ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بحریہ نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے خطے میں ان تمام مقامات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
امریکی کارروائی اور پس منظر: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے جمعہ کی شام جنوبی ایران کے بندرگاہی شہر ‘سیریک’ (Sirik) کے قریب ایرانی میزائل، ڈرون اسٹوریج اور ساحلی ریڈار سائٹس پر فضائی حملے کیے۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ یہ حملے سنگاپور کے جھنڈے والے تجارتی کارگو جہاز M/V Ever Lovely پر ایرانی ڈرون حملے کا جواب تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ ایران نے 4 خودکش ڈرون فائر کیے تھے، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایران کا جواب اور پوزیشن: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے (Memorandum of Understanding – MOU) کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ایران نے واضح کیا کہ اسلام آباد معاہدے (Islamabad MOU) کے آرٹیکل 5 کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری ایران کی ہے، اور امریکہ اشتعال انگیزی کے ذریعے اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
مزید حملوں کی دھمکی: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آئی آر جی سی (IRGC) نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت یا حملہ کرنے کی کوشش کی، تو ایران کا اگلا جواب "پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور شدید” ہوگا۔
سیاسی ردِعمل: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکی صدر مذاکرات یا جنگ بندی کے اصولوں کی پاسداری نہیں کر رہے۔ دوسری طرف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ "تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا”۔

