یو این سلامتی کونسل میں پاکستان اور ارجنٹائن کا مو¿قف ایک, ارجنٹائن کے سفےرکی چینل ۵ کے پروگرام میںاہم گفتگو

اسلام آباد (انٹروےو: ملک منظور احمد) ارجنٹائن کے سفےر آئےوان اےوان سےویچ نے کہا ہے کہ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمےان تجارتی حجم 250 ملےن ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ پاکستانی کپڑا، سرجےکل آلات اور کھےلوں کی مصنوعات ارجنٹائن مےں بہت مقبول ہےں۔ دنےا مےں پاکستان کا امےج منفی بناکر پےش کےا جارہا ہے یہاں آکر پتہ چلا کہ یہ خوبصورت سرزمےن اور پےار کرنے والے لوگوں کا ملک ہے۔ پاکستان حکومت کو دنےا مےں اپنا مثبت امےج متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ٹےکسٹائل انڈسٹری مغربی خواتےن کے لےے ڈےزائن بنائے اس سے ٹےکسٹائل انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوگا۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے چےنل فائےو کے پروگرام ڈپلومےٹک انکلےو کو خصوصی انٹروےو دےتے ہوئے کےا نے کہا کہ پاکستان اور ارجنٹائن کی باہمی تجارت 2006تک 70ملےن ڈالر سالانہ کے لگ بھگ تھی2014ءمےں بڑھ کر 400ملےن ڈالرز تک پہنچی اور اب ےہ تجارت 250ملےن ڈالرز ہے۔ گزشہ برس ارجنٹائن اےک اقتصادی بحران سے گزرا اور ابھی تک گزر رہا ہے۔ اگرچہ ہم دےوالےہ نہےں ہوئے لےکن معاشی حالت اتنی بہتر نہےں ہے گزشتہ برس تجارت پر منفی اثر پڑا باہمی تجارت کو مزےد بڑھانے کے لےے ابھی انتظار کرنا ہوگا کےونکہ ہماری اقتصادی حالت اتنی بہتر نہےں ہے۔ ارجنٹائن مےں پاکستان مصنوعات بے حد پسند کی جاتی ہےں ارجنٹائن کے چھوٹے سے ضلع مےں بھی پاکستان کا کپڑا جاتا ہے پاکستان کو چاہےے کہ اپنی ٹےکسٹائل کی صنعت کو بڑھائے اور نئی منڈےاں تلاش کرے پاکستان مےں مغربی خواتےن کے لےے کپڑے ڈےزائن نہےں کئے جاتے اےسا ہونا چاہےے۔ اگر پاکستانی ٹےکسٹائل انڈسٹری مغربی خواتےن کے لےے ڈےزائن بنائے اس سے ٹےکسٹائل انڈسٹری کو بہت فائدہ ہو گا۔ چےن، انڈونےشےا، بھارت اور فلپائن کے علاوہ برازےل بھی مغربی خواتےن کے لےے ڈےزائن بنا رہے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ٹےکسٹائل کے علاوہ ،فٹبال،رگبی اور باسکٹ بالز پاکستان کی بہترےن مصنوعات ہےں جن کی ارجنٹائن مےں بے حد ڈےمانڈ ہےں ہم چےن سے فٹ بال منگواتے ہےں لےکن ان کی کوالٹی اچھی نہےں ہر قسم کی ہاکی پاکستان مےں بنتی ہے ہمارے ملک مےں ہاکی کا کھےل مقبول ہو رہا ہے ہم اولمپک چےمپئن ہےں ہمارے ملک مےں اچھے معےار کی ہاکی سٹکس نہےں بنتی۔ اگر پاکستانی ہاکی ارجنٹائن بھےجی جائے تو اس سے ہمارے کھےل مےں نکھار اور پاکستان کا بزنس بڑھے گا ۔ سےالکوٹ کے سرجےکل آلات تو پہلے ہی ارجنٹائن مےں بک رہے ہےں مےں حےران ہوں کہ پاکستان اپنا باسمتی چاول ارجنٹائن کےوں نہےں بھےج رہا ہمارے ملک مےں چاول کی بڑی منڈی موجود ہے ہم لوگ چاول بہت شوق سے کھاتے ہےں لےکن اچھی کوالٹی کا چاول اگا نہےںپاتے پاکستان کا باسمتی چاول پوری دنےا مےں مشہور ہے ہمارے ملک مےں چاول بھےج کر بہت زےادہ زر مبادلہ کماےا جا سکتا ہے مےں نہےں سمجھتا کہ ارجنٹائن پاکستان آم کے لےے اچھی منڈی ہے کےونکہ دونوں ملکوں کا فاصلہ آم کی کوالٹی برقرار رکھنے مےں حائل ہے ۔اےک اور سوال کے جواب مےں انہوں نے کہا کہ پاکستان اےک زرعی ملک ہے اور زراعت کے شعبے مےں پاکستان نے بہت زےادہ ترقی کی ہے لےکن اب بھی پاکستان کی زراعت کی صنعت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے پاکستان کو اےسا زراعتی شعبہ بنانا ہو گا جس مےں سبسڈی کم ہو۔ تےن بڑی فصلےں، سوےا، مونگ پھلی اور گندم پر محنت کرےں کےونکہ گندم مےں ہماری اتنی مہارت نہےں ہم اتنی اعلیٰ قسم کی گندم نہےں اگاتے کہ ہم اس مےں پاکستان کی مدد کر سکےں۔ ہمےں نئے آلات استعمال کرنے ہوں گے نئی مشےنےں بےج ڈالنے سے لے کر فصل کے کاٹنے تک ہمارا کام آسان کر سکےں۔ مےرا ارادہ ہے کہ دونوں ملک زراعت کے شعبے مےں ملکر کام کرےں مےری مدت ملازمت ختم ہونے مےں ابھی تےن برس باقی ہےں مےں چاہتا ہوں کہ اس دوران مےں لانگ ٹرم منصوبے شروع کئے جائےں ہماری سےاسی قےادت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ عوام کی فلاح کے لےے کام کرےنگے تو اس کے نتائج اگلی حکومت مےں ملےں گے ہمارے ملک مےں سےلاب کا مسئلہ ہے اس کا حل نکالا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے 1951ءمےں تعلقات استوار کئے تھے 1948ءسے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے خواہش مند تھے مگر قائداعظم ؒکی وفات سے اےسا ممکن نہ ہو سکا۔ سابق صدر پروےز مشرف سے ارجنٹائن کا دورہ کےا تھا ہم اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ خےال تو کرتے رہتے ہےں اقوام متحدہ کی سکےورٹی کونسل کی تشکےل نو مےں پاکستان اور ارجنٹائن کا موقف اےک ہے ہم نئے شعبوں مےں کام کرنا چاہتے ہےں۔ مےں 1984ءمےں پاکستان آگےا اس وقت مجھے پتہ نہےں تھا کہ پاکستان کےسا ملک ہے اس ملک کے بارے مےں منفی خبرےں عام تھےں مجھے مےوزک سے دلچسپی تھی اور مےری اہلےہ کو جنوبی اےشےا کی ثقافت سے ہم دونوں ےہاں آئے ہم نے نانگا پربت سے لے کر شےندور اور جنوبی پنجاب سے لر کر سفاری ٹرےن کراچی تک سب دےکھا ہے ےہ اےک شاندار تجربہ تھا ہم نے پاکستان کا کونہ کونہ دےکھنے کی کوشش کی ہے ےہاں کے لوگ بے حد محبت کرنے والے ہےں مےرا بےٹا ےہاں پےدا ہوا ےہےں پڑھتا ہے اور اس کے سب دوست پاکستانی ہےں مےرا بڑا بےٹا بھی پاکستان آےاتھا وہ ےہاں چار ماہ رہا۔مےرے بےٹے کو ےہاں کے گرم مصالحے بے حد پسند ہےں اور مےری بےگم کو بھی جنوبی اےشےاءکے کھانے بہت پسند ہےں بطور سفےر ہم پر بہت سی پابندےاں ہوتی ہےں مختلف سفری پابندےوں کا بھی سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے علاوہ کلچرل شعبے مےں بھی کام ضروری ہے۔ اگلے سال مارچ سے قبل ارجنٹائن مےں اےک بڑی زراعتی کانفرنس ہونے جارہی ہے ہم اس کانفرنس مےں پاکستان کی شرکت چاہتے ہےں ےہ کانفرنس اس وقت بھی جاری ہے پاکستانی کسان بھی اس کانفرنس مےں جانے چاہےے ہم پاکستان سے 25کاروباری شخصےات کو ارجنٹائن بلا رہے ہےں ےہ تمام لوگ اس وقت بےونس آئرس مےں ہےں ۔اس وقت ہماری اےک فارما سےوٹےکل کمپنی لاہور مےں کام کر رہی ہے پاکستان مےں ادوےات کی بہت ضرورت ہے اےک اور فارما سےوٹےکل کمپنی پاکستان مےں کام کرنے آرہی ہے۔ تاکہ پاکستان مےں نئی ادوےہ سازی پر کام ہو سکے پاکستان کے اےک بزنس مےن عثمان وحےد سے بھی ارجنٹائن کی کمپنےوں کا تعاون رہا ہے ےہ اےک اےسی کتاب ہے جس مےں پاکستان کے مختلف سےاحتی مقامات کی تصاوےر کھےنچی گئی ہےں ےہ تصاوےر ارجنٹائن کے اےک فوٹو گرافر نے کھےنچی ہےں اےک کتاب پاکستان کے علاوہ دنےا بھر کے سفارتخانوں کو بھےجی جا رہی ہے۔ اےک سوال کے جواب مےں انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اسلام آباد کے اےک نجی ہوٹل مےں اےک کنسرٹ کراےا تھاجس مےں پاکستانی مےوزک کو پروموٹ کےاگےا اس مےں 250کے قرےب افراد نے شرکت کی ہم اتنی کامےابی کی توقع نہےں کر رہے تھے ہم صوفی مےوزک پرکام کر رہے ہےں لےکن اےسے لوگ بھی ہمارے ساتھ ہےں جو ہارمونےم پر برصغےر کے رواےتی راگ سناتے ہےں جو متاثرےن کن ہےں ہم پاکستانی کلاسےکل مےوزک پر بھی کام کر رہے ہےںاےک ارجنٹائن گٹارسٹ بھی گزشتہ برس پاکستان آےاتھا برازےل اور ارجنٹائن کا ٹےنکو مےوزک بھی پاکستان مےں متعارف کرنا چاہتے ہےں اور فوٹو گرافی اور اس طرح کے تمام کام جن کے ذرےعے فنکار برادری کا رابطہ ہو سکے لاہور کے نےشنل کالج آف آرٹس سے بھی ہمارا رابطہ ہے لےکن ہم اس شعبے کو مزےد وسعت دےنا چاہتے ہےں اسلام آباد مےں ارجنٹائن پارک ہمارا نہےں بلکہ سی ڈی اے کا پارک ہے صرف اس کا نام ارجنٹائن پارک رکھا گےا ہے ہم اس کی بہتری اور خوبصورتی برقرار رکھنے کی تجاوےز دےا کرتے تھے مےری بےوی نے مےرے ہمراہ پارک مےں اےک پودا لگاےا تھا مےں اس پارک مےں چند ثقافتی شوز بھی کرنا چاہتاہوں اگر پارک کا کچھ حصہ ہسپتال کے لےے استعمال کےا جائے تو ہمےں اس پر کوئی اعتراض نہےں کےونکہ ہسپتال مےں مزےد بستروں کی ضرورت ہے اور ہم حکومت پاکستان سے ہر بات پر اتفاق کرتے ہےں لےکن اےسا بھی نہےں ہونا چاہےے کہ پارک کی شکل ہی بدل جائے اگر اےسا ہوا تو پاک کی ساری خوبصورتی ختم ہو جائے گی اس سلسلے مےں اسلام آباد کے مےئر سے بھی مےری بات ہوئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ۔۔۔۔ اہم شخصیت کی واپسی

کراچی(ویب ڈیسک ) سندھ ہائی کورٹ نے اللہ ڈنوخواجہ کو آئی جی کے عہدے پر بحال کرتے ہوئے سردار عبدالمجید کو فوری عہدہ چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو جبری طور پر ہٹانے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیارکیا کہ اے ڈی خواجہ کا تقرر مارچ 2016 میں پولیس ایکٹ کے تحت کیا گیا تھا،اس سے قبل بھی اے ڈی خواجہ کو جبری طور پر ہٹایا گیا تھا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ایک بار پھر ہٹایا گیا جو کہ توہین عدالت ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے سردار عبدالمجید کو چارج اے ڈی خواجہ کو فوری واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی کے عہدے کے لئے آل پاکستان پولیس سروس سے افسران کی خدمات لی جاتی ہیں،سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ آئینی فیصلے کابینہ کے ذریعے کئے جائیں گے

پانامہ فیصلے کے بعد ”زرداری“ کی باری, کپتان نے دبنگ اعلان کرددیا

تلہ گنگ(نمائندہ خبریں)تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے،خرابی کی جڑ یہ ہی چیزیں ہیں جنہیں قابو کرنا ہوگا،قوم کو خوشخبری سناتا ہوں ملک بدلنے والا ہے۔ کرپشن کا مطلب عوام کا پیسا چوری کرنا ہے ،کرپٹ آدمی کسی بھی پارٹی کا ہو قوم کو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا،اقتدار میں آکر قومی بینکوں سے قرضہ معاف کرانا کرپشن ہے ، اقتدار میں آکر حساب لیں گے اتوار کے روز تلہ گنگ میں جلسے سے خطاب کرتے ہو ئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کا مطلب عوام کا پیسا چوری کرنا ہے ،کرپٹ آدمی کسی بھی پارٹی کا ہو قوم کو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگااقتدار میں آکر قومی بینکوں سے قرضہ معاف کرانا کرپشن ہے ، اقتدار میں آکر چوروں لوٹیروں سےحساب لیں گے۔کپتان نے کہا کہ خوشخبری سناتا ہوں ملک بدلنے والا ہے تحریک انصاف پورے ملک میں پھیل چکی ہے جبکہ دیگر جماعتیں صوبوں تک محدود ہیں ،پاکستان کی ترقی کی دنیا میں مثالیں دی جاتی تھیںلیکن کرپشنقرضے معاف کرانا اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات نے نہ صرف اس ملک کی ترقی روکی بلکہ اسے پیچھے دھکیل دیا،بدقسمتی ہے اللہ نے جتنے وسائل دیئے ہم نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایاگیااورآج کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ عمران خان نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ شرجیل میمن نے5 ارب کی کرپشن کی لیکن جب وہ واپس ملک آیا تو اسے ہار ڈالے گئے، ڈاکٹر عاصم پر460ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے اور مجھے افسوس ہوتا ہے کہ خیبر پختون خوا کا پورا بجٹ ہی 113ارب روپے کا ہے،کرپٹ آدمی کسی بھی پارٹی کا ہو قوم کو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے معاملے پر عمران نے کہا کہ پولیس اس وقت ٹھیک ہو گی جب میرٹ پر ٹھیک آئی جی لگے گا سندھ کا آئی جی اس لیے بدلا گیا کہ وہ غلط کام نہیں کرنے دے رہاتھا، پولیس اس وقت ٹھیک ہو گی جب سیاسی مداخلت روکی جائے گی۔خیبر پختونخوا کی پولیس کو ٹھیک کیا، سیاسی مداخلت ختم کی، ایماندار آئی جی لگایا اس نے پولیس کوٹھیک کیا،جوخیبر پختونخوا میں جزا اور سزا کا قانون آیا وہی قانون پورے پاکستان میں لائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کرپٹ نہیں بلکہ کرپشن کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ہم کرپشن کا مقابلہ کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ان کا کہنا تھا کہ ملک کا مستقبل بچانے کے لیے قوم کو کرپشن کیخلاف اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نقل مارنے کے لیے بھی عقل چاہیے۔ جب نواز شریف سے پیسوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پیسہ قطری نے دیا۔ اب ہم سابق صدر آصف علی زرداری سے بھی پوچھیں گے کہ سرے محل کہاں سے آیا؟ ان سے کہتا ہوں کہ وہ بھی کسی قطری شہزادے کو پکڑ لیں کیونکہ انھیں بھی ضرورت پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم پر 460 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ خیبر پختونخوا کا سارا بجٹ 113 ارب روپے کا ہے۔ شرجیل میمن نے 5 ارب روپے کی کرپشن کی لیکن پاکستان ایسے واپس آیا جیسے ورلڈ کپ جیت کر آیا ہو۔ پاکستان واپسی پر اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کرپٹ نہیں بلکہ کرپشن کا مقابلہ کر رہا ہے۔ مودی کا بیرون ملک کوئی بزنس نہیں ہے۔ جبکہ دوسری جانب جس کا سب کچھ بیرون ملک ہو وہ پاکستان کیساتھ وفادار نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف کا سرمایہ بیرون ملک ہے لیکن وہ دوسروں کو ملک میں سرمایہ کاری کا کہتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک صوبے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جماعت ہے۔ اکیس سال قبل صرف میانوالی کی ایک سیٹ سے جدوجہد کرنے والی تحریک انصاف پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ باقی ساری جماعتیں سکڑ کر صوبوں تک محدود ہو گئی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے 21 سال ملک کو بدلنے کی جدوجہد کی، انشا اللہ ہمارا ملک بدلنے والا ہے، وہ اب وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے۔ تحریک انصاف ملک کی واحد جماعت ہے جو پاکستان کے مسئلے حل کرے گی۔ اپنی جدوجہد سے ملک کی تقدیر بدلیں گے۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کئی اداروں میں تبدیلی لا چکے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مسلمان ممالک میں شیعہ سنی کی لڑائی کروائی جارہی ہے بیرونی طاقتوں نے عراق‘ ایران اور عراق کویت کو آپس میں لڑوایا‘ اب وہی طاقتیں ایران اور سعودی عرب کو لڑوانے کی کوشش کررہی ہیں ہمیں مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ فیصلے کا سب کی طرح مجھے بھی جلدی سے انتظار ہے‘ نواز شریف ہمیشہ اپنا ایمپائر رکھ کر الیکشن لڑتے ہیں۔ نیوٹرل ایمپائر پہلی بار آپ کا کپتان لایا ہے انہوں نے کہا کہ 21 سال کی جدوجہد سے ملک کو بدلنے کی کوشش کی قوم کو خوشخبری دیتا ہوں ملک بدلنے والا ہے ۔ آج پاکستان میں اڑھائی بچے گندے پانی کی وجہ سے مرتے ہیں ہمارا ملک آج ایسا ہے تو ضروری نہیں کہ ایسا ہی رہے گا ہم اسے بدلیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ عام آدمی کو سکول چاہئیں اور ہسپتال چاہئیں۔ کے پی کے میں غیر حاضر رہنے والے اساتذہ اور وہ اساتذہ جو اچھا نتیجہ نہیں دے سکے ہیں ان کو جرمانہ کیا ہے اور پہلی بار ناقص کارکردگی دینے والے اساتذہ کے 19 کروڑ کاٹے ہیں جن مین سے 18 کروڑ ان اساتذہ کو دیے ہیں جنہوں نے محنت کی ہے۔ کے پی کے میں سزا اور جزا کا سلسہ شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آکر ذاتی فائدہ لینے والے کرپٹ ہیں۔ ملک کا سب سے بڑامسئلہ کرپشن ہے اقتدار میں آکر اگر نواز شریف کی طرح ایک فیکٹری سے تین فیکٹریاں بنالی جائیں تو یہ کرپشن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے‘ نواز شریف کا پانامہ کیس کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے ‘ اقتدار میں آ کر نواز شریف کی طرح ایک فیکٹری سے 30 فیکٹریاں بنانا کرپشن ہے‘5 ارب کی کرپشن کرنے والے شرجیل میمن کو وطن واپسی پر ہار پہنائے گئے ‘ آصف زرداری سے پوچھیں گے کہ سرے محل کہاں سے آیا ‘آصف زرداری آپ بھی کسی قطری شہزادے کو پکڑ لو کیونکہ آپ کو بھی قطری کی ضرورت پڑے گی‘ حکمران خود باہر جا کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور باہر جا کر کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں‘ تب تک اس ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی جب تک اس ملک میں کرپشن ختم نہیں ہو گی،

درگاہ پر متولی نے 20مرید قتل کر کے لاشیں جلادیں اتنے لوگوں کو کیسے قتل کیا گیا۔۔۔خوفناک انکشافات نے ہلچل مچادی

سرگودھا، بچیانہ، ننکانہ صاحب (نمائندگان خبریں) سرگودھا کے نواحی علاقے چک 95میں ایک دربار کے متولی نے گدی پر قبضہ کیلئے مرحوم پیر کے بیٹے سمیت20افراد کو قتل کر دیا30 زخمی ہو گئے۔ پولیس نے ملزم متولی عبدالوحید کو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ، ملزم نے لرزہ خیز قتل کی واردات کا اعتراف کر لیا۔ متولی نے مریدوں کو نشہ آور مشروب پلا کر ڈنڈوں اور چھریوں کے وار سے قتل کیا،3مریدوں نے زخمی حالت میں بھاگ کر جان بچائی ،قتل ہونے والوں میں ملزم کے پیر کا بیٹا، 6خواتین اور ایک ہی خاندان کے 5افراد بھی شامل ، میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے لیا،فوری رپورٹ طلب کر لی ،فرانزک ٹیم اور ماہرین کو طلب کرلیا گیا،واقعہ کا تاحال مقدمہ درج نہ ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق سرگودھا میں مقامی درگاہ گدی نشین نے ساتھیوں سے مل کر مبینہ طور پر ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت 20 مریدوں کو قتل اور 30کو زخمی کر دیا۔ سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے مطابق نواحی علاقے 95 شمالی میں قائم دربار مبینہ طور پر علی محمد گجرکے گدی نشین عبدالوحید نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ درگاہ پر موجود 6 خواتین سمیت 23 افراد کو کو نشہ آور مشروب پلا کر پہلے بے ہوش کیا گیا اور پھر انہیں ڈنڈوں اور چھریوں کے وار کر کے قتل کیا گیا۔ عبدالوحید کے تین مریدوں نے بھاگ کر جان بچائی، اسپتال میں تینوں زخمی افراد کی حالت تسلی بخش ہے۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا لیاقت علی چٹھہ کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 خواتین اور 16 مرد شامل ہیں جبکہ دو خواتین سمیت 4 افراد زخمی ہیں۔ واقعہ کی اطلاع متولی کے تشدد سے بچ کر اسپتال پہنچنے والی خاتون نے دی۔لیاقت علی چٹھہ کا کہنا ہے کہ دربار کے متولی عبدالوحید اور درگاہ کی صفائی کرنے والے نوید سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق گرفتار عبدالوحید خود کو اعلیٰ پائے کی روحانی شخصیت کہتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کہتے ہیں عبدالوحید مریدوں پر تشدد کر کے کہتا تھا کہ ان کا جسم پاک ہونے لگا ہے۔ واقعے میں گدی نشینی کے تنازع کاپہلو نظرنہیں آتا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم عبدالوحید الیکشن کمیشن سرگودھا کا سابق ملازم ہے،اس سے آفس کارڈ بھی برآمدہوا ہے۔ دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عبدالوحید کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں، وہ الیکشن کمیشن کا سابق ملازم اور لاہور میں تعینات تھا تاہم عبدالوحید نے ایک سال قبل الیکشن کمیشن سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔پولیس کے مطابق قتل ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کر نے کے بعد ان کی لاشیں ورثاءکے حوالے کردی گئیں ہیں۔ قتل ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔ واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے درگاہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درگاہ کے متولی عبدالوحید کا ذہنی توازن درست معلوم نہیں ہوتا۔ عبدالوحید مریدین کو برہنہ کر کے دھمال ڈلواتا اور ان سے کہتا کہ اس طرح مریدین گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔ ادھر مقامی افراد کا کہناہے کہ عبدالوحید مہینے میں ایک دو بار درگاہ پر آتا تھا۔ مریدوں پر تشدد کر تا تھا، انہیں برہنہ کر کے آگ بھی لگاتا تھا۔ قتل کئے گئے11افراد کا تعلق سرگودھا، 2 کا اسلام آباد،2 کا تعلق لیہ، ایک کا میانوالی، ایک اور شخص کا تعلق پیر محل سے ہے۔ ایک خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی کے علاوہ قتل ہونے والے میں ملزم عبدالوحید کے پیر علی محمد گجر کا بیٹا آصف بھی شامل ہے۔ بی بی سی سے گفتگو میں تھانہ صدر سرگودھا میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار محمد احسان نے بتایا کہ ان افراد کو قتل کرنے کا سلسلہ جمعے کی رات سے شروع ہوا تاہم پولیس کو سنیچر کی شب اطلاع ملی۔ انہوں نے بتایا کہ مقتولین کو چھریوں اور چاقوں کے وار کر کے قتل کیا گیا۔ جیسے ہی مرید دربار میں خلیفہ کے پاس پہنچتے تھے وہ انھیں نشہ آور دوائی پلاتا تھا، خلیفہ کا نام عبدالوحید تھا جو تین ساتھیوں سمیت گرفتار ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔قاتل عبدالوحید نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر الیکشن کمیشن پنجاب ہیں اور اب دربار میں بغیر رجسٹریشن نے مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ علی احمد گجر نامی پیر کو زہر دینے کی سازش کا حصہ تھے۔انھیں شک تھا کہ یہ مرید اسے بھی زہر دے کر مار دیں گے۔ ادھر وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے سرگودھا میں 20افراد کے قتل کے واقعے کے بعد صوبائی وزیر اوقاف زعیم قادری کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کردی اور آر پی او سرگودھا کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے سرگودھا واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ شہبازشریف نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیںاور ملزمان کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عبدالوحید مریدوں کو مشروب پلا کر انھیں مبینہ طور پر عریاں کرتا تھا اور پھر ان پر تشدد کرتے ہوئے کہتا کہ اب وہ بالکل “پاک” ہو گئے ہیں۔ بعدازاں لوگوں کے اترے ہوئے کپڑوں کو مبینہ طور پر آگ لگا دی جاتی تھی۔ پاکستان میں جعلی پیروں اور عاملوں کے ہاتھوں لوگوں پر تشدد کوئی غیرمعمولی بات نہیں لیکن کسی ایک ہی جگہ ایسے مبینہ تشدد سے اتنی تعداد میں ہلاکتوں کا یہ واقعہ غیر معمولی تصور کیا جا رہا ہے۔ آری پی او سرگودھا کا کہنا ہے کہ ملزم عبدالوحید ہر بات کا جواب دے رہا ہے۔ ملزم عبدالوحید کا ذہنی توازن بظاہردرست ہے۔ واقعے کا ہرپہلو سے جائزہ لیں گے ملزم نے اعترافی بیان دیا ہے کہ گدی نشیی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایاکہ وزیراعلیٰ نے تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے، میں کنوینر ہوں جبکہ فرانزک ٹیم اور ماہرین کو طلب کرلیا گیا ہے۔ آر پی او سرگودھا نے کہا کہ تاحال واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ادھر ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریدین کو گناہ جھاڑنے کیلیے ڈنڈے سے مارنے اورچپ رہنے کا کہا۔ ملزم نے ساری واردات ایک دن میں نہیں دو دن میں وقفے وقفے سے کی ، پولیس رپورٹ کے مطابق سجادہ نشین نے کہا اگر ٹکڑے بھی کر دوں تو صبح صحیح حالت میں لے آﺅںگا، مریدین سجادہ نشین سے عقیدت میں ڈنڈے کھاتے رہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق پہلے جمعے اور ہفتے کی رات تین چار افراد کو مروایا گیا دیگر افراد کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات مارا گیا۔

ویسٹ انڈیز کو آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست پاکستانی ٹیم کیلئے بڑی خوشخبری لے آئی

پورٹ آف اسپین (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سیریز 1-3 سے اپنے نام کرلی۔ پورٹ آف اسپین کے کوئنز پارک اوول گرانڈ میں میزبان ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز بنائے جس کے جواب میں گرین شرٹس نے ہدف 3 وکٹوں کے نقصان پر18.5 اوورز میں حاصل کیا۔ گرین شرٹس کی جانب سے کامران اکمل اور احمد شہزاد نے پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور دونوں بلے بازوں نے محتاط کھیلتے ہوئے پہلی وکٹ پر 40 رنز کی شراکت قائم کی تو کامران اکمل 20 رنز بنا کر کیچ آٹ ہوگئے۔ دوسری وکٹ پر احمد شہزاد اور بابراعظم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 70 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی اسکور 110 تک پہنچایا تو احمد شہزاد ولیم کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ انہوں نے 45 گیندوں پر ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے۔ احمد شہزاد کے آٹ ہونے کے بعد بابراعظم بھی وننگ اننگز نہ کھیل سکے اور وہ بھی 38 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ شعیب ملک اور کپتان سرفراز احمد نے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے 125 رنز کا ہدف 18.5 اوور میں حاصل کیا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیسرک ولیم نے 2 اور مارلن سیموئلز نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل گرین شرٹس کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے میزبان ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی تو چیڈوک والٹن اور این لیوس نے اننگز کا جارحانہ آغاز کیا اور کریز پر آتے ہی دھواں دار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا اسکور 27 تک پہنچایا تو لیوس 7 رنز بنانے کے بعد عماد وسیم کی گیند پر کیچ آٹ ہوگئے جس کے بعد والٹن بھی 40 رنز بنا کر 59 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔قومی ٹیم کی اس جیت سے پاکستان ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں 4نمبر پر آگئی ہے

سوسائٹی فارہیومن رائٹس کا سالانہ الیکشن،عہدیدار بلامقابلہ منتخب

لاہور (سوسائٹی رپورٹر) سوسائٹی فار ہیومن رائٹس لاہور سرکل کے سالانہ الیکشن 2017ءکے تحت تمام ایگزیکٹو باڈی کے ممبران اور عہدیداران بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔ جس کے تحت صدر چودھری محمد رشید، نائب صدر (مرد) عبدالرزاق، نائب صدر (خاتون) شہناز اختر جنرل سیکرٹری (مر) ملک آفتاب احمد، جنرل سیکرٹری خاتون) ثمرہ نذیر، ایڈیشنل سیکرٹری (مرد) ظہیر عباس ایڈیشنل سیکرٹری (خاتون) کہکشاں صدف، سیکرٹری اطلاعات (مرد) چوہدری ندیم سرور، سیکرٹری اطلاعات (خاتون) مصباح شہزادی، سیکرٹری فنانس سجاد حیدر کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ باقی ایگزیکٹو باڈی ممبران میں محمد سلیم، جانسن سندھو، محمود احمد خان، ملک نوید اختر، شیخ احسن رشید، مقصود حسین، سیف اللہ، مقصود حسین، اعجاز احمد ملک، محمد نوید اقبال، میاں عادل فقیر، عمران علی، ظہیرعباس، محمد اصغر شاکر، سجاد حیدر، محمد حسین آزاد، مستنصر باللہ، عبدالغفار، ملک شوکت علی تھہیم، رانا بدیع الزمان، نیاز احمد، سید اسرار حسین شاہ، حاجی عبدالخالق، میاں عثمان علی، عبداللطیف، عافیہ ہما، غزالہ نصرت، راحت رشید، سمیرا کنول، عظمت پروین، نائلہ بٹ اور مس عابدہ شامل ہیں۔

”مظلوم کو انصاف کی فراہمی میں مدد سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کا مشن“ ایگزیکٹو ڈائریکٹرجناب ضیاشاہد کا نو منتخب عہدیداران سے خطاب

لاہور (سوسائٹی رپورٹر) سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے قیام کا مقصد مظلوم کی مدد اور ظالم کے ظلم کو روکنا ہے۔ جس کے لئے پنجاب کے مختلف اضلاع میں سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے وولنٹیئر ممبران دن رات کوشاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف ایڈیٹر خبریں ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوسائٹی فار ہیومن رائٹس ضیا شاہد نے نومنتخب عہدیداران سوسائٹی فار ہیومن رائٹس سے خطاب میں کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ لاہور سرکل کی نئی باڈی اس سال پوری کوشش کرے گی کہ ڈسٹرکٹ میں پھیلے ہوئے مسائل کی نہ صرف نشاندہی کریں گے بلکہ اُن کے حل کے لئے بھر پور جدوجہد کریں گے۔ اس موقع پر چیف اارگنائزر سوسائٹی فار ہیومن رائٹس مکرم خان نے کہا کہ سوسائٹی میں خواتین کی شمولیت قابل قدر ہے۔ اس سے معاشرے میں پھیلے ہوئے مسائل اور اُن کے حل میں مدد ملے گی۔ معاشرے میں بہت سے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پرسوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے صدر محمد رشید، جنرل سیکرٹری ملک آفتاب احمد، جنرل سیکرٹری خاتون ثمرہ نذیر اور باقی عہدیداران نے ظلم کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوسائٹی فار ہیومن رائٹس ضیا شاہد نے اس موقع پر میاں عبدالسلام کو کوآرڈینیٹر لاہور مقرر کیا ہے۔

جنرل (ر ) راحیل شریف نے سعودی عرب کو اہم مشورہ دیدیا

لاہور (حسنین اخلاق) باخبر ذرائع نے ”خبریں“ کو بتایا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف نے سعودیہ عرب کی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ عرب لیگ جیسے علاقائی فورم کی بجائے او آئی سی کو فعال کرنے کی طرف توجہ مبذول کی جائے جس کے پلیٹ فارم پر تمام اسلامی ملک موجود ہیں تاکہ مستقبل میں ممکنہ طور پر بنایا جانے والا اسلامی اتحاد جس کے زیراہتمام کم از کم پانچ لاکھ مکمل طور پر تربیت یافتہ فوجیوں پر مشتمل فوج کو فوری طور پر تیار کیے جانے کے لیے عسکری امور سرانجام دئیے جاسکیں ۔جنرل(ر) راحیل شریف کا موقف ہے کہ عرب لیگ کو اہمیت دینے سے پہلے بھی سعودیہ عرب کو اسلامی دنیا میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب بھی اگر سعودی حکومت اس فورم پر توجہ مبذول رکھتی ہے تو اس سے ایک بار پھر دہشت گردی سے لڑنے کے لیے تشکیل دیا جانے والے مذکورہ اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ او آئی سی میں سب اسلامی ممالک موجود ہیں اور اس تنظیم کو بین الاقوامی قبولیت بھی حاصل ہے اور اگر کسی ملک میں اس حوالے سے کاروائی کے لیے اگر کسی قانونی اقدام کی ضرورت پڑتی ہے تو عرب لیگ یہ قانونی تحفظ فراہم نہیں کرسکتی ہے ۔دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسلامی اتحاد کے لیے تربیت کا کام خیلج عرب میں شروع کیا جاچکا ہے اور اس کا تربیت یافتہ پہلا دستہ اس برس کے آخر تک اپنی ٹریننگ مکمل کرلے گا تربیت کے لیے منتخب افراد میں پہلی فوقیت سپیشل سروسز گروپس سے ریٹائرڈ سابق فوجیوں کو دی جائے گی جو کہ خطہ عرب کو ذہن میں رکھ کر تخلیق کیے گئے سپیشل گیئرز استعمال کریں گے اور یہ فوجی باقاعدہ فوج کی بجائے ٹارگٹڈ کاروائیاں اور آپریشن کریں گے جبکہ باقی ماندہ فوج کوفی الحال اتحاد میں شامل یا جنگ سے متاثرہ خلیج عرب کے ممالک میں حساس مقامات پر حفاظت کے لیے تعینات کیا جائے گاجن میں بالخصوص تیل کے کنویں جن پر قبضے کے لیے دہشت گرد گروپ داعش سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں معدنی تیل کی غیرقانونی ترسیل بھی جاری ہے اور اسی رقم کو بعد ازاں دہشت گردی میں استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اہم فوجی تنصیبات جیسے کہ راکٹ لانچنگ سائٹس اور ہوائی اڈے شامل ہیں ۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جنرل(ر)راحیل شریف نے سعودی حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اسلامی ممالک میںاپنے سفارتی عملے کو بھی متحرک کیا جائے تاکہ اس اتحاد کے لیے ان ممالک میں موجود مخالفت کو کاﺅنٹر کیا جاسکے اور جو حلقے اس حوالے سے اپنے تحفظات رکھتے ہیں انہیں مطمن کیا جاسکے۔ممکنہ طور پر تشکیل دی جانے والے اسلامی اتحاد میں بڑی تعداد میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی بھرتی کیا جائے گا جس کے لیے پہلی ترجیح سعودیہ میں موجود افراد کو دی جائے گی۔

وزیراعظم کیخلاف مکمل ہڑتال ….فوج پر بم حملہ

ادھم پور، نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف حریت قیادت کی اپیل پر پوری وادی میں شٹر ڈاون ہڑتال، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور یوم سیاہ منایا گیا،ا حتجاج روکنے کیلئے اہم سڑکوں پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات ، مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کر کے حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا،بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بھی احتجاج کیا گیا ،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیرمیں جموں سرینگر نیشنل ہائی وے پرملک کی سب سے طویل سرنگ کا افتتاح کرنے کے بعد کشمیریوں نوجوانوں کو مشورے دیتے رہے اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو مخاطب کرکے پاکستان کو تنقید کانشانہ بناتے رہے ،مودی کا کہنا تھاکہ دوسری طرف کے لوگ خود کو کنٹرول نہیں کرسکتے میں آزاد کشمیر کے لوگو ںکو بتانا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر کیسے ترقی کرسکتا ہے ،زاد کشمیر کے لوگوں دکھانا چاہتے ہیں کہ ترقی کیا ہوتی ہے تاکہ انھیں معلو م ہوسکے کہ انھیں کنٹرول کرنے والے انکا استحصال کررہے ہیں،کشمیریو ںکو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے دو سڑکیں ہیں سیاحت اور دہشتگردی ،40سال تک بہت خون بہایا گیا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا اگر کسی نے کچھ کھویا ہے تو ایک ماں نے اپنا بیٹا کھویا ہے۔اتوار کوبھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیرمیں جموں سرینگر نیشنل ہائی وے پرملک کی سب سے طویل سرنگ کا افتتاح کردیا اس موقع پر کٹھ پتلی وزیراعلی محبوبہ مفتی اور دیگر حکام بھی موجود تھے ۔چنئی اور ناشری کے درمیان ٹنل سے ایک سال کے دوران 99کروڑ روپے مالیت کے ایندھن کی بچت ہوگی۔یہ بھارت کا پہلا اور دنیا کا چھٹا بڑا ٹنل ہے جس میں مسافروں کو تازہ ہوا فراہم کرنے کیلئے وینٹیلیشن کا نظام ہے ۔سرنگ کی تعمیر پر 2519کروڑ روپے لاگت آئی جو مسافروں کیلئے ہر قسم کے موسم میں ایک محفوظ اور تیز راستہ فراہم کرے گی۔چینئی ناشری ٹنل ایشیا میں طویل ترین ٹنل ہے۔ادھموپور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے معصوم کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے کے احکامات دینے والے انتہاپسند ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیری نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ 40سال کی خونریزی سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ، ریاست کی ترقی اور بہبود کو یقینی بنانے کیلئے دہشتگردی کو چھوڑ کر سیاحت کا انتخاب کرنا چاہیے ۔مودی نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نعرے کشمیریت،جمہوریت،انسانیت کو دوہراتے ہوئے کہاکہ سابق وزیراعظم کی کہاوت کو ریاست کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے کیلئے استعمال کیا جائے گا کوئی بھی رکاوٹ ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔مودی نے پتھر پھینکنے والے نوجوانوں سے کہاکہ ان پتھروں کا بہتربنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ا نریندر مودی نے کہا کہ اگر کشمیری نوجوان صوفی ثقافت کی انمول روایت کو نظر انداز کریںگے تو وہ اپنا آج کھو دیں گے اور اپنے مستقبل کو اندھیرے میں ڈال دیں گے ۔نریندر مودی نے ڈھکے چھپے الفاظ میںکشمیر کے حوالے سے پاکستان کے حکمرانو ںکو بھی یہ کہہ کر نشانہ بنایا کہ وہ خود کی دیکھ بھال بھی نہیں کرسکتے ہماری حکومت جموں وکشمیر میں ترقی کو تیز رفتار بنانے کیلئے پرعزم ہے ، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کشمیر کی ترقی میں شانہ بشانہ کھڑےں ہوں گے ۔میں کشمیر کے نوجوانوں کو بتاناچاہتا ہوں کہ ایک پتھر کی طاقت کیا ہے ،ایک طرف گمراہ نوجوان پتھر پھینک رہے ہیں اور دوسری طرف نوجوان کشمیر کے مستقبل کو تعمیر کرنے کیلئے پتھر توڑ رہے ہیں،میں کشمیریو ںکو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے دو سڑکیں ہیں سیاحت اور دہشتگردی ۔40سال تک بہت خون بہایا گیا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا اگر کسی نے کچھ کھویا ہے تو ایک ماں نے اپنا بیٹا کھویا ہے ۔انھوں نے کہاکہ دوسری طرف جو خود کو کنٹرول نہیں کرسکتے میں آزاد کشمیر کے لوگو ںکو بتانا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر کیسے ترقی کرسکتا ہے ۔آزاد کشمیر کے لوگوں دکھانا چاہتے ہیں کہ ترقی کیا ہوتی ہے تاکہ انھیں معلو م ہوسکے کہ انھیں کنٹرول کرنے والے انکا استحصال کررہے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف وادی میںحریت قیادت کی اپیل پر شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی ۔ جب کہ احتجاج روکنے کے لیے اہم سڑکوں پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ۔ وادی کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کر کے حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ۔بھارتی وزیراعظم کے دورہ جموں و کشمیر کے خلاف آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں احتجاج کیا گیا اور کشمیری مہاجرین اور شہریوں نے سنٹرل پریس کلب کے باہرمظاہرہ بھی کیا۔واضح رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں تحریک آزادی کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لئے قابض بھارتی فوج وادی میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے جس میں اب تک سیکڑوں کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جب کہ قابض فوج کے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال سے سیکڑوں کشمیری بصارت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دبے لفظوں میں مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں سے قابض فوجیوں پرپتھراو¿کاشکوہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر میں خون خرابے نے صرف ہلاکتیں اورتباہی دی اس سے کسی کوفائدہ نہیں ہوا،40سال اگرسیاحت پرتوجہ دیتے توآج صورتحال یکسرمختصرہوتی، ایک طرف پتھربرسانے والے ہیں اوردوسری طرف کشمیرکے مستقبل کےلئے پتھرتوڑنے والے ،سنگ باز سنگ تراشوں کودیکھیں،ہم نے کشمیرمیں ایشیاءکی سب سے بڑی روڈٹنل بنالی،اس طرح کی مزیدنوٹنلز بنائیں گے ، پاکستان کے عوام کودکھائیں گے کہ ان کے سیاستدان ان کیلئے کچھ نہیں کررہے ، پاکستانی کشمیر کے لوگ بھی دیکھ لیں ترقی کیا ہوتی ہے ؟۔وہ اتوارکومقبوضہ کشمیر کے ضلع اودھم پورمیں کے علاقے بٹل بالیاںمیں 9.2کلو میٹرطویل چینانی ناشری آل ویدر روڈ ٹنل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے اس ٹنل کی تعمیر سے سرینگر اور جموں کے درمیان مسافت دو گھنٹے کم ہوجائے گی ۔نریندرمودی نے اس ٹنل کی تعمیر پر کشمیر ی عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہاکہ یہ صرف ٹنل ہی نہیں بلکہ جموں وکشمیر کی ترقی کی جانب بڑی چھلانگ ہے ۔ اس موقع پرانہوں نے شکوہ کیاکہ کچھ گمراہ نوجوان پتھراﺅ کررہے ہیں جبکہ دیگر نوجوان انہی پتھروں سے بنیادی ڈھانچہ تعمیرکررہے ہیں اوروہ کشمیرکا مستقبل تعمیرکرنے کےلئے پتھرتوڑرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 40 سال سے زائد عرصے میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں خون خرابے نے کسی کوکچھ نہیں دیااگرانہی چالیس برسوں میں سیاحت پرتوجہ دی جاتی توآج صورتحال یکسرمختلف ہوتی ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں کے پاس دوراستے ہیں سیاحت اوردہشت گردی کا انہیں اس میں سے کسی ایک راستے کاانتخاب کرناہوگا جوسرحدپارکرتے ہیں انہیں اپنی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ اس ٹنل سے کشمیر کے لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا ریاست میں سیاحت کو فروغ ملے گا جبسیاحت بڑھے گی تو معیشت بہتر ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ مجھے بتایا گیا کہ یہ ٹنل عالمی معیار کے مطابق تعمیر کی گئی ہے بعض اقدامات میں ہم دنیا سے آگے ہیں ۔ اس ٹنل کی تعمیر کے بعد میں کشمیری نوجوانوں کو بتاناچاہتا ہوں کہ پتھر کی طاقت کیا ہے، سنگ بازوسنگ تراشوں کودیکھیں ۔انہوں نے کہاکہ ٹنل کی تعمیرکے بعد ہم پاکستان کے عوام کودکھائیں گے کہ ان کے سیاستدان ان کیلئے کچھ نہیں کررہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو دکھاناچاہتے ہیں کہ ترقی کیا ہوتی ہے اورجموں وکشمیر کیسے ترقی کرسکتا ہے ؟ ۔ بھارتی وزیراعظم نے کہاکہ ٹنل کی تعمیر سے علاقے کے کاشتکاروں کی تقدیربھی بدل جائےگی اس طرح کی مزید نو ٹنل کی تعمیر زیر غور ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ کشمیر کے موقع پرشہر خاص کے نوہٹہ علاقہ میں اتوار کی شام تحریک المجاہدین کے خصوصی سکارڈ نے سی آر پی ایف پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور11 زخمی ہو گئے۔ بھارتی اہلکاروں نے اس موقع پر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی جس سے چند اہلکارزخمی ہو گئے۔ سرحد پار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حملے کی ذمہ داری تحریک المجاہدین نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ تحریک المجاہدین کا نشانہ کشمیر پولیس نہیں بلکہ ٹاسک فورس ہے جو بھی کشمیری عوام پر ظلم و ستم میں کردار ادا کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بھارتی فورسز پر بھی حملے جاری رکھے جائیں گے۔

لقوہ

ڈاکٹر نوشین عمران
چہرے کے پٹھوں کو ”فیشیل نرو“ کنٹرول کرتی ہے۔ جس میں انفیکشن، کمزوری یا فالج کے باعث چہرے پر لقوہ ”بیلز پالسی“ ہو جانا ہے۔ دائیں اور بائیں فیشل نرو چہرے کے دونوں جانب سے الگ الگ کام کرتی ہیں۔ یہ نس چہرے، غدود، آواز پیدا کرنے والا ساﺅنڈ بکس، کان کا کچھ حصہ، لعاب دہن، زبان کا اگلہ حصہ، ذائقے کی حس، آواز کے کان میں جانے والے حصے کو کنٹرول کرتی ہے۔ اسی لئے لقوہ میں چہرے کے یہ تمام حصے متاثر ہوتے ہیں۔
انفیکشن کے باعث چہرے پر آنے سے پہلے والے حصے میں سوزش ہو جاتی ہے جس سے نس کی تمام چھوٹی شاخیں کام کرنا بند کر دتی ہیں۔ لیکن یہ اثرات چہرے کے ایک جانب ہوتے ہیں دونوں جانب نہیں۔ 80 فیصد مریضوں میں لقوہ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ فیشیل نرو کی انفیکشن کی اہم وجہ وائرس ہے۔ جو عام طور پر سرد موسم میں بڑھ جاتا ہے۔ اسی باعث ایک زمانے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سرد موسم، تیز ہوا، اے سی یا پنکھے کے باعث چہرے کو ہوا لگ جاتی ہے اور لقوہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ اس کی وجہ ”وائرس ہرپس سمپلکس“ ہے۔ چند دوسرے وائرس بھی نس کی انفیکشن پیدا کر کے لقوہ کر سکتے ہیں۔ لیکن سردی یا ہوا لگنے سے لقوہ نہیں ہوتا۔
لقوہ کی علامات بہت معولی یا بہت شدید ہو سکتی ہیں۔ علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور 48 گھنٹوں میں پوری شدت پر آ جاتی ہیں۔ چہرے کے ایک جانب پٹھوں کی کمزوری، ڈھیلا پن، فالج جیسی کیفیت ہو جاتی ہے۔ متاثرہ جانب آنکھ بند ہو جاتی ہے، آنکھ سے پانی بہنے لگتا ہے، ہونٹ ایک جانب کھنچ جاتے ہیں۔ اس جانب سے تھوک بہنے لگتی ہے۔ کان کے نیچے درد رہتا ہے، ذائقہ کی حس ختم ہو جاتی ہے، کان میں آواز زیادہ تیز یا اونچی سنائی دیتی ہے، جبڑے کے گرد درد ہوتا ہے، زبان لڑکھڑاتی ہے، سر چکراتا یا سربھاری ہو جاتا ہے۔ چہرے کے سارے پٹھے ایک جانب کھنچے محسوس ہوتے ہیں۔
لقوہ ہونے کے 72 گھنٹے کے اندر اندر سٹیرائڈ دوا استعمال ضروری ہے کیونکہ یہ نسوں کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ عموماً پریڈ نیسولون سٹیرائڈ گولی دن میں تین بار لی جاتی ہے۔ پھر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہر تین دن بعد ایک گولی کم کر کے چند دن میں ختم کر دی جاتی ہے۔ آنکھ سے چونکہ پانی بہت بہتا ہے اس لئے آنکھ پر صاف رومال رکھیں۔ ادویات کے ساتھ چہرے کی فزیوتھراپی اور مالش ضرور کریں۔ مریض خود دن میں دس سے بارہ بار چہرے کی ورزش کریں جیسا کہ چیونگم چبانا، غبارے میں ہوا بھرنا، منہ میں ہوا بھرنا، دانت جوڑ کر مسکرانا، منہ کھولنا اور بند کرنا، منہ میں متاثرہ جانب برف کا ٹکڑا رکھیں اس سے سوزش کم ہو گی۔ اگر فزیوتھراپی اور دواﺅں کے بعد بھی کچھ نقص رہ جائے تو اسے بوٹوکس انجکشن سے دور کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭