امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں ایران کے فوجی ٹھکانوں پر جوابی فضائی حملے کیے ہیں۔
ایرانی حملہ: 25 جون کو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سنگاپور کے جھنڈے والے ایک تجارتی کارگو جہاز M/V Ever یکطرفہ حملہ کرنے والے ڈرونز سے حملہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران نے 4 ڈرونز فائر کیے جن میں سے 3 کو مار گرایا گیا جبکہ ایک جہاز کے اوپری ڈیک پر لگا۔ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکہ کی جوابی کارروائی: 26 جون کو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے 6 فوجی طیاروں نے ایرانی ساحل اور ‘قشم جزیرے’ (Qeshm Island) پر واقع 4 اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج (ذخیرہ کرنے کی جگہوں) اور ساحلی ریڈار سائٹس کو تباہ کیا گیا۔
جنگ بندی کی خلاف ورزی: امریکہ اور ایران نے فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد حال ہی میں (17 جون کو) ایک معاہدے (MOU) کے تحت جنگ بندی کی تھی، جس کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانا تھا۔ امریکہ نے اس حملے کو جنگ بندی کی کھلی اور "احمقانہ خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بیان دیا کہ "تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا”۔
ایران کا موقف: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی حملے کو ناکام بنا دیا جس کی وجہ سے امریکی افواج کو پیچھے ہٹنا پڑا، تاہم انہوں نے اس کارروائی کا "فوری اور فیصلہ کن” جواب دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔

