ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو الگ الگ خطوط ارسال کیے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف نئی کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی "واضح خلاف ورزی” قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات کا نوٹس لے۔
ایرانی حکام کے مطابق خطوط میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کارروائیوں کے خلاف اقدامات کرے اور امریکا کو جواب دہ ٹھہرائے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اسے اپنی سرزمین کے خلاف حملوں کے جواب کا حق حاصل ہے۔
یہ سفارتی اقدام ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر فوجی کارروائیوں اور علاقائی عدم استحکام کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ابھی تک ایران کی شکایت پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
