مکی آرتھرکوسوچ سمجھ کربولناچاہیے،اجمل کی نصیحت

پشاور (نیوزایجنسیاں) قومی کرکٹر سعید اجمل نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے بیان پر اظہار حیرت کرتے ہوئے انہیں سوچ سمجھ کر بات کی نصیحت کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں سعید اجمل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کرکٹ کی ٹیم اچھی ہے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے ، قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے بیان پر حیرانی ہوئی، انہیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ سعید اجمل نے یونس خان اور مصباح الحق کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کھلاڑی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یونس خان اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیں کیونکہ یونس اور مصباح کے اکٹھے چلے جانے سے ٹیم میں خلاآئے گا۔قومی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سعید اجمل کا کہنا تھا کہ مکمل فٹ ہوں لیکن پتا نہیں سلیکٹرز کیا چاہتے ہیں۔

موجودہ سری لنکن کرکٹرزآئی پی ایل میں کھیلنے کے اہل نہیں

ممبئی (آئی این پی) مرلی دھرن نے کہاہے کہ ” موجودہ سری لنکن کرکٹر آ سٹر یلیا ، نیوزی لینڈ ، جنوبی افریقہ اور انگلینڈکی طرح اتنے اہل نہیں کہ وہ آئی پی ایل کھیل سکیں۔مرلی دھرن کا مزید کہناتھا کہ مجھے یقین ہے کہ سری لنکاکے پاس کئی باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں لیکن ابھی ا±نہیں پالش ہونے کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں مرلی دھرن نے کہاکہ جب آئی پی ایل فرنچائزڈ کو تجربہ کارورلڈکلاس کھلاڑی میسر ہیں تو وہ کیوں ناتجربہ کار سری لنکن پلیئرزکا انتخاب کریں؟

بورڈ کو پاور ہٹرز میں دوں گا

کراچی (آئی این پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ پی سی بی کی عزت درکار نہیں مداحوں کا پیار کافی ہے، پی سی بی کو یاد رکھنا چاہئے کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی کرکٹ بورڈ بھی ہے، پی سی بی نے یونس اور مصباح کو آخری سیریز دیکر اچھی روایت قائم کی، پاور ہٹرز کی تلاش کیلئے سندھ میں کیمپ لگاﺅں گا، کرکٹ تیز ہو گئی ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہو گا،میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور میں یہ کام اپنی فاﺅنڈیشن کے ذریعے کر رہا ہوں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیم نے اچھا پرفارم کیا، بہترین کپتانی پر سرفراز احمد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ ہے نہ ہی کسی سیاسی پارٹی سے تعلق ہے، سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور میں یہ کام اپنی فاﺅنڈیشن کے ذریعے کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ تیز ہو گئی ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہو گا، نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا چاہیئے، پاور ہٹرز کی تلاش کیلئے سندھ میں کیمپ لگاﺅں گا۔الوداعی میچ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے پی سی بی کی عزت کی ضرورت نہیں، مداحوں کی جانب سے ملنے والا پیار میرے لئے کافی ہے۔ پی سی بی کو یاد رکھنا چاہئے کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی کرکٹ بورڈ بھی ہے ، میں نے کھلاڑیوں کو اچھے انداز میں رخصت کرنے کا ٹرینڈ سیٹ کرنے کی کوشش کی، مصباح اور یونس نے بہترین فیصلہ کیا اور ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔ سینئر کرکٹرز کو اچھے انداز میں رخصت کیا جانا خوش آئند ہے۔ پی سی بی نے یونس اور مصباح کو آخری سیریز دیکر اچھی روایت قائم کی۔ میرے موقع پر پی سی بی نے ایسا نہیں کیا جس کا مجھے افسوس بھی نہیں۔ مجھے نہ کوئی الوداعی میچ چاہیے نہ ہی کوئی سیریز۔انہوں نے کہا جو پیار ملا عوام سے ملا پی سی بی سے کوئی امید نہیں۔ موجودہ ٹیم کو ماڈرن کرکٹ کھیلنے کے انداز اپنانے ہوں گے۔ کیونکہ بڑی ٹیموں کیخلاف اچھی کپتانی کرنیکی ضرورت ہو گی۔

پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی پر سوالیہ نشان؟

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تین ایک سے شکست کے بعد ون ڈے سیریز بھی دو ایک سے اپنے نام تو کر لی لیکن اس جیت نے بھی پاکستان کی کارکردگی اور سلیکشن کے اوپر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ امید تو یہ تھی کہ ویسٹ انڈیز کی ناتجربہ کار ٹیم کو پاکستان بآسانی کلین سویپ شکست سے دوچار کرے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ پاکستان خود بیٹنگ اور باﺅلنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی بُری طرح بے نقاب ہوا جہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ کامران اکمل کو ڈومیسٹک کی کارکردگی پر سلیکشن کمیٹی نے موقع دیا تو وہیں پر سلیکشن کمیٹی کو ہر اس کھلاڑی کو موقع دینے کی ضرورت ہے جو ڈومیسٹک سیزن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ سلیکشن کمیٹی کے ممبران کو خود گراﺅنڈز میں جا کر لڑکوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے نہ کہ صرف کسی کے کہنے پر میڈیا ٹی وی پر ایک دو میچز دیکھ کر کسی کو سلیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ اوپننگ بیٹسمین کا مسئلہ ایک عرصے سے چلا آ رہا ہے اول تو اچھا اوپنر نہیں مل رہا اور اگر ملتا ہے تو وہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی زد میں آ جاتا ہے لہٰذا سلیکشن کمیٹی نے ایسا فیصلہ جس کے دورس اثرات ہوں لینے کی بجائے چلے ہوئے کارتوسوں کو موقع دینے پر اکتفا کیا۔ کامران اکمل اور احمد شہزاد کو موقع دینا اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے اندر کام کرنے والے ادارے کسی بھی اوپننگ بلے باز کو ڈھونڈنے یا تیار کرنے میں بُری طرح ناکام نظر آئے جس کی وجہ سے ہمیں پُرانے کھلاڑیوں کو دو تین سال بعد دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کامران اکمل اور احمد شہزاد دونوں کھلاڑی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور سلیکشن کمیٹی اس بات کا اشارہ بھی دے چکی ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی کارکردگی نہیں دکھائے گا اس کو موقع نہیں دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد لگتا تو یہی ہے کہ آئندہ ان کو موقع نہیں دیا جائے لیکن اس کیلئے ضروری ہے ان کھلاڑیوں کا متبادل بھی تیار کیا جائے جوکہ مشکل نظر آتا ہے۔ شعیب ملک اور محمد حفیظ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں جو کارکردگی دکھائی اس سے لگتا ہے کہ وہ دونوں اپنی جگہ کو صرف پکا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ شعیب ملک نے 14 اکتوبر 1999ءکو شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلا تھا اور اب تک 247 ون ڈے میچز کھیل چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے کریڈٹ کے اوپر صرف 9 سنچریاں ہیں اور ویسٹ انڈیز کے خلاف نویں سنچری انہوں نے 20 اننگز کے بعد بنائی ہے جس سے ان کی کارکردگی میں تسلسل کا صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کو ان پرانے پلیئرز کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے اور مزید نئے لڑکوں کو مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے کچھ نئے لڑکوں کو سکواڈ میں تو ضرور شامل کیا ہے لیکن ان کو پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔ آصف ذاکر، فہیم اشرف، فخر زمان اور محمد اصغر کو بالکل بھی موقع فراہم نہیں کیا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم انڈرپریشر ہے اور نئے لڑکے کو موقع دینے سے کترا رہی ہے۔ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سلیکشن کمیٹی پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے کہ ایسے نئے لڑکوں کی تلاش کی جائے جوکہ مڈل آرڈر میں تسلسل کے ساتھ بلے بازی کر سکیں نہیں تو پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے سے بھی نیچے آ سکتا ہے۔ بھاری تنخواہوں کے ساتھ کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی جس کے سربراہ خود ایک بلے باز رہ چکے ہیں کو گراﺅنڈز میں جا کر نئے بلے بازوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جوکہ لمبے عرصے تک پاکستان کیلئے کھیل سکیں اور ساتھ ہی ساتھ آنے والے ورلڈکپ کیلئے بھی ٹیم تیار کی جا سکے۔
٭٭٭

یونس اپنی آخری سیریزکویادگار بنانے کیلئے پرعزم

گیانا (آئی این پی) پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے روشن ستارے اور کرکٹ کنگ خان یونس خان نے اپنے آخری سیریز کو یادگار بنانے کے عزم کا اظہار کر دیا۔ انکا کہنا ہے کہ 10 ہزار رنز مکمل کر کے منفرد جشن منائیں گے۔ سینئیر بیٹسمین نے جونیئرز کے لیے رول ماڈل بننے کی خواہش کا اظہار بھی کر دیا۔رنز مشین کیرئیر کی آخری سیریز میں کچھ نیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز، سب سے زیادہ سنچریز،، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن بنوانے والے یونس خان کو سری لنکا کے خلاف پہلا رن بنانا آج بھی یاد ہے.گیانا میں موجود سینئیر بیٹسمین نے 10 ہزار رنز بنانے کے جشن کو منفرد انداز میں منانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔پاکستان کرکٹ کو بے انتہا نوازنے والے کنگ خان نئے کھلاڑیوں کے لیے ایسی مثال بننا چاہتے ہیں. جس سے کھلاڑی اپنے کیرئیر کے اہداف سیٹ کر سکیں یونس خان نے چند روز قبل انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا،، ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کو آخری سیریز کہہ چکے ہیں۔

مکی کو شرجیل کی یاد ستانے لگی

گیانا(آئی این پی) قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ پاکستان میں پاور ہٹرز کی کمی ایک تلخ حقیقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ گرین کیپس ون ڈے میں 25 سے 30 رنز کم بنا پاتی ہے۔گیانا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں پاور ہٹرز کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم آخری اوورز میں 25 سے 30 رنز پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرجیل خان جیسے پاور ہٹر کو کھو دینا بلا شبہ ٹیم کے لئے بڑا دھچکا ہے لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں سے پر امید ہوں۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم 20 ویں صدی کی کرکٹ کھیلتی رہی ہے جب کہ پاکستان میں کرکٹ کا نہ ہونا اور آئی پی ایل جیسا ایکسپوڑر نہ ملنا بھی ایک حقیقت ہے لیکن اب تمام کھلاڑیوں پر واضح کر دیا ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیلنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیو ں کو 20 ویں صدی کا کھیل چھوڑنے اور جدید کرکٹ سے روشناس ہونے کی ضرورت ہے۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی کرکٹ بدل چکی ہے،اب پاور ہٹرز کے بغیر میچز جیتنا نا ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں جارحانہ بلے بازوں کی شدید قلت ہے،مکی آرتھر کیمطابق فکسنگ کیس میں معطل شرجیل خان کے نہ ہونے سے ٹیم کو بہت نقصان ہوا ہے،ان کی موجودگی بیٹنگ لائن کیلئے بڑا سہارا تھی،ہیڈ کوچ نے کہا کہ وہ قومی کرکٹرز کے کھیل میں بہتری کیلئے کوشش کر رہے ہیں تاہم یہ چیزیں راتوں رات ممکن نہیں ہیں۔

امریکہ کا ہمسایہ ملک پر دنیا کے سب سے بڑے بم سے حملہ

کابل(ویب ڈیسک) امریکا نے افغانستان کے علاقے ننگرہار میں پہلی بار نان نیوکلیئر بم کا استعمال کیا ہے۔ اس نان نیوکلیئر بم کو شدت پسند تنظیم داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ غیر ملکی خبر رسااں ادارے کے مطابق جی بی یو 43 میسو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم (ایم او اے بی) نان نیوکلیئر بم کو “مدر آف آل بمز” تمام بموں کی ماں کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں بمباری سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس حملے کو گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہلاک کیے گئے امریکی فوجی کی ہلاکت کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نان نیوکلیئر بم کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں گرایا گیا۔ پینٹاگان کے مطابق 9800 کلوگرام وزنی یہ بم جمعرات کی شام کو ننگرہار کے ڈسٹرکٹ آچن میں گرایا گیا۔
امریکی ایئر فورس کے ترجمان کرنل پیٹ رائڈر کا کہنا ہے کہ 21 ہزار پونڈ وزنی لارجسٹ نان نیوکلیئر بم جی بی یو 43 بی (دی مدر آف آل بومب) پہلی بار کسی لڑائی میں استعمال کیا گیا ہے۔
پنٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ کے مطابق خوفناک ترین بم ایم سی 130 طیارے کے ذریعے اہداف پر گرایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق آئی ایس آئی ایس خراسان کئی ٹھکانوں سے ہاتھ دھونے کے بعد زیر زمین ٹھکانوں تک محدود ہوگئی ہے، داعش افغانستان کو کسی بھی طرح کا موقع فراہم نہیں کریں گے۔

گوتم گمبھیر بھی مودی کی زبان بولنے لگے

نئی دلی(ویب ڈیسک) بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر نے کہا ہے کہ جو کشمیر کی آزادی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ ہمارا ملک چھوڑ دے اور بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کو پڑنے والے ہر تھپڑ کے بدلے میں 100 جہادیوں کو قتل کیا جانا چاہئے۔بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر بھی مودی سرکار کی زبان بولنے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں پیراملٹری فورسز کی درگت بنانے کی ایک وڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جو کشمیر کی آزادی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ ہمارا ملک چھوڑ دے اور بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کو پڑنے والے ہر تھپڑ کے بدلے میں 100 جہادیوں کو قتل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دشمن بھول گئے ہیں کہ ہمارے جھنڈے کا کیسری رنگ ہمارے غصے کی آگ کو ظاہر کرتا ہے اور سفید رنگ ان جہادیوں کا کفن ہے جب کہ سبز رنگ دہشت گردی کے خلاف نفرت کی علامت ہے۔گمبھیر کو بھارتی فورسز کی پٹائی تو نظر آئی لیکن انہی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں کے دوران پلیٹ گنوں سے چھلنی ہونے والے وہ کشمیری نوجوان نظر نہیں آئے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ نہتے ہو کر اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کی زبان بولنے والے گوتم گمبھیر اور انتہا پسند بھارت کو یاد رکھنا ہو گا کہ کشمیر بھارت کی ملکیت نہیں بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا ایک فریق پاکستان بھی ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مطابق حل کیا جانا ضروری ہے۔

سابق ایرانی صدر کا بھارتی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ

تہران (ویب ڈیسک) ایران کے سخت گیر سابق صدر محمود احمدی نڑاد نے اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ آج بدھ بارہ اپریل کو انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔احمدی نڑاد نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے کہ سپریم رہنما آیت العظمیٰ خامنہ ای نے انہیں الیکشن میں شریک ہونے سے منع کیا ہے۔موجودہ صدر حسن روحانی دوسری مدتِ صدارت کے امیدوار بننے کے اہل ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں۔محمود احمدی نڑاد سن 2005 سے لیکر سن 2013 تک ایرانی صدر رہ چکے ہیں۔ ایرانی صدارتی انتخابات انیس مئی کو ہوں گے۔

چینی صدر کا شام کے متعلق اہم بیان سامنے آگیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین جزیرہ نمائے کوریا میں جوہری ہتھیاروں کی ریس ختم کرنے میں مصروف ہے۔چینی صدر ڑی جن پنگ نے کہا ہے کہ جزیرہ نمائے کوریا کو پر امن طریقے سے جوہری ہتھیاروں سے پاک کیا جائے گا۔ چائنا ریڈیو کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ شام میں کسی بھی قسم کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ”نا قابل قبول“ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے میں متحد رہے گی اور متفقہ موقف اپنایا جائے گا۔چین اور امریکہ کو مل کر کام کرنا چاہیے تا کہ ٹرمپ کے آ ئندہ دورہ چین سے مثبت ثمرات حاصل کیے جا سکیں، رپورٹ کے مطابق چینی صدر نے فریقین پر زور دیا کہ حال ہی میں چینی اور امریکی صدور کے درمیان ملاقات کے نتیجے میں طے شدہ چار نکاتی مذاکراتی لائحہ عمل کو فروغ دیں۔