واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے امریکی فیلڈ کمانڈروں کو دیئے گئے حملوں کے اختیارات کو کئی پاکستانی حلقے اسلام آباد کو دباﺅ میں رکھنے کے نئے امریکی طریقے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن حکومت کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان کیا گیا ہے۔ امریکہ طالبان کے خلاف ڈرون طیارے تو استعمال کرتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن کے عسکری فیلڈ کمانڈروں کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ پاکستان میں کئی حلقے اس اعلان کو واشنگٹن کی طرف سے دباﺅ ڈالنے کا ایک نیا طریقہ قرار دے رہے ہیں لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اسلام آباد کو اس امریکی اعلان کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے خیال میں اعلان کا مقصد پاکستان پر دباﺅ بڑھانا ہے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا پہلے انہوں نے بھارت کے کہنے پر ہماری امداد بند کی‘ پھر ہمارے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا اور اب ہم پر دباﺅ ڈالنے کے لئے وہ یہ فیلڈ کمانڈروں والی باتیں کررہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ (امریکی) پاکستانی سرحد کے اندر سو دو سو گز تک آجائیں اور کسی ٹارگٹ کے خلاف کارروائی کریں۔ ایسی کارروائیوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی ایسی کارروائیاں کی ہیں لیکن اگر انہوں نے باقاعدہ پاکستانی علاقے میں گھسنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سختی سے مزاحمت کی جائے گی۔ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے وقت پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر ریڈار نہیں لگایا تھا لیکن اب وہاں ریڈار بھی ہے اور فوج بھی۔ اب ایسی کسی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پریسٹین یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے مزاحمت اعلان جنگ کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اگر اس نے واقعی سرحد پار کی اور پاکستان میں داخل ہوا تو پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگا کہ وہ ایسی کسی دراندازی کو کسے روکے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر امان میمن نے کہا پاکستان کو بہت پہلے ہی طالبان کو مذاکرات کو مزید پر لانا چاہئے تھا۔ اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم کرنا چاہئے تھی۔ طالبان آئے دن خطرناک حملے کررہے ہیں۔ اگر ان کے حملے میں کبھی کوئی بڑا امریکی عہدیدار ہلاک ہوگیا تو پاکستان کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔
اختیار مل گیا

