شفاف اور پر امن الیکشن کا بروقت انعقاد نگران حکومت کی ترجیح :نگران صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں انجم نثار کا ” خبریں “ کو انٹر ویو

لا ہور (انٹرویو : سید شہزاد بخاری )نگران حکو مت میں محدود وسا ئل کے با وجو د سر کا ری ملازمین کی تنخوا ہو ں میں اضا فہ کیا گیا ہے، تا جروں اور عوام کو سہو لت فرا ہم کرتے ہو ئے کو ئی نیا ٹیکس نہیں عا ئد کیا گیا ، مو جو دہ نگران سیٹ اپ کی سر فہرست تر جیحا ت صاف شفا ف غیر جا نبدار اور پر امن انتخا با ت اپنے مقررہ وقت پر کر وا یا جانا ہے جس کے لئے تما م وسا ئل بروئے کا ر لا ئے جا ئیں گے ، ملکی تر قی اور خوشحا لی میں ہی عوام کی تر قی خو شحا لی ہے ،ہم نے ٹریڈرز ، صنعتکا ر وں اور تا جر طبقہ کو ملکی اداروں کے آپسی تعلقا ت کو فروغ دے کر مزید مظبو ط کریں گے ان خیالات کا اظہا رنگرا ن صو با ئی وزیر صنعت و تجا رت میا ں انجم نثار نے گزشتہ روز خبریں کو دئیے گئے انٹر ویو میں گفتگو کرتے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپنا چا رج فو ری سنبھا لنے کے بعد جن مسا ئل اور مشکلا ت کا سا منا تھا ان کو حل کرنے کی کو شش کی ہے جس میں کا فی حد تک کا میا بی حا صل ہو ئی ہے عا م انتخا با ت کے لئے جن وسا ئل کی ضرورت تھی ان کو کا بینہ میں تفصیلی کے سا تھ زیر بحث لا یا گیا ہے تا کہ الیکشن کو متنا زع ہو نے سے بچا یا جا سکے انہوں نے کہا کہ نگران وزراءمحدود دائرے کا ر میں رہ کر کا م کرتے ہیں اس کے با وجو د تا جروں اور صنعتکا روں کے مسا ئل اورمشکلا ت کو بھی حل کیا جا رہا ہے تا جر طبقہ ٹیکس کی اد ئیگی سے ملک کو سپورٹ کرتا ہے جب کے ہما ری انڈسٹری ملکی معشیت ریڑھ کی ہڈی کے ما نند ہے جن کے لئے وسا ئل پیدا کرنا حکو مت کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا ہے کہ اپنے مختصر دور اقتدار کے باو جود صنعت کاروں کو درپیش تمام مسائل کے حل کےلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے اورایسا نظام قائم کریں گے کہ بعد میں آنیوالوں کو بھی ایک روڈ میپ دے سکیںصوبائی وزیر نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کا بنیادی مقصد آنیوالے الیکشن کے لئے ماحول سازگار بنانا ہے تاہم صنعتکاروں کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں نگران حکومت کی پالیسیوں کا محورصنعت و تجارت اور معیشت ہے تاہم صنعتکاروں کو درپیش تمام مسائل کے حل کےلئے ایک میکنزم ترتیب دے رہے ہیں تاکہ صنعتکار وں کو ایسا سازگار ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ ملکی معیشت کو مزید استحکام فراہم کرسکیں ا نہوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اثاثہ جات کو ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے اور اپنے اثا ثہ جا ت ڈکلیئر کروا کر اپنیزندگی کو خوف کے عا لم سے با ہر نکالنا چا ہیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے تاجروں کے ساتھ ایف بی آر بھرپور تعاون کررہا ہے اس سے حکومت اور کاروباری برادری دونوں کو فائدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ ڈیم پا کستا ن کی سب سے بڑی ضرورت ہے ڈیم بنا نے چا ہیے روز بروز پا نی کی کمی ملک کے لئے بڑا خطرہ ہے کرا چی اور راولپنڈی میں پا نی فروخت کیا جا رہا ہے پا نی ضیا مہم تیز کرنی چا ہیے تا کہ شہریو ں کو پا نی کی قدرو قیمت معلوم ہو سکے اور پا نی کو کم سے کم ضائع کیا جا ئے ضائع پا نی ڈیمو ں کی صورت میں سیف کر نا چا ہیے انہوں نے کہا نگران حکو مت کےلئے 6سو 93ارب کا بجٹ پاس ہوا ہے جسے چا ر مہینے کےلئے کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کو کالا باغ ڈیم پر بریفنگ خوش آئند مسئلہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانا پڑیگا : ضیا شاہد، شاہد خاقان ایک حلقے سے نہیںپورے پاکستان سے نا اہل ہو گئے : کنور دلشاد، چینل ۵ کے مقبول پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بڑی حیرت انگیز خبر ہے اچانک یہ دھماکہ خیز خبر ہے کہ شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم پر بھی 63-62 کا کلہاڑا چل گیا ہے انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بے احتیاطی برتی ہے۔ مجھے تو گردش ایام ہے۔ میرا خیال ہے کہ 35 سال تھوڑے نہیں ہوتے نوازشریف نے پچھلے دنوں کہا کہ پاکستان کو مزید ترقی دینا چاہتا ہوں اس کے لئے مجھے 20 سال اور چاہئیں۔ اگر 20 سال بھی جمع کر لیں تو میرے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ ایک تاریخ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کی تاریخ اس طرح بنے گی۔ اگر 55 سال ان کے کھاتے میں چلے گئے۔ میرا خیال ہے ایک دور تھا جو اپنے انجام کو پہنچا ہے۔ میں پہلا اخبار نویس تھا جس نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی تھی میں چاہتا تھا اس کی وضاحت کچھ باتوں کی ہو جائے آئین تو یہ موجود تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا کافی دیر تک کیس چلتا رہا میرے پاس آج بھی اس کا فیصلہ موجود ہے وہ فیصلہ بڑا گول مول سا تھا۔ جج صاحب نے آخر میں فیصلہ دیا کہ ٹھیک ہے آپ کوئی تجویز دیں کہ 63,62 پر کس طرح سے عمل ہو سکتا ہے ہم نے کیا تجویز دینی تھی ڈس پوز آف ہو گئی لیکن میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اتنے تابڑ تور فیصلے 63,62 کے تحت ہو رہے ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کل تک آج شاہد خاقان عباسی کے بارے میں فیصلہ آ گیا کہ تاحیات نااہل ہیں۔ یہ ایک نہیں دو حلقوں سے لڑ رہے تھے اگر ایک حلقے میں تا حیات نااہلی آ جاتی ہے تو کیا خود بخود ہی دوسرے حلقے کا بھی فیصلہ ہو گیا یا دوسرے حلقے میں ان کو اجازت مل جائے گی۔بیٹے اور بیٹی کو حق حاصل ہے۔ ان کو ہمدردی کے ووٹ بھی مل سکتے ہیں۔ یہ سیاستدانوں کی ذہانت ہے۔ کالا باغ کے سب سے بڑے حامی حالانکہ ان کا تعلق صوبے کے پی کے سے ہے۔
کنور دلشاد نے کہا ہے کہ جس وقت چیف جسٹس آف پاکستان نے کاغدات نامزدگی کو تبدیل کرتے ہوئے حلف نامے میں تبدیل کیا تھا اس وقت بڑے تاریخی ریمارکس تھے انہوں نے کہا تھا کہ اب باقاعدہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ بن چکا ہے اب اگر کسی نے حقائق چھپائے تو ان کے خلاف توہین عدالت بھی لگ سکتی ہے اور وہ تاحیات نااہل بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی جو ہمارا کاغذات نامزدگی حلف نامہ تھا اس کی خلاف ورزی کرنے پر اپیلٹ ٹربیونل نے فیصلہ دے دیا۔ کاغدات نامزدگی نامنظور کر دیئے۔ جج حضرات نے 62 ون ایف کے تحت، یہ ان کے صوابدیدی اختیارات تھے جو انہوں نے نقطہ نظر اختیار کیا لیکن اس کی بیک گراﺅنڈ دیکھیں۔ شاہد خاقان عباسی کے بارے میں سارا میڈیا جو ہے سامنے آ گیا۔ جنرل پرویز مشرف صاحب نے 2013ءمیں الیکشن کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی کراچی میں جمع کرائے دو جگہ۔ اس کے ساتھ انہوں نے چترال میں بھی کرائے، چترال کے ریٹرننگ آفیسر نے کاغدات تسلیم کر لئے لیکن ان کے خلاف اپیلٹ ٹربیونل میں مخالفین نے درخواست کی۔ اس اپیلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس دوست محمد خان جو آج کل چیف منسٹر ہیں خیبر پختونخوا کے انہوں نے ان کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ اب وہ سارے پاکستان میں تاحیات نااہل قرار پائے۔ اسی فیصلے کی روشنی میں انہیں پارٹی کی صدارت چھوڑنا پڑی اب ایک کارکن بن گئے۔ اسی طرح ان کے کراچی میں دو حلقوں میں کاغذات نامزدگی وہ بھی خود بخود ہی مسترد ہو گئے۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ پرویز مشرف کو شاہد خاقان عباسی کے فیصلے کو دیکھا جائے تو یہ راولپنڈی کے اپیلٹ ٹربیونل نے جو فیصلہ کیا وہ درست تھے۔ وہ بھی چترال کے حوالے سے اپیلٹ ٹربیونل تھا۔ اس لحاظ سے شاہد خاقان عباسی ہو گیا۔ فواد چودھری ہو گیا۔ فواد چودھری پی ٹی آئی کے ترجمان ہیں ظاہر ہے ان کا معاملہ بھی جہانگیر والا ہو گیا۔ یہ سارے معاملات بڑے اہم جا رہے ہیں یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے ریمارکس نہیں دیکھے انہوں نے اس کے خلاف اگر کسی نے غلط کام کیا یا تو وہ تاحیات نااہل اور توہین عدالت میں اسے سزا بھی ہو سکتی ہے۔ یہ صاف ستھری چیزیں سامنے آ رہی ہیں ہمیں اس کی تعریف کرنی چاہئے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آج آپ کی ملاقات ہوئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفر سے، یہ جو بلدیاتی ادارے کے سربراہ ہیں۔ آپ نے خود کہا تھا کہ 2008ءمیں اپنے دستخطوں سے یہ حکم جاری کیا تھا کہ دو ماہ کے لئے ان کے اختیارات معطل کر دیئے جائیں۔ میں نے انگران وزیراعلیٰ حسن عسکری سے بھی پوچھا اور وزراءسے بھی پوچھا۔ کل اس پر یہ فیصلہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ یہ جو منتخب بلدیاتی ادارے کے سربراہ اور منتخب ارکان جو ہیں ان کو منع کر دیا گیا ہے وہ الیکشن تک کام نہیں کر سکیں گے الیکشن تک۔یہ تو صرف پنجاب میں کیا ہے۔ میرے خیال میں تو یہ الیکشن کمشن کو کہنا چاہئے یا علی ظفر صاحب سے آپ ملے تھے ان کو اپنے گڈ آفسز استعمال کرنے چاہئیں۔ وہ الیکشن سے بھی بات کر گئے ہیں خود بھی کوئی حکم جاری کر سکتے ہیں۔ اس پروگرام میں علی ظفر سے بات ہوئی۔ دونوں معاملات ممیں کہ گورنروں کو سیاسی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے اس سے بھی زیادہ بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کارکردگی کو سٹاپ کر دینا چاہئے۔ ہمارے اخبار میں لیڈ سٹوری بھی چھپی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ غور جاری ہے اور اس کے لئے کوشش بھی کر رہے ہیں۔ آپ سے ملاقات میں کیا بات ہوئی کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کیا آپ کے خیال میں صرف پنجاب حکومت کا آرڈر جاری کرنا ضروری ہے یا الیکشن کمشن کو چاروں صوبوں کے لئے ایک مکمل آرڈر جاری کرنا ضروری ہے، کنور دلشاد نے کہا کہ میں نے وفاقی قانون و انصاف علی ظفر صاحب سے بات کی تو یہی سب سے بڑا اہم پونئنٹ اٹھایا کہ بلدیاتی اداروں کے میئر اور چیئرمین ہیں ان کا بہت دخل ہوتا ہے40,30 محکمے پر میئر کے ماتحت ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ درست ہے ان اداروں کا کام روکنا چاہئے میں نے ان کو مشورہ دیا کہ 2008ءمیں مجھ پر دباﺅ پڑا تھا تو ہم نے الیکشن کمیشن کی منظوری سے تمام ادارے جتنے بھی ناظمین تھے سب کو غیر فعال قرار دے دیا تھا۔ ظاہر ہے جب الیکشن کمشن کا جب حکم ہوتا ہے تو ہم نے ان کو غیر فعال قرار دے دیا تھا۔ پھر ازخود الیکشن کمشن نے نوٹس لیا تھا صدر، وزیراعظم کا کوئی دباﺅ نہیں تھا۔ انہوں نے اس تجویز کو درست قرار دیا میں اس بارے میں الیکشن کمیشن سے بات کروں گا، یہ علی ظفر نے نوٹ کر لیا ہے۔ ایک اور اہم بات پھر میں نے ان سے کہی کہ ہم کوشش بہت کر رہے ہیں جس بیلٹ پیپر پر لوگ ووٹ کاسٹ کرنے جاتے ہیں۔ اس میں ناپسندیدگی کا کالم ہونا چاہئے کہ جہاں اگر کوئی ووٹر کسی کو بھی ووٹ نہیں ڈالنا چاہتا تو وہ کہہ سکے کہ میں کسی کو ناپسند نہیں کرتا۔ 2013ءکے انتخابات میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا لیکن بہرحال الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر جب چھپنے کے لئے گیا تو یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ یہ کہانی پراسرار تھی۔ کل عدالت میں اس سلسلے میں ایک درخواست بھی دائر کی جا رہی ہے۔ علی ظفر صاحب نے اس سے بھی اتفاق کیا ہے اور میں اس سلسلے میں الیکشن کمیشن میں مشاورت کرتا ہوں۔ضیا شاہد نے کہا کہ کتنے ایسے چیف الیکشن کمشنر ہیں جن کو میں نے خود اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بریفنگ میں بلائے تھے ان سے سوال و جواب ہو سکتے تھے۔ ہمارے چیف الیکشن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ انہوں نے ایک بھی ایڈیٹرز سے بریفنگ میں بات چیت کی ہو۔ ہم سب کا مقصد الیکشن کمیشن کے کام کو آگے بڑھانا ہے یہ الیکشن کمیشن اب یہ تمام اخبار والوں کے لئے کیوں شجر ممنوعہ ہو گیا ہے۔ کنور دلشاد نے کہا کہ بہت سے پرانے الیکشن کمشنر کے انٹرویو کئے ہیں۔ ہم بھی ہر ہفتے الیکشن کمیشن کی بریفنگ کرواتے تھے۔ یہ بات ہونی چاہئے ہم آپ کی بات کے توسط سے یہ بات کریں گے کل میں بھی ان سے درخواست کرتا ہوں کہ بعض اہم معاملات ہو گئے ہیں۔ بعض متضاد فیصلے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ آپ پریس بریفنگ میں صحافی حضرات کو مدعو کریں۔
چیف جسٹس نے بجا طور پر ایک تفصیلی بریفنگ لی ہے۔ شمس الملک صاحب کی میں بات کر رہا تھا یہ واپڈا کے چیف تھے ان کا تعلق صوبہ سرحد سابقہ سے اور آج کے خیبر پختونخوا سے ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پچھلے دور میں وہ نگران وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں خیبر پختونخوا کے الیکشن کے دوران میں یہ گزارش کرنا چاہتا تھا کہ آج انہوں نے بھی کوئی گھنٹے پون گھنٹہ بریفنگ دی ہے اور یقینا انہوں نے بڑی مفید باتیں کیں۔ معزز پٹھان قبیلے سے تعلق رکھنے کے باوجود خود انہوں نے ہمیشہ سے جب وہاں سے عبدالولی خان کی آوازیں اٹھتی تھیں کہ اگر کالاباغ بنا تو ہم اسے بم سے اڑا دیں گے اس وقت شمس الملک صاحب نے بہت کھل کر کہا کہ یہ پاکستان کے لئے ضروری ہے اور اس سے ہر گز ہرگز خیبرپختونخوا اس وقت کا صوبہ سرحد کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آج بھی انہوں نے بڑی تفصیل سے بات کی اور سابق چیف جسٹس صاحب (جو نگران وزیراعلیٰ ہیں) نے مددگار کے طور پر ایکسپرٹ کے طور پر اعتزاز احسن کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ اگرچہ ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے لیکن وزیرداخلہ بھی رہے علمی ادبی شخصیت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی موجودگی قابل عمل ہو گی اور معاف کیجئے گا چھوٹا سا آدمی نہیں ہوں لیکن کالا باغ ڈیم پر ایک عمر گزاری ہے جو 7,6 سال میں نے لاہور ہائی کورٹ میں کیس لڑا تھا اس کا کیا حشر ہوا تھا میں اب یہ کہوں گا کہ جتنی کمیٹیاں چیف جسٹس صاحب نے کہی ہیں بہت اچھی بات ہے۔ مشاورت ہونی چاہئے، میں نے زیادہ قابل عمل فارمولا دے کر آخر دور میں رٹ کی تھی علی ظفر بھی اس میں میرے وکیل تھے اس میں میں نے کہا تھا اس وقت کے چیف جسٹس صاحب سے کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ پھنس جاتا ہے کیونکہ صوبوں میں احتلاف ہے شہباز شریف نے بھی یہی کہا ہے۔ پاکستان کا اس میں بڑا نقصان ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا بہت بڑا دریا ہے اس میں دریائے سوات اور قابل بھی آ کر ملتے ہیں اس میں بھی ایک ڈیم نہیں ہے اور اوپر سے جو پانی چلتا ہے جا کر سمندر میں گر جاتا ہے اگر میں نے نہیں کہا فلاں کو پانی دو فلاں کو نہ دو آخری ڈیزائن جو بنے ہیں واپڈا نے ختم کر دیا تھا کہ دائیں طرف یا بائیں طرف نہریں نکالی جائیں اس وقت یہ تجویز دی گئی تھی کہ کالا باغ ڈیم کو اس وقت بھی کہا گیا کہ نام پر مخالفت ہو چکی ہے اسے پاکستان ڈیم کا نام دیا جائے۔ کیونکہ یہ پاکستان کے لئے ہے۔ دوسرا یہ کہا گیا کہ اسے ”کیری اوور‘’ ڈیم بنایا جائے۔ ”کیری اوور ڈیم“ یہ ہوتا ہے کہ آپ پانی روک لیں کوئی نہر نہ نکالیں اور یہ ظاہر ہے ارسا جس میں چاروں صوبوں کے نمائندے اس میں ہیں۔ ارسا کا ادارہ اوپر ہیڈ کرے فیصلہ کر دے کب اور کتنا پانی چھوڑنا ہے۔ آخری فیصلہ وہ کوئی سی کمیٹی میں نہیں ہو گا آخری فیصلہ خود چیف جسٹس نے کیا کہ ثالثی کے لئے تیار ہوں اگلے ہی دن خورشید شاہ نے کہہ دیا کہ ہمیں کوئی ثالثی کی ضرورت نہیں، میں نے یہ کہا کہ پاکستان میں کے آئینی میں ایک ادارہ جس کو کونسل آف کامنر انٹرسٹ جسے مشترکہ مفادات کونسل، وزیراعظم اس کا سربراہ ہوتا ہے اور چاروں صوبوں کے چیف منسٹر اس کے ارکان ہوتے ہیں۔ صوبوں کی مشاورت سے یہ کام ہو سکتا ہے۔

 

ملکہ برطانیہ کی جانب سے 3 پاکستانی نوجوانوں کیلئے ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ

لندن(ویب ڈیسک) ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی جانب سے 3 پاکستانی نوجوانوں کو سماجی خدمات انجام دینے پر ’کوئنز ینگ لیڈر‘ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔گزشتہ روز شاہی محل بکنگھم پیلس میں ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی نوجوانوں ہارون یاسین، حسن مجتبیٰ اور ماہ نور سید کو ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ دیا گیا۔’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب میں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ا±ن تمام نوجوانوں کو اعزاز سے نوازا گیا جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔شاہی محل بکنگھم میں ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب—.فوٹو بشکریہ/کوئنز ینگ لیڈرز ٹوئٹر یہ ایوارڈ کامن ویلتھ گروپ کے رکن ممالک کے ایسے نوجوانوں کی شناخت کرتا ہے جن کی عمر 18 سے 29 برس ہو اور وہ اپنی کمیونٹی میں کسی اہم سماجی کام کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہوں، جو کسی کو جینے کی صحیح راہ اور امید دکھا رہے ہوں۔واضح رہے کہ پاکستانی نوجوان حسن مجتبٰی زیدی ‘ڈسکورنگ نیو آرٹسٹس’ کے بانی ہیں جو آرٹ کے ذریعے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں۔ وہ بچوں کو مفت آرٹ ٹریننگ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ جو طلباءتعلیمی اخراجات نہیں اٹھا سکتے انہیں تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں۔ہارون یاسین ’اورینڈا‘ کے بانی ہیں جو قومی نصاب کو کارٹون سیریز میں بدل کر بچوں کے لیے پیش کرتے ہیں، جس کا نام تعلیم آباد ہے۔ ہارون ا±ن بچوں کو نصابی اور ڈیجیٹل تعلیم دینے کے لیے گامزن ہیں جن کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ ماہ نور ’اسپریڈ دی ورڈ‘ کی بانی ہیں جو بچوں کے ساتھ زیادتی، جسمانی اور ذہنی دباو¿ کو ختم کرنے کے لیے مخلتف سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔علاوہ ازیں ماہ نور ’خواجہ سرا سپورٹ‘ آرگنائزیشن سے بھی منسلک ہیں اور ان کے لیے فنڈز جمع کرتی ہیں۔

متعدد سیاسی پارٹی رہنماﺅں کے کاغذات مسترد ، قمر اسلام کی بیٹی کی انتخابی مہم میں اِن،ن لیگ کی نیب کے خلاف مہم، چیف جسٹس کی ڈیم کی مکمل حمایت کے ساتھ ملک ریاض کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم تفصیلات دیکھیئے پروگرام” ضیا شاہد کے ساتھ “

پی ٹی آئی کی الیکشن مہم کا آفیشل گانا فرحان سعید گائیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم بھرپور جوش و جذبے سے جاری ہے اور ایسے میں پی ٹی آئی نے گلوکار فرحان سعید کا انتخاب کرلیا ہے، جو کارکنوں اور ووٹروں کا لہو گرمانے کے لیے پارٹی کا نیا آفیشل گانا گائیں گے۔گزشتہ روز فرحان سعید نے بنی گالا میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اور الیکشن مہم 2018 کا آفیشل گانا گانے کے لیے ان پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔فرحان سعید نے ٹوئٹر پر ملاقات کی تصاویر بھی شیئر کیں اور کہا کہ وہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے شکرگزار ہیں کہ انتخابی مہم کا آفیشل گانا گانے کے لیے ان پر بھروسہ کیا گیا۔
گلوکار نے مزید لکھا کہ وہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی کوششوں اور سپورٹ کو بھی سراہتے ہیں۔
واضح رہے کہ فرحان سعید متعدد سپر ہٹ گانے گا چکے ہیں جن میں، ’سجنی‘، ’تھوڑی دیر‘، ’دل ہوا پنچھی‘، ’ہلکا ہلکا سرور‘ اور دیگر شامل ہیں۔فرحان سعید گلوکاری کے ساتھ اداکاری میں بھی جوہر دکھاتے ہیں اور حال ہی میں ان کا رمضان کا خصوصی ڈرامہ سیریل ’سنو چندا‘ ریکارڈ توڑ ہٹ ثابت ہوا ہے۔

دفاعی چیمپئن جرمنی ورلڈ کپ سے باہر

کازان(ویب ڈیسک) فٹ بال ورلڈ کپ 2018 کے گروپ ایف کے میچ میں جنوبی کوریا نے جرمنی کو 0-2 سے شکست دے کر دفاعی چیمپئن کو ورلڈ کپ سے باہر کردیا۔مجموعی طور پر جرمن کھلاڑیوں نے 70 فیصد سے زائد بال کا پوزیشن اپنے پاس رکھ کر میچ پر اپنا غلبہ برقرار رکھا تاہم جنوبی کوریا کے خلاف گول اسکور نہ کرسکی۔جرمنی نے گول کرنے کے لیے متعدد شاندار مووز بنائیں تاہم جنوبی کوریا کے کھلاڑی اسے ناکام بنانے میں کامیاب رہے۔
جنوبی کوریا کے گول کیپر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جرمن شاٹس کو گول کے جال سے دور رکھا۔ شکست کے نتیجے میں جرمنی کو کوئی پوائنٹ نہیں مل سکا جبکہ سوئیڈن نے میکسیکو کو تین کے مقابلے میں صفر گولز سے ہراکر پری کوارٹر فائنلز مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔سوئیڈن کی جانب سے 50ویں منٹ میں لگوگ اوگسٹنسن، 62ویں منٹ میں انڈریاز گرانکوسٹ جبکہ 74ویں منٹ میں میکسیکو کے دفاعی کھلاڑی ایڈسن الوریز نے گیند کو اپنے ہی گول میں بال داغ کر اون گول کردیا۔خیال رہے کہ جرمنی نے 2014 ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کو ہراکر ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر پر سجایا تھا۔

رنویر ہدایتکار سنجے لیلا کے بعد کرن جوہر کی پسند بن گئے

ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ اداکار رنویر سنگھ ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کے بعد کرن جوہر کی بھی پسند بن گئے ہیں۔رنویر سنگھ نے بہت ہی کم وقت میں فلم نگری میں اپنا مقام بنالیا ہے اور ایک کے بعد ایک سپر ہٹ فلمیں دے کر نا صرف سپر اسٹار بن گئے ہیں بلکہ اپنی اداکاری سے سب کا دل بھی موہ لیا ہے۔نوجوان اداکار کی سپر ہٹ فلموں میں ’بینڈ باجہ بارات‘، ’لیڈیز ورسز رکی بہل‘، ’لٹیرا‘، ’رام لیلا‘، ’با جی راو¿ مستانی‘ اور ’پدماوت‘ شامل ہیں۔’پدماوت‘ کی کامیابی کے بعد رنویر نے اپنا معاوضہ بڑھا دیا۔رنویر نے ’باجی راو¿ مستانی‘ اور ’پدماوت‘ میں تاریخی کردار نبھاکر فلم بینوں کے ساتھ بڑے بڑے اداکاروں سے بھی داد سمیٹی تھی جس کے بعد اب کئی ہدایت کار ان کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔رنویر سنگھ اس وقت کرن جوہر کے پروڈکشن ہاو¿س کے بینر تلے بننے والی فلم ’سمبا‘ میں مرکزی کردار میں نظر آئیں گے جس کی عکس بندی جاری ہے لیکن اب کرن جوہر رنویر کی اداکاری سے بہت متاثر ہو گئے ہیں۔ہدایت کار کرن جوہر کو رنویر کی تاریخی فلموں میں اداکاری بھا گئی ہے جس کے بعد انہوں نے رنویر کو ایک اور فلم میں کاسٹ کر لیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان چند روز میں کیا جائے گا۔رنویر نے ’پدماوت‘ میں کردار پر امیتابھ کے تحفے کو ایوارڈ قراردیدیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل رنویر نے بھی ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ 3 فلمیں کی ہیں جس میں ’رام لیلا‘، ’باجی راو¿ مستانی‘ اور ’پدماوت‘ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ رنویر سنگھ اس وقت ’سمبا‘ اور ’گلی بوائے‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

مہوش حیات اور فہد مصطفی کی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ کا ٹیزر جاری

کراچی (ویب ڈیسک )اداکار فہد مصطفی اور مہوش حیات کی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ کے ٹیزر نے جاری ہوتے ہی دھوم مچا دی۔فہد مصطفی اور مہوش حیات کی رومانس کامیڈی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ کے ٹیزر نے پہلی جھلک میں سب کو دیوانہ بنا لیا۔ فلم کا ٹیزر ایک منٹ 5 سیکنڈز پر مشتمل ہے جس میں فہد مصطفی کا بھولا پن مداحوں کو خوب بھا رہا ہے۔ یہ ہدایت کار نبیل قیریشی، مہوش حیات اور فہد مصطفی کے ٹرائیکا کی ایک ساتھ تیسری فلم ہے اور اس سے قبل فلم ’ نامعلوم افراد‘ میں مہوش حیات نے مختصر کردار کیا تھا جب کہ 2016 کی فلم ’ ایکٹر ان لائ‘ میں انہیں فہد مصطفی کے مدمقابل کاسٹ کیا گیا اور یہ دونوں فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئیں۔فلم کے ٹیزر نے ٹریلر اور گیتوں کے لیے مداحوں کے انتظار میں شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ رواں سال عید الاضحی کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کی جانی ہے جو ’فلم والا‘ اور ’جیو فلمز‘ کی پیشکش ہے۔یاد رہے کہ فلم کے ہدایت کار نبیل اور پروڈیوسر فضہ کی جوڑی نے 2014 میں پہلی فلم ’نامعلوم افراد‘ بنائی تھی جس کے بعد 2016 میں ’فلم ایکٹر ان لائ‘ اور رواں سال تیسری فلم ’نامعلوم افراد 2‘ بنائی اور یہ تینوں فلمیں باکس آفس پر سپر ہٹ رہی ہیں۔واضح رہے کہ فضہ اور نبیل نے اب تک جتنی بھی فلمیں بنائی ہیں ان میں ہیرو کا کردار فہد مصطفٰی نے ہی نبھایا ہے۔

این اے 57: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تاحیات نااہل قرار

راولپنڈی(ویب ڈیسک) الیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے آبائی حلقے این اے 57 مری سے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں اس حلقے سے الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا۔راولپنڈی کے الیکشن ایپلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس عباد الرحمان لودھی نے پی ٹی ا?ئی کارکن مسعود احمد عباسی کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر اپیل پر سماعت مکمل کرکے دو روز قبل اس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔الیکشن ٹریبونل نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورانہیں اترتے۔فیصلے کے مطابق سابق وزیراعظم نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے، وہ 62 ون ایف کے تناظرمیں اہل نہیں ہیں۔تحریری فیصلہ الیکشن ٹریبونل کے سربراہ جسٹس عبادالرحمان لودھی نے جاری کیا۔اعتراض کنندہ مسعود احمد عباسی نے مو¿قف اپنایا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے ریٹرننگ افسر کو دیئے گئے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی اور جائیداد کی درست تفصیلات نہیں بتائیں۔اعتراض کنندہ کا کہنا تھاکہ شاہد خاقان عباسی نےلارنس کالج کےجنگل پر قبضہ کر رکھا ہے، ان کے کاغذات میں ایف سیون ٹو میں مکان کی ملکیت بھی کاغذات نامزدگی میں کم لکھی گئی ہے، کاغذات نامزدگی میں پہلے 100 روپے والا اسٹامپ پیپر لگایا گیا اور بعد ازاں 500 روپے والا پیپر لگایا گیا۔الیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے درخواست گزار کے تمام اعتراضات کو منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے اور انہیں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 57 سے نااہل قرار دے دیا۔واضح رہےکہ شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے بھی (ن) لیگ کے امیدوار ہیں۔ماہر قانون فررغ نسیم نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ ایک حلقے سے متعلق ہے جس کا اثر اثر دیگر حلقوں پر نہیں پڑے گا۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دیگر حلقوں سے اعتراض داخل کروایا جائے تو وہاں سے بھی انہیں نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اپیلٹ کورٹ کو تاحیات نااہلی کا اختیارحاصل نہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کے معاملے پر نااہل کیا گیا، میرے والد نے 1974 میں گھر لیا تھا، جس قیمت پر لیا وہی قیمت لکھی ہے۔

غیر قانونی ٹھیکے: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل دوبارہ نیب میں طلب

کراچی(ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ایک بار پھر طلب کرلیا۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر بطور چیئرمین سوئی سدرن گیس کمپنی غیر قانونی ٹھیکے دینے کا الزام ہے اور اس سلسلے میں نیب انہیں پہلے بھی 20 جون کو طلب کرچکا ہے۔ نیب کراچی نے مفتاح اسماعیل کو 5 جولائی کو پھر طلب کرلیا ہے، انہیں جے جے وی ایل ایس کیس میں طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب نیب حکام کا کہنا ہےکہ سینیٹر رانا محمود الحسن کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تصدیق کرانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔