تازہ تر ین

مودی نازی بن چکا ،بھارتی متنازعہ قانون سے مہاجرین کا مسئلہ پیدا ہوگا،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انتہائی مشکل معاشی حالات کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، ہم نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود افغانستان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی، افغانستان کے عوام برسوں کی خانہ جنگی کے بعد اب امن و خوشحالی کے مستحق ہیں، افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں امن و سلامتی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی، مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا نے مسلمان مہاجرین کے مسائل میں بہت اضافہ کیا، مقبوضہ کشمیر میں مودی کی انتہا پسند سوچ نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کئی ماہ سے محاصرے میں لے رکھا ہے جس پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بھارت کی مودی حکومت نازی فلسفے کو پروان چڑھارہی ہے، اقوام متحدہ نے بھارت کے حالات کا نوٹس نہ لیا تو عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان میں40 سال سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس، مہاجرین کے لئے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر فلپو گرینڈی سمیت اہم ملکی اور عالمی شخصیات موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات بہتر نہ ہونے کے باعث عوام کے لئے بہت مشکل حالات رہے ہیں اور پاکستان نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود افغانستان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے بچوں نے پاکستان میں قیام کے دوران کرکٹ سیکھی اور آج افغانستان کی کرکٹ ٹیم عالمی درجہ بندی میں شامل ہوچکی ہے جس نے گزشتہ دنوں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو شکست بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب رسول پاک نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو انصار کا جذبہ مثالی تھا، انہوں نے مہاجرین کی ہر طرح کی مدد اور معاون کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ پاک قرآن مجید کے ذریعے ہمیں انسانیت پر رحم کا درس دیتا ہے اور اسلام میں صرف مسلمانوں کے حقوق کے احترام کا درس ہی نہیں دیا جاتا بلکہ انسانیت کی بھی عزت و احترام کو انتہائی مقدم کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا نے مسلمان مہاجرین کے مسائل میں بہت اضافہ ہوا اور مغرب میں رنگ کی بنیاد پرلوگوں کو مارا پیٹا جاتا رہا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایک ارب سے زائد آبادی والے بھارت میں بھی انتہا پسند سوچ کا غلبہ ہوچکا ہے، مودی حکومت نے 2 نئے قانون متعارف کرائے ہیں جس سے20 کروڑ بھارتی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے بنیادی حقوق بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کی انتہا پسند سوچ نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کئی ماہ سے محاصرے میں لے رکھا ہے جس پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ حق خود ارادیت کی پر امن جدوجہد میں مصروف معصوم اور نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کو ختم کرانے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق ارادیت فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پرامن حل کے لئے پاکستان میں حکومت اور تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں اور پوری پاکستانی قوم اور تمام ادارے افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان عوام برسوں کی خانہ جنگی کے بعد اب امن و خوشحالی کے مستحق ہیں، افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں امن و سلامتی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں امن ہوگا تو علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا جس سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی موجودہ حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ بھارت گاندھی اور نہرو کا ملک نہیں رہا بلکہ وہاںپر مودی کی حکومت نازی فلسفہ کو پروان چڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے بھارت کے حالات اور اقدامات کا نوٹس نہ لیا تو اس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے پر امن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور باہمی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہش مند رہا ہے لیکن بھارتی وزیر اعظم اور آرمی چیف کی جانب سے انتہاءپسندانہ خیالات کا اظہار کسی صورت میں بھی ذمہ دارانہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کے حالات انتہائی سنگین ہوجائیں عالمی برادری بھارتی پالیسیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ انتہا پسندی کو ختم کیا جاسکے جو امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved