادہ کام کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو ہتھیلی، پیر کے تلوے، گردن، چہرے پر زیادہ پسینہ آتا ہے۔ اگر پسینہ سارے جسم پر آئے تو اس کی وجہ کوئی مرض یا کوئی وقتی کیفیت ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ خواتین میں عموماً 50 سال کی عمر کے بعد ہارمون کی تبدیلی کے باعث پسینہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں سردی یا بالکل نارمل درجہ حرارت پر بھی پسینہ آتا ہے۔ تھائرائڈ گلینڈ کے مرض میں بھی پسینہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ ہارمون کی زیادتی ہوتی ہے۔ ذہنی، نفسیاتی یا جسمانی تناﺅ (سٹریس) میں بھی پسینہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں خاص کر بغل اور جسم کے اوپر کے حصے میں پسینہ زیادہ آتا ہے۔ ایسے افراد جو کسی بھی بات پر جلد پریشان ہوجاتے ہیں، گھبرا جاتے ہیں، اعصابی تناﺅ کا شکار ہوں، بہت زیادہ سوچنے میں ان کو ان کو بھی اسی طرح پسینہ زیادہ آتا ہے۔ اگر جلد پر بیکٹیریا یا فنگس ہو، یا ایسے افراد تھوڑے سوئے ہوں تو پسینے میں چکنائی یا پروٹین کے ذرات اور بیکٹیریا فنگس مل جانے سے اس سے بو آنے لگتی ہے۔ تھائرائڈ گلینڈ کے ہارمون تھائراکس کی زیادتی کے علاوہ کچھ اور امراض بھی ہیں جن میں پسینہ زیادہ آنے لگتا ہے۔ جیسا کہ یورک ایسڈ بڑھنے یا گاﺅٹ ہونے سے، پارکنزم یا دماغی امراض میں پسینہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ جسم میں خلیوں کے کہسز ”لمفوما“ میں بے تحاشہ پسینہ آتا ہے۔ اگر اچانک سے پسینہ بہت زیادہ آنے لگے، عام موسم میں بھی گرمی لگنے لگے تو کہسز کائیٹ ضرور کروائیں کیونکہ کہسز ہائہومر کی علامت ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات خاندانوں میں نسل در نسل یہ علامت چلتی ہے اور اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ کچھ ادویات مثلاً بلڈ پریشر، ڈپریشن، ذہنی امراض وغیرہ کے اثر سے بھی پسینہ زیادہ آتا ہے۔ اگر کسی شخص کو بیماری کے باعث علامات کے طور پر زیادہ پسینہ آتا ہو تو جب تک اس کی تشخیص نہ ہو یہ علامت جاری رہے گی۔ اسے دور کرنے کیلئے اس مرض کی تشخیص اور علاج ضروری ہے۔ اگر کوئی دوسری بیماری نہ ہو تو ایسے افراد پسینہ دور کرنے والے سپرے ڈرائی سول، زبریک وغیرہ رات کو لگاکر سوئیں اور صبح نہا لیں۔ اگر اس سے فائدہ نہ ہو تو ”بوٹو لینم“ انجیکشن جسم کے اس حصے میں لگائے جاتے ہیں جہاں پسینہ زیادہ آتا ہو۔ اس کے لیے آٹھ دس انجیکشن لگانا پڑتے ہیں اور اس کا اثر چھ سے دس ماہ تک رہتا ہے۔
٭٭٭

پاک فضائیہ کا دہشتگردی کے خلاف اہم اقدام ، آسٹریلیوی ائیر فورس کے سربراہ کے اعلان سے دشمن حواس باختہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان سے رائل آسٹریلین ایئر فورس کے سربراہ گیون ٹیل ڈیووس نے ملاقات کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر دہشتگردی کیلئے پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا، ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق کے مطابق پیر کے روز رائل آسٹریلین فورس کے سربراہ گیون ٹیل ڈیووس نے ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، ایئر ہیڈ کوارٹرز آمد پر پاک فضائیہ کے سربراہ نے معزز مہمان کا استقبال کیا اور ایئر فورس کے چاق و چوبند دستے نے رائل آسٹریلین ایئر فورس کے سربراہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا، ایئر مارشل گیون ٹیل ڈیووس نے پاک فضائیہ کے شہداءکی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، معزز مہمان کا پاک فضائیہ کے پرنسل سٹاف افسران سے تعارف کرایا گیا، ایئر مارشل گیون ٹیل ڈیووس کو پاک فضائیہ سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گی، ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ایئر مارشل گیون ٹیل ڈیووس کی سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل سہیل امان سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، سربراہ رائل آسٹریلین ایئر فورس کے انسداد دہشتگردی کیلئے پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا۔