متحدہ رہنماءایم کیو ایم پاکستان کے سلیم شہزاد نے عمران خان سے مدد کی اپیل کر دی

کراچی(نیٹ نیوز) جیل میں قید ایم کیو ایم پاکستان کےرہنما سلیم شہزاد نے اپنے علاج کیلئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے مدد مانگ لی۔نجی ٹی وی کے مطابق ایم کیو ایم کے قیدی رہنما سلیم شہزاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جیل میں رہنے سے انہیں کینسر کا مرض لاحق ہو چکا ہے تاہم عمران خان سیاسی اختلاف بالائے طاق رکھتے ہوئے علاج کیلئے آواز بلند کریں۔ان کا کہنا تھا کہ گردوں کو جگر کے مرض میں مبتلا ہوں جبکہ جیل میں رہنے سے کینسر کا مرض بھی لاحق ہو چکا ہے۔ عمران خان سیاسی اختلاف بالائے طاق رکھتے ہئے علاج کیلئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف مقدمات اختلاف کی وجہ سے بنائے گئے۔ عدالتوں پر مکمل بھروسہ ہے جہاں اسے انہیں انصاف ملے گا۔

” وہی ہوا جس کا ڈر تھا “ کرنل (ر) حبیب ظاہر بارے نیپالی حکام نے اہم خبر دیدی

کھٹمنڈو(نیٹ نیوز) نیپالی پولیس نے کھٹمنڈو میں پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کیا ہے کہ حبیب ظاہر نیپال میں نہیں ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں بھارت لے جایا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق حبیب ظاہر کا لمبینی ایئر پورٹ پر بھارتی شہری نے استقبال کیا۔ بھارتی شہری کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے شناخت کی گئی تاہم نیپالی پولیس نے یقین دلایا ہے کہ حبیب ظاہر کی بازیابی کیلئے تمام اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

افغان خاتون شربت گلہ بارے افسوسناک خبر

کابل (این این آئی) نیلی آنکھوں والی افغان خاتون شربت گلہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کرائے کے گھر میں رہ رہی ہے لیکن صدراشرف غنی ان کو گھردینے کااعلان کیاتھا۔ افغان میڈیا کے مطابق شربت گلہ گھر کا بجلی کا بل اور کرایہ دینے سے متعلق پریشان ہیں۔ پاکستان سے جانے کے بعد صدرغنی اور اسلام آباد میں افغان سفیر عمرزاخیل وال اوردیگررہنماﺅں نے شربت گلہ کے معاملے کو سیاسی رنگ دیا تھااورصدرغنی نے اس کااستقبال کرکے گھر کی چابیاں دی تھیں لیکن اب افغان میڈیا کاکہنا ہے کہ گھر کی ملکیت شربت گلہ کی نہیں بلکہ کرائے پر ہے اور کرایہ شربت گلہ کی ذمہ داری ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق شربت گلہ کے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور مالک مکان اس سے کرایہ مانگ رہا ہے جس کی ادائیگی شربت گلہ کے بس میں نہیں۔ میڈیا کاکہنا ہے کہ شربت گلہ نے شکایت کی ہے کہ افغان حکام ان کافون بھی نہیں سنتے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شربت گلہ کاعلاج بھی نہیں ہورہا ان کے بچوں کوسکولوں میں داخلہ بھی نہیں دیاگیاہے۔

عزیر بلوچ اور کلبھوشن یادیو میں کیا تعلق تھا ؟ رپورٹ نے تہلکہ خیز انکشافات

کراچی (وحید جمال) کل بھوشن یادیو کے بارے میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ نے اپنی گرفتاری کے بعد جو معلومات فراہم کیں ان کی روشنی میں یہ بھارتی جاسوس گرفتار ہوا عزیر جان بلوچ نے بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کے نیٹ ورک اور پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں اسی ایجنسی کے بیس کیمپ سے متعلق اہم انکشافات کئے جہاںبھارتی جاسوس کلوبھوشن یادو کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا وہیں بلوچستان اور ایران کے درمیان دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور کئی مراکز میں میں ان کی تربیت کے بارے میں بڑی معلومات فراہم کیں کلبھوشن یادو کا مشن پاکستان کیخلاف صرف جاسوسی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ پاکستان میں دہشتگردی پھیلاکر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کیلئے سرگرم تھا وزیر اعظم نواز اور آرمی چیف جنرل قمر زمان باجوہ کا یہ عزم خوش آئند ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا اور ملکی وغیر ملکی پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں بر تی جائےگی پیپلزپارٹی عزیر جان بلوچ کے اقبالی بیان میں میں کئے گئے انکشافات سخت ذہنی دباﺅ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے سیاسی قیادت عزیر جان بلوچ کیلئے اپنی مصلحتوں کے تحت شاید نرم گوشہ رکھتی ہولیکن عسکری قیادت نے ملک کو تمام سیاسی و غیر سیاسی ملکی و غیر ملکی دہشتگردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے میں تیزی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں ملک دشمن اور جرائم پیشہ عناصر ضرور گرفت میں آئیں گے کراچی آپریشن کے دوران لیاری گینگ وار میں ملوث بہت سے افراد ایران عمان دبئی اور جنوبی افریقہ فرار ہوگئے تھے عزیر جان بلوچ کے اقبالی بیانات میں انکشافات کئے گئے ناموں کی بھی حساس اداروں نے تلاش شروع کردی ہے ایف آئی اے کاوئنٹر ازم ونگ کو عزیر جان بلوچ کے ساتھیوں کے سفر کا ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تحقیقاتی اداروں نے لیاری اور شہر کے دیگر بلوچ اکثریتی علاقوں میں ایسے دہشتگردوں کی تلاش شروع کردی ہے جو کئی برس تک شہر میں حالات خراب کرنے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے علاوہ جاسوسی کے نیٹ ورک کا حصہ بنے رہے بی ایل اے کے ان کیمپوں میں آنے والوں کو فنڈز اور عسکری تربیت بھارتی خفیہ ادارے کی طرف سے فراہم کی جاتی رہی سکیورٹی فورسز نے آپریشن ”رد الفساد “میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں بھارتی و افغانی خفیہ ایجنسیوں کا نیٹ ورک چلانے والے پانچ دہشتگرد گرفتار کرکے ان سے بھاری اسلحہ و بارود برآمد کرلیا بھارتی اور افغان ایجنسیوں کا نیٹ ورک پکڑا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ہمسایہ ملک پاکستان میں دہشتگردی کرکے اس کا امن تباہ کرنے مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں پاکستان میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے متعدد واقعات کے تانے بانے افغانستان میں چھپے ہوئے انتہا پسندوں سے ملتے رہے ہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کے فاٹابلوچستان خیبر پختونخواہ اور کراچی میں امن وامان تباہ کرنے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے شواہد تو اقوام متحدہ اور امریکہ کے حوالے کئے گئے لیکن کوئی مثبت ردم عمل سامنے نہیں آیا ضروری ہے کہ پکڑے گئے دہشتگردوں سے جامع تحقیقات کی جائے جو پاکستان اور اس پورے خطے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

”لَو یو لالہ“….نجم سیٹھی نے بڑی خبر سُنا دی

لاہور (خصوصی رپورٹ) پی سی بی ”لالہ“ کے تمام گلے شکوے دور کریگا، آفریدی کو بھی اس عزت سے رخصت کریگا جیسے مصباح الحق اور یونس خان کو کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آفریدی دونوں عظیم کھلاڑیوں کو عزت دینے پر خوشی کا اظہار کیا مگر اپنی بے توقیری کی بھی دبے الفاظ میں اظہار کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز پی سی بی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاہد آفریدی کو آئی سی سی چیمپنئز ٹرافی کاسفیر مقرر ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اور ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ آفریدی پاکستان کے ہیرو ہیں ان سے جلد ملاقات کرنے کے بعد الوداعی تقریب کا پروگرام طے کرونگا۔ انہوں نے ”لو یو لالہ“ کے الفاظ سے آفریدی سے محبت کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی نے شاہد آفریدی کو فون کرکے لاہور بلایا ہے۔ عنقریب ملاقات میں معاملات طے ہونےوالے ہیں۔

امریکہ نے افغانستان پر خطرناک بم کیوں گرایا …. ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے چونکا دینے والے انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے افغانستان میں 10 ٹن وزنی بم گرایا ہے جبکہ روس کے پاس 45 ٹن وزنی بم موجود ہے۔ امریکیوں کو یہ بم استعمال کرنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ وہ داعش اور طالبان سے رات کے اندھیرے میں لڑائی نہیں کر سکتے۔ کوریا اور امریکہ کی جنگ لفظی دکھائی دیتی ہے کیونکہ کوریا کے پیچھے نہ تو روس کھڑا ہے نہ چین۔ پاکستان اور بھارت کی ایٹمی ٹیکنالوجی میں کوئی موازنہ نہیں۔ بھارت اپنی دھمکیوں اور نعروں کے مطابق 10 فیصد بھی پرفارم کر کے نہیں دکھا پایا۔ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے چینل ۵ کے پروگرام ”نیوز ایٹ 8“ میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں جو بڑا بم استعمال کیا ہے وہ نیوکلیئر بم نہیں تھا۔ اس کا وزن تقریباً 10ٹن کے قریب بنتا ہے۔ امریکہ نے یہ بم اس وقت اس لئے استعمال کیا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور طالبانائزیشن کو روکنا چاہتے ہیں۔ امریکیوں کے خیال میں وہ رات کے وقت غاروں سے نکلتے ہیں اور ان سے میدان میں مقابلہ ممکن نہیں۔ یہ بم زمین سے خاص فاصلے پر پھٹ جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا بم روس کے پاس ہے۔ اس کا وزن 45 ٹن ہے۔ اس امریکی بم سے ریڈی ایشن خارج ہوتی ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ غار میں چھپے ہوئے افراد کو ٹارگٹ کر سکے۔ اس بم کا اثر تقریباً 6 کلومیٹر تک جاتا ہے۔ اس قسم کے بمبوں سے پاکستان کو کوئی اثر نہیں ہوگا۔ امریکہ ایسے بم کو پاکستان میں استعمال نہیں کرسکتا۔ وہ جانتا ہے کہ ہم ایک نیوکلیئر اسٹیٹ ہیں اس قسم کے بم کو (سی130)جیسے جہازوں سے اس وقت گرایا جاتا ہے جب یقین ہو کہ نیچے سے کوئی جہاز کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ساﺅتھ کوریا کھلے عام امریکیوں کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ ہم اس پر ایٹم بم گرائیں گے۔ امریکہ کافی حد تک اس سے خوفزدہ ہے۔ کوریا نے بہت بڑی تعداد میں میزائلوں کا تجربہ بھی کر رکھا ہے۔ کوریا اور امریکہ کی لفظی جنگ نظر آتی ہے۔ کیونکہ کوریا کے پیچھے نہ تو روس کھڑا ہے اور نہ ہی چین۔ بھارت پاکستان کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے آج تک وہ اپنی دھمکیوں کا 10فیصد بھی شو نہیں کر سکا۔ کسی نے اس کے میزائل درست لگتے نہیں دیکھے۔ کسی بھی ملک یا گواہ کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں کہ اس کا ”اگنی“ میزائل درست ٹارگٹ پر لگا ہو۔ دنیا بھی بھارت کے ایٹمی پروگرام کو اتنا سنجیدہ نہیں لیتی۔ تمام بڑے ممالک پاکستان کی ٹیکنالوجی سے بھارت کی ٹیکنالوجی کا موازنہ کرتے ہی نہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کی ٹیکنالوجی بہت بہتر اور قابل ہے جبکہ بھارت ابھی تک کوئی بھی ایسے ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے جس کے ذریعے اس نے اپنی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کر کے دکھائی ہو۔

مارشل لاءکی پہلی قیدی طالبہ کی ” جیل کہانی “

اسلام آباد ( آئی این پی ) مارشل لاءکی پہلی قیدی طالبہ کی ” جیل کہانی “ اسلام آباد پہنچ گئی ، کتاب کی انگریزی ایڈیشن کی رونمائی کر دی گئی ، یہ کتاب سینیٹر سسی پلیجو کی والدہ اختر بلوچ نے 1972 میں تحریر کی تھی ، اختر بلوچ کو 18 سال کی عمر میں حیدر آباد میں جنرل (ر) یحییٰ خان کے مارشل لاءکے خلاف بھوک ہڑتال کرنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ اس وقت بارہویں جماعت کی یہ طالبہ حیدر آباد جیل میں قید رہی ۔ قیدیوں بالخصوص خواتین قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں گزرنے والے حالات پر ” جیل کہانی “ کے نام سے کتاب لکھ دی ۔ یہ کتاب 1972 میں شائع ہوئی اور سندھ کے ہر گوٹھ بستی میں اس خاتون کی بہادری اور جرات کے حوالے سے اس کتاب کو انتہائی پسند کیا جاتا ہے ۔ گزشتہ شام اسلام آباد میں ادبی میلے کے موقع پر اس کتاب کی انگریزی ایڈیشن کی رونمائی کی گئی ۔ سینیٹر سسی بلوچ پلیجو کی خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی ۔ معروف دانشوروں نصیر میمن ، نذیر لغاری اور فرزانہ باری نے مصنفہ کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اختر بلوچ نے اپنی گرفتاری اور دیہات کی خواتین میں بہادری اور جرات کے موجزن جذبے کو اجاگر کیا ۔ اختر بلوچ کی یہ کتاب ماسکو اور واشنگٹن میں بھی مختلف اداروں کی جانب سے شائع کی گئی ہے ۔ اور اب اس کا پاکستان میں انگریزی ایڈیشن جاری ہو گیا ہے ۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو اور کرنل حبیب ظاہر کا معاملہ …. حقیقت کچھ اور ہی نکلی

اسلاآباد(این این آئی)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہاہے کہ بھارت کلبھوشن کے معاملے پر اپنے عوام سے جھوٹ بولنا بند کرے ،کارگل میں شکست کو نئی دہلی یاد رکھے۔بھارتی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو اور کرنل حبیب ظاہر(ریٹائرڈ) کا معاملہ الگ الگ ہے۔ کلبھوشن نے بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی درجنوں کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے جبکہ حبیب ظاہر اپنے کسی کام کے سلسلے میں نیپال گئے،دونوں چیزوں میں بہت فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت ہر معاملے میں اپنے عوام سے جھوٹ بولتی ہے ،بھارت جھوٹ بولنا بند کرے، اسی رویئے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام میں دوری پیدا ہورہی ہے۔سابق صدر نے کہاکہ بھارتی رویہ دھمکی آمیز ہے،بھارت کو کارگل جنگ کو یاد رکھنا چاہیے، کسی بھی قسم کی جارحیت نامناسب اقدام ہوگا، پاک فوج اپنے ملک کا دفاع کرنا خوب جانتی ہے۔پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس لئے بھارت جنگ کی باتیں نہ کرے۔

میاں بیوی کے جھگڑے کا خوفناک انجام

لاہور(کرائم رپورٹر)شادباغ کے علاقہ میں انسانیت سوز واقع، سگی ماں نے معصوم بیٹے اور بیٹی کو قتل کر کے خود کشی کر لی، 4سالہ بیٹے کا گلا دبا کر اسے قتل کیا جبکہ 2سالہ بیٹی کو پانی کے ٹب میں ڈبو کر موت کے گھاٹ اُتارنے کے بعد بازو کی نس کاٹ کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے نعشیں پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کرتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔ بتایا گیا ہے کہ شادباغ کے علاقہ کوٹ خواجہ سعید کے محلہ عیسیٰ نگری میں ایک ایسا افسوس ناک واقع رونما ہوا کہ انسانیت بھی شرما گئی۔ شہری سیمسن عرف سیم مسیح کی بیوی 30سالہ کرن بی بی نے شوہر کیساتھ آئے روز کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر گزشتہ روز اپنے ننھے بچوں 4سالہ میتھیو اور2سالہ ایمان کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق کرن بی بی کا خاوند سیمسن مقامی ریسٹورنٹ میں ملازمت کرتا ہے اور گزشتہ روز میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا جس کے بعد سیمسن اپنے کام پر چلا گیا اور کرن نے پہلے 3سالہ بیٹی ایمان کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کیا اور 4سالہ میتھیو کا گلا دبانے کے بعد بازو کی نسیں کاٹ کر خودکشی کرلی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جنہوں نے تینوں نعشیں قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دیں۔ پولیس کا کہنا ہے موقع سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں جن کو فرانزک لیب منتقل کردیا گیا ہے تاہم پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی اصل حقائق منظر عام پر آئیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر چونکہ واقع خودکشی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دکھائی دے رہا اسی لئے مزید کسی کو بھی شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔ واقعہ کے بعد علاقہ میں شدید خوف ہراس اور غم کی لہر قائم ہے جبکہ ننھے پھولوں کی دردناک موت سے علاقہ کی ہر آنکھ اشک بار دکھائی دیتی ہے ۔

افغانستان میں گرائے گئے خطرناک بم کے بعد داعش نے حیرت انگیز اعلان کر دیا

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)کالعدم تنظیم داعش نے کہاہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے بم حملے کے دوران ان کا کوئی جنگجو ہلاک نہیں ہواہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے گزشتہ روز اپنے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے”تمام بموں کے ماں “کہلوانے والے اس بم کو افغان صوبے ننگر ہار کے علاقے آچین میں شام 7بجکر 32منٹ پر گرایا گیا۔ جس کے بعد خدشات کا اظہار کیا جار ہا تھا کہ تقریبا 36داعش کے جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں لیکن اب کالعدم تنظیم کی جانب سے دعویٰ کیا گیاہے کہ انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہواہے۔ ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے گرائے گئے بم کی قیمت ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر (تقریباً 167,752,000,0پاکستانی روپے) ہے۔