لاہور (خصوصی رپورٹ) کراچی میں کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد لاہور کے تین بڑے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بعض پروفیسرز، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس اور طلباءیونینز کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں اور ان کی سرگرمیاں بھی مشکوک پائی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے سامنے آنے پر حساس ادارے لاہور میں بھی الرٹ ہوگئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ماضی میں کالعدم تنظیموں سے روابط رکھنے کے الزام میں جن اساتذہ اور طلباءکو گرفتار کیا جاچکا ہے‘ ان کے اداروں کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ ماضی میں جن کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا تھا ان میں سے ایک بڑی تعداد اس وقت لاہورکے تعلیمی اداروں میں موجود ہی نہیں ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اساتذہ اور طلباءتنظیموں میں شامل بعض افراد ایسے بھی ہیں جن کی سرگرمیاں مشکوک ہیں اور چند اساتذہ طلباءکو استعمال کر رہے ہیں‘ ان کی بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ لاہور کے تین بڑے تعلیمی اداروں کی خصوصی مانیٹرنگ کے لئے حساس ادارے کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں جوروزانہ کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کر رہے ہیں۔ ایسے اساتذہ، طلباءوطالبات اور دیگر ملازمین جن کے متعلق پہلے ہی کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلق کا انکشاف ہو چکا یا خدشات ظاہر کئے گئے ہیں ان کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔ دوسری جانب کالعدم تنظیموں کے انتہائی مطلوب اشتہاریوں کے ساتھ بھی روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کو حساس اداروں نے ایک رپورٹ میں آگاہ کیا کہ اشتہاریوں نے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں جو پیسے کی لالچ میں سہولت کاروں کو پناہ دیتے ہیں۔ محکمہ داخلہ نے 38خطرناک اشتہاریوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیدیا ہے اور یہ بھی پوچھا ہے کہ ایک برس میں اشتہاریوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام تر رپورٹس اور معاملات کو دیکھتے ہوئے الرٹ ہیں اور ایسے عناصر جو ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث، ایسی سرگرمیاں کر رہے یا کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ ہیں‘ ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔






































