تازہ تر ین

پی آئی اے نے 52 ملازمین کو فارغ کردیا

راولپنڈی(ویب ڈیسک) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے جعلی یا ڈگری میں ردو بدل، قواعد کی خلاف ورزی میڈیا کو غیر مجاز طور پر سرکاری معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر 52 ملازمین کو فارغ کردیا۔رپورٹ کے مطابق ادارے کی جانب سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں بھرپور لگن اور عزم کے اظہار پر 11 ملازمین کو تعریفی سرٹیفکیٹس بھی دیے گئے۔قومی ایئرلائن نے قومی اسمبلی میں اس انکشاف کے بعد کہ کچھ پائلٹس کی ڈگری مشکوک ہےحال ہی میں اپنے 140 پائلٹس کو گراو¿نڈ (ذمہ داریوں سے عہدہ برآ) کردیا تھا۔پی آئی اے کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے ملازمین کو ارسال کردہ خطوط میں کہا گیا کہ ’نظم و ضبط کسی بھی ادارے کے انتہائی اہم چیز ہے جو ملازمین کو پابند کرتا ہے اور انہیں ادارے کے قواعد پر عملدرآمد کی ترغیب دیتا ہے اسلیے محنتی اور وفادار ملازمین کو سراہنا اور قانون کے مطابق غیر جانبدار انکوائری میں قصورار پائے گئے ملازمین کو سزا دینا ضروری ہے‘۔مراسلے کے مطابق 25 ملازمین کو جعلی/بوگس/ ردو بدل والی ڈگری اور دستاویزات پر برطرف کیا گیا جبکہ 21 طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے پر فارغ ہوئے جبکہ ایک ملازم کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر نوکری سے نکالا گیا۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ غیر مجاز طور پر سوشل اور مین اسٹریم میڈیا میں سرکاری معلومات فراہم کرنا 2 ملازمین کی برطرفی کا سبب بنا۔اس کے علاوہ دیگر 2 ملازمین کو قواعد کی خلاف ورزی پر عہدے کی تنزلی اور ایک کو ڈیوٹی سے غیر حاضری پر تنخواہ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔اس ضمن میں ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ انتظامیہ نے 11 ملازمین کو بہترین پیشہ ورانہ رویہ اپنانے اور محنت و لگن سے کام کر نے پر تعریفی سرٹیفکیٹس سے نوازا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ ادارے میں سخت نظم و ضبط یقینی بنارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملازمین میں پیشہ ورانہ رویے اور محنت سے کام کرنے کا اعتراف بھی کررہی ہے۔خیال رہے کہ پی آئی اے کو جعلی یا مشکوک ڈگری کے حامل پائلٹس کے حوالے سے پہلے ہی سخت مشکل کا سامنا ہے۔ان مشکلات کا آغاز زیر ہوا بازی غلام سرور خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے دیے گئے اس بیان سے ہوا کہ پی آئی اے کے 860 میں سے 262 یعنی تقریباً 30 فیصد پائلٹس ایسے ہیں جن کے لائسنسز جعلی ہیں جنہوں نے خود امتحان نہیں دیا ان کافلائنگ کا تجربہ ہی نہیں۔بعدازاں خصوصی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ادارے میں 28 پائلٹس کے جعلی لائسنس کی تصدیق ہوچکی ہے۔اسی روز پی آئی اے انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے اپنے 150 پائلٹس کو گراو¿نڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا اور بعد میں ایک بیان سے واضح کیا کہ جعلی یا مشکوک ڈگری کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں ہے۔وفاقی وزیر کے بیان کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی انتہائی توجہ حاصل ہوئی اور سب سے پہلے ویتنام کی سول ایوی ایشن نے مقامی ایئرلائنز میں کام کرنے والے تقریباً 20 پائلٹس کو معطل کردیا تھا۔تاہم اس کے بعد سب سے بڑا دھچکا قومی ایئرلائن کو اس وقت لگا جب یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved