لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پاک بھارت بننے کے بعد 48ءمیں قائداعظم نے کہا تھا کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اس سلسلے میں اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس وقت پاک فوج کے سربراہ انگریز تھے انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں۔ ملک بھر سے لوگ کشمیر کو آزاد کرانے گئے تھے، انہوں نے نہ صرف آزاد کشمیر کا علاقہ بلکہ گلگت و بلتستان پورے کا پورا آزاد کرا لیا۔ اس وقت ہم نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے پنڈت نہرو سلامتی کونسل میں فریاد لے کر گئے تھے۔ سلامتی کونسل میں بحث و مباحثے کے بعد طے پایا تھا کہ انگریز کی تقسیم کے فارمولے کے مطابق جس علاقے میں جس کی اکثریت ہے اس کی مرضی ہے وہ پاکستان میں رہے یا بھارت میں۔ کسی کو ملک بدلنے یا نہ بدلنے کیلئے زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ مقبوصہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اقوام متحدہ میں ایک قرارداد منظور ہوئی تھی جس پر امریکہ و برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے دستخط ہیں۔ یو این او نے کہا تھا کہ کشمیر میں آزادانہ طور پر رائے شماری کرا لیتے ہیں۔ پاک بھارت میں یہ بھی طے پایا تھا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سے بھارت فوج واپس بلا لے گا لیکن 48ءسے لے کر شملہ معاہدے تک جو 72ءیا 73ءمیں ہوا، اس وقت تک بھارت نے کشمیر میں حیلے بہانوں سے رائے شماری نہیں ہونے دی۔ میں نے ایک بار صدر بش سے بھی سوال کیا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کیوں نہیں کرا رہے، انہوں نے جواب دیا کہ شملہ معاہدے کے تحت پاک بھارت دونوں نے طے کیا ہے کہ تمام معاملات مذاکرات سے طے ہوں گے اور اب کوئی تیسرا دخل اندازی نہیں کرے گا لہٰذا ہم مداخلت نہیں کر سکتے البتہ سہولت کاری کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ 70 برسوں میں انڈیا مذاکراتت کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ سلامتی کونسل کی قرارداد میں تسلیم کیا گیا تھا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، یو این او کی فوج وہاں رائے شماری کرے گی پھر اس کا فیصلہ ہو گا۔ آج امریکہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ کشمیر میں تحریک آزادی چلانے والی جماعتیں دہشتگرد ہیں، یہ انتہائی بے ہودہ و بے معنی گفتگو ہے۔ ماضی میں کسی امریکی صدر نے ایسی بات نہیں کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ مینٹل کیس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ آصف صرف زبان و بیان کے سلسلے میں تیز ہیں۔ بھارت کے جتنے وزیرخارجہ رہے سب قابل تھے۔ ذوالفقار بھٹو ہمارے زبردست وزیرخارجہ تھے ان کی پالیسیوں سے ملک میں متعدد تبدیلیاں آئیں۔ وہ کامیاب وزیرخارجہ تھے انہوں نے ہی اسلامی کانفرنس کا انعقاد کرایا تھا جس میں چوٹی کے لوگ آئے تھے۔ ہمارے اب تک آخری سمجھ دار وزیر داخلہ خورشید قصوری تھے۔ واحد جنرل یعقوب علی خان تھے جو نہ صرف 6 زبانیں جانتے تھے بلکہ ایک ذہین انسان تھے۔ انہوں نے مجھے اور ایک اور اخبار نویس کو اسلام آباد ملاقات کے لئے بلایا تھا اور نقشہ سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹ کر لو میں نے کس تاریخ کو کس وقت کہا تھا کہ افغانستان پر روس مسلط ہو جائے گا، آج روس افغانستانپر قابض ہے اور ہم امریکہ کی حمایت سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نوازشریف، زرداری و عمران خان سمیت ساری سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ خدارا کم از کم ایک کشمیر کے مسئلہ پر تو اتفاق کر لو۔ پوری قوم کشمیریوں کی آزادی کے لئے لڑ رہی ہے، قربانیاں دے رہی ہے۔ ساری سیاسی جماعتیں دو قومی نظریے پر اتفاق کر لیں وہ یہ تھا کہ ”جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ علاقہ پاکستان میں شامل ہو گا۔“ ساری سیاسی جماعتیں آزادی کشمیر و ظلم کے مقابلے میں کھڑی ہوں۔ گلی سڑی و ٹوٹی پھوٹی کشمیر کمیٹی کو دفع کریں۔ کند ذہن و بڑی بڑی داڑھیوں والے سیاستدانوں کو کیا رشوت دی جاتی ہے، یہ کہیں جا کر بات نہیں کر سکتے نہ ہی ان کا علمی قد اتنا ہے، کسی یونیورسٹی میں تقریر نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ عالمی سطح پر کیا مسئلہ کشمیر اجاگر کریں گے۔ کسی موزوں شخصیت کو اس موزوں کام کے لئے منتخب کرنا چاہئے۔ چودھری سرور جیسے لوگوں کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا جائے جن کو یورپین پارلیمنٹ میں لوگ جانتے ہیں۔ یہ دور کامیاب مذاکرات کرنے، دنیا کو اپنا ہمنوا بنانے کا ہے۔ یہ کام سارے ملک کو مل کر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کو محنتی، مستعد اور ہمت والا سمجھتا ہوں لیکن پتہ نہیں کیوں ان کا ذہن صرف سڑکوں کی طرف جاتا ہے۔ وہ بتائیں کہ زینب کیس کے بعد ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی قانون سازی کی؟ رانا ثناءجو عمران کو بڑی گالیاں دیتے ہیں ان کی سربراہی میں کوئی خصوصی کمیٹی بنائی؟ جڑانوالہ میں6 سالہ بچی کا قتل ہو گیا، وزیراعلیٰ اپنے صوبے کو اس عذاب سے نجات دلوائیں۔ سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرارداد موجود ہے جس میں امریکہ و برطانیہ نے کردار ادا کیا ہے۔ تو پھر آج یو این او کے ہیومن رائٹس کمیشن کے کمشنر چیخ و پکار کیوں کر رہے ہیں؟ کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بڑی سنگین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھارت کا طویل ترین دورہ کیا ہے۔ اس کے بعد سے کشمیر میں پرامن تحریکوں پر ایک ہی طرح کا تشدد ہو رہا ہے۔ مقبوضہ میں قتل و غارت گری ہو رہی ہے، گینگ ریپ و لوگوں کو معذور کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کبھی پرامن احتجاجوں پر تشدد نہیں کیا جانا۔ ہم کہتے رہے ہیں کہ حکومت پاکستان کشمیر کمیٹی کو متحرک کرے و اقوام متحدہ کو دورے کی دعوت دے۔ کہتے رہے ہیں کہ وزیر داخلہ ہونا چاہئے اور ساﺅتھ ایشیا پر الگ سے وزیرداخلہ کے درجے کا آدمی ہونا چاہئے جو کشمیر و افغانستان کے معاملات دیکھے۔ صورتحال افسوسناک ہے، کشمیر میں 2 دنوں میں 19 لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ دنیا کو اپنا مقدمہ ٹھیک طرح سے بیان کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مغربی دنیا، امریکہ کے خلاف عالمی عدالت انصاف اور بھارت کے خلاف عالمی کرمنل کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔ کشمیری اپنے حصے کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اب ان کے پاس قربان کرنے کو کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی چین کے ساتھ پردہ داری مغربی دنیا کو مقصود ہے۔ ایگزیکٹو ایڈیٹر خبریں توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت کشمیر انڈیا کا بنیادی علاقہ نہیں بن سکتا۔ بھارتی سپریم کورٹ اور سری نگر ہائیکورٹ کے فیصلے موجود ہیں، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اقوام متحدہ جدوجہد آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو کوئی اختیار نہیں کہ ہمارے ملک میں کسی کو دہشتگرد قرار دے، حکومت پاکستان نے اس کو یہ اختیار دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے خود الیکشن کمیشن کو لکھا تھا کہ ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہ کیا جائے، اس کے باوجود اس کو نہ صرف رجسٹرڈ کیا گیا بلکہ انتخاب لڑنے کا موقع بھی دیا تو پھر ظاہر ہے امریکہ ایسے اقدامات کرے گا۔ الیکشن کمیشن کو حکومتی درخواست پر ملی مسلم لیگ کو اصولی طور پر رجسٹرڈ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ہماری حکومت، عدالتیں امریکہ کے بیان کو تسلیم نہیں کریں گی۔ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے کہ ہم کسی کو دہشتگرد سمجھتے ہیں یا نہیں؟






































