راولپنڈی (بیورو رپورٹ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل او سی کے دونوں جانب عام آبادی کو نشانہ بناتا ہے۔ پاک فوج کے پاس یہ آپشن نہیں ہے کہ ہم بھی ایل او سی کے پار سویلین آبادی پر فائرنگ کریں کیونکہ وہ تو ہمارے کشمیری بھائی ہیں۔ انڈیا کے جب بھی حالات خراب ہوں تو ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان مخالف بیانات دیں یا ایل او سی پر فائرنگ کی جائے۔ بھارت میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد داخلی حالات خراب ہیں۔ 10 سال میں سیز فائر کی 1062 بار خلاف ورزی ہوئی، گزشتہ 3 سال میں اس 10 سال سے زائد 1306 بار خلاف ورزی کی گئی۔ پچھلے 5 ماہ میں 360 بار خلاف ورزی کی گئی گویا سیز فائر کی خلاف ورزی بڑھ رہی ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے ہمارے بنکر کو نشانہ بنانے کا جھوٹا دعویٰ کیا، ہمارے پاس ان کی چوکیاں تباہ کرنے کی ویڈیوز موجود ہیں، بھارت نے جھوٹی ویڈیو چلائی تو ہم نے بھی انہیں اصل ویڈیو دکھائی کہ بنکر کیسے تباہ ہوتا ہے۔ فارمیشن کمانڈوز کانفرنس میں عزم کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کے کسی بھی قسم کے ایڈونچر خواہ وہ ڈرامہ ہی کیوں نہ ہو بھرپور جواب دیں گے جس کے لئے بھارت کو تیار رہنا چاہئے، آج یو این کے دو افسر ایل او سی پر روٹین کے جائزے کیلئے نکلے تھے۔ ان کی گاڑی پر یو این کا جھنڈا بھی تھا، بھارت کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی خوش قسمتی سے دونوں افسر محفوظ رہے اس لئے کہ فائرنگ کے وقت وہ گاڑی میں نہیں تھے بلکہ سائڈ پر کھڑے تھے۔ پچھلے 5 ماہ میں بھارتی فائرنگ سے ہمارے 5 شہری شہید ہوئے 44 زخمی ہوئے۔ افغان بارڈر کی صورتحال پر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم نے اپنی جانب کی سکیورٹی اور مینجمنٹ کو بہت بہتر کر لیا ہے اس حوالے سے بارڈر پر باڑ لگانا بھی شروع ہے، لانگ ٹرمپلان میں پورے بارڈر پر خار دار باڑ لگائی جائے گی۔ اس وقت دونوں ملکوں میں بارڈر پر تتعاون کو بہتر بنانا ضروری ہے جس کے لئے افغان فورسز سے بات چیت جاری ہے، ہماری وزارت خارجہ بھی ان سے رابطے میں ہے۔ دو طرفہ بارڈر کو آرڈینیشن میکنزم کا فعال ہونا دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہو گا جنرل آصف نے کہا کہ پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی ہر ہفتے بات ہوتی ہے جس میں سیز فائر پر گفتگو ہوتی ہے۔ ملٹری کورٹس سے 161 دہشتگردوں کو پھانسی کی سزا ہوئی جن میں سے 53 کو لٹکایا جا چکا ہے۔ آپریشنن ردالفساد سے قبل 13 دہشتگردوں کو پھانسی دی گئی اور 40 کو آپریشن کے دوران سزائے موت دی گئی۔ اے پی ایس سانحہ کے 2 دہشتگردی کی آج پھانسی دی گئی۔ جو بھی دہشتگرد پکڑا جائے یا خود گرفتاری دے اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کیا کوئی وعدہ معاف گواہ بنے یا معافی مانگے آرمی پبلک سکول کے ہر مجرم کو پھانسی دی جائے گی۔سانحہ اے پی ایس میں شہید بچے کی والدہ نے کہا ہے کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ سانحہ کے ذمہ داران کو چن چن کر مارا جائے گا، پاک فوج نے کافی حد تک اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ ہمیں کافی تسلی ہے کہ ان سفاک قاتلوں کو پھانسی کے تختے پر لٹکایا جا رہا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہید کی والدہ نے کہا ہے پاک فوج کی کاوشوں سے پتہ چل رہا ہے کہ ہمارا پاکستان ایک دن بالکل پرامن ہو گا اور کسی ماں کو اپنے لخت جگر کی ناگہانی موت پر رونا نہیں پرے گا جس طرح ہم روئے۔ بچے بہت قیمتی ہوتے ہیں وہ چلے جائیں تو ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا چاہے کتنے ہی بچےہوں، بچے کا دکھ زندگی کی آخری سانس تک بھلایا نہیں جا سکتا اور یہ غم لے کر ہی قبر میں اتنا پڑتا ہے۔ یہ کام فوج کے سر نہیں ڈالا جا سکتا سول قیادت کو بھی شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہو گا پھر ہی دہشتگردی کا قلع قمع ہو گا۔ دہشتگردوں کو تو کیفر کردار تک پہنچایا جا رہا ہے لیکن سانحہ کے وقت جو متعلقہ ادارے تھے اور ان کے ملازم جن کی غفلت کے باعث المناک سانحہ ہوا کو بھی پکڑا جانا اور سزا دینا ضروری ہے۔






































