Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان میں 12 ربیع الاول کی تیاریاں عروج پر، ملک بھر میں جشنِ میلاد النبی ﷺ کی تیاریاں مکمل
    • بابر اعظم کی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم میں واپسی
    • میراڈونا کے ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول والی گیند 94 کروڑ پاکستانی روپوں میں نیلام
    • پاکستان کا چین کے ساتھ روبوٹکس کے شعبے میں نئی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ
    • بھارت میں کتے کی انوکھی واردات، لاکھوں کے زیورات سے بھرا بیگ لے کر فرار
    • رگبی لیگ کے عظیم کھلاڑی سر بلی بوسٹن 92 برس کی عمر میں چل بسے
    • ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران کامیاب قرار دے دیا
    • برائیڈن کارس کے نائٹ کلب تنازع پر مائیکل وان کا سخت ایکشن کا مطالبہ
    • ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا اپنے مفادات کیلئے ضروری اقدامات کا اعلان
    • بنگلادیش کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش
    • 40 سے زائد امدادی جہاز ایرانی ناکہ بندی عبور کرگئے، سینٹ کام کا دعویٰ
    • دعا لیپا نے شادی کو زندگی کا یادگار ترین دن قرار دے دیا
    • سندھ میں ای اسپورٹس چیمپئن شپ 2026 کا آغاز، 30 لاکھ روپے کی انعامی رقم
    • کرکٹرز نے نظام بگاڑا، اب کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے: سکندر بخت
    • چار خواتین کوہ پیماؤں نے بغیر پورٹرز کے 7 ہزار میٹر سے بلند چوٹی فتح کرلی
    • فاطمہ ثنا پُرعزم، پاکستان کی ایشیا کپ میں شاندار کارکردگی پر نظریں
    • ایران نے میرے بیٹے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، نیتن یاہو کا دعویٰ
    • پاکستان کا نیا اسپیڈ اسٹار: قیوم خان کی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ
    • پاکستان کی معاشی پوزیشن پر موڈیز کا اعتماد بڑھ گیا، کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کردی
    • نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات، برائیڈن کارس پاکستان کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    امن کیلئے امن کانفرنس…… ایک نئی تجویز

    By Daily Khabrainجولائی 24, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سردارآصف احمدعلی
    حال ہی میں، اسلام آباد میں ایک افغانستان امن کانفرنس بلائی جو بعد میں ملتوی بھی کر دی گئی اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اشرف غنی صاحب نے اس کو ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے اور اس کانفرنس میں طالبان کو بھی نہیں بلایا گیا۔ مجھے اس مرحلے پر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس کانفرنس کے بارے میں نہ تو کوئی گہری سوچ کارفرما نظر آئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مناسب تیاری دکھائی دی جبکہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تو یہاں کانفرنس بلانے کا مقصد سمجھ سے باہر ہے۔ اب اس ضمن میں، میں تو یہی عرض کروں گا کہ کانفرنس اگر بلائی ہے تو پھر اس کے لیے مناسب کام بھی کیا جائے اور اس کی تیاری کی جائے۔ میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ امن کانفرنس اور افغانستان کی تعمیرنو دونوں کام ہی لازم و ملزوم ہیں اور انہیں الگ الگ اور علیحدہ علیحدہ دیکھنا مناسب نہیں ہوگا اور ایک سگنل دینا چاہیے۔ افغان حکومت اور افغان اپوزیشن کو کہ جب تک امن نہیں لاتے، اس وقت تک افغانستان کی تعمیر نو ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس لیے چند دن پہلے میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ یہ دونوں موضوع بیک وقت زیر بحث آنے چاہئیں۔
    جہاں تک امن کانفرنس کے انعقاد کا تعلق ہے تو افغانستان کے ہر ہمسایہ ملک کو دعوت دینی چاہئے جس میں چین، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، ایران اور پاکستان کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ جن کا براہ راست افغانستان سے تعلق ہے یا رہا ہے، انہیں بھی کانفرنس میں مدعو کرنا ضروری ہے۔ اس میں روس سرفہرست ہے اور نیٹو کی نمائندگی بھی اہم ہے اور سعودی عرب کا ہونا بھی ضروری ہے اور افغانستان کے اندر سے اشرف غنی کی حکومت کے نمائندے، طالبان کے نمائندے اور ہزارہ قوم کے جو لیڈر صبا خلیلی ہیں اور جنرل دوستم جو افغانی ترکوں کے راہنما ہیں اور جناب عبداللہ عبداللہ جو کہ حکومت کا بھی حصہ ہیں اور تاجک قوم کے بھی وہ لیڈر ہیں۔ جو بڑے بڑے دھڑے افغانستان کے ہیں، ان کا بھی کانفرنس میں موجود ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس کو قیام امن کے سلسلے میں ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں افغانستان کی تعمیر بھی ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے اور تعمیر نو کے حوالے سے کانفرنس جو ہے اس میں جی نائن کے ممالک کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے بلکہ لازمی ہے اور اس میں امریکہ کی شرکت بھی لازمی ہے اور روس کا ہونا بھی ضروری، چین کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس میں سعودی عریبیہ، یو اے ای کا ہونا بھی لازمی اور ورلڈ بنک، ایشیائی ڈویلپمنٹ بنک، آئی ایم ایف، اور اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کی شرکت بھی لازمی ہونی چاہیے۔ یہ دونوں کانفرنسیں بیک وقت سائیڈ بائی سائیڈ چلنی چاہئیں اور جو ری کنسٹرکشن کانفرنس ہے اسے چاہئے کہ وہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے ایک رقم کا اعلان کرے جو کہ آئندہ دس سال میں افغانستان کی تعمیرنو پر خرچ کی جائے۔ اس میں جی آر آئی اور سی پیک بھی ہونا چاہیے اور جو ری کنسٹرکشن کانفرنس ہے اس کو ایک کمٹ منٹ کرنی چاہیے کہ اس قدر رقم ہم آئندہ دس سالوں میں خرچ کریں گے اور اس کی شرائط یہ ہوں گی۔
    -1 اشرف غنی اور طالبان دونوں ایک سیاسی امن معاہدے پر دستخط کریں۔
    -2 سارے افغانستان میں سب دھڑے سیزفائر کریں۔
    -3 سارے دھڑے جنگی قیدیوں کو رہا کریں۔
    -4 ایک ٹرانزیشن گورنمنٹ بنائی جائے جس میں سب دھڑوں کی نمائندگی ہو اور یہ نمائندگی زمینی حقائق کے مطابق ہو۔
    -5 ٹرانزیشن گورنمنٹ کی قیادت ایسے شخص کے سپرد کی جائے جو سارے افغان دھڑوں کے لیے قابل قبول ہو۔
    -6 ٹرانزیشن گورنمنٹ ایک جرگے کا اہتمام بھی کرے جس میں آئندہ طرز حکومت کے بارے میں فیصلے ہو سکیں۔ لوئی جرگہ کے فیصلوں کے مطابق ٹرانزیشن گورنمنٹ عملدرآمد کرے اور اس میں اگر الیکشن ہوتا ہے جو کہ لوئی جرگہ کا فیصلہ ہے کہ الیکشن ہونا چاہئے تو پھر ٹرانزیشن گورنمنٹ اس الیکشن کا انتظام کرے اور ایک ایسا الیکشن کرایا جائے جو افغان عوام کو قابل قبول ہو۔ ایسی شفافیت ہو جو دنیا کے لیے بھی قابل قبول ہو۔
    یہ شرائط جو میں نے پیش کی ہیں یہ دونوں کانفرنسوں میں پہلو بہ پہلو چلنی چاہئیں۔
    میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان میں قیام امن کے لیے اشرف غنی کی حکومت ہے اور وہ پاکستان کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور ایسے ایسے الزامات عائد کر رہے ہیں جو حیران کن ہیں۔ لگتا ہے کہ اشرف غنی امن نہیں چاہتا اور خانہ جنگی چاہتا ہے کیونکہ اس کا فائدہ صرف خانہ جنگی میں ہے جو کہ ہندوستان بھی یہی چاہتا ہے۔ اگر اشرف غنی نے اپنے ملک کے ساتھ دشمنی کرنی ہے تو پھر وہ اس پالیسی پر ضرور کاربند رہیں اور اگر وہ اپنے ملک میں قیام امن چاہتے ہیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ استعفے دے دیں ورنہ ان کا حشر بھی نجیب اللہ جیسا ہوگا۔
    (کالم نگار سابق وزیرخارجہ اورممتاز ماہرمعیشت ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.