لاہور(نیوزایجنسیاں) اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سہولت کاری کے ملزم ناصر جمشید کے کیس میں محمد نواز پی سی بی کی جانب سے بطور گواہ ٹریبیونل کے سامنے پیش ہو گئے۔نواز نے ٹریبیونل کو بتایا کہ بکی نے رابطہ کیا تھا اور فکسنگ کی پیشکش تھی جس پر میں نے آلہ کار بننے سے انکار کر دیا تھا۔ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے بتایا کہ آج ہونے والی اگلی سماعت میں برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے نمائندے بطور گواہ پیش ہوں گے۔دوسری جانب ناصر جمشید کے وکیل حسن وڑائچ نے کہا کہ کیس میں کوئی جان نہیں، ناصر جمشید نے کوئی حکم عدولی کی ہے جس کی سزا بھگت رہے ہیں۔واضح رہے کہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کے دوران سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ٹیسٹ کرکٹر ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی جو رواں سال فروری میں ختم ہو گئی۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں مبینہ طور پر ملوث ناصر جمشید انگلینڈ میں رہے، ٹیسٹ کرکٹر اینٹی کرپشن ٹربیونل کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور تحقیقات میں تعاون بھی نہیں کیا تھا۔پی سی بی کے ٹربیونل نے فکسنگ کے معاملے کی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد کردی ہے جبکہ ناصر جمشید پر فکسنگ کے الزامات پی سی بی نے ابھی تک نہیں لگائے۔تاہم اب پی سی بی نے ناصر جمشید پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.1.2، 2.1.3، 2.1.4 اور 2.4.4 کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔پی سی بی نے کرکٹر ناصر جمشید کو پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی پر نوٹس آف چارج بھیجا تھا جس کا ناصر جمشید نے جواب دیتے ہوئے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔
