Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لاہور میں امتیاز سپر مارکیٹ سیل کر دی گئی۔
    • امریکہ نے اتمار بن گویر کا ویزا مسترد کر دیا، میامی کا دورہ منسوخ۔
    • اسرائیل کے ساحل پر جیلی فش کے حملوں میں اضافہ۔
    • مراکش فیفا رینکنگ میں چھٹے نمبر پر پہنچ گیا۔
    • ایرانی صدر پزشکیان دستخط شدہ ایم او یو کے ساتھ
    • اٹلی نے ایران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا
    • ایران کے گرلز اسکول پر مہلک حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا: ٹرمپ
    • جنگ بندی کے بعد سے 1,005 فلسطینی شہید ہوئے: غزہ وزارت صحت
    • امریکا نے ایران میں نظام بدل دیا، ٹرمپ
    • بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 24 جولائی تک توسیع
    • 2.7 ارب ڈالر کی ڈیل، معروف پیزا چین 68 سال بعدفروخت
    • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم
    • تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی
    • بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح
    • رشمیکا مندانا نے اپنی خوبصورتی کا راز بتادیا
    • ہر کوکا کولا آپ کی زندگی کے 12 منٹ کم کر سکتی ہے
    • میں نے ایک ماہ قبل سگریٹ نوشی چھوڑ دی تھی،” اطالوی وزیراعظم
    • اپنی ہر جھری پر فخر ہے، ہر ایک میری زندگی کی کہانی سناتی ہے۔” — کیٹ ونسلیٹ
    • آسٹریلیا نے پہلے ٹی 20 میچ میں بنگلہ دیش کو شکست دے دی
    • پنجاب میں ریسٹورنٹس پر کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نظریاتی سرحدوں کے پاسبان‘ڈاکٹر صفدر محمود

    By Daily Khabrainستمبر 18, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محمد فاروق عزمی
    سابق وفاقی سیکرٹری، ممتاز اور نامور بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمو 13 ستمبر کی صبح لاہور میں انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
    آپ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مجاہدین کی جماعت میں صفِ اول کے مجاہد تھے، پاکستان کے ایسے عظیم سپوت تھے کہ جہاں کہیں کسی نے قائد اعظمؒ یا پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی آپ نے اپنے قلم کو بندوق کی طرح استعمال کیا۔ آپ تحقیق و جستجو کے میدچان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ پاکستان کی تاریخ اور تحریک پاکستان سے وابستہ قائدین اور اکابر خصوصاً زندگی بھرقائدا عظمؒ آپ کا خاص موضوع رہے۔ آپ تحقیق کی مشکل گھاٹیاں عبور کرکے سچ کا کھوج لگاتے اور پھر بڑے مدلّل اور ٹھوس انداز میں مخالفین کی باتوں کا تاریخی شواہد کے ساتھ جواب دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے لکھے کو سند کا درجہ حاصل ہوتا اوراسے مستند سمجھا جاتا۔ قائد اعظمؒ سے بے مثال محبت کرتے تھے۔ سول سروس کے افسر ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج، سادہ، دیانتدار اور بااصول شخصیت کے مالک تھے۔ یہ ساری خوبیاں بھی شاید اُن کی زندگی میں قائد اعظم علیہ رحمہ سے لازوال محبت کی راہوں پر چلتے ہوئے در آئی تھیں۔ ایک لحاظ سے وہ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکر کے صحیح معنوں میں محافظ، ان کے روحانی فرزند اور پاکستان کے بیٹے تھے۔ ان کی ساری زندگی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر دو قومی نظریے کی حفاظت کرتے، بانیانِ پاکستان کے دفاع میں اور پاکستان کی محبت میں گذری۔ مرحوم نے ساری زندگی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر پہرہ دیتے گزار دی۔ انہوں نے پاکستان کے بد خواہوں اور نام نہاد دانشوروں کا اپنے قلم سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اُن کی رحلت سے تحقیق اور جستجو کا ایک عہد تمام ہوا، ان کا خلا مدتوں پُر نہ ہوسکے گا۔
    ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی ادبی اور علمی حلقوں میں خاص پہچان ان کی پاکستان سے محبت کے حوالے سے بہت نمایاں رہی۔ پاکستان اور قائد اعظمؒ کے مخالفین اورنام نہاد دانشوروں کو ٹھوس شواہد اور تاریخ کے مستند حوالوں سے مدلل جواب دے کر ان کے منہ بند کرنا، ڈاکٹر صاحب کا خاص موضوع تھا۔ لیکن شاید بہت زیادہ لوگ نہیں جانتے کہ ڈاکٹر صفدرمحمود کو روحانیت اور تصوف سے بھی خاص شغف تھا، بظاہر سوٹ میں ملبوس ٹائی لگائے وہ ایسے کلین شیو صوفی تھے کہ روحانیت اور تصوف کے موضوع پر ان کی تحریریں قلب و نظر کے سکون کا ذریعہ بن جاتی تھیں۔ روحانیت کے موضوع پر ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ صفحہ قرطاس پر آگاہی اور بصیرت کے ایسے پھول کھلاتے اور ایسی خوشبو بکھیرتے کہ قلب و نگاہ میں نورِ الٰہی کی شمع روشن ہوتی چلی جاتی۔ ڈاکٹر صاحب نے ایسے نام نہاد دانشوروں کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا جو قائد اعظمؒ پر پاکستان کوسیکولر اسٹیٹ بنانے کا الزام دھرتے اور اس بیان کی نفی کرتے جس میں قائد اعظمؒ نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب مغرب کے اس مادر پدر آزاد معاشرے سے بیزار تھے۔ جس میں جسم فروشی، ناؤنوش اور نائٹ کلبوں نے نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ پاکستان کی نوجوان نسل اور طلباء و طالبات کے معصوم ذہنوں اور اجلے دماغوں کو ”آزاد خیالی“ کے مغربی زہر سے بچا کر رکھنا چاہتے تھے۔
    وہ ایسے مغربی معاشرے کی اندھی تقلید کے پُر زور مخالف تھے کہ جس معاشرے میں آزاد خیالی کے نام پر خاندانی نظام کے پرخچے اڑا دیئے جائیں اور جہاں رشتوں کے تقدس کو کوڑے دانوں میں پھینک دیا جائے۔ وہ اس ساری غلاظت سے اپنی نوجوان نسل کو بچا کر رکھنا چاہتے تھے وہ اپنی تحریروں میں قلب و نظر اور باطن کی صفائی کا درس دیتے تھے۔ان کی نظر میں ایک صوفی کے نزدیک بدن اور کپڑوں کی صفائی ہی کا فی نہیں بلکہ طہارت کا اصل مطلب قلب و نگاہ، فکر و نظر اور باطن کی پاکیزگی ہے۔ گو کہ ان کی علمی ادبی حلقوں میں پہچان اور شہرت پاکستان اور بانیانِ پاکستان سے محبت اور اُن کے دفاع کے حوالے سے ہے، لیکن روحانیت، تصوف، بزرگانِ دین اور اللہ کے بندوں سے محبت بھی ان کا موضوع تھا اور وہ گاہے گاہے اپنے قلم سے ایسی تحریریں بھی لکھتے تھے، جس سے ان کے اندر کے ”صوفی“ کا راز فاش ہوجاتا ہے۔ گو کہ وہ خود کو دنیا دار اور اغراض میں ڈوبا شخص ظاہر کرتے، لیکن ان کے باطن میں چھپا صوفی انہیں تصوف، فقر اور روحانیت کے موضوع پر لکھنے پر اکساتا رہتا۔ ان کی تحریروں میں ”غنیۃ الطالبین“ اور ”کشف المحجوب“ کے حوالے بہت کثرت سے ملتے۔ ان کی ایسی ہی تحریروں کے مجموعے ”امانت“، ”درد آگہی“، ”روشنی“، ”حکمت“ اور ”بصیرت“ کے نام سے قارئین میں بہت مقبول ہوئے۔ یہاں بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر محمود صوفی ڈاکٹر صفدر محمود کو پوشیدہ رکھنے میں ناکام ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ اُن کی تُربت پر اپنی کروڑ ہا رحمتیں نازل فرمائے۔
    ڈاکٹر صفدر محمود 30 دسمبر 1944 کو گجرات کے ایک گاؤں ڈنگہ میں پیداہوئے، گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات کے مضمون میں ماسٹر کیا۔ 1974 میں آپ نے سیاسیات کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1976 میں آپ اعلیٰ مرکزی سروسز کے لیے منتخب ہوئے۔ آپ قائد اعظم یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں کئی برس تک وزٹنگ پروفیسر رہے۔ حکومت پنجاب کے علاوہ مرکزی حکومت میں بھی بہت سے اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ پنجاب اور وفاق کے بہت سے محکموں اور وزارتوں کے سیکرٹری رہے۔ 1997 میں وہ یونیسکوکے ایگزیکٹو بورڈ کے تین سال کے لیے رُکن منتخب ہوئے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم آئی سسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن بھی رہے۔ انہیں یونیسکو کے عالمی ایجوکیشن کمیشن کے نائب صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ تاریخ کے شعبہ میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر 1997 میں آپ کو صدارتی تمغہئ برائے حُسن کارکردگی دیا گیا۔
    گذشتہ ایک سال سے آپ شدید علیل تھے۔ علاج کی غرض سے کئی ماہ امریکہ کے ہسپتال میں داخل رہے۔ لیکن مکمل صحت یاب نہ ہوسکے۔
    بہرحال ڈاکٹرصفدرمحمود اب اس دنیا میں نہیں رہے تاہم ان کی یادیں باقی رہیں گی۔ بلاشبہ وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے ”پاسبان“ تھے۔
    خدا رحمت کنند، ایں عاشقانِ پاک طینت را
    (کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

    فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

    عہدہ ختم تو اہمیت ختم

    تازہ ترین

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم

    تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی

    بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح

    سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

    16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.